حدیث نمبر: 4594
«كيف بكم بزمان يوشك أن يأتي يغربل الناس فيه غربلة ويبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا وكانوا هكذا؟ - وشبك بين أصابعه - تأخذون بما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على أمر خاصتكم وتذرون أمر عامتكم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا کیا حال ہو گا اس زمانے میں جو عنقریب آنے والا ہے، جس میں لوگوں کو چھلنی کی طرح چھانٹ لیا جائے گا اور صرف ردی لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے عہد اور امانتیں گڈمڈ ہو چکی ہوں گی، وہ آپس میں اختلاف کریں گے اور یوں ہو جائیں گے - اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا -؟ اس وقت جسے پہچانو اسے اختیار کرو اور جسے (باطل) سمجھو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص معاملے کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور عوامی معاملے کو چھوڑ دو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمرو. الصحيحة ٢٠٥، حم، د، ك.