کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف کاف سے شروع ہونے والی احادیث
«كلكم بنوآدم وآدم خلق من تراب لينتهين قوم يفتخرون بآبائهم أو ليكونن أهون على الله من الجعلان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ وہ لوگ ضرور باز آ جائیں جو اپنے آباء و اجداد پر فخر کرتے ہیں، ورنہ وہ اللہ کے نزدیک گوبر کے کیڑوں سے بھی زیادہ حقیر ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن حذيفة. غاية المرام.
«كلكم راع وكلم مسئول عن رعيته فالإمام راع وهو مسئول عن رعيته والرجل راع في أهله وهو مسئول عن رعيته والمرأة راعية في بيت زوجها وهي مسئولة عن رعيتها والخادم راع في مال سيده وهو مسئول عن رعيته والرجل راع في مال أبيه وهو مسئول عن رعيته فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حکمران نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، خادم اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور آدمی اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4569
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن ابن عمر. تخريج مشكلة الفقر ٩٣، غاية المرام ٢٦٩.
«كلكم يدخل الجنة إلا من شرد على الله شراد البعير على أهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سب جنت میں داخل ہو گے سوائے اس کے جو اللہ سے یوں بھاگے جیسے اونٹ اپنے مالکوں سے بھاگ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4570
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس ك] عن أبي أمامة. الصحيحة ٢٠٤٣: حم - أبي أمامة، حب، طس - أبي سعيد. ك - أبي هريرة.
«كلمات الفرج: لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله العلي العظيم لا إله إلا الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مصیبت سے نجات کے کلمات یہ ہیں: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ بردبار اور کریم ہے، اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ بلند اور عظمت والا ہے، اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرشِ کریم کا رب ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في الفرج] عن ابن عباس. الصحيحة ٢٠٤٥.
«كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان إلى الرحمن: سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمٰن کو محبوب ہیں: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ»، «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» (اللہ پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اللہ پاک ہے جو عظمت والا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4572
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٠٤.
«كم من أشعث أغبر ذي طمرين لا يؤبه له لو أقسم على الله لأبره منهم البراء بن مالك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کتنے ہی پراگندہ بال، گرد آلود اور پرانے کپڑوں والے ایسے لوگ ہیں جن کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، حالانکہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر دے، انہی میں سے ایک براء بن مالک ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4573
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت الضياء] عن أنس. تخريج مشكلة الفقر ١٢٥، المشكاة ٦٢٣٩.
«كم من عذق معلق لابن الدحداح في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن دحداح کے لیے جنت میں کتنی ہی لٹکی ہوئی کھجور کی ٹہنیاں (خوشے) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4574
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت] عن جابر بن سمرة١. مختصر مسلم ٤٨٥، أحكام الجنائز ٧٥، حب ٢٢٧١.
«كما لا يجتنى من الشوك العنب كذلك لا ينزل الفجار منازل الأبرار فاسلكوا أي طريق شئتم فأي طريق سلكتم وردتم على أهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جیسے کانٹوں سے انگور نہیں توڑے جاتے، ایسے ہی بدکار لوگ نیک لوگوں کے مقامات میں نہیں اتریں گے۔ پس تم جو راستہ چاہو اختیار کر لو، جو راستہ بھی تم اپناؤ گے تم اسی کے اہل کے پاس جا پہنچو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4575
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حل] عن يزيد بن مرثد مرسلا. الصحيحة ٢٠٤٦.
«كما لا يجتنى من الشوك العنب كذلك لا ينزل الفجار منازل الأبرار وهما طريقان فأيهما أخذتم أدركتم إليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جیسے کانٹوں سے انگور نہیں توڑے جاتے، ایسے ہی بدکار لوگ نیک لوگوں کے مقامات میں نہیں اتریں گے، اور یہ دو ہی راستے ہیں، تم ان میں سے جو بھی اختیار کرو گے اسی کے مطابق اپنی منزل کو پہنچو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4576
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن أبي ذر. الصحيحة ٢٠٤٦: أبو نعيم.
