«داووا مرضاكم بالصدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔“
”اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔“
«دباغ الأديم طهوره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چمڑے کی دباغت ہی اس کا پاک ہونا ہے۔“
”چمڑے کی دباغت ہی اس کا پاک ہونا ہے۔“
«دباغ جلود الميتة طهورها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مردار (جانوروں) کی کھالوں کی دباغت ہی ان کا پاک ہونا ہے۔“
”مردار (جانوروں) کی کھالوں کی دباغت ہی ان کا پاک ہونا ہے۔“
«دباغ كل إهاب طهوره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر کھال کی دباغت ہی اس کا پاک ہونا ہے۔“
”ہر کھال کی دباغت ہی اس کا پاک ہونا ہے۔“
[دب إليكم داء الأمم قبلكم: الحسد والبغضاء هي الحالقة حالقة الدين لا حالقة الشعر والذي نفس محمد بيده لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أفلا أنبئكم بشيء إذا فعلتموه تحاببتم أفشوا السلام بينكم]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہاری طرف تم سے پہلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ہے: حسد اور بغض، یہ (بغض) مونڈنے والی چیز ہے، دین کو مونڈنے والی، نہ کہ بال مونڈنے والی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور تم مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کر لو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“
”تمہاری طرف تم سے پہلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ہے: حسد اور بغض، یہ (بغض) مونڈنے والی چیز ہے، دین کو مونڈنے والی، نہ کہ بال مونڈنے والی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور تم مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کر لو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“
«دحية الكلبي يشبه جبريل وعروة بن مسعود الثقفي يشبه عيسى بن مريم وعبد العزى يشبه الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دحیہ کلبی، جبریل سے مشابہت رکھتے تھے، عروہ بن مسعود ثقفی، عیسیٰ بن مریم سے مشابہت رکھتے تھے اور عبد العزیٰ، دجال سے مشابہت رکھتا تھا۔“
”دحیہ کلبی، جبریل سے مشابہت رکھتے تھے، عروہ بن مسعود ثقفی، عیسیٰ بن مریم سے مشابہت رکھتے تھے اور عبد العزیٰ، دجال سے مشابہت رکھتا تھا۔“
«دخلت الجنة البارحة فنظرت فيها فإذا جعفر يطير مع الملائكة وإذا حمزة متكئ على سرير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں کل رات جنت میں گیا، میں نے اس میں دیکھا تو جعفر فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے تھے اور حمزہ ایک تخت پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔“
”میں کل رات جنت میں گیا، میں نے اس میں دیکھا تو جعفر فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے تھے اور حمزہ ایک تخت پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔“
«دخلت الجنة فإذا أنا بقصر من ذهب فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لشاب من قريش فظننت أني أنا هو فقلت: ومن هو؟ قالوا: عمر بن الخطاب فلولا ما علمت من غيرتك لدخلته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو وہاں سونے کا ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک نوجوان کا۔ میں نے گمان کیا کہ شاید وہ میں ہی ہوں، تو میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب۔ (پھر فرمایا: اے عمر!) اگر مجھے تمہاری غیرت کا علم نہ ہوتا تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔“
”میں جنت میں گیا تو وہاں سونے کا ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک نوجوان کا۔ میں نے گمان کیا کہ شاید وہ میں ہی ہوں، تو میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب۔ (پھر فرمایا: اے عمر!) اگر مجھے تمہاری غیرت کا علم نہ ہوتا تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔“
«دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه خيام اللؤلؤ فضربت بيدي إلى ما يجري فيه الماء فإذا مسك أذفر فقلت: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذا الكوثر الذي أعطاكه الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو وہاں ایک نہر دیکھی جس کے دونوں کنارے موتیوں کے خیموں پر مشتمل تھے، میں نے اپنا ہاتھ اس میں بہنے والے پانی کی طرف بڑھایا تو وہ خوشبودار کستوری تھا۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔“
”میں جنت میں گیا تو وہاں ایک نہر دیکھی جس کے دونوں کنارے موتیوں کے خیموں پر مشتمل تھے، میں نے اپنا ہاتھ اس میں بہنے والے پانی کی طرف بڑھایا تو وہ خوشبودار کستوری تھا۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔“
«دخلت الجنة فاستقبلتني جارية شابة فقلت: لمن أنت؟ قالت: لزيد بن حارثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو ایک نوجوان لڑکی میرے استقبال کے لیے آئی، میں نے پوچھا: تم کس کے لیے ہو؟ اس نے کہا: زید بن حارثہ کے لیے۔“
”میں جنت میں گیا تو ایک نوجوان لڑکی میرے استقبال کے لیے آئی، میں نے پوچھا: تم کس کے لیے ہو؟ اس نے کہا: زید بن حارثہ کے لیے۔“
«دخلت الجنة فرأيت لزيد بن عمرو بن نفيل درجتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے زید بن عمرو بن نفیل کے لیے دو درجے دیکھے۔“
