حدیث نمبر: 2738
«أيما قوم جلسوا فأطالوا الجلوس ثم تفرقوا قبل أن يذكروا الله تعالى أو يصلوا على نبيه كانت عليهم ترة من الله إن شاء عذبهم وإن شاء غفر لهم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور انہوں نے دیر تک بیٹھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کے نبی پر درود بھیجنے سے پہلے ہی مجلس برخاست کر دی تو وہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے باعثِ حسرت اور نقصان ہوگی، اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو انہیں معاف فرما دے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2738
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٤.