کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ أَبِي: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: يَا أَبَهْ، كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَقَالَ: فَكَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَرَجَعْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا، هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللهِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس تھا، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو آپ ﷺ گویا میرے والد سے بے توجہی برت رہے تھے۔ ہم آپ ﷺ کے پاس سے نکلے تو میرے والد نے کہا: کیا تم نے اپنے چچازاد کو نہیں دیکھا کہ گویا مجھ سے بے توجہی برت رہے تھے؟ میں نے کہا: اباجان! آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا: کیا آپ ﷺ کے پاس کوئی موجود تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ ہم واپس آئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے عبداللہ سے ایسا ایسا کہا تو اس نے مجھے ایسا ایسا جواب دیا، کیا آپ کے پاس کوئی موجود تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اے عبداللہ! کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے، وہی مجھے تم سے مشغول رکھے ہوئے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا عَامِرُ بْنُ سَيَّارٍ قَالَ: ثنا فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ: «اللهُمَّ أَعْطِهِ الْحِكْمَةَ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ» ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَوَجَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ بَرْدَهَا فِي ظَهْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ احْشِ جَوْفَهُ حُكْمًا وَعِلْمًا» ، فَلَمَ يَسْتَوْحِشْ فِي نَفْسِهِ إِلَى مَسْأَلَةِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَمْ يَزَلْ حَبْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ إِلَيْهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے حکمت عطا فرما، اور اسے تاویل (قرآن کی گہری سمجھ) سکھا۔“ اور اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی ٹھنڈک اپنی پیٹھ میں محسوس کی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! اس کے سینے کو حکمت اور علم سے بھر دے۔“ اس کے بعد انہیں کبھی اپنے دل میں لوگوں میں سے کسی سے (کچھ) پوچھنے کی حاجت محسوس نہ ہوئی، اور وہ ہمیشہ اس امت کے سب سے بڑے عالم رہے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ أَبُو سَلَمَةَ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ بُرْدٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ فُرَاتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيَّ ثِيَابٌ بِيضٌ، وَهُوَ يُنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيَّ، وَهُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَنَا لَا أَعْلَمُ، فَلَمْ أُسَلِّمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: «هَذا ابْنُ عَمِّي، هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ» ، قَالَ: مَا أَشَدَّ وَضَحَ ثِيَابِهِ، أَمَا إِنَّ ذُرِّيَّتَهُ سَتَسُودُ بَعْدَهُ، لَوْ سَلَّمَ عَلَيْنَا رَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابنَ عَبَّاسٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ؟» قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي رَأَيْتُكَ تُنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَنْقَطِعَ عَلَيْكُمَا مُنَاجَاتُكُمَا، قَالَ: «وَقَدْ رَأَيْتَهُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَذْهَبُ بَصَرُكَ، وَيُرَدُّ عَلَيْكَ فِي مَوْتِكَ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: فَلَمَّا قُبِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، جَاءَ طَائِرٌ شَدِيدُ الْوَهَجِ، فَدَخَلَ فِي أَكْفَانِهِ، فَأَرَادُوا نَشْرَ أَكْفَانِهِ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: مَا تَصْنَعُونَ؟ هَذِهِ بُشْرَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي قَالَ لَهُ. فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ تُلُقِّيَ بِكَلِمَةٍ، فَسَمِعَهَا مَنْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ {يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي، وَادْخُلِي جَنَّتِي} [الفجر: ٢٨]
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا، میں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، اور آپ ﷺ دحیہ بن خلیفہ کلبی سے سرگوشی کر رہے تھے، حالانکہ وہ جبریل علیہ السلام تھے اور مجھے اس کا علم نہ تھا، تو میں نے سلام نہ کیا۔ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! یہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرا چچازاد بھائی ہے، یہ ابن عباس ہے۔“ انہوں نے کہا: اس کے کپڑے کتنے چمکدار ہیں، سن لیجیے! اس کی نسل عنقریب اس کے بعد سرداری کرے گی، اگر یہ ہمیں سلام کرتا تو ہم اس کا جواب دیتے۔ جب میں لوٹا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابن عباس! تمہیں سلام کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ کو دحیہ بن خلیفہ سے سرگوشی کرتے دیکھا، تو مجھے ناگوار لگا کہ آپ دونوں کی سرگوشی میں خلل ڈالوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو! عنقریب تمہاری بینائی جاتی رہے گی، اور تمہاری موت کے وقت وہ تمہیں لوٹا دی جائے گی۔“ عکرمہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فوت ہوئے اور انہیں تخت پر رکھا گیا تو ایک نہایت چمکدار پرندہ آیا اور ان کے کفن میں داخل ہو گیا، لوگوں نے ان کے کفن کھولنے کا ارادہ کیا تو عکرمہ نے کہا: تم کیا کر رہے ہو؟ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی وہ بشارت ہے جو آپ ﷺ نے انہیں دی تھی۔ پھر جب انہیں لحد میں رکھا گیا تو ایک کلمہ سے ان کا استقبال کیا گیا، جسے ان کی قبر کے کنارے موجود لوگوں نے سنا: ”اے اطمینان والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے، پس میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا“ [سورۃ الفجر: 27-28]۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَيْثَمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَوَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَضَعَ هَذَا؟» فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: وَضَعَهُ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ عَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ، وَفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا، میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ کس نے رکھا؟“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: عبداللہ نے رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے تاویل سکھا، اور اسے دین کی سمجھ عطا فرما۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «اللهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنے ساتھ چمٹایا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ خَيْثَمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، وَقَدْ تَحَلَّفَتْ عِنْدَهُ بُطُونُ قُرَيْشٍ، وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ قَالَ: يَا سَعِيدُ، وَاللهِ لَأُلْقِيَنَّ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَائِلَ يَعْيَى بِجِوَابِهَا، فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: لَيْسَ مِثْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْيَى بِمَسَائِلِكَ، فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا تَقُولُ فِي أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ، كَانَ وَاللهِ لِلْقُرْآنِ تالِيًا، وَعَنِ الْمَيْلِ نَائِيًا، وَعَنِ الْفَحْشَاءِ سَاهِيًا، وَعَنِ الْمُنْكَرِ ناهِيًا، وَبِدِينِهِ عارِفًا، وَمِنَ اللهِ خَائِفًا، وَعَنِ الْمُهْلِكَاتِ جَانِفًا، وَبِاللَّيْلِ قَائِمًا، وَبِالنَّهَارِ صَائِمًا، وَمِنْ دُنْيَاهُ سَالِمًا، وَعَلَى عَدْلِ الْبَرِيَّةِ عازِمًا، وَبِالْمَعْرُوفِ آمِرًا، وَإِلَيْهِ صَابِرًا، وَفِي الْأَحْوَالِ شَاكِرًا، وَلِلَّهِ فِي الْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ذَاكِرًا، وَلِنَفْسِهِ بِالْمَصَالِحِ قاهِرًا، فَاقَ وَرَاقَ أَصْحَابَهُ وَرَعًا وَكَفَافًا، وَزُهْدًا وَعَفَافًا، وَبِرًّا وَحِيَاطَةً، وَزَهَادَةً وَكِفَايَةً، فَأَعْقَبَ اللهُ مَنْ ثَلَبَهُ اللَّعَائِنَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا حَفْصٍ، كَانَ وَاللهِ حَلِيفَ الْإِسْلَامِ، وَمَأْوَى الْأَيْتَامِ، وَمَحَلَّ الْإِيمَانِ، وَمَلَاذَ الضُّعَفَاءِ، وَمَعْقِلَ الْحُنَفَاءِ، لِلْخَلْقِ حِصْنًا، وَلِلنَّاسِ عَوْنًا، قَامَ لَحِقَ اللهِ صَابِرًا وَمُحْتَسِبًا، حَتَّى أَظْهَرَ اللهُ بِهِ الدِّينَ، وَفَتَحَ الدِّيَارَ، وَذُكِرَ اللهُ فِي الْأَقْطَارِ وَالْمَنَاهِلِ، وَعَلَى التِّلَالِ، وَفِي الضِّوَاحِي وَالْبِقَاعِ، وَعِنْدَ الْخَنَا وَقُورًا، وَفِي الرَّخَاءِ وَالشِّدَّةِ شَكُورًا، وَلِلَّهِ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَآنَاءٍ ذَكُورًا، فَأَعْقَبَ اللهُ مَنْ تَنَقَّصَهُ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الْحَسْرَةِ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا عَمْرٍو، كَانَ وَاللهِ أَكْرَمَ الْحَفَدَةِ، وَأَفْضَلَ الْبَرَرَةِ، وَأَصْبَرَ الْقُرَّاءِ، هَجَّادًا بِالْأَسْحَارِ، كَثِيرَ الدُّمُوعِ عِنْدَ ذِكْرِ اللهِ، دَائِمَ الْفِكْرِ فِيمَا يُعِينُهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، نَهَّاضًا إِلَى كُلِّ مَكْرُمَةٍ، سَعَّاءً إِلَى كُلِّ مُنْجِيَةٍ، فَرَّارًا مِنْ كُلِّ مُوبِقَةٍ، وَصَاحِبَ الْجَيْشِ وَالْبِئْرِ، وَخَتَنَ الْمُصْطَفَى عَلَى ابْنَتَيْهِ، فَأَعْقَبَ اللهُ مَنْ سَبَّهُ النَّدَامَةَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا الْحَسَنِ، كَانَ وَاللهِ عَلَمَ الْهُدَى، وَكَهْفَ التُّقَى، وَمَحَلَّ الْحِجَا، وَطَوْدَ النُّهَى، وَنُورَ السُّرَى فِي ظُلَمِ الدُّجَى، وَدَاعِيَةً إِلَى الْحُجَّةِ الْعُظْمَى، عَالِمًا بِمَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، وَقَائِمًا بِالتَّأْوِيلِ وَالذِّكْرَى، مُتَعَلِّقًا بِأَسْبَابِ الْهُدَى، وَتارِكًا لِلْجَوْرِ وَالْأَذَى، وَحَائِدًا عَنْ طُرُقَاتِ الرَّدَى، وَخَيْرَ مَنْ آمَنَ وَاتَّقَى، وَسَيِّدَ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى، وَأَفْضَلَ مَنْ حَجَّ وَسَعَى، وَأَسْمَحَ مَنْ عَدَلَ وَسَوَّى، وَأَخْطَبَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَّا الْأَنْبِيَاءَ وَالنَّبِيَّ الْمُصْطَفَى، وَصَاحِبَ الْقِبْلَتَيْنِ، فَهَلْ يُوَازِيهِ مُوَحِّدٌ، وَزَوْجُ خَيْرِ النِّسَاءِ، وَأَبُو السِّبْطَيْنِ، لَمْ تَرَ عَيْنِي مِثْلَهُ، وَلَا تَرَى حَتَّى الْقِيَامَةِ وَاللِّقَاءِ، فَمَنْ لَعَنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْعِبَادِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
قَالَ: فَمَا تَقُولُ فِي طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ؟ قَالَ: «رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِمَا، كَانَا وَاللهِ عَفِيفَيْنِ مُسْلِمَيْنِ، بَرَّيْنِ طاهِرَيْنِ مُطَهَّرَيْنِ، شَهِيدَيْنِ عَالِمَيْنِ، زَلَّا زَلَّةً وَاللهُ غَافِرٌ لَهُمَا إِنْ شَاءَ اللهُ بِالنُّصْرَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالصُّحْبَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالْأَفْعَالِ الْجَمِيلَةِ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي الْعَبَّاسِ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا الْفَضْلِ، كَانَ وَاللهِ صِنْوَ رَسُولِ اللهِ، وَقُرَّةَ عَيْنِ صَفِيِّ اللهِ، لَهِمَ الْأَقْوَامِ، وَسَيِّدَ الْأَعْمَامِ قَدْ عَلَاهُ بَصَرٌ بِالْأُمُورِ، وَنَظَرٌ فِي الْعَوَاقِبِ، قَدْ زَانَهُ عِلْمٌ، قَدْ تَلَاشَتِ الْأَحْسَابُ عِنْدَ ذِكْرِ فَضِيلَتِهِ، وَتَبَاعَدَتِ الْأَنْسَابُ عِنْدَ فَخْرِ عَشِيرَتِهِ، وَلِمَ لَا يَكُونُ كَذَلِكَ وَقَدْ سَاسَهُ أَكْرَمُ مَنْ دَبَّ وَهَبَّ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ؟ أَفْخَرُ مَنْ مَشَى مِنْ قَرِيبٍ وَرَكِبَ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَلِمَ سُمِّيَتْ قُرَيْشًا؟ قَالَ: «بِدَابَّةٍ تَكُونُ فِي الْبَحْرِ، هِيَ أَعْظَمُ دَوَابِّ الْبَحْرِ خَطَرًا، لَا تَظْفَرُ بِشَيْءٍ مِنْ دَوَابِّ الْبَحْرِ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَسُمِّيَتْ قُرَيْشٌ؛ لِأَنَّهَا أَعْظَمُ الْعَرَبِ فِعَالًا» ، فَقَالَ: هَلْ تَرْوِي فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَأَنْشَدَهُ قَوْلَ الْجُمَحِيِّ:
[البحر الخفيف]
وَقُرَيْشٌ هِيَ الَّتِي تَسْكُنُ الْبَحْرَ ... بِهَا سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشَا
تَأْكُلُ الْغَثَّ وَالسَّمِينَ وَلَا تَتْرُكُ ... فِيهَا لِذِي جَنَاحَيْنِ رِيشَا
هَكَذَا فِي الْكِتَابِ حَيُّ قُرَيْشٍ ... يَأْكُلُونَ الْبِلَادَ أَكْلًا كَشِيشَا
وَلَهُمْ آخِرَ الزَّمَانِ نَبِيٌّ ... يُكْثِرُ الْقَتْلَ فِيهِمْ وَالْخُمُوشَا
وَعَلَا الْأَرْضَ خَيْلُهُ وَرِجَالُهُ ... يَحْشُرُونَ الْمَطِيَّ حَشَرًا كَمِيشَا
قَالَ مُعَاوِيَةُ: صَدَقْتَ يَا ابنَ عَبَّاسٍ، أَشْهَدُ أَنَّكَ لِسَانُ أَهْلِ بَيْتِكَ. فَلَمَّا خَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ: مَا كَلَّمْتُهُ قَطُّ إِلَّا وَجَدْتُهُ مُسْتَعِدًّا
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا حَفْصٍ، كَانَ وَاللهِ حَلِيفَ الْإِسْلَامِ، وَمَأْوَى الْأَيْتَامِ، وَمَحَلَّ الْإِيمَانِ، وَمَلَاذَ الضُّعَفَاءِ، وَمَعْقِلَ الْحُنَفَاءِ، لِلْخَلْقِ حِصْنًا، وَلِلنَّاسِ عَوْنًا، قَامَ لَحِقَ اللهِ صَابِرًا وَمُحْتَسِبًا، حَتَّى أَظْهَرَ اللهُ بِهِ الدِّينَ، وَفَتَحَ الدِّيَارَ، وَذُكِرَ اللهُ فِي الْأَقْطَارِ وَالْمَنَاهِلِ، وَعَلَى التِّلَالِ، وَفِي الضِّوَاحِي وَالْبِقَاعِ، وَعِنْدَ الْخَنَا وَقُورًا، وَفِي الرَّخَاءِ وَالشِّدَّةِ شَكُورًا، وَلِلَّهِ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَآنَاءٍ ذَكُورًا، فَأَعْقَبَ اللهُ مَنْ تَنَقَّصَهُ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الْحَسْرَةِ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا عَمْرٍو، كَانَ وَاللهِ أَكْرَمَ الْحَفَدَةِ، وَأَفْضَلَ الْبَرَرَةِ، وَأَصْبَرَ الْقُرَّاءِ، هَجَّادًا بِالْأَسْحَارِ، كَثِيرَ الدُّمُوعِ عِنْدَ ذِكْرِ اللهِ، دَائِمَ الْفِكْرِ فِيمَا يُعِينُهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، نَهَّاضًا إِلَى كُلِّ مَكْرُمَةٍ، سَعَّاءً إِلَى كُلِّ مُنْجِيَةٍ، فَرَّارًا مِنْ كُلِّ مُوبِقَةٍ، وَصَاحِبَ الْجَيْشِ وَالْبِئْرِ، وَخَتَنَ الْمُصْطَفَى عَلَى ابْنَتَيْهِ، فَأَعْقَبَ اللهُ مَنْ سَبَّهُ النَّدَامَةَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا الْحَسَنِ، كَانَ وَاللهِ عَلَمَ الْهُدَى، وَكَهْفَ التُّقَى، وَمَحَلَّ الْحِجَا، وَطَوْدَ النُّهَى، وَنُورَ السُّرَى فِي ظُلَمِ الدُّجَى، وَدَاعِيَةً إِلَى الْحُجَّةِ الْعُظْمَى، عَالِمًا بِمَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، وَقَائِمًا بِالتَّأْوِيلِ وَالذِّكْرَى، مُتَعَلِّقًا بِأَسْبَابِ الْهُدَى، وَتارِكًا لِلْجَوْرِ وَالْأَذَى، وَحَائِدًا عَنْ طُرُقَاتِ الرَّدَى، وَخَيْرَ مَنْ آمَنَ وَاتَّقَى، وَسَيِّدَ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى، وَأَفْضَلَ مَنْ حَجَّ وَسَعَى، وَأَسْمَحَ مَنْ عَدَلَ وَسَوَّى، وَأَخْطَبَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَّا الْأَنْبِيَاءَ وَالنَّبِيَّ الْمُصْطَفَى، وَصَاحِبَ الْقِبْلَتَيْنِ، فَهَلْ يُوَازِيهِ مُوَحِّدٌ، وَزَوْجُ خَيْرِ النِّسَاءِ، وَأَبُو السِّبْطَيْنِ، لَمْ تَرَ عَيْنِي مِثْلَهُ، وَلَا تَرَى حَتَّى الْقِيَامَةِ وَاللِّقَاءِ، فَمَنْ لَعَنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْعِبَادِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
