❮
❯
حدیث نمبر: 2720
«أيما رجل باع متاعا فأفلس الذي ابتاعه ولم يقبض الذي باعه من ثمنه شيئا فوجد متاعه بعينه فهو أحق به وإن مات المشتري فصاحب المتاع أسوة الغرماء»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی سامان فروخت کیا، پھر خریدار دیوالیہ ہو گیا اور بیچنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، پھر اس نے بعینہ اپنا سامان موجود پا لیا تو وہ اس (کو واپس لینے) کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ البتہ اگر خریدار فوت ہو جائے تو پھر سامان کا مالک دیگر قرض خواہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔“

[أيما رجل تدين دينا وهو مجمع أن لا يوفيه إياه لقي الله سارقا]
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کوئی قرض لیا اور اس کا پختہ ارادہ یہ ہو کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور کی حیثیت سے ملے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك د] عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام مرسلا. الإرواء ١٤٤٢.