کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف دال سے شروع ہونے والی احادیث
«داووا مرضاكم بالصدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [أبو الشيخ في الثواب] عن أبي أمامة. الضعيفة ٣٤٩٢.
«دباغ الأديم طهوره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چمڑے کی دباغت ہی اس کا پاک ہونا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن عباس [د] عن سلمة بن المحبق [ن] عن عائشة [ع] عن أنس [طب] عن أبي أمامة والمغيرة. الروض النضير ٤١٣، غاية المرام ٢٦.
«دباغ جلود الميتة طهورها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مردار (جانوروں) کی کھالوں کی دباغت ہی ان کا پاک ہونا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط] عن زيد بن ثابت. يشهد له ما قبله.
«دباغ كل إهاب طهوره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر کھال کی دباغت ہی اس کا پاک ہونا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط] عن ابن عباس.
[دب إليكم داء الأمم قبلكم: الحسد والبغضاء هي الحالقة حالقة الدين لا حالقة الشعر والذي نفس محمد بيده لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أفلا أنبئكم بشيء إذا فعلتموه تحاببتم أفشوا السلام بينكم]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہاری طرف تم سے پہلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ہے: حسد اور بغض، یہ (بغض) مونڈنے والی چیز ہے، دین کو مونڈنے والی، نہ کہ بال مونڈنے والی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور تم مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کر لو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3361M
تخریج حدیث .. [حم ت الضياء] عن الزبير. مشكلة الفقر ٢٠، الإرواء ٧٧٧.
«دحية الكلبي يشبه جبريل وعروة بن مسعود الثقفي يشبه عيسى بن مريم وعبد العزى يشبه الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دحیہ کلبی، جبریل سے مشابہت رکھتے تھے، عروہ بن مسعود ثقفی، عیسیٰ بن مریم سے مشابہت رکھتے تھے اور عبد العزیٰ، دجال سے مشابہت رکھتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن الشعبي مرسلا. الصحيحة ١٨٥٧.
«دخلت الجنة البارحة فنظرت فيها فإذا جعفر يطير مع الملائكة وإذا حمزة متكئ على سرير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں کل رات جنت میں گیا، میں نے اس میں دیکھا تو جعفر فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے تھے اور حمزہ ایک تخت پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب عد ك] عن ابن عباس.
«دخلت الجنة فإذا أنا بقصر من ذهب فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لشاب من قريش فظننت أني أنا هو فقلت: ومن هو؟ قالوا: عمر بن الخطاب فلولا ما علمت من غيرتك لدخلته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو وہاں سونے کا ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک نوجوان کا۔ میں نے گمان کیا کہ شاید وہ میں ہی ہوں، تو میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب۔ (پھر فرمایا: اے عمر!) اگر مجھے تمہاری غیرت کا علم نہ ہوتا تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب] عن أنس [حم ق] عن جابر [حم] عن بريدة ومعاذ. الصحيحة ١٤٠٥، ١٤٢٣.
«دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه خيام اللؤلؤ فضربت بيدي إلى ما يجري فيه الماء فإذا مسك أذفر فقلت: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذا الكوثر الذي أعطاكه الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو وہاں ایک نہر دیکھی جس کے دونوں کنارے موتیوں کے خیموں پر مشتمل تھے، میں نے اپنا ہاتھ اس میں بہنے والے پانی کی طرف بڑھایا تو وہ خوشبودار کستوری تھا۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3365
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت ن] عن أنس.
«دخلت الجنة فاستقبلتني جارية شابة فقلت: لمن أنت؟ قالت: لزيد بن حارثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو ایک نوجوان لڑکی میرے استقبال کے لیے آئی، میں نے پوچھا: تم کس کے لیے ہو؟ اس نے کہا: زید بن حارثہ کے لیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3366
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الروياني الضياء] عن بريدة. الصحيحة ١٨٥٩: ابن عساكر.
«دخلت الجنة فرأيت لزيد بن عمرو بن نفيل درجتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے زید بن عمرو بن نفیل کے لیے دو درجے دیکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3367
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن عائشة. الصحيحة ١٤٠٦.
