کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف لام سے شروع ہونے والی احادیث
«لو نجا أحد من ضمة القبر لنجا سعد بن معاذ ولقد ضم ضمة ثم روخي عنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر کوئی قبر کے دباؤ سے بچ سکتا تو سعد بن معاذ بچ جاتے، انہیں ایک دباؤ ملا پھر ان سے دور کر دیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٦٩٥: طس.
«لو نجا أحد من ضمة القبر لنجا هذا الصبي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر کوئی قبر کے دباؤ سے بچ سکتا تو یہ بچہ بچ جاتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع الضياء] عن أنس. الصحيحة ٢١٦٤: طس، عد.
«لو نزل موسى فاتبعتموه وتركتموني لضللتم أنا حظكم من النبيين وأنتم حظي من الأمم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر موسیٰ اتریں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، میں نبیوں میں سے تمہارا حصہ ہوں اور تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن عبد الله بن الحارث. الإرواء ١٥٨٩.
«لولا أخشى أنها من الصدقة لأكلتها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقے کی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أنس. المشكاة ١٨٢١.
«لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار ولو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا، اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی کے راستے چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی کے راستے چلوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس [حم خ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٧٦٨: حم - أنس. حب - أبي هريرة. حم، ق - عبد الله بن زيد بن عاصم. حم، ت، ك - أبي بن كعب. حم - أبي قتادة.
«لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار ولو سلك الناس واديا أو شعبا لكنت مع الأنصار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا، اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی کے راستے چلیں تو میں انصار کے ساتھ ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن أبي. الصحيحة ١٨٦٨: انظر الحديث الذي قبله.
«لولا أن أشق على المؤمنين لأمرتهم بتأخير العشاء وبالسواك عند كل صلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے مومنوں پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں عشاء میں تاخیر کرنے اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٣٦: أبو عوانة.
«لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يؤخروا العشاء إلى ثلث الليل أو نصفه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے اپنی امت پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ عشاء کو رات کے ایک تہائی یا آدھے حصے تک مؤخر کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٣٦: الطحاوي، ك.
«لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يصلوها هكذا» - يعني العشاء نصف الليل -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے اپنی امت پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ اسے (یعنی عشاء کی نماز) اسی طرح آدھی رات کو پڑھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن ابن عباس ... [م] عن ابن عمر وعائشة.
«لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے اپنی امت پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ت هـ] عن أبي هريرة [حم د ن] عن زيد بن خالد الجهني. مختصر مسلم ٢٧٠، الضعيفة ٢٠٤، صحيح أبي داود ٣٧، الإرواء ٧٠ صحيح الترغيب ٢٠٠.
«لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة ولأخرت العشاء إلى ثلث الليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے اپنی امت پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کو رات کے ایک تہائی حصے تک مؤخر کر دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5316
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث المشكاة ٣٩٠، صحيح أبي داود ٣٧.
«لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك مع كل وضوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے اپنی امت پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك الشافعي هق] عن أبي هريرة [طس] عن علي. صحيح الترغيب ٢٠١، الإرواء ٧٠، صحيح أبي داود ٣٦.
«لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم عند كل صلاة بوضوء ومع كل وضوء بسواك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے اپنی امت پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت وضو کرنے اور ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5318
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٢٠٠، صحيح أبي داود ٣٦.
«لولا أن أشق على أمتي لفرضت عليهم السواك مع الوضوء ولأخرت العشاء الآخرة إلى نصف الليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے اپنی امت پر دشوار گزرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ان پر وضو کے ساتھ مسواک کرنا فرض کر دیتا اور عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هق] عن أبي هريرة. الترغيب ١/١٠١.
«لولا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن نعيم بن مسعود الأشجعي. الصحيحة ٣٩٨٢، ٣٩٨٤.
«لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها فاقتلوا منها كل أسود بهيم وما من أهل بيت يرتبطون كلبا إلا نقص من عملهم كل يوم قيراط إلا كلب صيد أو كلب حرث أو كلب غنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر کتے بھی ایک امت (مخلوقات میں سے ایک جماعت) نہ ہوتے تو میں انہیں قتل کرنے کا حکم دیتا، پس ان میں سے ہر سیاہ کتے کو قتل کر دو، اور جو گھر والے کتا پالتے ہیں ان کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو جاتا ہے، سوائے شکاری کتے، کھیتی کے کتے یا بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتے کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هـ] عن عبد الله بن مغفل. المشكاة ١٤٠٢.
«لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها كلها فاقتلوا منها الأسود البهيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیتا، پس ان میں سے سیاہ کتے کو قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن عبد الله بن مغفل. غاية المرام ١٤٨.
«لولا أن الناس حديث عهدهم بكفر وليس عندي من النفقة ما يقوى على بنيانه لكنت أدخلت فيه من الحجر خمسة أذرع ولجعلت لها بابا يدخل الناس منه وبابا يخرج منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر لوگ کفر سے نیا نیا نکلے ہوئے نہ ہوتے اور میرے پاس اتنا خرچہ ہوتا جو اس کی تعمیر کو پورا کر سکے تو میں اس میں حطیم میں سے پانچ ہاتھ شامل کر دیتا اور اس کے لیے ایک دروازہ بناتا جس سے لوگ داخل ہوں اور ایک دروازہ جس سے وہ باہر نکلیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5323
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن عائشة. مختصر مسلم ٧٧١، الصحيحة ٤٣.
«لولا أن تجد صفية في نفسها لتركته حتى تأكل العافية حتى يحشر من بطونها» - يعني حمزة -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ صفیہ اپنے دل میں (تکلیف) محسوس کریں گی تو میں انہیں (حمزہ کو) یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ درندے اور پرندے انہیں کھا جاتے اور وہ ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5324
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت] عن أنس. أحكام الجنائز ص ٦٠: ابنب سعد، ك، هق.
«لولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم عذاب القبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا عذاب سنا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5325
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د م ن] عن أنس. م ٨/١٦١ - زيد بن ثابت.
«لولا أن قومك حديث عهد بجاهلية لهدمت الكعبة ولجعلت لها بابين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہاری قوم جاہلیت سے نئی نئی نکلی ہوئی نہ ہوتی تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس کے دو دروازے بنا دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5326
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن] عن عائشة. الصحيحة ٤٣، رفع الأستار ١٣٨.
«لولا أن قومك حديثوعهد بجاهلية لأنفقت كنز الكعبة في سبيل الله ولجعلت بابها بالأرض ولأدخلت فيها من الحجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہاری قوم جاہلیت سے نئی نئی نکلی ہوئی نہ ہوتی تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا، اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا اور اس میں حطیم میں سے (کچھ حصہ) شامل کر دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. الصحيحة ٤٣.
«لولا أنك رسول لضربت عنقك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5328
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن ابن مسعود. الصحيحة ٣٩٨٢، ٣٩٨٤.
«لولا أنكم تذنبون لخلق الله خلقا يذنبون فيغفر لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ ایسی مخلوق پیدا کر دیتا جو گناہ کرتی تاکہ وہ انہیں بخش دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي أيوب١. الصحيحة ١٩٦٣.
«لولا بنو إسرائيل لم يخبث الطعام ولم يخنز اللحم ولولا حواء لم تخن أنثى زوجها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا خراب نہ ہوتا اور گوشت نہ سڑتا، اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٨٤٦.
«لولا حداثة عهد قومك بالكفر لنقضت البيت فبنيته على أساس إبراهيم وجعلت له خلفا فإن قريشا لما بنت البيت استقصرت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہاری قوم کفر سے نئی نئی نہ نکلی ہوتی تو میں اس گھر کو گرا کر ابراہیم کی بنیاد پر دوبارہ تعمیر کرتا اور اس کے پیچھے ایک دروازہ بھی بنا دیتا، کیونکہ جب قریش نے اس گھر کو بنایا تھا تو انہوں نے تعمیر میں کمی کر دی تھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن عائشة. الصحيحة ٤٣.
«لولا ضعف الضعيف وسقم السقيم لأخرت صلاة العتمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر کمزور کی کمزوری اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں عشاء کی نماز کو مؤخر کر دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5332
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح أبي داود ٤٤٨: حم، د، ن، هـ، هق - أبي سعيد٢.
«لولا ما مضى من كتاب الله لكان لي ولها شأن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر اللہ کی کتاب میں (پہلے سے) یہ بات طے نہ ہو چکی ہوتی تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5333
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت هـ] عن ابن عباس [ن] عن أنس. خ: تفسير - ابن عباس.