«كما يضاعف لنا الأجر كذلك يضاعف علينا البلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس طرح ہمارے لیے اجر کو بڑھایا جاتا ہے، اسی طرح ہم پر آزمائش کو بھی بڑھا دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4577
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن سعد] عن عائشة. الصحيحة ٢٠٤٧: حم، ابن ماجه - أبي سعيد.
«كمل من الرجال كثير ولم يكمل من النساء إلا آسية امرأة فرعون ومريم بنت عمران وإن فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مردوں میں سے بہت سے لوگ کامل ہوئے، لیکن عورتوں میں سے کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے آسیہ، فرعون کی بیوی، اور مریم بنت عمران کے۔ اور عائشہ کو دوسری عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو باقی کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٦٦٧.
«كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو یا مسافر۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4579
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عمر زاد [حم ت هـ] : [وعد نفسك من أهل القبور] . الروض ٥٧٤، الصحيحة ١١٥٧.
«كن ورعا تكن أعبد الناس وكن قنعا تكن أشكر الناس وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مؤمنا وأحسن مجأورة من جأورك تكن مسلما وأقل الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پرہیزگار بن جاؤ، تم لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے، قناعت اختیار کرو، تم لوگوں میں سب سے زیادہ شکر گزار بن جاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، تم مومن بن جاؤ گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، تم مسلمان بن جاؤ گے، اور کم ہنسو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4580
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٩٣٠ك الخرائطي.
«كنت نبيا وآدم بين الروح والجسد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام ابھی روح اور جسم کے درمیان (تخلیق کے مرحلے میں) تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4581
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن ميسرة الفجر [ابن سعد] عن أبي الجدعاء [حب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٨٣٦: حم، تخ، ابن أبي عاصم.
«كنت نهيتكم عن الأشربة إلا في ظروف الأدم فاشربوا في كل وعاء غير أن لا تشربوا مسكرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہیں چمڑے کے برتنوں کے سوا (دوسرے برتنوں میں نبیذ رکھنے) سے منع کیا تھا، اب تم ہر برتن میں پی سکتے ہو، بس یہ خیال رکھو کہ نشہ آور چیز نہ پیو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4582
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن بريدة. أحكام الجنائز ص ١٧٨.
«كنت نهيتكم عن الأوعية فانبذوا واجتنبوا كل مسكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہیں (بعض) برتنوں سے منع کیا تھا، اب تم ان میں نبیذ بنا سکتے ہو، لیکن ہر نشہ آور چیز سے بچو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4583
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن بريدة. أحكام الجنائز ص ١٧٨: ن.
«كنت نهيتكم عن زيارة القبور ألا فزوروها فإنها ترق القلب وتدمع العين وتذكر الآخرة ولا تقولوا هجرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، خبردار! اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ دل کو نرم کرتی ہے، آنکھ کو اشکبار کرتی ہے اور آخرت یاد دلاتی ہے، لیکن (زیارت کے دوران) بےہودہ بات نہ کہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4584
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أنس. الأحكام ص ١٧٩ - ١٨٠: حم.
«كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث ليتسع ذووالطول على من لا طول له فكلوا ما بدا لكم وأطعموا وادخروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ (رکھنے) سے منع کیا تھا تاکہ صاحبِ استطاعت لوگ ان کے ساتھ فراخی کریں جن کے پاس گنجائش نہیں، اب تم جتنا چاہو کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن بريدة. الصحيحة ٢٠٤٨: م، هب.
«كونوا على مشاعركم هذه فإنكم اليوم على إرث من إرث إبراهيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے ان مشاعر پر ٹھہرے رہو، کیونکہ آج تم ابراہیم علیہ السلام کی میراث میں سے ایک میراث پر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هـ ك] عن زياد بن مربع. المشكاة ٢٥٩٥.
«كونوا في الصف الذي يليني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس صف میں کھڑے ہو جو میرے قریب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4587
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب ك] عن أبي. المشكاة ١١١٦.
