حدیث نمبر: 2744
«أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وقال: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} . ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء: يا رب يا رب! ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! بے شک اللہ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، اور بلاشبہ اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا، چنانچہ اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ ”اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے بخوبی جاننے والا ہوں۔“ [سورة المؤمنون: 51] اور اس نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں۔“ [سورة البقرة: 172] پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہوتا ہے، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہوتا ہے، اس کا پینا حرام کا ہوتا ہے، اس کا لباس حرام کا ہوتا ہے اور اس کی غذا حرام کی ہوتی ہے، تو بھلا ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے!“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2744
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٣٦: الدارمي.