«أيما رجل أفلس ووجد رجل سلعته عنده بعينها فهو أولى بها من غيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص دیوالیہ ہو جائے اور کوئی (قرض خواہ) بعینہ اپنا سامان اس کے پاس پا لے، تو وہ دیگر لوگوں (قرض خواہوں) کی نسبت اس (سامان کو واپس لینے) کا زیادہ حقدار ہے۔“
”جو شخص دیوالیہ ہو جائے اور کوئی (قرض خواہ) بعینہ اپنا سامان اس کے پاس پا لے، تو وہ دیگر لوگوں (قرض خواہوں) کی نسبت اس (سامان کو واپس لینے) کا زیادہ حقدار ہے۔“
«أيما رجل أم قوما وهم له كارهون لم تجز صلاته أذنيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص لوگوں کی امامت کرائے حالانکہ وہ (کسی شرعی عیب کی وجہ سے) اسے ناپسند کرتے ہوں، تو اس کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی (یعنی شرفِ قبولیت نہیں پاتی)۔“
”جو شخص لوگوں کی امامت کرائے حالانکہ وہ (کسی شرعی عیب کی وجہ سے) اسے ناپسند کرتے ہوں، تو اس کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی (یعنی شرفِ قبولیت نہیں پاتی)۔“
"أيما رجل باع سلعة فأدرك سلعته بعينها عند رجل وقد أفلس ولم يكن قبض من ثمنها شيئا فهي له وإن كان قبض
من ثمنها شيئا فهي أسوة الغرماء"
من ثمنها شيئا فهي أسوة الغرماء"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی سامان فروخت کیا، پھر اس نے بعینہ اپنا سامان اس شخص (خریدار) کے پاس پا لیا جو دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس (فروخت کنندہ) نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، تو وہ سامان اسی کا ہے۔ اور اگر اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ حصہ وصول کر لیا تھا، تو پھر وہ (اس بچے ہوئے سامان کے حق میں) باقی قرض خواہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔“
”جس شخص نے کوئی سامان فروخت کیا، پھر اس نے بعینہ اپنا سامان اس شخص (خریدار) کے پاس پا لیا جو دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس (فروخت کنندہ) نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، تو وہ سامان اسی کا ہے۔ اور اگر اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ حصہ وصول کر لیا تھا، تو پھر وہ (اس بچے ہوئے سامان کے حق میں) باقی قرض خواہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔“
«أيما رجل باع متاعا فأفلس الذي ابتاعه ولم يقبض الذي باعه من ثمنه شيئا فوجد متاعه بعينه فهو أحق به وإن مات المشتري فصاحب المتاع أسوة الغرماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی سامان فروخت کیا، پھر خریدار دیوالیہ ہو گیا اور بیچنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، پھر اس نے بعینہ اپنا سامان موجود پا لیا تو وہ اس (کو واپس لینے) کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ البتہ اگر خریدار فوت ہو جائے تو پھر سامان کا مالک دیگر قرض خواہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔“
”جس شخص نے کوئی سامان فروخت کیا، پھر خریدار دیوالیہ ہو گیا اور بیچنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، پھر اس نے بعینہ اپنا سامان موجود پا لیا تو وہ اس (کو واپس لینے) کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ البتہ اگر خریدار فوت ہو جائے تو پھر سامان کا مالک دیگر قرض خواہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔“
[أيما رجل تدين دينا وهو مجمع أن لا يوفيه إياه لقي الله سارقا]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی قرض لیا اور اس کا پختہ ارادہ یہ ہو کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور کی حیثیت سے ملے گا۔“
”جس شخص نے کوئی قرض لیا اور اس کا پختہ ارادہ یہ ہو کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور کی حیثیت سے ملے گا۔“
«أيما رجل خرج يفرق بين أمتي فاضربوا عنقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی شخص بھی نکلے اور میری امت کے درمیان تفرقہ ڈالنے (یعنی انتشار پھیلانے) کی کوشش کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔“
”جو کوئی شخص بھی نکلے اور میری امت کے درمیان تفرقہ ڈالنے (یعنی انتشار پھیلانے) کی کوشش کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔“
«أيما رجل ظلم شبرا من الأرض كلفه الله تعالى أن يحفره حتى يبلغ آخر سبع أرضين ثم يطوقه يوم القيامة حتى يقضى بين الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے ایک بالشت بھر زمین پر بھی ظلماً قبضہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اس بات کا مکلف بنائے گا کہ وہ اسے کھود کر ساتویں زمین کی تہہ تک پہنچے، پھر قیامت کے دن اسے اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“
”جس شخص نے ایک بالشت بھر زمین پر بھی ظلماً قبضہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اس بات کا مکلف بنائے گا کہ وہ اسے کھود کر ساتویں زمین کی تہہ تک پہنچے، پھر قیامت کے دن اسے اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“