«دخلت الجنة فسمعت خشفة بين يدي فقلت: ما هذه الخشفة؟ فقيل: الغميصاء بنت ملحان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیسی آہٹ ہے؟ کہا گیا: یہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أنس. مختصر مسلم ١٦٧٨، الصحيحة ١٤٠٥.
«دخلت الجنة فسمعت خشفة بين يدي قلت: ما هذه الخشفة؟ فقيل: هذا بلال يمشي أمامك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیسی آہٹ ہے؟ کہا گیا: یہ بلال ہیں جو آپ کے آگے چل رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب عد] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٤٠٥.
"دخلت الجنة فسمعت خشفة فقلت: ما هذه؟ قالوا: هذا بلال ثم دخلت الجنة فسمعت خشفة فقلت: ما هذه؟ قالوا: هذه الغميصاء بنت ملحان"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ بلال ہیں۔ پھر میں جنت میں گیا تو میں نے آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عبد بن حميد] عن أنس [الطيالسي] عن جابر. الصحيحة ١٤٠٥.
«دخلت الجنة فسمعت فيها قراءة فقلت: من هذا؟ قالوا: حارثة بن النعمان كذلكم البر كذلكم البر» !
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت کی آواز سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: حارثہ بن نعمان۔ (پھر فرمایا:) نیکی (والدین کے ساتھ حسن سلوک) ایسی ہی ہوتی ہے، نیکی ایسی ہی ہوتی ہے!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3371
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت، الحاكم١] عن عائشة. الصحيحة ٩١٣: حم.
«دخلت الجنة ليلة أسري بي فسمعت في جانبها وجسا فقلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: هذا بلال المؤذن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں جنت میں گیا تو میں نے اس کے ایک جانب سے آواز سنی، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع] عن ابن عباس. الصحيحة ١٤٠٥.
«دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3373
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن جابر [د ت] عن ابن عباس مرسلا٢. حجة النبي صلى الله عليه وسلم كما رواها جابر ٣٤.
«دخلت امرأة النار في هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے، یہاں تک کہ وہ (بلی) مر گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن أبي هريرة [خ] عن ابن عمر. الصحيحة ٢٨.
«درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد عند الله من ستة وثلاثين زنية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک درہم سود کا جسے آدمی جانتے بوجھتے کھاتا ہے، اللہ کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت (گناہ) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن عبد الله بن حنظلة. غاية المرام ١٧٢، الروض النضير ٤٥٩، الصحيحة ١٠٣٣.
«دع داعي اللبن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دودھ دوہتے وقت تھن میں اتنا دودھ چھوڑ دو جو مزید دودھ اتارنے کا سبب بنے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم تخ حب ك] عن ضرار بن الأزور. الصحيحة ١٨٦٠: الدارمي، عم. ٢كذا الأصل، ولا داعي لقوله [مرسلا] لأن ابن عباس صحابي مشهور!
«دع ما يريبك إلى ما لا يريبك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3377
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أنس [ن] عن الحسن بن علي [طب] عن وابصة بن معبد [خط] عن ابن عمر. الروض النصير ١٥٢، غاية المرام ١٧٩، الإرواء ٢٠٧٤.
«دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الصدق طمأنينة والكذب ريبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3378
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب] عن الحسن. الإرواء ٢٠٧٤: ك.
«دعاء الأخ لأخيه بظهر الغيب لا يرد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بھائی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3379
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن عمران بن حصين. الصحيحة ١٣٣٩.
«دعاء المرء المسلم مستجاب لأخيه بظهر الغيب عند رأسه ملك موكل به كلما دعا لأخيه بخير قال الملك: آمين ولك بمثل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان آدمی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی ایسا ہی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3380
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن أبي الدرداء. مختصر مسلم ١٨٨٢، الصحيحة ١٣٣٩.
«دعوة الرجل لأخيه بظهر الغيب مستجابة وملك عند رأسه يقول: آمين ولك بمثل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی ایسا ہی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3381
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو بكر في الغيلانيات] عن أم كرز. الصحيحة ١٣٣٩.
