حدیث نمبر: 2398
"إنه عرضت علي الجنة والنار فقربت مني الجنة حتى لقد تناولت منها قطفا قصرت يدي عنه وعرضت علي النار فجعلت أتأخر رهبة أن تغشاني ورأيت امرأة حميرية سوداء طويلة تعذب في هرة لها ربطتها فلم تطعمها ولم تسقها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض ورأيت فيها أبا ثمامة عمرو بن مالك يجر قصبه في
النار وإنهم كانوا يقولون: إن الشمس والقمر لا ينكسفان إلا لموت عظيم وإنهما آيتان من آيات الله يريكموها فإذا انكسفا فصلوا حتى تنجلي"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک مجھ پر جنت اور دوزخ پیش کی گئیں۔ جنت میرے اتنے قریب کر دی گئی کہ میں نے اس میں سے پھلوں کا ایک گچھا پکڑنے کی کوشش کی لیکن میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکا، اور مجھ پر دوزخ پیش کی گئی تو میں اس خوف سے پیچھے ہٹنے لگا کہ کہیں وہ مجھے اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ میں نے اس میں قبیلہ حمیر کی ایک لمبی سیاہ فام عورت کو دیکھا جو اپنی ایک بلی کی وجہ سے عذاب پا رہی تھی جسے اس نے باندھ رکھا تھا، وہ نہ تو اسے کھانا پانی دیتی تھی اور نہ ہی اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ اور میں نے اسی دوزخ میں ابوثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا جو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔ اور لوگ کہا کرتے تھے کہ: سورج اور چاند کو گرہن کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ ہی سے لگتا ہے۔ بے شک یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو وہ تمہیں دکھاتا ہے، پس جب انہیں گرہن لگے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2398
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. الإرواء ٦٥٧.