کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف خا سے شروع ہونے والی احادیث
«خاب عبد وخسر لم يجعل الله تعالى في قلبه رحمة للبشر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ بندہ ناکام اور خسارے میں ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے رحمت نہیں رکھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الدولابي في الكنى أبو نعيم في المعرفة ابن عساكر] عن عمرو بن حبيب. الصحيحة ٤٥٧.
«خالد بن الوليد سيف من سيوف الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خالد بن ولید اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البغوي] عن عبد الله بن جعفر. أحكام الجنائز ص ١٦٦: حم.
«خالد بن الوليد سيف من سيوف الله سله الله على المشركين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خالد بن ولید اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں، اللہ نے انہیں مشرکین کے خلاف کھینچا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن عمر. الصحيحة ١٢٣٧: حم، ك – أبو بكر.
«خالد سيف من سيوف الله ونعم فتى العشيرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں اور اپنے قبیلے کے بہترین نوجوان ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي عبيدة. المشكاة ٦٢٤٨، الصحيحة ١٨٢٦: ابن عساكر.
«خالفوا المشركين أحفوا الشوارب وأوفروا اللحى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں خوب چھوٹی کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٨٤، حجاب المرأة ٩٤، الإرواء ٧٧.
«خالفوا اليهود فإنهم لا يصلون في نعالهم ولا خفافهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ وہ اپنی جوتیوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3210
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك هق] عن شداد بن أوس. المشكاة ٧٦٥.
"خبرني ربي أني سأرى علامة في أمتي فإذا رأيتها أكثرت من قول: سبحان الله وبحمده استغفر الله وأتوب إليه فقد رأيتها {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} - فتح مكة - {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً} "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے میرے رب نے بتایا کہ میں اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا، پس جب میں اسے دیکھوں تو کثرت سے یہ کہوں: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» (اللہ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں)، تو میں نے وہ نشانی دیکھ لی ہے: ﴿جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے﴾ - یعنی مکہ کی فتح - ﴿اور تم لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے دیکھو، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرو اور اس سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے﴾۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3211
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة.
«خذ عليك ثوبك ولا تمشوا عراة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنا کپڑا پہن لو اور ننگے مت چلو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3212
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن المسور بن مخرمة. م ١/١٨٤.
«خذوا القرآن من أربعة من ابن مسعود وأبي بن كعب ومعاذ بن جبل وسالم مولى أبي حذيفة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن ان چار سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولیٰ ابی حذیفہ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن ابن عمر. الصحيحة ١٨٢٧: حم، ق، ابن سعد، حل. ك - ابن مسعود. عد – ابن عمر.
«خذوا جنتكم من النار قولوا: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر فإنهن يأتين يوم القيامة مقدمات ومعقبات ومجنبات وهن الباقيات الصالحات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آگ سے اپنی ڈھال بنا لو، کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ»، کیونکہ یہ کلمات قیامت کے دن آگے بھی، پیچھے بھی اور دائیں بائیں بھی محافظ بن کر آئیں گے، اور یہی باقیات صالحات ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ك] عن أبي هريرة. الروض النضير ١٠٩٢، الترغيب ٢/٣٤٨.
«خذوا عني خذوا عني قد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر جلد مائة ونفي سنة والثيب بالثيب جلد مائة والرجم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ سے سیکھو، مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک راستہ مقرر کر دیا ہے: غیر شادی شدہ زانی کا غیر شادی شدہ کے ساتھ حکم سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور شادی شدہ زانی کا شادی شدہ کے ساتھ حکم سو کوڑے اور رجم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن عبادة بن الصامت. مختصر مسلم ١٠٣٦، الإرواء ٢٣٤١.
«خذوا مقاعدكم فإن الناس قد صلوا وأخذوا مضاجعهم وإنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة ولولا ضعف الضعيف وسقم السقيم وحاجة ذوي الحاجة لأخرت هذه الصلاة إلى شطر الليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی جگہیں سنبھال لو، کیونکہ لوگ اپنی نماز پڑھ کر اپنے بستروں پر جا چکے ہیں، اور تم جب تک نماز کا انتظار کرتے رہو گے، نماز ہی میں شمار ہوتے رہو گے۔ اور اگر کمزور کی کمزوری، بیمار کی بیماری اور حاجت مند کی حاجت نہ ہوتی تو میں یہ نماز آدھی رات تک مؤخر کر دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٤٤٨: ن، ابن ماجه، هق.
«خذوا من العبادة ما تطيقون فإن الله لا يسأم حتى تسأموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عبادت میں سے اتنا اختیار کرو جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ اجر دینے سے نہیں تھکتا جب تک تم عمل کرتے کرتے خود نہ تھک جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. حم ٦/٢٤٧، م ٢/١٩٠ – عائشة.
