کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أيما رجل أفلس ووجد رجل سلعته عنده بعينها فهو أولى بها من غيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص دیوالیہ ہو جائے اور کوئی (قرض خواہ) بعینہ اپنا سامان اس کے پاس پا لے، تو وہ دیگر لوگوں (قرض خواہوں) کی نسبت اس (سامان کو واپس لینے) کا زیادہ حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2717
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن] عن أبي هريرة. الإرواء ١٤٤٢.
«أيما رجل أم قوما وهم له كارهون لم تجز صلاته أذنيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص لوگوں کی امامت کرائے حالانکہ وہ (کسی شرعی عیب کی وجہ سے) اسے ناپسند کرتے ہوں، تو اس کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی (یعنی شرفِ قبولیت نہیں پاتی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن طلحة. صحيح الترغيب ٤٨٣.
"أيما رجل باع سلعة فأدرك سلعته بعينها عند رجل وقد أفلس ولم يكن قبض من ثمنها شيئا فهي له وإن كان قبض
من ثمنها شيئا فهي أسوة الغرماء"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی سامان فروخت کیا، پھر اس نے بعینہ اپنا سامان اس شخص (خریدار) کے پاس پا لیا جو دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس (فروخت کنندہ) نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، تو وہ سامان اسی کا ہے۔ اور اگر اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ حصہ وصول کر لیا تھا، تو پھر وہ (اس بچے ہوئے سامان کے حق میں) باقی قرض خواہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2719
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ١٤٤٢.
«أيما رجل باع متاعا فأفلس الذي ابتاعه ولم يقبض الذي باعه من ثمنه شيئا فوجد متاعه بعينه فهو أحق به وإن مات المشتري فصاحب المتاع أسوة الغرماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی سامان فروخت کیا، پھر خریدار دیوالیہ ہو گیا اور بیچنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، پھر اس نے بعینہ اپنا سامان موجود پا لیا تو وہ اس (کو واپس لینے) کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ البتہ اگر خریدار فوت ہو جائے تو پھر سامان کا مالک دیگر قرض خواہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك د] عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام مرسلا. الإرواء ١٤٤٢.
[أيما رجل تدين دينا وهو مجمع أن لا يوفيه إياه لقي الله سارقا]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی قرض لیا اور اس کا پختہ ارادہ یہ ہو کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور کی حیثیت سے ملے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2720M
تخریج حدیث [هـ] عن صهيب.
«أيما رجل خرج يفرق بين أمتي فاضربوا عنقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی شخص بھی نکلے اور میری امت کے درمیان تفرقہ ڈالنے (یعنی انتشار پھیلانے) کی کوشش کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أسامة بن شريك. المشكاة ٣٥٥٢.
«أيما رجل ظلم شبرا من الأرض كلفه الله تعالى أن يحفره حتى يبلغ آخر سبع أرضين ثم يطوقه يوم القيامة حتى يقضى بين الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے ایک بالشت بھر زمین پر بھی ظلماً قبضہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اس بات کا مکلف بنائے گا کہ وہ اسے کھود کر ساتویں زمین کی تہہ تک پہنچے، پھر قیامت کے دن اسے اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن يعلى بن مرة. المشكاة ٢٩٦٠، الصحيحة ٢٤٠.
«أيما رجل عاهر بحرة أو أمة فالولد ولد زنا لا يرث ولا يورث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کسی آزاد عورت یا لونڈی کے ساتھ زنا کیا، تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ ولد الزنا (زنا کی پیداوار) کہلائے گا، جو نہ (کسی کا) وارث بنے گا اور نہ ہی کوئی اس کا وارث ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2723
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمرو. المشكاة ٣٠٥٤.
"أيما رجل قام إلى وضوئه يريد الصلاة ثم غسل كفيه نزلت خطيئته من كفيه مع أول قطرة فإذا غسل وجهه نزلت خطيئته من سمعه وبصره مع أول قطرة فإذا غسل يديه إلى المرفقين ورجليه إلى الكعبين سلم من كل ذنب هو له ومن كل خطيئة كهيئته يوم ولدته أمه
فإذا قام إلى الصلاة رفعه الله عز وجل بها درجة وإن قعد قعد سالما"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص نماز کے ارادے سے وضو کرنے کے لیے کھڑا ہو، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوئے تو پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کے کانوں اور آنکھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنی کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو وہ اپنے ہر گناہ اور خطا سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اللہ عزوجل اس (نماز) کی بدولت اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اگر وہ بیٹھ جائے تو سلامتی کے ساتھ بیٹھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2724
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٧٥٦، صحيح الترغيب ١٨٢.