قَالَ: فَمَا تَقُولُ فِي طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ؟ قَالَ: «رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِمَا، كَانَا وَاللهِ عَفِيفَيْنِ مُسْلِمَيْنِ، بَرَّيْنِ طاهِرَيْنِ مُطَهَّرَيْنِ، شَهِيدَيْنِ عَالِمَيْنِ، زَلَّا زَلَّةً وَاللهُ غَافِرٌ لَهُمَا إِنْ شَاءَ اللهُ بِالنُّصْرَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالصُّحْبَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالْأَفْعَالِ الْجَمِيلَةِ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي الْعَبَّاسِ؟ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ أَبَا الْفَضْلِ، كَانَ وَاللهِ صِنْوَ رَسُولِ اللهِ، وَقُرَّةَ عَيْنِ صَفِيِّ اللهِ، لَهِمَ الْأَقْوَامِ، وَسَيِّدَ الْأَعْمَامِ قَدْ عَلَاهُ بَصَرٌ بِالْأُمُورِ، وَنَظَرٌ فِي الْعَوَاقِبِ، قَدْ زَانَهُ عِلْمٌ، قَدْ تَلَاشَتِ الْأَحْسَابُ عِنْدَ ذِكْرِ فَضِيلَتِهِ، وَتَبَاعَدَتِ الْأَنْسَابُ عِنْدَ فَخْرِ عَشِيرَتِهِ، وَلِمَ لَا يَكُونُ كَذَلِكَ وَقَدْ سَاسَهُ أَكْرَمُ مَنْ دَبَّ وَهَبَّ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ؟ أَفْخَرُ مَنْ مَشَى مِنْ قَرِيبٍ وَرَكِبَ»
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَلِمَ سُمِّيَتْ قُرَيْشًا؟ قَالَ: «بِدَابَّةٍ تَكُونُ فِي الْبَحْرِ، هِيَ أَعْظَمُ دَوَابِّ الْبَحْرِ خَطَرًا، لَا تَظْفَرُ بِشَيْءٍ مِنْ دَوَابِّ الْبَحْرِ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَسُمِّيَتْ قُرَيْشٌ؛ لِأَنَّهَا أَعْظَمُ الْعَرَبِ فِعَالًا» ، فَقَالَ: هَلْ تَرْوِي فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَأَنْشَدَهُ قَوْلَ الْجُمَحِيِّ:
[البحر الخفيف]
وَقُرَيْشٌ هِيَ الَّتِي تَسْكُنُ الْبَحْرَ ... بِهَا سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشَا
تَأْكُلُ الْغَثَّ وَالسَّمِينَ وَلَا تَتْرُكُ ... فِيهَا لِذِي جَنَاحَيْنِ رِيشَا
هَكَذَا فِي الْكِتَابِ حَيُّ قُرَيْشٍ ... يَأْكُلُونَ الْبِلَادَ أَكْلًا كَشِيشَا
وَلَهُمْ آخِرَ الزَّمَانِ نَبِيٌّ ... يُكْثِرُ الْقَتْلَ فِيهِمْ وَالْخُمُوشَا
وَعَلَا الْأَرْضَ خَيْلُهُ وَرِجَالُهُ ... يَحْشُرُونَ الْمَطِيَّ حَشَرًا كَمِيشَا
قَالَ مُعَاوِيَةُ: صَدَقْتَ يَا ابنَ عَبَّاسٍ، أَشْهَدُ أَنَّكَ لِسَانُ أَهْلِ بَيْتِكَ. فَلَمَّا خَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ: مَا كَلَّمْتُهُ قَطُّ إِلَّا وَجَدْتُهُ مُسْتَعِدًّا
ترجمہ
ربعی بن حراش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی، جبکہ ان کے ہاں قریش کے قبیلوں کے سردار جمع تھے، اور سعید بن العاص ان کے دائیں جانب بیٹھے تھے۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو کہا: اے سعید! اللہ کی قسم، میں ابن عباس کے سامنے ایسے سوالات رکھوں گا کہ وہ ان کے جواب میں عاجز آ جائیں گے۔ سعید نے ان سے کہا: ابن عباس جیسا شخص آپ کے سوالات سے عاجز نہیں آئے گا۔ جب وہ بیٹھ گئے تو معاویہ نے ان سے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے، جھکاؤ (میلان) سے دور رہنے والے، بےحیائی سے غافل (دور رہنے والے)، برائی سے روکنے والے، اپنے دین کے عارف، اللہ سے ڈرنے والے، ہلاکت کی چیزوں سے کترانے والے، رات کو قیام کرنے والے، دن کو روزہ رکھنے والے، اپنی دنیا سے بچے رہنے والے، مخلوق کے ساتھ عدل کرنے کا پختہ ارادہ رکھنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، اس پر صبر کرنے والے، ہر حال میں شکر گزار، صبح و شام اللہ کا ذکر کرنے والے، اور اپنے نفس پر مصلحتوں کے ذریعے غالب آنے والے تھے، ورع اور کفاف، زہد اور پاکدامنی، نیکی اور نگہبانی، پرہیزگاری اور کفایت میں اپنے ساتھیوں سے بڑھ کر اور نمایاں تھے، تو اللہ نے جس نے بھی ان کی برائی کی اس کے بدلے قیامت تک لعنتیں مقرر کر دیں۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: ”اللہ ابوحفص پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ اسلام کے حلیف، یتیموں کے ٹھکانے، ایمان کے مسکن، کمزوروں کی پناہ گاہ، حنفاء کے قلعہ، مخلوق کے لیے حصار، اور لوگوں کے مددگار تھے۔ وہ اللہ کے حق کی خاطر صبر اور اجر کی امید کے ساتھ کھڑے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کے ذریعے دین کو غالب کیا، شہر فتح کیے، اور اللہ کا ذکر ہر خطے، ہر پانی کے ٹھکانے، ہر ٹیلے، ہر بستی اور ہر میدان میں بلند ہوا۔ وہ برائی کے وقت وقار سے بھرے، آسانی اور مشکل دونوں میں شکر گزار، اور ہر وقت اللہ کو یاد رکھنے والے تھے، تو اللہ نے جس نے بھی ان میں کمی نکالی اس کے بدلے قیامتِ حسرت تک لعنت مقرر کر دی۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ابوعمرو پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ مددگاروں میں سب سے زیادہ معزز، سب سے افضل نیکوکار، سب سے زیادہ صبر کرنے والے قاری، سحر کے اوقات میں تہجد گزار، اللہ کا ذکر کرتے وقت کثرت سے آنسو بہانے والے، رات دن اپنی مدد کے لیے فکر میں رہنے والے، ہر نیکی کی طرف تیزی سے بڑھنے والے، ہر نجات دلانے والی چیز کی طرف دوڑنے والے، ہر ہلاکت والی چیز سے بھاگنے والے، (عسرہ کے) لشکر اور (رومہ کے) کنویں والے، اور مصطفیٰ ﷺ کے اپنی دو بیٹیوں پر داماد تھے، تو اللہ نے جس نے بھی انہیں گالی دی اس کے بدلے قیامت تک ندامت مقرر کر دی۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ابوالحسن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ ہدایت کا نشان، تقویٰ کا غار، سمجھ داری کا مسکن، عقل کا پہاڑ، اندھیری راتوں میں روشنی کا چراغ، سب سے بڑی حجت کی طرف بلانے والے، پہلی کتابوں کے علم رکھنے والے، تاویل اور یاد دہانی پر قائم رہنے والے، ہدایت کے اسباب سے وابستہ، ظلم و زیادتی سے دور رہنے والے، تباہی کی راہوں سے کترانے والے، ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں میں سب سے بہتر، لباس پہننے اور اوڑھنے والوں کے سردار، حج اور سعی کرنے والوں میں سب سے افضل، عدل اور مساوات میں سب سے زیادہ فراخ دل، اور نبیوں اور نبیِ مصطفیٰ ﷺ کے سوا دنیا کے سب سے بہترین خطیب، دو قبلوں کے ساتھی تھے، تو بھلا کوئی موحد ان کے برابر ہو سکتا ہے؟ وہ بہترین عورت کے شوہر، دونوں نواسوں کے باپ تھے، میری آنکھ نے ان جیسا کبھی نہیں دیکھا، اور نہ قیامت اور ملاقات تک دیکھے گی، تو جس نے ان پر لعنت بھیجی اس پر اللہ اور بندوں کی لعنت ہو قیامت تک۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ان دونوں پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ دونوں پاک دامن مسلمان، نیک اور پاکیزہ و طاہر، شہید اور عالم تھے، ان سے ایک لغزش ہوئی اور اللہ، اگر چاہے، انہیں ان کی پرانی نصرت، پرانی صحبت اور اچھے اعمال کی بنا پر معاف فرما دے گا۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ابوالفضل پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ رسول اللہ ﷺ کے (حقیقی) بھائی جیسے، اللہ کے برگزیدہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، قوموں کے سرپرست، اور چچاؤں کے سردار تھے، وہ امور میں دور اندیشی اور انجام میں گہری نظر رکھتے تھے، علم نے انہیں مزین کر رکھا تھا، ان کی فضیلت کے ذکر پر خاندانی وقار ماند پڑ جاتے تھے، اور ان کے قبیلے کے فخر کے سامنے نسب دور ہو جاتے تھے، اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ان کی پرورش روئے زمین پر چلنے اور سانس لینے والوں میں سب سے معزز شخص، عبدالمطلب نے کی تھی؟ وہ چلنے اور سوار ہونے والوں میں سب سے زیادہ فخر کے لائق تھے۔“
معاویہ نے پوچھا: پھر قریش کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟ فرمایا: ”سمندر میں پائے جانے والے ایک جانور کی وجہ سے، جو سمندر کے جانوروں میں سب سے زیادہ خطرناک ہے، وہ سمندر کے کسی جانور پر قابو پاتی ہے تو اسے کھا جاتی ہے، تو اسی وجہ سے (عرب) قریش کہلائے، کیونکہ وہ عرب میں سب سے زیادہ بڑے کارناموں والے تھے۔“ معاویہ نے پوچھا: کیا تم اس بارے میں کچھ روایت کرتے ہو؟ تو انہوں نے جمحی کا یہ شعر پڑھا:
”اور قریش وہی ہیں جو سمندر میں رہتے تھے، اسی وجہ سے انہیں قریش کہا گیا، وہ پتلا اور موٹا سب کھا جاتے ہیں، اور کسی دو پروں والے کا پَر تک نہیں چھوڑتے، کتاب میں یونہی درج ہے کہ قریش کا قبیلہ ملکوں کو یوں چٹ کر جاتا ہے، اور آخری زمانے میں ان میں ایک نبی ہوں گے جو ان میں قتل و خراش زیادہ کریں گے، اور ان کے گھوڑے اور سوار زمین پر چھا جائیں گے، وہ سواریوں کو تیزی سے ہانکیں گے۔“ معاویہ نے کہا: تم نے سچ کہا، اے ابن عباس! میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اپنے اہلِ خانہ کی زبان ہو۔ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے نکلے تو معاویہ نے اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے کہا: میں نے جب بھی ان سے بات کی، انہیں ہمیشہ تیار پایا۔
