کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إنه سيلي أموركم بعدي رجال يعرفونكم ما تنكرون وينكرون عليكم ما تعرفون فلا طاعة لمن عصى الله فلا تضلوا بربكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میرے بعد تمہارے معاملات پر ایسے لوگ حکمران بنیں گے جو تمہیں وہ باتیں متعارف کروائیں گے جنہیں تم (شریعت کے خلاف ہونے کی بنا پر) ناپسند کرتے ہو، اور وہ تمہاری ان باتوں کو ناپسند کریں گے جنہیں تم (حق) جانتے ہو۔ پس اس شخص کی کوئی اطاعت نہیں جو اللہ کی نافرمانی کرے، لہٰذا تم اپنے رب کے بارے میں گمراہ نہ ہونا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2397
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٥٩٠.
"إنه عرضت علي الجنة والنار فقربت مني الجنة حتى لقد تناولت منها قطفا قصرت يدي عنه وعرضت علي النار فجعلت أتأخر رهبة أن تغشاني ورأيت امرأة حميرية سوداء طويلة تعذب في هرة لها ربطتها فلم تطعمها ولم تسقها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض ورأيت فيها أبا ثمامة عمرو بن مالك يجر قصبه في
النار وإنهم كانوا يقولون: إن الشمس والقمر لا ينكسفان إلا لموت عظيم وإنهما آيتان من آيات الله يريكموها فإذا انكسفا فصلوا حتى تنجلي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک مجھ پر جنت اور دوزخ پیش کی گئیں۔ جنت میرے اتنے قریب کر دی گئی کہ میں نے اس میں سے پھلوں کا ایک گچھا پکڑنے کی کوشش کی لیکن میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکا، اور مجھ پر دوزخ پیش کی گئی تو میں اس خوف سے پیچھے ہٹنے لگا کہ کہیں وہ مجھے اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ میں نے اس میں قبیلہ حمیر کی ایک لمبی سیاہ فام عورت کو دیکھا جو اپنی ایک بلی کی وجہ سے عذاب پا رہی تھی جسے اس نے باندھ رکھا تھا، وہ نہ تو اسے کھانا پانی دیتی تھی اور نہ ہی اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ اور میں نے اسی دوزخ میں ابوثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا جو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔ اور لوگ کہا کرتے تھے کہ: سورج اور چاند کو گرہن کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ ہی سے لگتا ہے۔ بے شک یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو وہ تمہیں دکھاتا ہے، پس جب انہیں گرہن لگے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2398
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. الإرواء ٦٥٧.
«إنه في ضحضاح من النار ولولا أنا لكان في الدرك الأسفل» - يعني أبا طالب - "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک وہ (ابوطالب) جہنم کی آگ کے ایک کم گہرے حصے میں ہیں، اور اگر میں (ان کے حق میں شفاعت) نہ کرتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2399
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن العباس بن عبد المطلب.
«إنه قد حضر من أبيك ما ليس الله تعالى بتارك منه أحدا لموافاة يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تمہارے والد کے پاس وہ (موت) آ پہنچی ہے جس سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی حاضری کے لیے کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2400
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ١] عن أنس. الصحيحة ١٧٣٨: ابن ماجه.
«إنه قد لعن الموصولات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ان عورتوں پر لعنت کی گئی ہے جو (اپنے بالوں میں دوسرے بال) جوڑتی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2401
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن عائشة. مختصر مسلم ١٣٨٣ نحو عن عائشة.
«إنه لم يقبض نبي قط حتى يرى مقعده من الجنة ثم يخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی بھی نبی کی اس وقت تک روح قبض نہیں کی جاتی جب تک وہ جنت میں اپنا ٹھکانا نہ دیکھ لے، پھر اسے (دنیا میں رہنے یا آخرت کی طرف جانے کا) اختیار دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2402
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن عائشة. مختصر مسلم ١٦٦٥.