«كيف أنت إذا كانت عليك أمراء يؤخرون الصلاة عن وقتها؟ صل الصلاة لوقتها فإن أدركتها معهم فصل فإنها لك نافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے؟ تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لیا کرو، پھر اگر تم انہیں دوبارہ نماز پڑھتے پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٤] عن أبي ذر. مختصر مسلم ٢٢٦، صحيح أبي داود ٤٥٧.
«كيف أنتم إذا لم تجتبوا دينارا ولا درهما؟ تنتهك ذمة الله وذمة رسوله يشد الله قلوب أهل الذمة فيمنعون ما في أيديهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم (اہلِ ذمہ سے) نہ دینار وصول کر سکو گے اور نہ درہم؟ اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ (عہد) پامال کیا جائے گا، تو اللہ اہلِ ذمہ کے دل مضبوط کر دے گا اور وہ اپنے پاس موجود مال روک لیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4589
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة.
«كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم فأمكم؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان نازل ہوں گے اور وہ تمہاری امامت کریں گے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم وإمامكم منكم؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان نازل ہوں گے جبکہ تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠٦٠: مع التعليق.
«كيف أنتم وصاحب القرن قد التقم القرن وحنا الجبهة وأصغى السمع ينتظر متى يؤمر بالنفخ فينفخ قالوا: كيف نصنع؟ قال قولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا جبکہ صور پھونکنے والا (فرشتہ) صور کو منہ میں لیے، پیشانی جھکائے اور کان لگائے، اس انتظار میں ہے کہ کب اسے پھونکنے کا حکم دیا جائے اور وہ پھونک دے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب ك] عن أبي سعيد [حم ك] عن ابن عباس [حم طب] عن زيد بن أرقم [أبوالشيخ في العظمة] عن أبي هريرة [حل] عن جابر [الضياء] عن أنس. الصحيحة ١٠٧٨، ١٠٧٩.
«كيف بكم إذا أتت عليكم أمراء يصلون الصلاة لغير ميقاتها؟ صل الصلاة لميقاتها واجعل صلاتك معهم سبحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت کے علاوہ پڑھیں گے؟ تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لو اور ان کے ساتھ (دوبارہ) پڑھی ہوئی نماز کو نفل بنا لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4593
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن معاذ. صحيح أبي داود ٤٥٨.
«كيف بكم بزمان يوشك أن يأتي يغربل الناس فيه غربلة ويبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا وكانوا هكذا؟ - وشبك بين أصابعه - تأخذون بما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على أمر خاصتكم وتذرون أمر عامتكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا اس زمانے میں جو عنقریب آنے والا ہے، جس میں لوگوں کو چھلنی کی طرح چھانٹ لیا جائے گا اور صرف ردی لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے عہد اور امانتیں گڈمڈ ہو چکی ہوں گی، وہ آپس میں اختلاف کریں گے اور یوں ہو جائیں گے - اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا -؟ اس وقت جسے پہچانو اسے اختیار کرو اور جسے (باطل) سمجھو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص معاملے کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور عوامی معاملے کو چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمرو. الصحيحة ٢٠٥، حم، د، ك.
«كيف تقولون لفرح رجل انفلتت منه راحلته تجر زمامها بأرض قفر ليس بها طعام ولا شراب وعليها له طعام وشراب فطلبها فلم يجدها حتى شق عليه ثم مرت بجذل شجرة فتعلق زمامها فوجدها متعلقة به؟ أما والله لله أشد فرحا بتوبة عبده من الرجل براحلته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اس آدمی کی خوشی کے بارے میں کیا کہو گے جس کی سواری بےآباد زمین میں، جہاں نہ کھانا ہو نہ پانی، اس سے چھوٹ کر اپنی نکیل گھسیٹتی ہوئی بھاگ گئی ہو، جس پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہو، وہ اسے ڈھونڈتا رہے اور نہ پائے یہاں تک کہ اس پر بہت مشکل ہو جائے، پھر وہ ایک درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور اس کی نکیل اس میں الجھ جائے اور وہ اسے وہاں الجھی ہوئی پائے؟ سن لو! اللہ کی قسم! اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس آدمی کے اپنی سواری پانے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن البراء.