«أيما رجل مس فرجه فليتوضأ وأيما امرأة مست فرجها فلتتوضأ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مرد اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے، اور جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ (بھی) وضو کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم قط] عن ابن عمرو. الإرواء ١١٧: هق.
«أيما رجل مسلم أعتق رجلا مسلما فإن الله تعالى جاعل وقاء كل عظم من عظامه عظما من عظام محرره من النار وأيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة فإن الله تعالى جاعل وقاء كل عظم من عظامها عظما من عظام محررتها من النار يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو آزاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس (آزاد کرنے والے) کی ہر ہڈی کے بدلے اس کے آزاد کردہ غلام کی ایک ہڈی کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی آزاد کردہ لونڈی کی ایک ہڈی کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2726
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن أبي نجيح السلمي. الترغيب ٣/٦٢، الصحيحة ١٧٥٦: حم، الطحاوي.
«أيما رجل مسلم أكفر رجلا مسلما فإن كان كافرا وإلا كان هو الكافر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو کافر کہے، تو اگر وہ واقعی کافر ہے (تو ٹھیک ہے)، ورنہ وہ کہنے والا خود کافر ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمر. مالك – كلام، حم ٢/١٨، ٤٤، ٦٠، ١٠٥، ١١٣، خ – فتن، م – إيمان.
«أيما رجل من أمتي سببته سبة أو لعنته لعنة في غضبي فإنما أنا من ولد آدم أغضب كما تغضبون وإنما بعثني الله رحمة للعالمين فأجعلها عليهم صلاة يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے جس شخص کو میں نے غصے کی حالت میں برا بھلا کہا ہو یا اس پر لعنت کی ہو، تو میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جس طرح تمہیں غصہ آتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، لہٰذا میں قیامت کے دن اس (سخت کلامی) کو ان کے حق میں رحمت و دعا بنا دوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2728
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن سلمان. الصحيحة ١٧٥٨.
«أيما صبي حج ثم بلغ الحنث فعليه أن يحج حجة أخرى وأيما أعرابي حج ثم هاجر فعليه أن يحج حجة أخرى وأيما عبد حج ثم أعتق فعليه أن يحج حجة أخرى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو نابالغ بچہ حج کرے اور پھر وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور حج کرنا لازم ہے، اور جو دیہاتی حج کرے اور پھر ہجرت کر جائے تو اس پر ایک اور حج لازم ہے، اور جو غلام حج کرے اور پھر آزاد ہو جائے تو اس پر (بھی) ایک اور حج کرنا لازم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2729
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط الضياء] عن ابن عباس. الإرواء ٩٨٦.
"أيما ضيف نزل بقوم فأصبح الضيف محروما فله أن
يأخذ بقدر قراه ولا حرج عليه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مہمان کسی قوم کے ہاں اترے اور اس نے صبح اس حال میں کی کہ اسے محروم رکھا گیا (یعنی اس کی مہمانی نہیں کی گئی)، تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضیافت کے بقدر ان سے لے لے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2730
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٦٤٠.
«أيما عبد أبق من مواليه فقد كفر حتى يرجع إليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے مالکان سے بھاگ جائے تو اس نے کفر (ناشکری) کا ارتکاب کیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس واپس آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2731
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جرير. مختصر مسلم ٥٧، الروض النضير ٢٦٩.
«أيما عبد أصاب شيئا مما نهى الله عنه ثم أقيم عليه حده كفر الله ذلك الذنب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس بندے نے اللہ کی منع کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور پھر اس پر اس (جرم) کی حد قائم کر دی گئی تو اللہ تعالیٰ اس کے اس گناہ کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2732
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن خزيمة بن ثابت. الصحيحة ١٧٥٥: حم، الدارمي.
«أيما عبد تزوج بغير إذن أهله فهو عاهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ زانی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن جابر. الإرواء ١٩٣٣: الدارمي، ابن ماجه، الطحاوي، عد، حل، هق.
«أيما عبد تزوج بغير إذن مواليه فهو زان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو وہ زانی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. الإرواء ١٩٣٣: د، الدارمي.
«أيما عبد كاتب على مائة أوقية فأداها إلا عشرة أواق فهو عبد وأيما عبد كاتب على مائة دينار فأداها إلا عشرة دنانير فهو عبد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس غلام نے سو اوقیہ (چاندی) پر مکاتبت (آزادی کا معاہدہ) کی اور اس نے دس اوقیہ کے سوا ساری رقم ادا کر دی، تو وہ (اب بھی) غلام ہی ہے، اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی اور اس نے دس دینار کے سوا باقی ادا کر دیے، تو وہ (بھی ابھی تک) غلام ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2735
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن ابن عمرو. الإرواء ١٦٧٤.
