حدیث نمبر: 2403
"إنه لم يكن نبي قبلي إلا كان حقا عليه أن يدل أمته على ما يعلمه خيرا لهم وينذرهم ما يعلمه شرا لهم وإن أمتكم هذه جعل عافيتها في أولها وسيصيب آخرها بلاء شديد وأمور تنكرونها وتجيء فتن فيرفق بعضها بعضا وتجيء الفتنة فيقول
المؤمن: هذه مهلكتي ثم تنكشف وتجيء الفتنة فيقول المؤمن: هذه هذه; فمن أحب منكم أن يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتأته منيته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر وليأت إلى الناس الذي يحب أن يؤتى إليه ومن بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع فإن جاء آخر ينازعه فاضربوا عنق الآخر"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ سے پہلے جو بھی نبی گزرا، اس پر یہ لازم تھا کہ وہ اپنی امت کو اس بھلائی کا راستہ دکھائے جو وہ ان کے لیے جانتا ہو اور انہیں اس برائی سے ڈرائے جو وہ ان کے لیے جانتا ہو۔ اور یقیناً تمہاری اس امت کی عافیت اس کے ابتدائی دور میں رکھی گئی ہے، اور اس کے آخری دور کے لوگوں کو سخت آزمائشیں اور ایسے معاملات پیش آئیں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ اور ایسے فتنے آئیں گے کہ ان میں سے ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا محسوس کروائے گا (یعنی بعد والا فتنہ پہلے سے زیادہ سخت ہوگا)۔ اور جب کوئی فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا: یہ میری ہلاکت کا باعث ہے، پھر وہ فتنہ دور ہو جائے گا، اور پھر ایک اور فتنہ آئے گا تو مومن پکار اٹھے گا: یہی میری ہلاکت ہے، بس یہی ہے۔ پس تم میں سے جو شخص یہ پسند کرے کہ اسے دوزخ کی آگ سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے، تو اس کی موت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اور جس شخص نے کسی امام (مسلمانوں کے امیر) کی بیعت کی اور اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور دل کی رضامندی سے اسے تسلیم کر لیا، تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آ کر اس (امیر) سے جھگڑا (اور بغاوت) کرے تو اس دوسرے شخص کی گردن اڑا دو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن ابن عمرو. الصحيحة ٢٤١، مختصر مسلم ١١٩٩.