حدیث نمبر: 4595
«كيف تقولون لفرح رجل انفلتت منه راحلته تجر زمامها بأرض قفر ليس بها طعام ولا شراب وعليها له طعام وشراب فطلبها فلم يجدها حتى شق عليه ثم مرت بجذل شجرة فتعلق زمامها فوجدها متعلقة به؟ أما والله لله أشد فرحا بتوبة عبده من الرجل براحلته»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اس آدمی کی خوشی کے بارے میں کیا کہو گے جس کی سواری بےآباد زمین میں، جہاں نہ کھانا ہو نہ پانی، اس سے چھوٹ کر اپنی نکیل گھسیٹتی ہوئی بھاگ گئی ہو، جس پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہو، وہ اسے ڈھونڈتا رہے اور نہ پائے یہاں تک کہ اس پر بہت مشکل ہو جائے، پھر وہ ایک درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور اس کی نکیل اس میں الجھ جائے اور وہ اسے وہاں الجھی ہوئی پائے؟ سن لو! اللہ کی قسم! اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس آدمی کے اپنی سواری پانے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن البراء.