«أيما رجل عاهر بحرة أو أمة فالولد ولد زنا لا يرث ولا يورث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کسی آزاد عورت یا لونڈی کے ساتھ زنا کیا، تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ ولد الزنا (زنا کی پیداوار) کہلائے گا، جو نہ (کسی کا) وارث بنے گا اور نہ ہی کوئی اس کا وارث ہوگا۔“
”جس شخص نے کسی آزاد عورت یا لونڈی کے ساتھ زنا کیا، تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ ولد الزنا (زنا کی پیداوار) کہلائے گا، جو نہ (کسی کا) وارث بنے گا اور نہ ہی کوئی اس کا وارث ہوگا۔“
"أيما رجل قام إلى وضوئه يريد الصلاة ثم غسل كفيه نزلت خطيئته من كفيه مع أول قطرة فإذا غسل وجهه نزلت خطيئته من سمعه وبصره مع أول قطرة فإذا غسل يديه إلى المرفقين ورجليه إلى الكعبين سلم من كل ذنب هو له ومن كل خطيئة كهيئته يوم ولدته أمه
فإذا قام إلى الصلاة رفعه الله عز وجل بها درجة وإن قعد قعد سالما"
فإذا قام إلى الصلاة رفعه الله عز وجل بها درجة وإن قعد قعد سالما"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص نماز کے ارادے سے وضو کرنے کے لیے کھڑا ہو، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوئے تو پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کے کانوں اور آنکھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنی کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو وہ اپنے ہر گناہ اور خطا سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اللہ عزوجل اس (نماز) کی بدولت اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اگر وہ بیٹھ جائے تو سلامتی کے ساتھ بیٹھتا ہے۔“
”جو شخص نماز کے ارادے سے وضو کرنے کے لیے کھڑا ہو، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوئے تو پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کے کانوں اور آنکھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنی کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو وہ اپنے ہر گناہ اور خطا سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اللہ عزوجل اس (نماز) کی بدولت اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اگر وہ بیٹھ جائے تو سلامتی کے ساتھ بیٹھتا ہے۔“
«أيما رجل مس فرجه فليتوضأ وأيما امرأة مست فرجها فلتتوضأ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مرد اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے، اور جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ (بھی) وضو کرے۔“
”جو مرد اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے، اور جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ (بھی) وضو کرے۔“
«أيما رجل مسلم أعتق رجلا مسلما فإن الله تعالى جاعل وقاء كل عظم من عظامه عظما من عظام محرره من النار وأيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة فإن الله تعالى جاعل وقاء كل عظم من عظامها عظما من عظام محررتها من النار يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو آزاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس (آزاد کرنے والے) کی ہر ہڈی کے بدلے اس کے آزاد کردہ غلام کی ایک ہڈی کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی آزاد کردہ لونڈی کی ایک ہڈی کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا۔“
”جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو آزاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس (آزاد کرنے والے) کی ہر ہڈی کے بدلے اس کے آزاد کردہ غلام کی ایک ہڈی کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی آزاد کردہ لونڈی کی ایک ہڈی کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا۔“
«أيما رجل مسلم أكفر رجلا مسلما فإن كان كافرا وإلا كان هو الكافر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو کافر کہے، تو اگر وہ واقعی کافر ہے (تو ٹھیک ہے)، ورنہ وہ کہنے والا خود کافر ہو جائے گا۔“
”جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو کافر کہے، تو اگر وہ واقعی کافر ہے (تو ٹھیک ہے)، ورنہ وہ کہنے والا خود کافر ہو جائے گا۔“
«أيما رجل من أمتي سببته سبة أو لعنته لعنة في غضبي فإنما أنا من ولد آدم أغضب كما تغضبون وإنما بعثني الله رحمة للعالمين فأجعلها عليهم صلاة يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے جس شخص کو میں نے غصے کی حالت میں برا بھلا کہا ہو یا اس پر لعنت کی ہو، تو میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جس طرح تمہیں غصہ آتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، لہٰذا میں قیامت کے دن اس (سخت کلامی) کو ان کے حق میں رحمت و دعا بنا دوں گا۔“
”میری امت کے جس شخص کو میں نے غصے کی حالت میں برا بھلا کہا ہو یا اس پر لعنت کی ہو، تو میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جس طرح تمہیں غصہ آتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، لہٰذا میں قیامت کے دن اس (سخت کلامی) کو ان کے حق میں رحمت و دعا بنا دوں گا۔“