«خذوا من العمل ما تطيقون فإن الله لا يمل حتى تملوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عمل میں سے اتنا اختیار کرو جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ نہیں اکتاتا جب تک تم خود نہ اکتا جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن عائشة. مختصر مسلم ٣٧٨.
«خذوا يا بني أرفدة حتى تعلم اليهود والنصارى أن في ديننا فسحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھیل جاری رکھو اے بنی ارفدہ، تاکہ یہود و نصاریٰ کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو عبيدة في الغريب الخرائطي في اعتلال القلوب] عن الشعبي مرسلا. آداب الزفاف ١٦٩، الصحيحة ١٨٢٩: الحارث بن أبي أسامة، حم، الحميدي، الديلمي – عائشة.
«خذي فرصة من مسك فتطهري بها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مشک لگا ہوا ایک ٹکڑا لے لو اور اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن عائشة.
«خذي من ماله بالمعروف ما يكفيك ويكفي بنيك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس کے مال میں سے مناسب طریقے سے اتنا لے لو جو تمہارے اور تمہارے بیٹوں کے لیے کافی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن هـ] عن عائشة. الإرواء ٢١٥٨.
«خرج رجل ممن كان قبلكم في حلة له يختال فيها فأمر الله الأرض فأخذته فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی اپنے نفیس جوڑے میں اکڑ کر چل رہا تھا، تو اللہ نے زمین کو حکم دیا اور اس نے اسے پکڑ لیا، وہ قیامت تک اسی میں دھنستا چلا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمرو. حم ٢/٢٢٢. ق - أبي هريرة١. خ – ابن عمر.
«خرجت من لدن آدم من نكاح غير سفاح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں آدم علیہ السلام کے زمانے سے نکاح کے ذریعے پیدا ہوا ہوں، زنا کے ذریعے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن سعد] عن ابن عباس. الإرواء ١٩١٤.
«خرجت من نكاح غير سفاح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نکاح کے ذریعے پیدا ہوا ہوں، زنا کے ذریعے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن سعد] عن عائشة. الإرواء ١٩١٤.
«خرجت من نكاح ولم أخرج من سفاح من لدن آدم إلى أن ولدني أبي وأمي لم يصبني من سفاح الجاهلية شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نکاح کے ذریعے پیدا ہوا ہوں، زنا کے ذریعے نہیں، آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر میرے والدین کے مجھے جنم دینے تک، مجھے جاہلیت کے زنا میں سے کچھ بھی نہیں چھوا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [العدني عد طس] عن علي. الإرواء ١٩١٤.
«خرجت وأنا أريد أن أخبركم بليلة القدر فتلاحى رجلان فاختلجت مني فاطلبوها في العشر الأواخر: في سابعة تبقى أو تاسعة تبقى أو خامسة تبقى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہیں شبِ قدر کے بارے میں بتانے کے ارادے سے نکلا تھا، مگر دو آدمی آپس میں جھگڑ پڑے تو یہ علم مجھ سے اٹھا لیا گیا، پس اسے آخری عشرے میں تلاش کرو: باقی رہ جانے والی ساتویں، نویں یا پانچویں رات میں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن عبادة بن الصامت. حم ٥/٣١٣، ٣١٩، خ – إيمان.
«خروج الآيات بعضها على أثر بعض يتتابعن كما تتابع الخرز في النظام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کی نشانیوں کا ایک کے بعد ایک ظاہر ہونا اسی طرح لگاتار ہو گا جیسے مالا میں موتی ایک دوسرے کے پیچھے پروئے ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3227
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أبي هريرة. حب ١٨٨٣.
«خصاء أمتي الصيام والقيام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے لیے خواہشات پر قابو پانے کا ذریعہ روزہ اور قیام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٨٣٠: عد، البغوي في [شرح السنة] ٢٢٣٨.
«خصلتان لا يجتمعان في منافق: حسن سمت ولا فقه في الدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”منافق میں دو خصلتیں اکٹھی نہیں ہوتیں: اچھی سیرت اور دین کی سمجھ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٢١٩، الصحيحة ٢٧٨.