”میں جنت میں گیا تو میں نے زید بن عمرو بن نفیل کے لیے دو درجے دیکھے۔“
«دخلت الجنة فسمعت خشفة بين يدي فقلت: ما هذه الخشفة؟ فقيل: الغميصاء بنت ملحان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیسی آہٹ ہے؟ کہا گیا: یہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔“
”میں جنت میں گیا تو میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیسی آہٹ ہے؟ کہا گیا: یہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔“
«دخلت الجنة فسمعت خشفة بين يدي قلت: ما هذه الخشفة؟ فقيل: هذا بلال يمشي أمامك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیسی آہٹ ہے؟ کہا گیا: یہ بلال ہیں جو آپ کے آگے چل رہے ہیں۔“
”میں جنت میں گیا تو میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیسی آہٹ ہے؟ کہا گیا: یہ بلال ہیں جو آپ کے آگے چل رہے ہیں۔“
"دخلت الجنة فسمعت خشفة فقلت: ما هذه؟ قالوا: هذا بلال ثم دخلت الجنة فسمعت خشفة فقلت: ما هذه؟ قالوا: هذه الغميصاء بنت ملحان"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ بلال ہیں۔ پھر میں جنت میں گیا تو میں نے آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔“
”میں جنت میں گیا تو میں نے آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ بلال ہیں۔ پھر میں جنت میں گیا تو میں نے آہٹ سنی، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔“
«دخلت الجنة فسمعت فيها قراءة فقلت: من هذا؟ قالوا: حارثة بن النعمان كذلكم البر كذلكم البر» !
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت کی آواز سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: حارثہ بن نعمان۔ (پھر فرمایا:) نیکی (والدین کے ساتھ حسن سلوک) ایسی ہی ہوتی ہے، نیکی ایسی ہی ہوتی ہے!“
”میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت کی آواز سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: حارثہ بن نعمان۔ (پھر فرمایا:) نیکی (والدین کے ساتھ حسن سلوک) ایسی ہی ہوتی ہے، نیکی ایسی ہی ہوتی ہے!“
«دخلت الجنة ليلة أسري بي فسمعت في جانبها وجسا فقلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: هذا بلال المؤذن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں جنت میں گیا تو میں نے اس کے ایک جانب سے آواز سنی، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہیں۔“
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں جنت میں گیا تو میں نے اس کے ایک جانب سے آواز سنی، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہیں۔“
«دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔“
”عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔“
«دخلت امرأة النار في هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے، یہاں تک کہ وہ (بلی) مر گئی۔“
”ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے، یہاں تک کہ وہ (بلی) مر گئی۔“
«درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد عند الله من ستة وثلاثين زنية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک درہم سود کا جسے آدمی جانتے بوجھتے کھاتا ہے، اللہ کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت (گناہ) ہے۔“
”ایک درہم سود کا جسے آدمی جانتے بوجھتے کھاتا ہے، اللہ کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت (گناہ) ہے۔“
«دع داعي اللبن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دودھ دوہتے وقت تھن میں اتنا دودھ چھوڑ دو جو مزید دودھ اتارنے کا سبب بنے۔“
”دودھ دوہتے وقت تھن میں اتنا دودھ چھوڑ دو جو مزید دودھ اتارنے کا سبب بنے۔“
«دع ما يريبك إلى ما لا يريبك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔“
”جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔“
«دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الصدق طمأنينة والكذب ريبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔“
”جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔“
«دعاء الأخ لأخيه بظهر الغيب لا يرد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بھائی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔“
”بھائی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔“
«دعاء المرء المسلم مستجاب لأخيه بظهر الغيب عند رأسه ملك موكل به كلما دعا لأخيه بخير قال الملك: آمين ولك بمثل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان آدمی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی ایسا ہی ہو۔“
”مسلمان آدمی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی ایسا ہی ہو۔“
«دعوة الرجل لأخيه بظهر الغيب مستجابة وملك عند رأسه يقول: آمين ولك بمثل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی ایسا ہی ہو۔“
”آدمی کی اپنے (غائب) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی ایسا ہی ہو۔“
«دعوة المظلوم مستجابة وإن كان فاجرا ففجوره على نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے چاہے وہ بدکار ہی کیوں نہ ہو، اس کی بدکاری کا وبال اسی پر ہے۔“
”مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے چاہے وہ بدکار ہی کیوں نہ ہو، اس کی بدکاری کا وبال اسی پر ہے۔“
«دعوة ذي النون إذ دعا بها وهو في بطن الحوت لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين لم يدع بها رجل مسلم في شيء قط إلا استجاب الله له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی دعا، جو انہوں نے اس وقت مانگی جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے: تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا، جو مسلمان آدمی بھی کسی معاملے میں یہ دعا مانگے، اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی دعا، جو انہوں نے اس وقت مانگی جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے: تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا، جو مسلمان آدمی بھی کسی معاملے میں یہ دعا مانگے، اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
«دعوا الحبشة ما ودعوكم واتركوا الترك ما تركوكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حبشیوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں، اور ترکوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں۔“
”حبشیوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں، اور ترکوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں۔“
«دعوا الناس يصيب بعضهم من بعض فإذا استنصح أحدكم أخاه فلينصحه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں، البتہ جب تم میں سے کسی سے اس کا بھائی نصیحت طلب کرے تو وہ اسے نصیحت کرے۔“
”لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں، البتہ جب تم میں سے کسی سے اس کا بھائی نصیحت طلب کرے تو وہ اسے نصیحت کرے۔“
«دعوا لي أصحابي فوالذي نفسي بيده لو أنفقتم مثل أحد ذهبا ما بلغتم أعمالهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے صحابہ کے بارے میں مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دو تو بھی تم ان کے عمل کو نہیں پہنچ سکتے۔“
”میرے صحابہ کے بارے میں مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دو تو بھی تم ان کے عمل کو نہیں پہنچ سکتے۔“
«دعوه فإن لصاحب الحق مقالا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق دار کو بات کرنے کا حق ہوتا ہے۔“
”اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق دار کو بات کرنے کا حق ہوتا ہے۔“
«دعوات المكروب: اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پریشان حال شخص کی دعائیں یہ ہیں: اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر، اور میرا سارا معاملہ درست فرما دے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“
”پریشان حال شخص کی دعائیں یہ ہیں: اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر، اور میرا سارا معاملہ درست فرما دے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“
«دفن بالطينة التي خلق منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر شخص اسی مٹی میں دفن ہوتا ہے جس سے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“
”ہر شخص اسی مٹی میں دفن ہوتا ہے جس سے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“
«دليل الخير كفاعله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیکی کی راہ دکھانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔“
”نیکی کی راہ دکھانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔“
«دم عفراء أحب إلى الله من سوداوين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سرخی مائل سفید (بکری) کا خون اللہ کو دو سیاہ (بکریوں) کے خون سے زیادہ محبوب ہے۔“
”سرخی مائل سفید (بکری) کا خون اللہ کو دو سیاہ (بکریوں) کے خون سے زیادہ محبوب ہے۔“
«دم عفراء أزكى عند الله من دم سوداوين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سرخی مائل سفید (بکری) کا خون اللہ کے نزدیک دو سیاہ (بکریوں) کے خون سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“
”سرخی مائل سفید (بکری) کا خون اللہ کے نزدیک دو سیاہ (بکریوں) کے خون سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“
«دية أصابع اليدين والرجلين سواء عشر من الإبل لكل إصبع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے، ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ۔“
”ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے، ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ۔“
«دية المعاهد نصف دية الحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معاہد (ذمی) کی دیت آزاد شخص کی دیت کی آدھی ہے۔“
”معاہد (ذمی) کی دیت آزاد شخص کی دیت کی آدھی ہے۔“
«دية المكاتب بقدر ما عتق منه دية الحر وبقدر ما رق منه دية العبد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مکاتب (غلام جس نے آزادی کا معاہدہ کر رکھا ہو) کی دیت اتنی ہے کہ جتنا حصہ اس کا آزاد ہو چکا ہے اس کے بقدر آزاد شخص کی دیت اور جتنا حصہ غلامی میں باقی ہے اس کے بقدر غلام کی دیت۔“
”مکاتب (غلام جس نے آزادی کا معاہدہ کر رکھا ہو) کی دیت اتنی ہے کہ جتنا حصہ اس کا آزاد ہو چکا ہے اس کے بقدر آزاد شخص کی دیت اور جتنا حصہ غلامی میں باقی ہے اس کے بقدر غلام کی دیت۔“
…