حدیث نمبر: 2739
«أيما مسلم رمى بسهم في سبيل الله فبلغ مخطئا أو مصيبا فله من الأجر كرقبة أعتقها من ولد إسماعيل وأيما رجل شاب في سبيل الله فهو له نور وأيما رجل أعتق رجلا مسلما فكل عضو من المعتق بعضو من المعتق فداء له من النار وأيما رجل قام وهو يريد الصلاة فأفضى الوضوء إلى أماكنه سلم من كل ذنب وخطيئة هي له فإن قام إلى الصلاة رفعه الله تعالى بها درجة وإن رقد رقد سالما»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس مسلمان نے اللہ کی راہ میں کوئی تیر چلایا، خواہ اس کا نشانہ خطا ہو جائے یا نشانے پر لگے، تو اس کے لیے اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو وہ (بڑھاپا) اس کے لیے نور ہوگا، اور جس شخص نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو آزاد کرنے والے کا ہر عضو اس آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے اس کے لیے جہنم کی آگ سے فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص نماز کے ارادے سے کھڑا ہوا اور اس نے وضو کے اعضاء کو اچھی طرح دھویا تو وہ اپنے ہر گناہ اور خطا سے پاک ہو گیا، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند فرما دے گا اور اگر وہ سو جائے تو سلامتی کی حالت میں سوئے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2739
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمرو بن عبسة. الصحيحة ١٧٥٦: حم.