صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إنه لا تتم صلاة أحدكم حتى يسبغ الوضوء كما أمره الله فيغسل وجهه ويديه إلى المرفقين ويمسح رأسه ورجليه إلى الكعبين ثم يكبر الله ويحمده ويمجده ويقرأ ما تيسر من القرآن مما علمه الله وأذن له فيه ثم يكبر فيركع فيضع يديه على ركبتيه ويرفع حتى تطمئن مفاصله وتسترخي ثم يقول: سمع الله لمن حمده فيستوي قائما حتى يأخذ كل عظم مأخذه ويقيم صلبه ثم يكبر فيسجد فيمكن جبهته من الأرض حتى تطمئن مفاصله وتسترخي ثم يكبر فيرفع رأسه فيستوي قاعدا على مقعدته
فيقيم صلبه ثم يكبر فيسجد حتى يمكن وجهه ويسترخي لا تتم صلاة أحدكم حتى يفعل ذلك"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ویسا کامل وضو نہ کرے جیسا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، پس وہ اپنے چہرے کو اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کرے اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔ پھر وہ اللہ کی تکبیر کہے، اس کی حمد اور بزرگی بیان کرے، اور قرآن مجید میں سے جو اسے میسر ہو، جو اللہ نے اسے سکھایا ہے اور اس کی اجازت دی ہے، اس کی قراءت کرے۔ پھر تکبیر کہے اور رکوع کرے، پس اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے اور (رکوع میں) رکا رہے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ پرسکون ہو جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں۔ پھر وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے اور سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پکڑ لے اور وہ اپنی پیٹھ کو سیدھا کر لے۔ پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے، پس اپنی پیشانی کو زمین پر اچھی طرح ٹکائے یہاں تک کہ اس کے جوڑ پرسکون ہو جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں۔ پھر وہ تکبیر کہے اور اپنا سر اٹھائے، پس اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ کو سیدھا رکھے۔ پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے یہاں تک کہ اپنے چہرے کو (زمین پر) اچھی طرح ٹکا دے اور پرسکون ہو جائے۔ تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کر لے۔“