"إنه لم يكن نبي قبلي إلا كان حقا عليه أن يدل أمته على ما يعلمه خيرا لهم وينذرهم ما يعلمه شرا لهم وإن أمتكم هذه جعل عافيتها في أولها وسيصيب آخرها بلاء شديد وأمور تنكرونها وتجيء فتن فيرفق بعضها بعضا وتجيء الفتنة فيقول
المؤمن: هذه مهلكتي ثم تنكشف وتجيء الفتنة فيقول المؤمن: هذه هذه; فمن أحب منكم أن يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتأته منيته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر وليأت إلى الناس الذي يحب أن يؤتى إليه ومن بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع فإن جاء آخر ينازعه فاضربوا عنق الآخر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ سے پہلے جو بھی نبی گزرا، اس پر یہ لازم تھا کہ وہ اپنی امت کو اس بھلائی کا راستہ دکھائے جو وہ ان کے لیے جانتا ہو اور انہیں اس برائی سے ڈرائے جو وہ ان کے لیے جانتا ہو۔ اور یقیناً تمہاری اس امت کی عافیت اس کے ابتدائی دور میں رکھی گئی ہے، اور اس کے آخری دور کے لوگوں کو سخت آزمائشیں اور ایسے معاملات پیش آئیں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ اور ایسے فتنے آئیں گے کہ ان میں سے ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا محسوس کروائے گا (یعنی بعد والا فتنہ پہلے سے زیادہ سخت ہوگا)۔ اور جب کوئی فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا: یہ میری ہلاکت کا باعث ہے، پھر وہ فتنہ دور ہو جائے گا، اور پھر ایک اور فتنہ آئے گا تو مومن پکار اٹھے گا: یہی میری ہلاکت ہے، بس یہی ہے۔ پس تم میں سے جو شخص یہ پسند کرے کہ اسے دوزخ کی آگ سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے، تو اس کی موت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اور جس شخص نے کسی امام (مسلمانوں کے امیر) کی بیعت کی اور اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور دل کی رضامندی سے اسے تسلیم کر لیا، تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آ کر اس (امیر) سے جھگڑا (اور بغاوت) کرے تو اس دوسرے شخص کی گردن اڑا دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن ابن عمرو. الصحيحة ٢٤١، مختصر مسلم ١١٩٩.
«إنه لم يمنعني أن أرد عليك إلا أني كنت أصلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تمہیں (سلام کا) جواب دینے سے کسی اور چیز نے نہیں بلکہ اس بات نے روکا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2404
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. مختصر مسلم ٣٣٢ نحوه.
«إنه لم يمنعني أن أرد عليك إلا أني كنت على غير وضوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تمہیں (سلام کا) جواب دینے سے کسی اور چیز نے نہیں روکا سوائے اس بات کے کہ میں باوضو نہیں تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2405
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن المهاجر بن قنفذ. ضعيف أبي داود ٥٨.
«إنه لو حدث في الصلاة شيء لنبأتكم به ولكن إنما أنا بشر مثلكم أنسى كما تنسون فإذا نسيت فذكروني وإذا شك أحدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم ليسجد سجدتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر نماز کے حکم میں کوئی نئی بات (یا تبدیلی) پیدا ہوئی ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ درست بات کی جستجو کرے اور اسی (درست گمان) پر اپنی نماز پوری کرے، پھر دو سجدے (سجدہ سہو) کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2406
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن هـ] عن ابن مسعود. الإرواء ٤٠٢.
«إنه ليأتي الرجل العظيم السمين يوم القيامة لا يزن عند الله جناح بعوضة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن ایک بہت موٹا تازہ اور بھاری بھرکم آدمی لایا جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2407
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢١٤٨.
«إنه ليس بدواء ولكنه داء» - يعني الخمر -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک یہ کوئی دوا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود ایک بیماری ہے۔“ (اس سے آپ ﷺ کی مراد شراب تھی)۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2408
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن طارق بن سويد. مختصر مسلم ١٢٧٩.
«إنه ليس شيء بين السماء والأرض إلا يعلم أني رسول الله إلا عاصي الجن والإنس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ آسمان اور زمین کے درمیان کوئی چیز ایسی نہیں جو یہ نہ جانتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے نافرمان جنوں اور انسانوں کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2409
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم الدارمي الضياء] عن جابر. الصحيحة ١٧١٨: ابن حبان.
«إنه ليس في النوم تفريط إنما التفريط في اليقظة فإذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها لوقتها من الغد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیند کی حالت میں (نماز چھوٹ جانے پر) کوئی کوتاہی (یا گناہ) نہیں ہے، کوتاہی تو جاگتے ہوئے (غفلت برتنے میں) ہوتی ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے، تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے اسے پڑھ لے، اور اگلے دن بھی اس نماز کو اس کے مقررہ وقت پر پڑھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2410
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٤] عن أبي قتادة. صحيح أبي داود ٤٦٤.
