حدیث نمبر: 3211
"خبرني ربي أني سأرى علامة في أمتي فإذا رأيتها أكثرت من قول: سبحان الله وبحمده استغفر الله وأتوب إليه فقد رأيتها {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} - فتح مكة - {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً} "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے میرے رب نے بتایا کہ میں اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا، پس جب میں اسے دیکھوں تو کثرت سے یہ کہوں: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» (اللہ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں)، تو میں نے وہ نشانی دیکھ لی ہے: ﴿جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے﴾ - یعنی مکہ کی فتح - ﴿اور تم لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے دیکھو، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرو اور اس سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے﴾۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الخاء / حدیث: 3211
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة.