حدیث نمبر: 2433
«إنها صلاة رغبة ورهبة سألت الله فيها ثلاث خصال فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة سألته أن لا يسحتكم بعذاب أصاب من كان قبلكم فأعطانيها وسألته أن لا يسلط على بيضتكم عدوا فيجتاحها فأعطانيها وسألته أن لا يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض فمنعنيها»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ (نماز جو میں نے ابھی پڑھی ہے) رغبت اور خوف کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، تو اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے منع فرما دیا۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ تم پر ایسا (عام اور ہلاک کر دینے والا) عذاب مسلط نہ کرے جو تم سے پہلی امتوں پر آیا تھا، تو اس نے مجھے یہ بات عطا فرما دی۔ اور میں نے اس سے دعا کی کہ وہ تمہارے مرکز پر کوئی ایسا بیرونی دشمن مسلط نہ کرے جو اسے جڑ سے تباہ کر دے، تو اس نے مجھے یہ بات بھی عطا فرما دی۔ اور میں نے اس سے دعا کی کہ وہ تمہیں مختلف گروہوں میں نہ بانٹے اور تم میں سے بعض کو بعض کی طاقت و جنگ کا مزہ نہ چکھائے (یعنی آپس میں خانہ جنگی نہ ہو)، تو اس نے مجھے اس بات سے منع فرما دیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع طب الضياء] عن خالد الخزاعي [حم ت ن حب الضياء] عن خباب. صفة الصلاة ص١٠١.