«إنه ليس لنبي أن يدخل بيتا مزوقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی نبی کے شایانِ شان نہیں کہ وہ کسی ایسے گھر میں داخل ہو جسے (تصویروں اور نقش و نگار سے) سجایا گیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن على [حم هـ حب ك] عن سفينة. المشكاة ٣٢٢١.
«إنه ليس لنبي أن يومض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی نبی کے شایانِ شان نہیں کہ وہ (آنکھوں سے) اشارے کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2412
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن أنس. الصحيحة ١٧٢٣.
«إنه ليس من الناس أحد أمن علي في نفسه وماله من أبي بكر ابن أبي قحافة ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ولكن خلة الإسلام أفضل، سدوا عني كل خوخة في هذا المسجد غير خوخة أبي بكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ لوگوں میں سے اپنی جان اور مال کے ذریعے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر بن ابی قحافہ ہیں۔ اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن اسلام کا تعلق (اسلامی اخوت) سب سے افضل ہے۔ اس مسجد میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں بند کر دو، سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2413
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن ابن عباس. مختصر البخاري ٢٥٨ أبي سعيد.
«إنه ليس من فرس عربي إلا يؤذن له مع كل فجر يدعو بدعوتين يقول: اللهم إنك خولتني من خولتني من بني آدم فاجعلني من أحب أهله وماله إليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ کوئی بھی عربی گھوڑا ایسا نہیں جسے ہر صبح صادق کے وقت دو دعائیں مانگنے کی اجازت نہ دی جاتی ہو۔ وہ یہ دعا کرتا ہے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ» (اے اللہ! تو نے بنی آدم میں سے جس شخص کو میرا مالک بنایا ہے، تو مجھے اس کے نزدیک اس کے اہل و عیال اور مال میں سب سے زیادہ محبوب بنا دے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن أبي ذر. الترغيب ٢/١٦١.
«إنه ليغان على قلبي وإني لأستغفر الله في اليوم مائة مرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً میرے دل پر بھی (کبھی کبھی) پردہ سا آ جاتا ہے، اور بلاشبہ میں دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن الأغر المزني.
«إنه ليغضب علي أن لا أجد ما أعطيه من سأل منكم وله أوقية أو عدلها فقد سأل إلحافا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ پر غصہ کیا جاتا ہے (یا مجھ سے ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے) کہ میں اسے دینے کے لیے کچھ نہیں پاتا۔ تم میں سے جو شخص اس حال میں (لوگوں سے) سوال کرے کہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) یا اس کے برابر مال موجود ہو، تو یقیناً اس نے حد سے تجاوز کر کے (چپک کر) مانگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن رجل من بني أسد. الصحيحة ١٧١٩: مالك: حم، د، حب.
«إنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک جو شخص امام کے ساتھ (قیام اللیل میں) کھڑا رہے، یہاں تک کہ امام (نماز مکمل کر کے) فارغ ہو جائے، تو اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ حب] عن أبي ذر. الإرواء ٤٤٧، صلاة التراويح ص ١٤.
«إنه من لم يسأل الله تعالى يغضب عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتا، اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٢٣٨.
«إنه لا بد للعرس من وليمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک شادی (نکاح) کے لیے ولیمہ کرنا ضروری ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن بريدة. آداب الزفاف ٦٤ وزاد مصادر.