«أيما صبي حج ثم بلغ الحنث فعليه أن يحج حجة أخرى وأيما أعرابي حج ثم هاجر فعليه أن يحج حجة أخرى وأيما عبد حج ثم أعتق فعليه أن يحج حجة أخرى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو نابالغ بچہ حج کرے اور پھر وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور حج کرنا لازم ہے، اور جو دیہاتی حج کرے اور پھر ہجرت کر جائے تو اس پر ایک اور حج لازم ہے، اور جو غلام حج کرے اور پھر آزاد ہو جائے تو اس پر (بھی) ایک اور حج کرنا لازم ہے۔“
”جو نابالغ بچہ حج کرے اور پھر وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور حج کرنا لازم ہے، اور جو دیہاتی حج کرے اور پھر ہجرت کر جائے تو اس پر ایک اور حج لازم ہے، اور جو غلام حج کرے اور پھر آزاد ہو جائے تو اس پر (بھی) ایک اور حج کرنا لازم ہے۔“
"أيما ضيف نزل بقوم فأصبح الضيف محروما فله أن
يأخذ بقدر قراه ولا حرج عليه"
يأخذ بقدر قراه ولا حرج عليه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مہمان کسی قوم کے ہاں اترے اور اس نے صبح اس حال میں کی کہ اسے محروم رکھا گیا (یعنی اس کی مہمانی نہیں کی گئی)، تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضیافت کے بقدر ان سے لے لے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
”جو مہمان کسی قوم کے ہاں اترے اور اس نے صبح اس حال میں کی کہ اسے محروم رکھا گیا (یعنی اس کی مہمانی نہیں کی گئی)، تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضیافت کے بقدر ان سے لے لے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
«أيما عبد أبق من مواليه فقد كفر حتى يرجع إليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے مالکان سے بھاگ جائے تو اس نے کفر (ناشکری) کا ارتکاب کیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس واپس آ جائے۔“
”جو غلام اپنے مالکان سے بھاگ جائے تو اس نے کفر (ناشکری) کا ارتکاب کیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس واپس آ جائے۔“
«أيما عبد أصاب شيئا مما نهى الله عنه ثم أقيم عليه حده كفر الله ذلك الذنب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس بندے نے اللہ کی منع کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور پھر اس پر اس (جرم) کی حد قائم کر دی گئی تو اللہ تعالیٰ اس کے اس گناہ کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“
”جس بندے نے اللہ کی منع کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور پھر اس پر اس (جرم) کی حد قائم کر دی گئی تو اللہ تعالیٰ اس کے اس گناہ کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“
«أيما عبد تزوج بغير إذن أهله فهو عاهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ زانی ہے۔“
”جو غلام اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ زانی ہے۔“
«أيما عبد تزوج بغير إذن مواليه فهو زان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو وہ زانی ہے۔“
”جو غلام اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو وہ زانی ہے۔“
«أيما عبد كاتب على مائة أوقية فأداها إلا عشرة أواق فهو عبد وأيما عبد كاتب على مائة دينار فأداها إلا عشرة دنانير فهو عبد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس غلام نے سو اوقیہ (چاندی) پر مکاتبت (آزادی کا معاہدہ) کی اور اس نے دس اوقیہ کے سوا ساری رقم ادا کر دی، تو وہ (اب بھی) غلام ہی ہے، اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی اور اس نے دس دینار کے سوا باقی ادا کر دیے، تو وہ (بھی ابھی تک) غلام ہی ہے۔“
”جس غلام نے سو اوقیہ (چاندی) پر مکاتبت (آزادی کا معاہدہ) کی اور اس نے دس اوقیہ کے سوا ساری رقم ادا کر دی، تو وہ (اب بھی) غلام ہی ہے، اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی اور اس نے دس دینار کے سوا باقی ادا کر دیے، تو وہ (بھی ابھی تک) غلام ہی ہے۔“
«أيما عبد مات في إباقه دخل النار وإن كان قتل في سبيل الله تعالى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو غلام اپنے بھاگنے کی حالت میں مر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہی کیوں نہ قتل کیا گیا ہو۔“
”جو غلام اپنے بھاگنے کی حالت میں مر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہی کیوں نہ قتل کیا گیا ہو۔“
«أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها فسهمكم فيها وأيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ولرسوله ثم هي لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم جس بستی میں بھی آؤ اور وہاں قیام کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے، اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو بے شک اس کا پانچواں حصہ (خمس) اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، پھر باقی سب تمہارے لیے ہے۔“
”تم جس بستی میں بھی آؤ اور وہاں قیام کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے، اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو بے شک اس کا پانچواں حصہ (خمس) اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، پھر باقی سب تمہارے لیے ہے۔“