«لولا ما مس الحجر من أنجاس الجاهلية ما مسه ذوعاهة إلا شفي وما على الأرض شيء من الجنة غيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر حجرِ اسود کو جاہلیت کی نجاستوں نے نہ چھوا ہوتا تو جس بیمار کو بھی یہ چھو جاتا وہ شفایاب ہو جاتا، اور زمین پر اس کے سوا جنت کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5334
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن ابن عمرو. الترغيب ٢/١٢٣.
«لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر (حق) دے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسروں کے خون اور مال کا دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن قسم مدعا علیہ پر لازم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5335
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن ابن عباس. مختصر مسلم ١٠٥٣، الإرواء ٢٦٥٤، ٢٦٨٦.
«لو يعلم الذي يشرب وهو قائم ما في بطنه لاستقاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کھڑے ہو کر پیتا ہے، اگر اسے معلوم ہو جائے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے تو وہ قے کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5336
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٧٦، ٢١٧٥: عب، الطحاوي.
«لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس پر کیا (گناہ) ہے تو اس کے لیے چالیس تک کھڑے رہنا اس کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صفة الصلاة ص ٦٥، مختصر مسلم ٣٣٧، صحيح أبي داود ٦٩٨.
«لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع في الجنة أحد ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من الجنة أحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے ہاں کیا عذاب ہے تو کوئی بھی جنت کی امید نہ رکھے، اور اگر کافر کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے ہاں کیا رحمت ہے تو کوئی بھی جنت سے مایوس نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5338
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٢، الصحيحة ١٦٣٤: ق، حب.
«لو» يعلم الناس ما في النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا إليه ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا اجر ہے، پھر انہیں اس کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ نہ ملے تو وہ قرعہ اندازی کریں گے، اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ جلدی نماز کے لیے جانے میں کیا اجر ہے تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑیں گے، اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور فجر میں کیا اجر ہے تو وہ گھسٹتے ہوئے بھی ان میں ضرور آئیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5339
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ن] عن أبي هريرة. مختشصر مسلم ٢٦٨.
«لو» يعلم الناس ما في صلاة العشاء وصلاة الفجر لأتوهما ولو حبوا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ عشاء کی نماز اور فجر کی نماز میں کیا اجر ہے تو وہ گھسٹتے ہوئے بھی ان میں ضرور آئیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عائشة. يشهد له ما قبله.
«لو» يعلم الناس من الوحدة ما أعلم ما سار راكب بليل وحده "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر لوگوں کو تنہائی کے بارے میں وہ معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو اکیلا سفر نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت هـ] عن ابن عمر. الصحيحة ٦١.
«لو» يعلم صاحب المسألة ما له فيها لم يسأل"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر سوال کرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس سوال میں اس کے لیے کیا (نقصان) ہے تو وہ سوال ہی نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5342
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب الضياء] عن ابن عباس. صحيح الترغيب ٧٩٢.
"ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل حذوالنعل بالنعل....., وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة كلهم في النار إلا ملة واحدة ما أنا عليه وأصحابي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت پر وہی کچھ آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا، جیسے جوتے کا جوڑا جوتے کے جوڑے سے مشابہ ہوتا ہے… اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک فرقے کے، جو اس طریقے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5343
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمرو. المشكاة ١٧١، شسرح الطحاوية ٢٦٣.
«ليأتين على الناس زمان لا يبالي المرء بما أخذ المال؟ أمن حلال أم من حرام؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ انسان کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ اس نے جو مال حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5344
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة. الترغيب ٣/١٤: ن، خط.
«ليأتين على الناس زمان يطوف الرجل فيه بالصدقة من الذهب ثم لا يجد أحدا يأخذها منه ويرى الرجل الواحد يتبعه أربعون امرأة يلذن به من قلة الرجال وكثرة النساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی سونے کا صدقہ لے کر پھرے گا مگر اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے، اور ایک ہی مرد کو دیکھا جائے گا کہ چالیس عورتیں اس کے پیچھے لگی ہوئی ہیں، وہ مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے اس کی پناہ ڈھونڈتی ہوں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي موسى. تخريج مشكلة الفقر ١٣٠.