"إنه لا تتم صلاة أحدكم حتى يسبغ الوضوء كما أمره الله فيغسل وجهه ويديه إلى المرفقين ويمسح رأسه ورجليه إلى الكعبين ثم يكبر الله ويحمده ويمجده ويقرأ ما تيسر من القرآن مما علمه الله وأذن له فيه ثم يكبر فيركع فيضع يديه على ركبتيه ويرفع حتى تطمئن مفاصله وتسترخي ثم يقول: سمع الله لمن حمده فيستوي قائما حتى يأخذ كل عظم مأخذه ويقيم صلبه ثم يكبر فيسجد فيمكن جبهته من الأرض حتى تطمئن مفاصله وتسترخي ثم يكبر فيرفع رأسه فيستوي قاعدا على مقعدته
فيقيم صلبه ثم يكبر فيسجد حتى يمكن وجهه ويسترخي لا تتم صلاة أحدكم حتى يفعل ذلك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ویسا کامل وضو نہ کرے جیسا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، پس وہ اپنے چہرے کو اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کرے اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔ پھر وہ اللہ کی تکبیر کہے، اس کی حمد اور بزرگی بیان کرے، اور قرآن مجید میں سے جو اسے میسر ہو، جو اللہ نے اسے سکھایا ہے اور اس کی اجازت دی ہے، اس کی قراءت کرے۔ پھر تکبیر کہے اور رکوع کرے، پس اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے اور (رکوع میں) رکا رہے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ پرسکون ہو جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں۔ پھر وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے اور سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پکڑ لے اور وہ اپنی پیٹھ کو سیدھا کر لے۔ پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے، پس اپنی پیشانی کو زمین پر اچھی طرح ٹکائے یہاں تک کہ اس کے جوڑ پرسکون ہو جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں۔ پھر وہ تکبیر کہے اور اپنا سر اٹھائے، پس اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ کو سیدھا رکھے۔ پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے یہاں تک کہ اپنے چہرے کو (زمین پر) اچھی طرح ٹکا دے اور پرسکون ہو جائے۔ تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ ك] عن رفاعة بن رافع. صحيح أبي داود ٨٠٣، صحيح الترغيب ٢١٨، ٥٣٧. حم، هق.
«إنه لا قدست أمة لا يأخذ الضعيف فيها حقه غير متعتع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس قوم کو ہرگز پاکیزگی (اور برکت) نہیں مل سکتی جس میں کمزور آدمی بنا کسی خوف اور ہچکچاہٹ کے اپنا حق وصول نہ کر سکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي سعيد. صحيح المشكاة ٣٠٠٤، الترغيب ٣/١٣٨: طب – معاوية، وابن مسعود. البزار. عائشة.
«إنه لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق» - قاله لعلي -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک آپ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور آپ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ (یہ بات آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمائی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن هـ] عن علي. الصحيحة ١٨٢٠: حم، م، خط.
«إنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً جنت میں صرف فرماں بردار (مسلمان) جان ہی داخل ہوگی، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد کسی فاجر (بدکار) شخص کے ذریعے بھی فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«إنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة وأيام منى أيام أكل وشرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہوگی، اور منیٰ کے دن (ایامِ تشریق) تو کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ] عن بشير بن سحيم. الإرواء ٩٦٣.
«إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک آگ کے رب (اللہ) کے سوا کسی اور کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ (کسی کو) آگ کا عذاب دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن مسعود [م] عن كعب بن مالك. الصحيحة ٢٥، ٤٨٧.
«إنه لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة الأعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک کسی نبی کے شایانِ شان نہیں کہ وہ چھپ کر کنکھیوں سے اشارے کرے (یعنی اس کی آنکھ میں خیانت ہو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك] عن سعد١. الصحيحة ١٧٢٣.
"إنه يخرج من ضئضئ هذا قوم يتلون كتاب الله
رطبا لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس شخص کی نسل سے ایسی قوم نکلے گی جو اللہ کی کتاب کی بہت روانی سے تلاوت کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔ وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان (لوگوں) کو پا لیا تو میں انہیں قومِ ثمود کے قتل کیے جانے کی طرح ضرور قتل کروں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي سعيد.
«إنها حرم آمن إنها حرم آمن» - يعني المدينة -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک یہ ایک پرامن حرم ہے، بے شک یہ ایک پرامن حرم ہے۔ (اس سے آپ ﷺ کی مراد مدینہ منورہ تھا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن سهل بن حنيف.
«إنها ستكون عليكم بعدي أمراء يشغلهم أشياء عن الصلاة لوقتها حتى يذهب وقتها فصلوا الصلاة لوقتها قال رجل: إن أدركتها معهم أصلي معهم؟ قال: نعم إن شئت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں کچھ (دنیاوی) معاملات نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنے سے غافل کر دیں گے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل جایا کرے گا، لہٰذا تم اپنی نماز کو اس کے وقت پر ہی پڑھ لیا کرنا۔ ایک شخص نے پوچھا: اگر میں ان کے ساتھ بھی نماز کا وقت پا لوں تو کیا ان کے ساتھ بھی پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اگر تم چاہو تو (پڑھ لو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د الضياء] عن عبادة بن الصامت. صحيح أبي داود ٤٥٩.