«خصلتان لا يحافظ عليهما عبد مسلم إلا دخل الجنة ألا وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا فذلك خمسون ومائة باللسان وألف وخمسمائة في الميزان ويكبر أربعا وثلاثين إذا أخذ مضجعه ويحمده ثلاثا وثلاثين ويسبح ثلاثا وثلاثين فتلك مائة باللسان وألف في الميزان فأيكم يعمل في اليوم والليلة ألفين وخمسمائة سيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان بندہ ان کی پابندی کرے وہ جنت میں داخل ہو گا، خبردار! یہ آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے کم ہیں: ہر نماز کے بعد دس بار سبحان اللہ کہے، دس بار الحمدللہ کہے اور دس بار اللہ اکبر کہے، یہ زبان سے ایک سو پچاس اور میزان میں پندرہ سو بنتے ہیں، اور جب اپنے بستر پر جائے تو چونتیس بار اللہ اکبر کہے، تینتیس بار الحمدللہ کہے اور تینتیس بار سبحان اللہ کہے، یہ زبان سے سو اور میزان میں ایک ہزار بنتے ہیں، تو تم میں سے کون ہے جو ایک دن رات میں ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد ٤] عن ابن عمرو. صحيح الترغيب ٦٠٥ و٢/٢٦١، الكلم ١١١، المشكاة ٢٤٠٦: عبد الرزاق في [المصنف] ، ابن السني.
«خفف على داود القرآن فكان يأمر بدوابه فتسرج فيقرأ القرآن من قبل أن تسرج دوابه ولا يأكل إلا من عمل يده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”داؤد علیہ السلام پر قرآن (زبور) کی تلاوت آسان کر دی گئی تھی، وہ اپنی سواریوں کو زین کسنے کا حکم دیتے اور سواریوں کے زین کسے جانے سے پہلے ہی قرآن (زبور) پڑھ چکے ہوتے، اور وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کے سوا کچھ نہیں کھاتے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة.
«خلفت فيكم شيئين لن تضلوا بعدهما: كتاب الله وسنتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہارے پیچھے دو چیزیں چھوڑی ہیں، ان کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت، اور یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آ پہنچیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو بكر الشافعي في الغيلانيات] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٧٦١: قط، الحاكم، الخطيب.
«خلق الله آدم على صورته وطوله ستون ذراعا ثم قال: اذهب فسلم على أولئك النفر وهم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فإنها تحيتك وتحية ذريتك فذهب فقال: السلام عليكم فقالوا: السلام عليك ورحمة الله فزادوه ورحمة الله فكل من يدخل الجنة على صورة آدم في طوله ستون ذراعا فلم تزل الخلق تنقص بعده حتى الآن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی خاص صورت پر پیدا کیا، اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا، پھر فرمایا: جاؤ اور ان لوگوں کو سلام کرو - اور وہ فرشتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی - اور سنو کہ وہ تمہیں کس طرح جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا۔ چنانچہ وہ گئے اور کہا: السلام علیکم، تو انہوں نے جواب دیا: السلام علیک ورحمۃ اللہ، تو انہوں نے ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔ پس جو بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ساٹھ ہاتھ قد کا ہو گا، اور اس کے بعد سے اب تک مخلوق کا قد مسلسل کم ہوتا رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٥٨، المشكاة ٤٦٢٨الصحيحة، ٤٥٠.
«خلق الله آدم فضرب كتفه اليمنى فأخرج ذرية بيضاء كأنهم اللبن ثم ضرب كتفه اليسرى فخرج ذرية سوداء كأنهم الحمم قال: هؤلاء في الجنة ولا أبالي وهؤلاء في النار ولا أبالي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کے دائیں کندھے پر ہاتھ مارا تو اس میں سے ایک سفید نسل نکالی جیسے وہ دودھ ہوں، پھر ان کے بائیں کندھے پر ہاتھ مارا تو اس میں سے ایک سیاہ نسل نکالی جیسے وہ کوئلہ ہوں، پھر فرمایا: یہ جنت میں جانے والے ہیں مجھے کوئی پروا نہیں، اور یہ جہنم میں جانے والے ہیں مجھے کوئی پروا نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن أبي الدرداء. المشكاة ١١٩، الصحيحة ٤٩.
«خلق الله التربة يوم السبت وخلق فيها الجبال يوم الأحد وخلق الشجر يوم الاثنين وخلق المكروه يوم الثلاثاء وخلق النور يوم الأربعاء وبث فيها الدواب يوم الخميس وخلق آدم بعد العصر من يوم الجمعة في آخر الخلق في آخر ساعة من ساعات الجمعة فيما بين العصر إلى الليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے مٹی ہفتے کے دن پیدا کی، اس میں پہاڑ اتوار کے دن پیدا کیے، درخت پیر کے دن پیدا کیے، ناپسندیدہ چیزیں منگل کے دن پیدا کیں، روشنی بدھ کے دن پیدا کی، اس میں جانور جمعرات کے دن پھیلائے، اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد، مخلوق کے آخر میں، جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں، عصر اور رات کے درمیان پیدا کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٦٠٥ الصحيحة ١٨٣٣: ابن معين، ابن منده، الدولابي الثقفي، البيهقي. المشكاة ٥٧٣٤.