«كيف وقد قيل؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بھلا اب کیسے (کروں) جبکہ (میرے متعلق) کہا جا چکا ہے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4596
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عقبة بن الحارث. الإرواء ٢١٥٤.
«كيف يقدس الله أمة لا يأخذ ضعيفها حقه من قويها وهو غير متعتع؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ اس امت کو کیسے پاک کرے گا جس میں کمزور اپنے طاقتور سے، بغیر کسی رکاوٹ کے، اپنا حق نہ لے سکے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع هق] عن بريدة. مخنصر العلو٥٨: ابن ماجه - أبي سعيد. ك - أبي سفيان.
«كيف يقدس الله أمة لا يؤخذ من شديدهم لضعيفهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ اس امت کو کیسے پاک کرے گا جس میں طاقتور سے کمزور کا حق نہ لیا جائے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4598
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ حب] عن جابر. مختصر العلو٥٨.
«كيلوا طعامكم فإن البركة في الطعام المكيل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنا کھانا (اناج وغیرہ) ناپ کر رکھو، کیونکہ برکت ناپے ہوئے کھانے میں ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن النجار] عن علي. يشهد له ما بعده.
«كيلوا طعامكم يبارك لكم فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنا کھانا ناپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈالی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن المقدام بن معد يكرب [تخ هـ] عن عبد الله بن بسر [حم هـ] عن أبي أيوب [طب] عن أبي الدرداء. بيوع الموسوعة: حل - المقداد وعبد الله بن بسر. فصل في المحلى بـ [ال] من هذا الحرف.
«الكبائر: الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت ن] عن ابن عمرو.
«الكبائر: الإشراك بالله وقذف المحصنة وقتل النفس المؤمنة والفرار يوم الزحف وأكل مال اليتيم وعقوق الوالدين المسلمين وإلحاد بالبيت قبلتكم أحياء وأمواتا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، کسی مومن جان کو قتل کرنا، جہاد کے میدان سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، اور اس گھر (خانہ کعبہ) کی حرمت میں کجروی کرنا جو زندگی اور موت، دونوں حالتوں میں تمہارا قبلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4602
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هق] عن ابن عمرو. الإرواء ٦٩٠.
«الكبائر: الشرك بالله والإياس من روح الله والقنوط من رحمة الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جانا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہو جانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4603
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البزار] عن ابن عباس. الصحيحة ٢٠٥١.
«الكبائر: الشرك بالله وقتل النفس وعقوق الوالدين ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ قول الزور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتاؤں؟ وہ جھوٹی بات (کہنا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4604
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن أنس.
«الكبائر تسع: أعظمهن إشراك بالله وقتل النفس بغير حق وأكل الربا وأكل مال اليتيم وقذف المحصنة والفرار يوم الزحف وعقوق الوالدين واستحلال البيت الحرام: قبلتكم أحياء وأمواتا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبیرہ گناہ نو ہیں، ان میں سب سے بڑا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، پھر کسی جان کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، جہاد کے میدان سے بھاگنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور خانہ کعبہ کی حرمت کو حلال سمجھنا، جو زندگی اور موت، دونوں حالتوں میں تمہارا قبلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ن] عن عمير. الإرواء ٦٩٠: الطحاوي، ك، هق.
«الكبائر سبع: الإشراك بالله وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وقذف المحصنة والفرار من الزحف وأكل الربا وأكل مال اليتيم والرجوع إلى الأعرابية بعد الهجرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبیرہ گناہ سات ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل کرنا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، جہاد کے میدان سے بھاگنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور ہجرت کے بعد (دوبارہ) بدویانہ زندگی کی طرف لوٹ جانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4606
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس] عن أبي سعيد. الترغيب ٢/١٨٣، ٣/٤٩ - أبي هريرة.
«الكبر الكبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بڑے کو مقدم رکھو، بڑے کو مقدم رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن سهل بن أبي حثمة.