«إنها ستكون فتن ألا ثم تكون فتنة المضطجع فيها خير من الجالس والجالس فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي فيها خير من الساعي إليها ألا فإذا نزلت أو وقعت فمن كانت له إبل فليلحق بإبله ومن كانت له غنم فليلحق بغنمه ومن كانت له أرض فليلحق بأرضه ومن لم يكن له شيء من ذلك فليعمد إلى سيفه فيدق على حده بحجر ثم لينج إن استطاع النجاء اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عنقریب فتنے رونما ہوں گے، سن لو! پھر ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہوگا، اور بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا رہنے والا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا شخص اس کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ خبردار! پس جب وہ فتنہ نازل ہو جائے یا واقع ہو جائے تو جس شخص کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے، اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے، اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔ اور جس کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی تلوار پکڑے اور اس کی دھار کو کسی پتھر پر مار کر توڑ دے (تاکہ وہ کسی کو قتل کرنے کے قابل نہ رہے)، پھر اگر وہ خود کو بچا سکتا ہے تو بچائے۔ اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن أبي بكرة. مختصر مسلم ٢٠٠٤.
«إنها ستكون فتنة القاعد فيها خير من القائم والقائم خير من الماشي والماشي خير من الساعي قيل: أفرأيت إن دخل علي بيتي قال: كن كابن آدم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا اس کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ (صحابہ کرام نے) عرض کی: آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی (مجھے قتل کرنے) میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر آدم کے بیٹے (ہابیل) کی طرح (مظلوم) بن جانا (لیکن قتل کے لیے ہاتھ نہ اٹھانا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن سعد. الإرواء ٢٤٥١: حم.
«إنها ستكون فتنة وفرقة واختلاف فإذا كان ذلك فائت بسيفك أحدا فاضربه حتى ينقطع ثم اجلس في بيتك حتى يأتيك يد خاطئة أو منية قاضية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب فتنہ، پھوٹ اور شدید اختلاف پیدا ہوگا۔ پس جب ایسا ہو تو اپنی تلوار لے کر کوہِ احد (یا کسی بھی پتھر) پر مارنا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ تجھے کوئی خطا کار ہاتھ (قتل کرنے) آ پہنچے یا تیری موت آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن محمد بن مسلمة. الصحيحة ١٣٨٠.
«إنها صلاة رغبة ورهبة سألت الله فيها ثلاث خصال فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة سألته أن لا يسحتكم بعذاب أصاب من كان قبلكم فأعطانيها وسألته أن لا يسلط على بيضتكم عدوا فيجتاحها فأعطانيها وسألته أن لا يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض فمنعنيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ (نماز جو میں نے ابھی پڑھی ہے) رغبت اور خوف کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، تو اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے منع فرما دیا۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ تم پر ایسا (عام اور ہلاک کر دینے والا) عذاب مسلط نہ کرے جو تم سے پہلی امتوں پر آیا تھا، تو اس نے مجھے یہ بات عطا فرما دی۔ اور میں نے اس سے دعا کی کہ وہ تمہارے مرکز پر کوئی ایسا بیرونی دشمن مسلط نہ کرے جو اسے جڑ سے تباہ کر دے، تو اس نے مجھے یہ بات بھی عطا فرما دی۔ اور میں نے اس سے دعا کی کہ وہ تمہیں مختلف گروہوں میں نہ بانٹے اور تم میں سے بعض کو بعض کی طاقت و جنگ کا مزہ نہ چکھائے (یعنی آپس میں خانہ جنگی نہ ہو)، تو اس نے مجھے اس بات سے منع فرما دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع طب الضياء] عن خالد الخزاعي [حم ت ن حب الضياء] عن خباب. صفة الصلاة ص١٠١.
«إنها طيبة تنفي الرجال كما تنفي النار خبث الحديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ یہ طابہ (مدینہ منورہ) ہے، یہ (برے) لوگوں کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن زيد بن ثابت.
«إنها لمباركة هي طعام طعم وشفاء سقم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک یہ (آبِ زمزم) بہت بابرکت ہے، یہ کھانے والے کے لیے بہترین خوراک اور بیماری کے لیے شفا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن أبي ذر. تخريج الترغيب/١٣٣: البزار، طص.
«إنها ليست بدواء ولكنها داء» - يعني الخمر -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک یہ کوئی دوا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود ایک بیماری ہے۔ (اس سے آپ ﷺ کی مراد شراب تھی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن وائل بن حجر. م/٨٩ –طارق بن سويد٢.