«دعوة المظلوم مستجابة وإن كان فاجرا ففجوره على نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے چاہے وہ بدکار ہی کیوں نہ ہو، اس کی بدکاری کا وبال اسی پر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3382
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الطيالسي] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٦٧.
«دعوة ذي النون إذ دعا بها وهو في بطن الحوت لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين لم يدع بها رجل مسلم في شيء قط إلا استجاب الله له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی دعا، جو انہوں نے اس وقت مانگی جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے: تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا، جو مسلمان آدمی بھی کسی معاملے میں یہ دعا مانگے، اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن ك هب الضياء] عن سعد. الكلم ١٢٢، الترغيب ٢/٢٧٥ و٣/٤٣.
«دعوا الحبشة ما ودعوكم واتركوا الترك ما تركوكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حبشیوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں، اور ترکوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن رجل. الصحيحة ٧٧٢.
«دعوا الناس يصيب بعضهم من بعض فإذا استنصح أحدكم أخاه فلينصحه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں، البتہ جب تم میں سے کسی سے اس کا بھائی نصیحت طلب کرے تو وہ اسے نصیحت کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي السائب١. الصحيحة ١٨٥٥: حم، الطحاوي.
«دعوا لي أصحابي فوالذي نفسي بيده لو أنفقتم مثل أحد ذهبا ما بلغتم أعمالهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے صحابہ کے بارے میں مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دو تو بھی تم ان کے عمل کو نہیں پہنچ سکتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أنس. الصحيحة ١٩٢٣: البزار – ابن أبي أوفى.
«دعوه فإن لصاحب الحق مقالا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق دار کو بات کرنے کا حق ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت] عن أبي هريرة. البيوع: حم، م، الطيالسي، الطحاوي، هق.
«دعوات المكروب: اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پریشان حال شخص کی دعائیں یہ ہیں: اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر، اور میرا سارا معاملہ درست فرما دے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3388
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم خد د حب] عن أبي بكرة. الكلم ١٢٠.
«دفن بالطينة التي خلق منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر شخص اسی مٹی میں دفن ہوتا ہے جس سے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3389
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمر. الصحيحة ١٨٥٨: البزار، أبونعيم، الخطيب – أبي سعيد. طس – أبي الدرداء.
«دليل الخير كفاعله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیکی کی راہ دکھانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3390
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن النجار] عن علي. الصحيحة ١٦٦٠.
«دم عفراء أحب إلى الله من سوداوين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سرخی مائل سفید (بکری) کا خون اللہ کو دو سیاہ (بکریوں) کے خون سے زیادہ محبوب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٨٦١.
«دم عفراء أزكى عند الله من دم سوداوين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سرخی مائل سفید (بکری) کا خون اللہ کے نزدیک دو سیاہ (بکریوں) کے خون سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن كثيرة بنت سفيان. الصحيحة ١٨٦١.
«دونك فانتصري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ لو اور اپنا حق وصول کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3393
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عائشة. الصحيحة ١٨٦٢: حم، عم، خد، ن.
«دية أصابع اليدين والرجلين سواء عشر من الإبل لكل إصبع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے، ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3394
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عباس. الإرواء ٢٢٧١.
«دية المعاهد نصف دية الحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معاہد (ذمی) کی دیت آزاد شخص کی دیت کی آدھی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمرو. الضعيفة ١/ص ٤٧٠، الإرواء ٢٢٥١: طس – ابن عمر.
«دية المكاتب بقدر ما عتق منه دية الحر وبقدر ما رق منه دية العبد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مکاتب (غلام جس نے آزادی کا معاہدہ کر رکھا ہو) کی دیت اتنی ہے کہ جتنا حصہ اس کا آزاد ہو چکا ہے اس کے بقدر آزاد شخص کی دیت اور جتنا حصہ غلامی میں باقی ہے اس کے بقدر غلام کی دیت۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الدال / حدیث: 3396
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الإرواء ١٧٢٦ – الطيالسي، حم، د، ن، قط، ك.