«أيما عبد مات في إباقه دخل النار وإن كان قتل في سبيل الله تعالى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے بھاگنے کی حالت میں مر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہی کیوں نہ قتل کیا گیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2736
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس هب] عن جابر. الترغيب ٣/٦٠.
«أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها فسهمكم فيها وأيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ولرسوله ثم هي لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم جس بستی میں بھی آؤ اور وہاں قیام کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے، اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو بے شک اس کا پانچواں حصہ (خمس) اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، پھر باقی سب تمہارے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2737
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١١٤٦.
«أيما قوم جلسوا فأطالوا الجلوس ثم تفرقوا قبل أن يذكروا الله تعالى أو يصلوا على نبيه كانت عليهم ترة من الله إن شاء عذبهم وإن شاء غفر لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور انہوں نے دیر تک بیٹھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کے نبی پر درود بھیجنے سے پہلے ہی مجلس برخاست کر دی تو وہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے باعثِ حسرت اور نقصان ہوگی، اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو انہیں معاف فرما دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2738
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٤.
«أيما مسلم رمى بسهم في سبيل الله فبلغ مخطئا أو مصيبا فله من الأجر كرقبة أعتقها من ولد إسماعيل وأيما رجل شاب في سبيل الله فهو له نور وأيما رجل أعتق رجلا مسلما فكل عضو من المعتق بعضو من المعتق فداء له من النار وأيما رجل قام وهو يريد الصلاة فأفضى الوضوء إلى أماكنه سلم من كل ذنب وخطيئة هي له فإن قام إلى الصلاة رفعه الله تعالى بها درجة وإن رقد رقد سالما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس مسلمان نے اللہ کی راہ میں کوئی تیر چلایا، خواہ اس کا نشانہ خطا ہو جائے یا نشانے پر لگے، تو اس کے لیے اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو وہ (بڑھاپا) اس کے لیے نور ہوگا، اور جس شخص نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو آزاد کرنے والے کا ہر عضو اس آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے اس کے لیے جہنم کی آگ سے فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص نماز کے ارادے سے کھڑا ہوا اور اس نے وضو کے اعضاء کو اچھی طرح دھویا تو وہ اپنے ہر گناہ اور خطا سے پاک ہو گیا، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند فرما دے گا اور اگر وہ سو جائے تو سلامتی کی حالت میں سوئے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2739
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمرو بن عبسة. الصحيحة ١٧٥٦: حم.
«أيما مسلم شهد له أربعة بخير أدخله الله الجنة أو ثلاثة أو اثنان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس مسلمان کے حق میں چار آدمیوں نے بھلائی کی گواہی دی تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، اور (اسی طرح) تین نے یا دو نے (بھی گواہی دی تو وہ جنت میں داخل ہوگا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2740
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن عمر. أحكام الجنائز ص ٤٥: ت، الطيالسي: هق.
«أيما مسلمين التقيا فأخذ أحدهما بيد صاحبه فتصافحا وحمدا الله تعالى جميعا تفرقا وليس بينهما خطيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو دو مسلمان آپس میں ملیں، پس ان میں سے ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑے اور وہ مصافحہ کریں اور مل کر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں، تو وہ اس حال میں جدا ہوں گے کہ ان کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2741
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن البراء. الصحيحة ٥٢٥.
«أيها الناس اتقوا الله وأجملوا في الطلب فإن نفسا لن تموت حتى تستوفي رزقها وإن أبطأ عنها فاتقوا الله وأجملوا في الطلب خذوا ما حل ودعوا ما حرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور روزی طلب کرنے میں میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ کوئی جان اس وقت تک موت کے گھاٹ نہیں اترے گی جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے خواہ اس میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے، پس اللہ سے ڈرو اور طلبِ رزق میں میانہ روی اختیار کرو، جو حلال ہے اسے لے لو اور جو حرام ہے اسے چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2742
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن جابر. المشكاة ٥٣٠٠.
"أيها الناس إذا كان هذا اليوم فاغتسلوا
وليمس أحدكم أفضل ما يجد من دهنه وطيبه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! جب یہ دن (یعنی جمعہ کا دن) آ جائے تو غسل کیا کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ جو بہترین تیل اور خوشبو پائے اسے لگائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2743
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ك] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ٣٧٩.
«أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وقال: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} . ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء: يا رب يا رب! ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! بے شک اللہ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، اور بلاشبہ اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا، چنانچہ اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ ”اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے بخوبی جاننے والا ہوں۔“ [سورة المؤمنون: 51] اور اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں۔“ [سورة البقرة: 172] پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہوتا ہے، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہوتا ہے، اس کا پینا حرام کا ہوتا ہے، اس کا لباس حرام کا ہوتا ہے اور اس کی غذا حرام کی ہوتی ہے، تو بھلا ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2744
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٣٦: الدارمي.
«أيها الناس إنه قد كان لي فيكم إخوة وأصدقاء وإني أبرأ إلى الله أن يكون لي فيكم خليل ولو كنت متخذا من أمتي خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا وإن ربي اتخذني خليلا كما اتخذ إبراهيم خليلا ألا إن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد ألا فلا تتخذوا القبور مساجد إني أنهاكم عن ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! یقیناً تم میں میرے کئی بھائی اور دوست رہے ہیں، اور میں اس بات سے اللہ کے حضور براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل (گہرا دوست) ہو، اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ضرور ابوبکر کو خلیل بناتا۔ اور بیشک میرے رب نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے جیسا کہ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا تھا۔ سن لو! تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ (مسجد) بنا لیا کرتے تھے، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس بات سے سختی سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2745
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن جندب. تحذير الساجد ص ١٤.
«أيها الناس إنه لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا فأما الركوع فعظموا فيه الرب وأما السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن أن يستجاب لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے اب سچے خواب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ سن لو! مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا رکوع میں تو اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور سجدے میں خوب کوشش کے ساتھ دعا کیا کرو، کیونکہ وہ اس لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن هـ] عن ابن عباس. الإرواء ٢٥٣٩.
«أيها الناس عليكم بالقصد عليكم بالقصد فإن الله تعالى لا يمل حتى تملوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! تم درمیانی راہ (اعتدال) کو لازم پکڑو، تم اعتدال کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ع حب] عن جابر. الصحيحة ١٧٦٠.
«أيها الناس قد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا: كتاب الله وعترتي أهل بيتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان ایسی دو چیزیں چھوڑی ہیں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2748
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] ١ عن جابر. الصحيحة ١٧٦١.
«أيها الناس ما زال بكم صنيعكم حتى ظننت أن سيكتب عليكم فعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! تمہارا یہ عمل (یعنی رات کو نفل نماز کے لیے میرے پیچھے جمع ہونا) برابر جاری رہا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، لہٰذا تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کو لازم کر لو، کیونکہ انسان کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہے سوائے فرض نماز کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2749
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن زيد بن ثابت. صحيح أبي داود ١٣٠١: حم، ق، أبو عوانة.
«أيها الناس لا تتمنوا لقاء العدو واسألوا الله العافية فإذا لقيتموهم فاصبروا واعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ سے عافیت مانگا کرو، لیکن جب تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو ثابت قدم رہو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ (پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی:) «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے، تو انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2750
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن عبد الله بن أبي أوفى. ق، د عن عبد الله بن أبي أوفى. فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف.
«الآخذ والمعطي سواء في الربا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سود لینے والا اور سود دینے والا (گناہ میں) دونوں برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2751
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط ك] عن أبي سعيد. أحاديث البيوع: حم، م، ابن الجارود.
«الآن حمي الوطيس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اب تنور گرم ہوا ہے (یعنی اب جنگ نے خوب شدت اختیار کر لی ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2752
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن العباس [ك] عن جابر [طب] عن شيبة. فقه السيرة ٤٢٤.
«الآن حين بردت عليه جلده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اب اس کی کھال اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے (یعنی میت کا قرض ادا ہونے پر اب اسے عذاب سے راحت ملی ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2753
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم قط ك] عن جابر. شرح الطحاوي ٦٤٥، الإرواء ١٤١٦، أحكام الجنائز ١٦: الطيالسي، هق.
«الآن نغزوهم ولا يغزونا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اب ہم ان پر حملہ کریں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے (غزوہ احزاب میں کفار کی پسپائی کے بعد فرمایا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن سليمان بن صرد. فقه السيرة ٣٣٤.
«الآيات خرزات منظومات في سلك فانقطع السلك فيتبع بعضها بعضا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کی نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، پس جب دھاگا ٹوٹ جائے گا تو وہ ایک دوسرے کے پیچھے پے در پے گرنے لگیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٧٦٢: ك - أنس.