«خلق الله مائة رحمة فوضع رحمة واحدة بين خلقه يتراحمون بها وخبأ عنده مائة إلا واحدة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے، ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان رکھی جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور ننانوے اپنے پاس روک لیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3236
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦٣٤.
«خلق الله يحيى بن زكريا في بطن أمه مؤمنا وخلق فرعون في بطن أمه كافرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو ان کی ماں کے پیٹ میں مومن پیدا کیا، اور فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [عد طب] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٨٣١: أبو الشيخ، أبو نعيم.
«خلقت الملائكة من نور وخلق الجان من مارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فرشتے نور سے پیدا کیے گئے، جن آگ کے شعلے سے پیدا کیے گئے، اور آدم علیہ السلام اس چیز سے پیدا کیے گئے جو تمہیں بتائی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عائشة. مختصر مسلم ٢١٦٩الصحيحة ٤٥٨: ابن منده، السهمي، البيهقي، ابن عساكر.
«خلل أصابع يديك ورجليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3239
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عباس. الصحيحة ١٣٠٦، ١٣٤٩.
«خمس بخمس ما نقض قوم العهد إلا سلط عليهم عدوهم وما حكموا بغير ما أنزل الله إلا فشا فيهم الفقر ولا ظهرت فيهم الفاحشة إلا فشا فيهم الموت ولا طففوا المكيال إلا منعوا النبات وأخذوا بالسنين ولا منعوا الزكاة إلا حبس عنهم القطر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پانچ باتوں کا پانچ باتوں سے تعلق ہے: جس قوم نے عہد توڑا اس پر اس کا دشمن مسلط کر دیا گیا، جس قوم نے اللہ کے نازل کردہ کے سوا کسی اور چیز سے فیصلہ کیا اس میں فقر عام ہو گیا، جس قوم میں بے حیائی پھیلی اس میں موت عام ہو گئی، جس قوم نے ناپ تول میں کمی کی اس سے پیداوار روک لی گئی اور اسے قحط کے سالوں میں مبتلا کر دیا گیا، اور جس قوم نے زکوٰۃ روکی اس سے بارش روک لی گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. صحيح الترغيب ٧٦٣.
«خمس تجب للمسلم على أخيه: رد السلام وتشميت العاطس وإجابة الدعوة وعيادة المريض واتباع الجنازة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان کا اپنے بھائی پر پانچ حق واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا، اور جنازے کے ساتھ جانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3241
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٤١٧، م ٧/٣.
«خمس صلوات افترضهن الله عز وجل من أحسن وضوءهن وصلاهن لوقتهن وأتم ركوعهن وخشوعهن كان له على الله عهد أن يغفر له ومن لم يفعل فليس له على الله عهد إن شاء غفر له وإن شاء عذبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ عزوجل نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جس نے ان کا وضو اچھی طرح کیا، انہیں ان کے وقت پر ادا کیا، اور ان کا رکوع اور خشوع مکمل کیا، اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے بخش دے، اور جس نے ایسا نہ کیا تو اللہ پر اس کا کوئی حق نہیں، اگر چاہے تو اسے بخش دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3242
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هق] عن عبادة بن الصامت. صحيح أبي داود ٤٥١، صحيح الترغيب ٣٦٦: الطيالسي، حم.
«خمس صلوات كتبهن الله على العباد فمن جاء بهن لم يضيع منهن شيئا استخفافا بحقهن كان له عند الله عهد أن يدخله الجنة ومن لم يأت بهن فليس له عند الله عهد إن شاء عذبه وإن شاء أدخله الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جس نے انہیں ادا کیا اور ان کے حق میں کوتاہی برتتے ہوئے کچھ ضائع نہ کیا، اللہ کے ہاں اس کا یہ حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، اور جس نے انہیں ادا نہ کیا تو اللہ کے ہاں اس کا کوئی حق نہیں، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3243
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم د ن هـ حب ك] عن عبادة بن الصامت. المشكاة ٥٧٠، صحيح أبي داود ١٢٧٦: الدارمي، الطحاوي، ابن نصر، صحيح الترغيب ٣٦٦.
«خمس فواسق تقتلن في الحل والحرم: الحية والغراب الأبقع والفأرة والكلب العقور والحديا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پانچ موذی جانور حل و حرم دونوں میں مارے جا سکتے ہیں: سانپ، دھاری دار کوا، چوہا، کاٹنے والا کتا، اور چیل۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن هـ] عن عائشة. مختصر مسلم ٦٨٣، الإرواء ١٠٣٦.