«أيما قوم جلسوا فأطالوا الجلوس ثم تفرقوا قبل أن يذكروا الله تعالى أو يصلوا على نبيه كانت عليهم ترة من الله إن شاء عذبهم وإن شاء غفر لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور انہوں نے دیر تک بیٹھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کے نبی پر درود بھیجنے سے پہلے ہی مجلس برخاست کر دی تو وہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے باعثِ حسرت اور نقصان ہوگی، اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو انہیں معاف فرما دے۔“
”جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور انہوں نے دیر تک بیٹھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کے نبی پر درود بھیجنے سے پہلے ہی مجلس برخاست کر دی تو وہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے باعثِ حسرت اور نقصان ہوگی، اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو انہیں معاف فرما دے۔“
«أيما مسلم رمى بسهم في سبيل الله فبلغ مخطئا أو مصيبا فله من الأجر كرقبة أعتقها من ولد إسماعيل وأيما رجل شاب في سبيل الله فهو له نور وأيما رجل أعتق رجلا مسلما فكل عضو من المعتق بعضو من المعتق فداء له من النار وأيما رجل قام وهو يريد الصلاة فأفضى الوضوء إلى أماكنه سلم من كل ذنب وخطيئة هي له فإن قام إلى الصلاة رفعه الله تعالى بها درجة وإن رقد رقد سالما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس مسلمان نے اللہ کی راہ میں کوئی تیر چلایا، خواہ اس کا نشانہ خطا ہو جائے یا نشانے پر لگے، تو اس کے لیے اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو وہ (بڑھاپا) اس کے لیے نور ہوگا، اور جس شخص نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو آزاد کرنے والے کا ہر عضو اس آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے اس کے لیے جہنم کی آگ سے فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص نماز کے ارادے سے کھڑا ہوا اور اس نے وضو کے اعضاء کو اچھی طرح دھویا تو وہ اپنے ہر گناہ اور خطا سے پاک ہو گیا، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند فرما دے گا اور اگر وہ سو جائے تو سلامتی کی حالت میں سوئے گا۔“
”جس مسلمان نے اللہ کی راہ میں کوئی تیر چلایا، خواہ اس کا نشانہ خطا ہو جائے یا نشانے پر لگے، تو اس کے لیے اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو وہ (بڑھاپا) اس کے لیے نور ہوگا، اور جس شخص نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو آزاد کرنے والے کا ہر عضو اس آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے اس کے لیے جہنم کی آگ سے فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص نماز کے ارادے سے کھڑا ہوا اور اس نے وضو کے اعضاء کو اچھی طرح دھویا تو وہ اپنے ہر گناہ اور خطا سے پاک ہو گیا، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند فرما دے گا اور اگر وہ سو جائے تو سلامتی کی حالت میں سوئے گا۔“
«أيما مسلم شهد له أربعة بخير أدخله الله الجنة أو ثلاثة أو اثنان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس مسلمان کے حق میں چار آدمیوں نے بھلائی کی گواہی دی تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، اور (اسی طرح) تین نے یا دو نے (بھی گواہی دی تو وہ جنت میں داخل ہوگا)۔“
”جس مسلمان کے حق میں چار آدمیوں نے بھلائی کی گواہی دی تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، اور (اسی طرح) تین نے یا دو نے (بھی گواہی دی تو وہ جنت میں داخل ہوگا)۔“
«أيما مسلمين التقيا فأخذ أحدهما بيد صاحبه فتصافحا وحمدا الله تعالى جميعا تفرقا وليس بينهما خطيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو دو مسلمان آپس میں ملیں، پس ان میں سے ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑے اور وہ مصافحہ کریں اور مل کر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں، تو وہ اس حال میں جدا ہوں گے کہ ان کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا۔“
”جو دو مسلمان آپس میں ملیں، پس ان میں سے ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑے اور وہ مصافحہ کریں اور مل کر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں، تو وہ اس حال میں جدا ہوں گے کہ ان کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا۔“
«أيها الناس اتقوا الله وأجملوا في الطلب فإن نفسا لن تموت حتى تستوفي رزقها وإن أبطأ عنها فاتقوا الله وأجملوا في الطلب خذوا ما حل ودعوا ما حرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور روزی طلب کرنے میں میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ کوئی جان اس وقت تک موت کے گھاٹ نہیں اترے گی جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے خواہ اس میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے، پس اللہ سے ڈرو اور طلبِ رزق میں میانہ روی اختیار کرو، جو حلال ہے اسے لے لو اور جو حرام ہے اسے چھوڑ دو۔“
”اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور روزی طلب کرنے میں میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ کوئی جان اس وقت تک موت کے گھاٹ نہیں اترے گی جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے خواہ اس میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے، پس اللہ سے ڈرو اور طلبِ رزق میں میانہ روی اختیار کرو، جو حلال ہے اسے لے لو اور جو حرام ہے اسے چھوڑ دو۔“
"أيها الناس إذا كان هذا اليوم فاغتسلوا
وليمس أحدكم أفضل ما يجد من دهنه وطيبه"
وليمس أحدكم أفضل ما يجد من دهنه وطيبه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! جب یہ دن (یعنی جمعہ کا دن) آ جائے تو غسل کیا کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ جو بہترین تیل اور خوشبو پائے اسے لگائے۔“
”اے لوگو! جب یہ دن (یعنی جمعہ کا دن) آ جائے تو غسل کیا کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ جو بہترین تیل اور خوشبو پائے اسے لگائے۔“
«أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وقال: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} . ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء: يا رب يا رب! ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! بے شک اللہ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، اور بلاشبہ اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا، چنانچہ اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ ”اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے بخوبی جاننے والا ہوں۔“ [سورة المؤمنون: 51] اور اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں۔“ [سورة البقرة: 172] پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہوتا ہے، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہوتا ہے، اس کا پینا حرام کا ہوتا ہے، اس کا لباس حرام کا ہوتا ہے اور اس کی غذا حرام کی ہوتی ہے، تو بھلا ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے!“
”اے لوگو! بے شک اللہ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، اور بلاشبہ اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا، چنانچہ اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ ”اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے بخوبی جاننے والا ہوں۔“ [سورة المؤمنون: 51] اور اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں۔“ [سورة البقرة: 172] پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہوتا ہے، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہوتا ہے، اس کا پینا حرام کا ہوتا ہے، اس کا لباس حرام کا ہوتا ہے اور اس کی غذا حرام کی ہوتی ہے، تو بھلا ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے!“
«أيها الناس إنه قد كان لي فيكم إخوة وأصدقاء وإني أبرأ إلى الله أن يكون لي فيكم خليل ولو كنت متخذا من أمتي خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا وإن ربي اتخذني خليلا كما اتخذ إبراهيم خليلا ألا إن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد ألا فلا تتخذوا القبور مساجد إني أنهاكم عن ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! یقیناً تم میں میرے کئی بھائی اور دوست رہے ہیں، اور میں اس بات سے اللہ کے حضور براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل (گہرا دوست) ہو، اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ضرور ابوبکر کو خلیل بناتا۔ اور بیشک میرے رب نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے جیسا کہ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا تھا۔ سن لو! تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ (مسجد) بنا لیا کرتے تھے، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس بات سے سختی سے منع کرتا ہوں۔“
”اے لوگو! یقیناً تم میں میرے کئی بھائی اور دوست رہے ہیں، اور میں اس بات سے اللہ کے حضور براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل (گہرا دوست) ہو، اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ضرور ابوبکر کو خلیل بناتا۔ اور بیشک میرے رب نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے جیسا کہ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا تھا۔ سن لو! تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ (مسجد) بنا لیا کرتے تھے، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس بات سے سختی سے منع کرتا ہوں۔“
«أيها الناس إنه لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا فأما الركوع فعظموا فيه الرب وأما السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن أن يستجاب لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے اب سچے خواب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ سن لو! مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا رکوع میں تو اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور سجدے میں خوب کوشش کے ساتھ دعا کیا کرو، کیونکہ وہ اس لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کی جائے۔“
”اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے اب سچے خواب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ سن لو! مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا رکوع میں تو اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور سجدے میں خوب کوشش کے ساتھ دعا کیا کرو، کیونکہ وہ اس لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کی جائے۔“
«أيها الناس عليكم بالقصد عليكم بالقصد فإن الله تعالى لا يمل حتى تملوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! تم درمیانی راہ (اعتدال) کو لازم پکڑو، تم اعتدال کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ۔“
”اے لوگو! تم درمیانی راہ (اعتدال) کو لازم پکڑو، تم اعتدال کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ۔“
«أيها الناس قد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا: كتاب الله وعترتي أهل بيتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان ایسی دو چیزیں چھوڑی ہیں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔“
”اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان ایسی دو چیزیں چھوڑی ہیں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔“
«أيها الناس ما زال بكم صنيعكم حتى ظننت أن سيكتب عليكم فعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! تمہارا یہ عمل (یعنی رات کو نفل نماز کے لیے میرے پیچھے جمع ہونا) برابر جاری رہا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، لہٰذا تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کو لازم کر لو، کیونکہ انسان کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہے سوائے فرض نماز کے۔“
”اے لوگو! تمہارا یہ عمل (یعنی رات کو نفل نماز کے لیے میرے پیچھے جمع ہونا) برابر جاری رہا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، لہٰذا تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کو لازم کر لو، کیونکہ انسان کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہے سوائے فرض نماز کے۔“
«أيها الناس لا تتمنوا لقاء العدو واسألوا الله العافية فإذا لقيتموهم فاصبروا واعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ سے عافیت مانگا کرو، لیکن جب تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو ثابت قدم رہو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ (پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی:) «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے، تو انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“
”اے لوگو! دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ سے عافیت مانگا کرو، لیکن جب تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو ثابت قدم رہو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ (پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی:) «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے، تو انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“
«الآخذ والمعطي سواء في الربا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سود لینے والا اور سود دینے والا (گناہ میں) دونوں برابر ہیں۔“
”سود لینے والا اور سود دینے والا (گناہ میں) دونوں برابر ہیں۔“
«الآن حمي الوطيس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اب تنور گرم ہوا ہے (یعنی اب جنگ نے خوب شدت اختیار کر لی ہے)۔“
”اب تنور گرم ہوا ہے (یعنی اب جنگ نے خوب شدت اختیار کر لی ہے)۔“
«الآن حين بردت عليه جلده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اب اس کی کھال اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے (یعنی میت کا قرض ادا ہونے پر اب اسے عذاب سے راحت ملی ہے)۔“
”اب اس کی کھال اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے (یعنی میت کا قرض ادا ہونے پر اب اسے عذاب سے راحت ملی ہے)۔“
«الآن نغزوهم ولا يغزونا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اب ہم ان پر حملہ کریں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے (غزوہ احزاب میں کفار کی پسپائی کے بعد فرمایا)۔“
”اب ہم ان پر حملہ کریں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے (غزوہ احزاب میں کفار کی پسپائی کے بعد فرمایا)۔“
«الآيات خرزات منظومات في سلك فانقطع السلك فيتبع بعضها بعضا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کی نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، پس جب دھاگا ٹوٹ جائے گا تو وہ ایک دوسرے کے پیچھے پے در پے گرنے لگیں گی۔“
”قیامت کی نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، پس جب دھاگا ٹوٹ جائے گا تو وہ ایک دوسرے کے پیچھے پے در پے گرنے لگیں گی۔“
…