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: ”اللہ ابوحفص پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ اسلام کے حلیف، یتیموں کے ٹھکانے، ایمان کے مسکن، کمزوروں کی پناہ گاہ، حنفاء کے قلعہ، مخلوق کے لیے حصار، اور لوگوں کے مددگار تھے۔ وہ اللہ کے حق کی خاطر صبر اور اجر کی امید کے ساتھ کھڑے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کے ذریعے دین کو غالب کیا، شہر فتح کیے، اور اللہ کا ذکر ہر خطے، ہر پانی کے ٹھکانے، ہر ٹیلے، ہر بستی اور ہر میدان میں بلند ہوا۔ وہ برائی کے وقت وقار سے بھرے، آسانی اور مشکل دونوں میں شکر گزار، اور ہر وقت اللہ کو یاد رکھنے والے تھے، تو اللہ نے جس نے بھی ان میں کمی نکالی اس کے بدلے قیامتِ حسرت تک لعنت مقرر کر دی۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ابوعمرو پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ مددگاروں میں سب سے زیادہ معزز، سب سے افضل نیکوکار، سب سے زیادہ صبر کرنے والے قاری، سحر کے اوقات میں تہجد گزار، اللہ کا ذکر کرتے وقت کثرت سے آنسو بہانے والے، رات دن اپنی مدد کے لیے فکر میں رہنے والے، ہر نیکی کی طرف تیزی سے بڑھنے والے، ہر نجات دلانے والی چیز کی طرف دوڑنے والے، ہر ہلاکت والی چیز سے بھاگنے والے، (عسرہ کے) لشکر اور (رومہ کے) کنویں والے، اور مصطفیٰ ﷺ کے اپنی دو بیٹیوں پر داماد تھے، تو اللہ نے جس نے بھی انہیں گالی دی اس کے بدلے قیامت تک ندامت مقرر کر دی۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ابوالحسن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ ہدایت کا نشان، تقویٰ کا غار، سمجھ داری کا مسکن، عقل کا پہاڑ، اندھیری راتوں میں روشنی کا چراغ، سب سے بڑی حجت کی طرف بلانے والے، پہلی کتابوں کے علم رکھنے والے، تاویل اور یاد دہانی پر قائم رہنے والے، ہدایت کے اسباب سے وابستہ، ظلم و زیادتی سے دور رہنے والے، تباہی کی راہوں سے کترانے والے، ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں میں سب سے بہتر، لباس پہننے اور اوڑھنے والوں کے سردار، حج اور سعی کرنے والوں میں سب سے افضل، عدل اور مساوات میں سب سے زیادہ فراخ دل، اور نبیوں اور نبیِ مصطفیٰ ﷺ کے سوا دنیا کے سب سے بہترین خطیب، دو قبلوں کے ساتھی تھے، تو بھلا کوئی موحد ان کے برابر ہو سکتا ہے؟ وہ بہترین عورت کے شوہر، دونوں نواسوں کے باپ تھے، میری آنکھ نے ان جیسا کبھی نہیں دیکھا، اور نہ قیامت اور ملاقات تک دیکھے گی، تو جس نے ان پر لعنت بھیجی اس پر اللہ اور بندوں کی لعنت ہو قیامت تک۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ان دونوں پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ دونوں پاک دامن مسلمان، نیک اور پاکیزہ و طاہر، شہید اور عالم تھے، ان سے ایک لغزش ہوئی اور اللہ، اگر چاہے، انہیں ان کی پرانی نصرت، پرانی صحبت اور اچھے اعمال کی بنا پر معاف فرما دے گا۔“
معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرماتے ہو؟ فرمایا: ”اللہ ابوالفضل پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ رسول اللہ ﷺ کے (حقیقی) بھائی جیسے، اللہ کے برگزیدہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، قوموں کے سرپرست، اور چچاؤں کے سردار تھے، وہ امور میں دور اندیشی اور انجام میں گہری نظر رکھتے تھے، علم نے انہیں مزین کر رکھا تھا، ان کی فضیلت کے ذکر پر خاندانی وقار ماند پڑ جاتے تھے، اور ان کے قبیلے کے فخر کے سامنے نسب دور ہو جاتے تھے، اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ان کی پرورش روئے زمین پر چلنے اور سانس لینے والوں میں سب سے معزز شخص، عبدالمطلب نے کی تھی؟ وہ چلنے اور سوار ہونے والوں میں سب سے زیادہ فخر کے لائق تھے۔“
معاویہ نے پوچھا: پھر قریش کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟ فرمایا: ”سمندر میں پائے جانے والے ایک جانور کی وجہ سے، جو سمندر کے جانوروں میں سب سے زیادہ خطرناک ہے، وہ سمندر کے کسی جانور پر قابو پاتی ہے تو اسے کھا جاتی ہے، تو اسی وجہ سے (عرب) قریش کہلائے، کیونکہ وہ عرب میں سب سے زیادہ بڑے کارناموں والے تھے۔“ معاویہ نے پوچھا: کیا تم اس بارے میں کچھ روایت کرتے ہو؟ تو انہوں نے جمحی کا یہ شعر پڑھا:
”اور قریش وہی ہیں جو سمندر میں رہتے تھے، اسی وجہ سے انہیں قریش کہا گیا، وہ پتلا اور موٹا سب کھا جاتے ہیں، اور کسی دو پروں والے کا پَر تک نہیں چھوڑتے، کتاب میں یونہی درج ہے کہ قریش کا قبیلہ ملکوں کو یوں چٹ کر جاتا ہے، اور آخری زمانے میں ان میں ایک نبی ہوں گے جو ان میں قتل و خراش زیادہ کریں گے، اور ان کے گھوڑے اور سوار زمین پر چھا جائیں گے، وہ سواریوں کو تیزی سے ہانکیں گے۔“ معاویہ نے کہا: تم نے سچ کہا، اے ابن عباس! میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اپنے اہلِ خانہ کی زبان ہو۔ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے نکلے تو معاویہ نے اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے کہا: میں نے جب بھی ان سے بات کی، انہیں ہمیشہ تیار پایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى الْخَلَّالُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دَاحَةَ، ثنا أَبُو خِدَاشٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ التَّمِيمِيِّ، ثنا أَبَانُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: كَتَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَيْعَةِ، فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ، فَظَنَّ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ إِنَّمَا امْتَنَعَ عَلَيْهِ لِمَكَانِهِ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الْمُلْحِدَ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَعَاكَ إِلَى بَيْعَتِهِ ليُدْخِلَكَ فِي طَاعَتِهِ، فَتَكُونَ عَلَى الْبَاطِلِ ظَهِيرًا، وَفِي الْمَأْثَمِ شَرِيكًا، فَامْتَنَعْتَ عَلَيْهِ وَانْقَبَضْتَ؛ لِمَا عَرَّفَكَ اللهُ مِنْ نَفْسِكَ فِي حَقِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَجَزَاكَ اللهُ أَفْضَلَ مَا يَجْزِي الْوَاصِلِينَ مِنْ أَرْحَامِهِمُ، الْمُوفِينَ بِعُهُودِهِمْ، فَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى بِرَّكَ وَصِلَتَكَ، وَحُسْنَ جائِزَتِكَ، بِالَّذِي أَنْتَ أَهْلُهُ مِنَّا فِي الطَّاعَةِ وَالشَّرَفِ وَالْقَرَابَةِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْظُرْ مَنْ قِبَلَكَ مِنْ قَوْمِكَ، وَمَنْ يَطْرَأُ عَلَيْكَ مِنْ أَهْلِ الْآفَاقِ مِمَّنْ يَسْحَرُهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِلِسَانِهِ، وَزُخْرُفِ قَوْلِهِ، فَخَذِّلْهُمْ عَنْهُ؛ فَإِنَّهُمْ لَكَ أَطْوَعُ، وَمِنْكَ أَسْمَعُ مِنْهُمْ للمُلْحِدِ الْخَارِبِ الْمَارِقِ، وَالسَّلَامُ. فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ تَذْكُرُ دُعَاءَ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِيَّايَ الَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ، وَأَنِّي امْتَنَعْتُ مَعْرِفَةً لِحَقِّكَ، فَإِنْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَسْتُ بِرَّكَ أَغْزُو بِذَلِكَ، وَلَكِنَّ اللهَ بِمَا أَنْوِي بِهِ عَلِيمٌ، وَكَتَبْتَ إِلَيَّ أَنْ أَحُثَّ النَّاسَ عَلَيْكَ، وَأُخَذِّلَهُمْ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَلَا سُرُورًا وَلَا حُبُورًا بِفِيكَ الْكِثْكِثُ، وَلَكَ الْأَثْلَبُ، إِنَّكَ لِعَازِبٌ إِنْ مَنَّتْكَ نَفْسُكَ، وَإِنَّكَ لَأَنْتَ الْمَنْفُودُ الْمَثْبُورُ، وَكَتَبْتَ إِلَيَّ تَذْكُرُ تَعْجِيلَ بِرِّي وَصِلَتِي، فَاحْبِسْ أَيُّهَا الْإِنْسَانُ عَنِّي بِرَّكَ وَصِلَتَكَ، فَإِنِّي حَابِسٌ عَنْكَ وُدِّي وَنُصْرَتِي، وَلَعَمْرِي مَا تُعْطِينَا مِمَّا فِي يَدَيْكَ لَنَا إِلَّا الْقَلِيلَ، وَتَحْبِسُ مِنْهُ الْعَرِيضَ الطَّوِيلَ، لَا أَبَا لَكَ أَتُرَانِي أَنْسَى قَتْلَكَ حُسَيْنًا وَفِتْيانَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، مَصَابِيحَ الدُّجَى، وَنُجُومَ الْأَعْلَامِ، غَادَرَتْهُمْ جُنُودُكَ بِأَمْرِكَ فَأَصْبَحُوا مُصَرِّعِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، مُزَمَّلِينَ فِي الدِّمَاءِ، مَسْلُوبِينَ بِالْعَرَاءِ، لَا مُكَفَّنِينَ، وَلَا مُوسَّدِينَ، تَسْفِيهِمُ الرِّيَاحُ، وَتَغْزُوهُمُ الذِّئَابُ، وَتَنْتَابُهُمْ عُرُجُ الضِّباعِ، حَتَّى أَتَاحَ اللهُ لَهُمْ قَوْمًا لَمْ يُشْرِكُوا فِي دِمَائِهِمْ، فَكَفَّنُوهُمْ وَأَجَنُّوهُمْ، وَبِهِمْ وَاللهِ وَبِي مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ فَجَلَسْتَ فِي مَجْلِسِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْلِيطَكَ عَلَيْهِمُ الدَّعِيَ بْنَ الدَّعِيِّ لِلْعَاهِرَةِ الْفَاجِرَةِ، الْبَعِيدَ رَحِمًا، اللَّئِيمَ أَبًا وَأُمًّا، وَالَّذِي اكْتَسَبَ أَبُوكَ فِي ادِّعَائِهِ لِنَفْسِهِ الْعَارَ وَالْمَأْثَمَ وَالْمَذَّلَةَ وَالْخِزْيَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ، وَإِنَّ أَبَاكَ زَعَمَ أَنَّ الْوَلَدَ لِغَيْرِ الْفِرَاشِ، وَلَا يَضُرُّ الْعَاهِرَ، وَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهُ كَمَا يَلْحَقُ وَلَدُ الْبَغِيِّ الْمُرْشِدَ، وَلَقَدْ أَمَاتَ أَبُوكَ السُّنَّةَ جَهْلًا، وَأَحْيَى الْأَحْدَاثَ الْمُضِلَّةَ عَمْدًا، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْيِيرَكَ حُسَيْنًا مِنْ حَرَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَرَمِ اللهِ، وَتَسْيِيرَكَ إِلَيْهِمُ الرِّجَالَ، وَإِدْسَاسَكَ إِلَيْهِمْ، إِنْ هُوَ نَذَرَ بِكُمْ فَعَاجِلُوهُ، فَمَا زِلْتَ بِذَلِكَ حَتَّى أَشْخَصْتَهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ الْكُوفَةِ، تَزْأَرُ إِلَيْهِ خَيْلُكَ وَجُنُودُكَ زَئِيرَ الْأُسْدِ عَدَاوَةً مِنْكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَى ابْنِ مَرْجَانَةَ يَسْتَقْبِلُهُ بِالْخَيْلِ وَالرِّجَالِ وَالْأَسِنَّةِ وَالسُّيُوفِ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَيْهِ بُمُعَاجَلَتِهِ، وَتَرْكِ مُطَاوَلَتِهِ، حَتَّى قَتَلْتَهُ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ فِتْيَانِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرْهُمْ تَطْهِيرًا، نَحْنُ أُولَئِكَ لَا كَآبَائِكَ الْأَجْلَافِ الْجُفَاةِ أَكْبَادِ الْحَمِيرِ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ كَانَ أَعَزَّ أَهْلِ الْبَطْحَاءِ بِالْبَطْحَاءِ قَدِيمًا، وَأَعَزَّهُ بِهَا حَدِيثًا، لَوَّثُوا بِالْحَرَمَيْنِ مَقَامًا، وَاسْتَحَلَّ بِهَا قِتَالًا، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُسْتَحَلُّ بِهِ حَرَمُ اللهِ، وَحَرَمُ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحُرْمَةُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، فَطَلَبَ إِلَيْكُمُ الْحُسَيْنُ الْمُوَادَعَةَ، وَسَأَلَكُمُ الرَّجْعَةَ، فَاغْتَنَمْتُمْ قِلَّةَ نُصَّارِهِ، وَاسْتئِصَالَ أَهْلِ بَيْتِهِ، كَأَنَّكُمْ تَقْتُلُونَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ التُّرْكِ، أَوْ كَابُلَ، فَكَيْفَ تَحْدُونِي عَلَى وُدِّكَ، وَتَطْلُبُ نُصْرَتِي، وَقَدْ قَتَلْتَ بَنِي أَبِي، وَسَيْفُكَ يَقْطُرُ مِنْ دَمِي، وَأَنْتَ آخِذُ ثَأْرِي؟ فَإِنْ يَشَأِ اللهُ لَا يَطُلْ لَدَيْكَ دَمِي، وَلَا تَسْبِقْنِي بِثَأْرِي، وَإِنْ تَسْبِقْنَا بِهِ فَقَبِلْنَا مَا قَبِلَتِ النَّبِيُّونَ وَآلُ النَّبِيِّينَ، فظَلَّتْ دِمَاؤُهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَكَانَ الْمَوْعِدُ اللهَ، فَكَفَى بِاللهِ لِلْمَظْلُومِينَ ناصِرًا، وَمِنَ الظَّالِمِينَ مُنْتَقِمًا، وَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ، وَمَا عِشْتَ بِرَبِّكَ الدَّهْرَ الْعَجَبُ، حَمْلُكَ بَنَاتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَحَمْلُكَ أَبْنَاءَهُمْ أُغَيْلِمَةً صِغَارًا إِلَيْكَ بِالشَّامِ، تُرِي النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ قَهَرْتَنَا، وَأَنَّكَ تُذِلُّنَا، وَبِهِمْ وَاللهِ وَبِي مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ وَأُمِّكَ مِنَ النِّسَاءِ، وَايْمُ اللهِ، إِنَّكَ لَتُمْسِي وَتُصْبِحُ آمِنًا لجِرَاحِ يَدِي، وَلَيَعْظُمَنَّ جُرْحُكَ بِلِسَانِي وَنَقْضِي وَإِبْرَامِي، فَلَا يَسْتَفِزَّنَّكَ الْجَدَلُ، فَلَنْ يُمْهِلَكَ اللهُ بَعْدَ قَتْلِكَ عِتْرَةَ رَسُولِهِ إِلَّا قَلِيلًا، حَتَّى يَأْخُذَكَ أَخْذًا أَلِيمًا، وَيُخْرِجَكَ مِنَ الدُّنْيَا آثِمًا مَذْمُومًا، فَعِشْ لَا أَبَا لَكَ مَا شِئْتَ، فَقَدْ أَرْدَاكَ عِنْدَ اللهِ مَا اقْتَرَفْتَ. فَلَمَّا قَرَأَ يَزِيدُ الرِّسَالَةَ قَالَ: لَقَدْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُضِيًّا عَلَى الشَّرِّ
ترجمہ
ابان بن ولید رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیعت کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا تو انہوں نے ان کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ یزید بن معاویہ نے گمان کیا کہ انہوں نے صرف اس (یزید) کی خاطر انکار کیا ہے، چنانچہ یزید بن معاویہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا: امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ ملحد ابن زبیر نے تمہیں اپنی بیعت کی دعوت دی تاکہ تمہیں اپنی اطاعت میں شامل کر لے، اور تم باطل کے مددگار اور گناہ میں شریک بن جاؤ، تو تم نے اس سے انکار کیا اور پیچھے ہٹ گئے، اس وجہ سے کہ اللہ نے تمہیں ہم اہلِ بیت کے حق میں اپنے نفس کی پہچان عطا کی ہے، تو اللہ تمہیں صلہ رحمی کرنے والوں اور اپنے عہد پورا کرنے والوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ میں چاہے کچھ بھی بھول جاؤں، تمہارے ساتھ نیکی، صلہ رحمی اور تمہیں اچھا انعام دینا کبھی نہیں بھولوں گا، اس مقام کی بنا پر جس کے تم ہم میں سے اطاعت، شرف اور رسول اللہ ﷺ سے قرابت میں حقدار ہو۔ لہٰذا اپنی قوم میں سے جو تمہارے پاس ہیں، اور دور دراز علاقوں سے جو تمہارے پاس آتے ہیں ان میں سے جسے ابن زبیر اپنی زبان اور اپنی خوش کلامی سے مسحور کر دے، انہیں اس سے پھیر دو، کیونکہ وہ تمہاری زیادہ اطاعت کرنے والے اور تمہاری زیادہ سننے والے ہیں بہ نسبت اس ملحد، باغی اور دین سے نکل جانے والے کے۔ والسلام۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جواب میں لکھا: امابعد! تمہارا خط مجھے پہنچا جس میں تم نے ابن زبیر کی مجھے دی گئی دعوت کا ذکر کیا ہے، اور یہ کہ میں نے تمہارے حق کو پہچانتے ہوئے انکار کیا۔ اگر ایسا ہی ہے تو میں اس سے تمہاری نیکی کا سودا نہیں کر رہا، لیکن میری نیت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ تم نے مجھے لکھا ہے کہ میں لوگوں کو تمہاری طرف مائل کروں اور انہیں ابن زبیر سے پھیر دوں، تو نہ خوشی، نہ سرور! تیرے منہ میں خاک اور پتھر پڑے، تو (اپنی امیدوں میں) نامراد ہے اگر تیرا نفس تجھے آرزو دلاتا ہے، اور تو یقیناً ہلاک شدہ اور خسارے میں ہے۔ اور تم نے مجھے لکھا جس میں میرے ساتھ جلد نیکی اور صلہ رحمی کرنے کا ذکر کیا، تو اے انسان! اپنی نیکی اور صلہ رحمی مجھ سے روک لے، کیونکہ میں بھی تجھ سے اپنی دوستی اور مدد روک رہا ہوں، اور میری جان کی قسم! جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے اس میں سے تو ہمیں بہت تھوڑا ہی دیتا ہے، اور اس میں سے بڑا اور طویل حصہ روک لیتا ہے۔ اے بے باپ! کیا تو سمجھتا ہے کہ میں حسین اور بنو عبدالمطلب کے نوجوانوں کے، جو تاریکی کے چراغ اور روشنی کے ستارے تھے، تیرے ہاتھوں قتل کیے جانے کو بھول جاؤں گا؟ تیری فوجوں نے تیرے حکم سے انہیں چھوڑا تو وہ ایک ہی میدان میں گرے پڑے تھے، خون میں لتھڑے ہوئے، کھلے میدان میں (کپڑوں سے) محروم، نہ کفن نہ تکیہ، ہوائیں انہیں اڑاتی تھیں، بھیڑیے ان پر حملہ آور ہوتے تھے، اور لنگڑی لولی لکڑبگھیاں ان کے گرد منڈلاتی تھیں، یہاں تک کہ اللہ نے ان کے لیے ایسے لوگ بھیجے جو ان کے خون میں شریک نہ تھے، انہوں نے انہیں کفن دیا اور دفن کیا، اور اللہ کی قسم! انہی کی اور میری وجہ سے اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور تو اپنی اس مجلس میں بیٹھا رہا جس میں تو (اب) بیٹھا ہے۔ میں چاہے کچھ بھی بھول جاؤں، یہ نہیں بھولوں گا کہ تو نے ان پر اس دعی ابن دعی کو مسلط کیا جو بدکار فاجرہ (عورت) کی طرف منسوب ہے، رشتے میں دور، باپ اور ماں دونوں کے اعتبار سے کمینہ، اور جسے اپنی طرف منسوب کرنے کے دعوے میں تیرے باپ نے دنیا و آخرت میں عار، گناہ، ذلت اور رسوائی کمائی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”بچہ بستر (یعنی نکاح) والے کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر (محرومی) ہے۔“ جبکہ تیرے باپ نے دعویٰ کیا کہ بچہ غیر بستر (زنا) کا بھی ہو سکتا ہے، اور یہ زانی کو نقصان نہیں پہنچاتا، اور اس کی اولاد اس سے اسی طرح جا ملتی ہے جیسے زانیہ کی اولاد صحیح النسب سے جا ملتی ہے۔ تیرے باپ نے جہالت سے سنت کو مار ڈالا، اور جان بوجھ کر گمراہ کن بدعتوں کو زندہ کیا۔ اور میں کچھ بھی بھول جاؤں تو یہ نہیں بھولوں گا کہ تو نے حسین کو رسول اللہ ﷺ کے حرم سے اللہ کے حرم کی طرف نکلنے پر مجبور کیا، اور ان کی طرف آدمی بھیجے، اور خفیہ طور پر ان کی طرف (آدمی) لگائے کہ اگر اسے تمہاری خبر ہو جائے تو اس پر فوراً ٹوٹ پڑو۔ تو تو اسی پر لگا رہا یہاں تک کہ اسے مکہ سے کوفہ کی سرزمین کی طرف نکال دیا، تیرے گھوڑے اور فوجیں شیروں کی طرح اس کی طرف دھاڑتی رہیں، اللہ، اس کے رسول اور اس کے اہلِ بیت سے دشمنی کی وجہ سے۔ پھر تو نے ابن مرجانہ کو لکھا کہ وہ گھوڑوں، آدمیوں، نیزوں اور تلواروں کے ساتھ اس کا استقبال کرے، پھر تو نے اسے لکھا کہ جلدی کرے اور دیر نہ کرے، یہاں تک کہ تو نے اسے اور اس کے ساتھ موجود بنو عبدالمطلب کے نوجوانوں کو قتل کروا دیا، وہ اہلِ بیت جن سے اللہ نے ناپاکی دور کی اور انہیں خوب پاک کیا۔ ہم وہی ہیں، تیرے کھردرے، جاہل، گدھوں جیسے دل رکھنے والے آباء جیسے نہیں۔ اور تجھے معلوم تھا کہ وہ بطحاء (مکہ) والوں میں قدیم زمانے میں بھی سب سے معزز تھا، اور آج بھی سب سے معزز ہے، حرمین میں تم نے قیام کو آلودہ کیا اور وہاں لڑائی کو حلال سمجھا، لیکن اس (حسین) نے یہ ناپسند کیا کہ وہی ہو جس کے ذریعے اللہ کا حرم، اس کے رسول ﷺ کا حرم، اور بیت الحرام کی حرمت پامال ہو، تو حسین نے تم سے صلح چاہی اور واپسی کی درخواست کی، مگر تم نے اس کے مددگاروں کی قلت اور اس کے اہلِ بیت کے مکمل خاتمے کا موقع غنیمت جانا، گویا تم ترک یا کابل کے کسی گھرانے کو قتل کر رہے ہو۔ تو پھر تو مجھ سے دوستی کا مطالبہ کیسے کر رہا ہے، اور میری مدد کیوں چاہتا ہے، جبکہ تو نے میرے چچا زاد بھائیوں کو قتل کیا، اور تیری تلوار میرے خون سے ٹپک رہی ہے، اور تو ہی میرا خون بہانے والا ہے؟ اگر اللہ چاہے تو میرا خون تیرے ذمے رائیگاں نہیں جائے گا، اور نہ تو میرے بدلے سے آگے نکل سکے گا، اور اگر تو ہم سے آگے نکل بھی جائے تو ہم وہی قبول کریں گے جو نبیوں اور آلِ انبیاء نے قبول کیا، ان کے خون دنیا میں رہ گئے مگر وعدہ اللہ کے ذمے رہا، اور مظلوموں کے لیے اللہ ہی مددگار کافی ہے، اور ظالموں سے انتقام لینے والا بھی وہی ہے۔ اور سب سے زیادہ تعجب کی بات، اور تیرے رب کی قسم زمانے میں سب سے عجیب بات، یہ ہے کہ تو نے بنو عبدالمطلب کی بیٹیوں کو، اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو، اپنے پاس شام کی طرف اٹھوا کر لے گیا، تاکہ لوگوں کو دکھائے کہ تو نے ہمیں مغلوب کر لیا ہے اور ہمیں ذلیل کرتا ہے، حالانکہ اللہ کی قسم! انہی کے ذریعے، اور میرے ذریعے، اللہ نے تجھ پر، تیرے باپ پر اور تیری ماں پر عورتوں کی طرف سے احسان کیا ہے۔ اور اللہ کی قسم! تو میرے ہاتھ کے زخم سے تو محفوظ رات دن گزارے گا، لیکن میری زبان سے، اور میری بات بنانے بگاڑنے سے، تیرا زخم ضرور بڑا ہوگا، تو بحث تجھے بے قابو نہ کرے، اللہ تجھے رسول اللہ ﷺ کی عترت قتل کرنے کے بعد بس تھوڑی ہی مہلت دے گا، یہاں تک کہ وہ تجھے دردناک انداز میں پکڑ لے گا، اور تجھے گناہ گار اور مذموم حالت میں دنیا سے نکالے گا۔ تو جیتا رہ، تیرا کوئی باپ نہ ہو، جتنا چاہے، تو نے جو کچھ کیا اس نے اللہ کے ہاں تجھے تباہ کر دیا ہے۔ جب یزید نے یہ خط پڑھا تو کہا: ابن عباس ہمیشہ سے برائی میں پکا رہا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِرَقْلَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَقَالَ: إِنْ كَانَ بَقِيَ فِيهِمْ شَيْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ فَسَيُخْبِرُنِي عَمَّا أَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَجَرَّةِ وَالْقَوْسِ، وَعَنِ الْبُقْعَةِ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً وَاحِدَةً، قَالَ: فَلَمَّا أَتَى مُعَاوِيَةَ الْكِتَابُ وَالرَّسُولُ قَالَ: إِنَّ هَذَا لِشَيْءٌ مَا كُنْتُ أُرَاهُ أَنْ أُسْأَلَ عَنْهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا، مَنْ لِهَذَا؟ قِيلَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، فَطَوَى مُعَاوِيَةُ كِتَابَ هِرَقْلَ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «إِنَّ الْقَوْسَ أَمَانٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْمَجَرَّةَ بَابُ السَّمَاءِ الَّذِي تَنْشَقُّ مِنْهُ، وَأَمَّا الْبُقْعَةُ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَالْبَحْرُ الَّذِي أُفْرِجَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہرقل نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور کہا: اگر ان میں نبوت کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے تو وہ مجھے اس بارے میں ضرور بتائے گا جو میں اُن سے پوچھوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: چنانچہ اس نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر کہکشاں اور قوسِ قزح کے بارے میں، اور اس زمین کے اس ٹکڑے کے بارے میں پوچھا جس پر سورج صرف ایک ہی گھڑی کے لیے پڑتا ہے۔ کہتے ہیں: جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس خط اور قاصد پہنچے تو انہوں نے کہا: یہ تو ایسی بات ہے جس کے بارے میں مجھے کبھی گمان نہ تھا کہ آج تک مجھ سے پوچھا جائے گا، اس کا جواب کون دے سکتا ہے؟ کہا گیا: ابن عباس۔ چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہرقل کا خط لپیٹ کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ”قوسِ قزح زمین والوں کے لیے غرق ہونے سے امان ہے، اور کہکشاں آسمان کا وہ دروازہ ہے جہاں سے وہ پھٹے گا، اور رہی وہ جگہ جس پر سورج دن میں صرف ایک گھڑی کے لیے پڑتا ہے، تو وہ وہ سمندر ہے جو بنی اسرائیل کے لیے پھاڑا گیا تھا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ فَلْنَتَعَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْأَلُهُمْ؛ فَإِنَّهُمْ كَثِيرٌ، فَقَالَ: الْعَجَبُ وَاللهِ لَكَ يَا ابنَ عَبَّاسٍ، أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ، وَفِي النَّاسِ مَنْ تَرَى مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَرَكْتُ ذَلِكَ وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ وَتَتَبُّعِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ فِي الْحَدِيثِ يَبْلُغُنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجِدُهُ قَائِلًا، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِ دَارِهِ تَسْفِي الرِّيَاحُ عَلَى وَجْهِي، حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيَّ، فَإِذَا رَآنِي قَالَ: يَا ابنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، فَيَقُولُ: هَلَّا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيَكَ، فَأَقُولُ: أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ آتِيَكَ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَرَانِي قَدْ ذَهَبَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ احْتَاجَ النَّاسُ إِلَيَّ فَيَقُولُ: أَنْتَ كُنْتَ أَحَقَّ مِنِّي "
ترجمہ
عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں نے ایک آدمی سے کہا: آؤ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے سیکھیں اور ان سے سوال کریں، کیونکہ وہ بہت زیادہ ہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اے ابن عباس، تم پر تعجب ہے، کیا تم سمجھتے ہو کہ لوگوں کو تمہاری ضرورت ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے (اتنے بڑے بڑے لوگ) موجود ہیں؟ چنانچہ میں نے یہ بات چھوڑ دی اور سوال کرنے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو تلاش کرنے میں لگ گیا۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ میں کسی آدمی کے پاس کسی ایسی حدیث کے سلسلے میں جاتا جو مجھے معلوم ہوا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اور میں اسے قیلولہ کرتا ہوا پاتا، تو میں اس کے دروازے پر اپنی چادر بچھا کر سر رکھ لیتا، ہوائیں میرے چہرے پر مٹی اڑاتیں، یہاں تک کہ وہ میرے پاس نکل آتا۔ جب وہ مجھے دیکھتا تو کہتا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی! تمہیں کیا ہوا؟ میں کہتا: مجھے ایک حدیث کی خبر ملی ہے جو آپ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، مجھے پسند ہوا کہ اسے آپ سے سن لوں۔ وہ کہتا: تم نے مجھے بلوا کیوں نہ لیا کہ میں تمہارے پاس آ جاتا؟ میں کہتا: میرا ہی حق تھا کہ میں آپ کے پاس آتا۔ اور وہی آدمی، جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ چلے گئے اور لوگوں کو میری ضرورت پڑی، تو مجھے دیکھ کر کہتا: تم مجھ سے زیادہ حق دار تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: جَالَسْتُ سَبْعِينَ أَوْ ثَمَانِينَ شَخْصًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَحَدٌ مِنْهُمْ خَالَفَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَيَلْتَقِيَانِ إِلَّا قَالَ: الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ، أَوْ قَالَ: صَدَقْتَ
ترجمہ
طاؤس کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ستر یا اسّی صحابہ کی مجلس میں بیٹھا، ان میں سے جو بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی بات میں اختلاف رکھتا تھا، جب دونوں کی ملاقات ہوتی تو وہ صحابی کہتا: بات وہی ہے جو تم نے کہی، یا کہتا: تم نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ إِمْلَاءً فِي كِتَابِهِ سَنَةَ مِائَتَيْنِ وَعِشْرِينَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَعِيدٌ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْقُرْآنِ أَشْيَاءَ تَخْتَلِفُ عَلَيَّ، فَقَدْ وَقَعَ فِي صَدْرِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «تَكْذِيبٌ؟» فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا هُوَ بِتَكْذِيبٍ، وَلَكِنِ اخْتِلَافٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَهَلُمَّ مَا وَقَعَ فِي نَفْسِكَ» ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَسْمَعُ اللهَ يَقُولُ {فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ} [المؤمنون: ١٠١] ، وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى {وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ} [الصافات: ٢٧] ، وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى {لَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: ٤٢] ، وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى {وَاللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: ٢٣] ، فَقَدْ كَتَمُوا فِي هَذِهِ الْآيَةِ، وَفِي قَوْلِهِ {السَّمَاءِ بَنَاهَا، رَفَعَ سَمْكَهَا فسَوَّاهَا، وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا، وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا} [النازعات: ٢٨] فَذَكَرَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ قَبْلَ خَلْقِ الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْأُخْرَى {أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ} [فصلت: ٩] ، فَذَكَرَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ خَلْقَ الْأَرْضِ قَبْلَ خَلْقِ السَّمَاءِ، {وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٩٦] ، {وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} [النساء: ١٥٨] ، {وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: ١٣٤] ، فَكَأَنَّهُ كَانَ ثُمَّ مَضَى، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «هَاتِ مَا فِي نَفْسِكَ» ، قَالَ السَّائِلُ إِذَا أَنْبَأْتَنِي بِهَذَا فَحَسْبِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَوْلُهُ {فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ} [المؤمنون: ١٠١] ، فَهَذَا فِي النَّفْخَةِ الْأُولَى، يُنْفَخُ فِي الصُّوَرِ، فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ، فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ، ثُمَّ إِذَا كَانَ فِي النَّفْخَةِ الْأُخْرَى قَامُوا {فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ} [الصافات: ٥٠] ، فَأَمَّا قَوْلُهُ {وَاللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: ٢٣] وَقَوْلُهُ {وَلَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: ٤٢] ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ الْإِخْلَاصِ ذُنُوبَهُمْ، وَلَا يَتَعَاظَمُ عَلَيْهِ ذَنْبٌ أَنْ يَغْفِرَهُ، وَلَا يَغْفِرُ شِرْكًا، فَلَمَّا رَأَى الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ قَالُوا: إِنَّ رَبَّنَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ، وَلَا يَغْفِرُ الشِّرْكَ، فَقَالُوا: نَقُولُ: إِنَّمَا كُنَّا أَهْلَ ذُنُوبٍ، وَلَمْ نَكُنْ مُشْرِكِينَ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلِّ: أَمَّا إِذْ كَتَمْتُمُ الشِّرْكَ فاخْتِمُوا عَلَى أَفْوَاهِهِمْ، فَخُتِمَ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ فَتَنْطِقُ أَيْدِيهِمْ، وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ عَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَنَّ اللهَ لَا يُكْتَمُ حَدِيثًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ {يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: ٤٢] ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {السَّمَاءُ بَنَاهَا رَفَعَ سَمْكَهَا فسَوَّاهَا، وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا، وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا} [النازعات: ٢٧] ، فَإِنَّهُ خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ قَبْلَ خَلْقِ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ فدَحَاهَا، وَدَحَاهَا أَنْ أَخْرَجَ فِيهَا الْمَاءَ وَالْمَرْعَى، وَشَقَّ فِيهَا الْأَنْهَارَ، فَجَعَلَ فِيهَا السُّبُلَ، وَخَلَقَ الْجِبَالَ وَالرِّمالَ وَالْآكَامَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا} [النازعات: ٣٠] ، وَقَوْلُهُ {أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ} [فصلت: ٩] ، فَجُعِلَتِ الْأَرْضُ وَمَا فِيهَا مِنْ شَيْءٍ فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ، وَجُعِلَتِ السَّمَاوَاتُ فِي يَوْمَيْنِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٩٦] ، {وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} [النساء: ١٥٨] ، {وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: ١٣٤] ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى نَفْسَهُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَلْهُ غَيْرَهُ، وَكَانَ اللهُ أَيْ لَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: «احْفَظْ عَنِّي مَا حَدَّثْتُكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا اخْتَلَفَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ أَشْيَاءُ مَا حَدَّثْتُكَ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ شَيْئًا إِلَّا قَدْ أَصَابَ بِهِ الَّذِي أَرَادَ، وَلَكِنَّ النَّاسَ لَا يَعْلَمُونَ، فَلَا يَخْتَلِفَنَّ عَلَيْكَ؛ فَإِنَّ كُلًّا مِنْ عِنْدِ اللهِ»
ترجمہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابن عباس! مجھے قرآن میں کچھ ایسی چیزیں ملتی ہیں جو میرے نزدیک ایک دوسرے سے متضاد معلوم ہوتی ہیں، یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا (تمہیں) تکذیب کا شبہ ہے؟“ اس آدمی نے کہا: یہ تکذیب نہیں بلکہ اختلاف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو جو کچھ تمہارے دل میں ہے وہ لاؤ۔“ اس آدمی نے کہا: میں اللہ کو یہ فرماتے سنتا ہوں: ”تو اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہوگی اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے“ [سورۃ المؤمنون: 101]، اور ایک اور آیت میں فرمایا: ”اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے“ [سورۃ الصافات: 27]، اور ایک اور آیت میں فرمایا: ”وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے“ [سورۃ النساء: 42]، اور ایک اور آیت میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے ہمارے رب، ہم مشرک نہ تھے“ [سورۃ الانعام: 23]، تو اس آیت میں انہوں نے چھپایا۔ اور اس کے فرمان میں: ”آسمان کو اس نے بنایا، اس کی چھت بلند کی، پھر اسے برابر کیا، اور اس کی رات کو تاریک کیا اور اس کی روشنی نکالی، اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا“ [سورۃ النازعات: 27-30] میں آسمانوں کی تخلیق زمین کی تخلیق سے پہلے بیان کی گئی، پھر ایک اور آیت میں فرمایا: ”کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا، اور اس کے لیے ہمسر ٹھہراتے ہو؟ وہی تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور اس نے اس میں اوپر سے پہاڑ رکھے، اور اس میں برکت رکھی، اور اس میں اس کی غذائیں چار دن میں مقرر کیں، پوچھنے والوں کے لیے برابر برابر۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو دھواں تھا، تو اس سے اور زمین سے فرمایا: خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے آتے ہیں“ [سورۃ فصلت: 9-11]، تو اس آیت میں زمین کی تخلیق آسمان کی تخلیق سے پہلے بیان کی گئی۔ اور ”اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے“ [سورۃ النساء: 96]، ”اور اللہ زبردست حکمت والا ہے“ [سورۃ النساء: 158]، ”اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے“ [سورۃ النساء: 134]، تو گویا وہ (پہلے) تھا پھر گزر گیا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اپنے دل کی بات لاؤ۔“ سائل نے کہا: اگر آپ نے مجھے اس کا جواب دے دیا تو میرے لیے کافی ہے۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس کا فرمان: تو اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہوگی اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے [سورۃ المؤمنون: 101]، یہ پہلے نفخے کے وقت کا ہے، جب صور میں پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہوگا بیہوش ہو جائے گا سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، اس وقت نہ ان کے درمیان رشتہ داری ہوگی اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ پھر جب دوسرا نفخہ ہوگا تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے [سورۃ الصافات: 50]۔ رہا اس کا فرمان: اللہ کی قسم! اے ہمارے رب، ہم مشرک نہ تھے [سورۃ الانعام: 23] اور اس کا فرمان: اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے [سورۃ النساء: 42]، تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا، اور اس پر کوئی گناہ بخشنا بھاری نہیں، مگر وہ شرک نہیں بخشے گا۔ جب مشرکین نے یہ دیکھا تو کہا: ہمارا رب گناہ بخشتا ہے مگر شرک نہیں بخشتا، تو انہوں نے کہا: ہم کہیں گے کہ ہم تو گناہ گار تھے، مشرک نہیں تھے۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: چونکہ تم نے شرک چھپا لیا، تو ان کے منہ پر مہر لگا دو، چنانچہ ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، تو ان کے ہاتھ بولیں گے، اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کماتے رہے، اسی وقت مشرکین کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی، اسی وقت: اس دن جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی، وہ آرزو کریں گے کاش زمین ان پر برابر کر دی جاتی، اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے [سورۃ النساء: 42]۔ اور رہا اس کا فرمان: آسمان کو اس نے بنایا، اس کی چھت بلند کی، پھر اسے برابر کیا، اور اس کی رات کو تاریک کیا اور اس کی روشنی نکالی، اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا [سورۃ النازعات: 27-30]، تو اس نے زمین کو آسمان کی تخلیق سے پہلے دو دن میں پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور اسے مزید دو دن میں درست کیا، پھر زمین کی طرف اترا اور اسے بچھا دیا، اور اسے بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں پانی اور چراگاہ نکالی، اس میں نہریں جاری کیں، اس میں راستے بنائے، اور پہاڑ، ریت اور ٹیلے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ مزید دو دن میں پیدا کیا، یہی اس کا فرمان ہے: اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا [سورۃ النازعات: 30]۔ اور اس کا فرمان: کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا، اور اس کے لیے ہمسر ٹھہراتے ہو؟ وہی تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور اس نے اس میں اوپر سے پہاڑ رکھے، اور اس میں برکت رکھی، اور اس میں اس کی غذائیں چار دن میں مقرر کیں، پوچھنے والوں کے لیے برابر برابر [سورۃ فصلت: 9]، تو زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ چار دن میں بنایا گیا، اور آسمان دو دن میں بنائے گئے۔ اور رہا اس کا فرمان: اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے، اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے، تو اللہ عزوجل نے خود کو یہ نام دیے ہیں، اور یہ نام کسی اور کو نہیں دیے، اور ”کان اللہ“ کا مطلب ہے: وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔“ پھر آپ نے اس آدمی سے فرمایا: ”جو میں نے تمہیں بتایا ہے اسے یاد رکھو، اور جان لو کہ قرآن میں جو چیزیں تمہیں متضاد معلوم ہوئیں وہ وہی باتیں ہیں جو میں نے تمہیں بتائیں، بے شک اللہ عزوجل نے جو کچھ نازل کیا وہ اسی مقصد کو پورا کرتا ہے جو اس نے چاہا، لیکن لوگ نہیں جانتے، تو تمہیں (قرآن) متضاد معلوم نہ ہو، کیونکہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، سَنَةَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زُهَيْرٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو زُهَيْرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً قَالَ: سَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ عَنْ قَوْلِهِ {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرٌ} [الحديد: ٢٢] ، وَعَنْ قَوْلِهِ {إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الجاثية: ٢٩] ، وَعَنْ قَوْلِهِ {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] ، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ الْعَرْشَ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ، ثُمَّ خَلَقَ الْقَلَمَ فَأَمَرَهُ لِيَجْرِيَ بِإِذْنِهِ، وَعَظَّمَ الْقَلَمَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقَالَ الْقَلَمُ: بِمَ يَا رَبِّ أَجْرِي؟ قَالَ: بِمَا أَنَا خَالِقٌ وَكَانَ فِي خَلْقِي مِنْ قَطْرٍ، أَوْ نَبَاتٍ، أَوْ نَفْسٍ، أَوْ أَثَرٍ، يَعْنِي بِهِ الْعَمَلَ أَوِ الرِّزْقَ أَوِ الْأَجَلَ، فَجَرَى الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَأَثْبَتَهُ اللهُ فِي الْكِتَابِ الْمَكْنُونِ عِنْدَهُ تَحْتَ الْعَرْشِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الجاثية: ٢٩] ، فَإِنَّ اللهَ وَكَّلَ مَلَائِكَةً يَسْتَنْسِخُونَ مِنْ ذَلِكَ الْكِتَابِ كُلَّ عَامٍ فِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا يَكُونُ فِي الْأَرْضِ مِنْ حَدَثٍ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ السَّنَةِ الْمُقْبِلَةِ، يَتَعارَضُونَ بِهِ حَفَظَةَ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ كُلَّ عَشِيَّةِ خَمِيسٍ، فَيَجِدُونَ مَا رَفَعَ الْحَفَظَةُ مُوَافِقًا لَمَا فِي كِتَابِهِمْ ذَلِكَ، لَيْسَ فِيهِ زَيادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] ، فَإِنَّ اللهَ خَلَقَ لِكُلِّ شَيْءٍ مَا يُشَاكِلُهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَمَا يُصْلِحُهُ مِنْ رِزْقِهِ، وَخَلَقَ الْبَعِيرَ خَلْقًا، لَا يَصْلُحُ شَيْئًا مِنْ خَلْقِهِ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الدَّوَابِّ، وَكَذَلِكَ كُلُّ شَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَرِّ وَطَيْرِهَا مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَرِّ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَحْرِ وَطَيْرِهَا مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَحْرِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] "
ترجمہ
احمد بن رشدین کہتے ہیں: ابوصالح حرانی نے، 223ھ میں، ہمیں بتایا، حیان بن عبیداللہ بن زہیر مصری ابوزہیر نے، ساٹھ سال پہلے، کہا: میں نے ضحاک بن مزاحم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: ”زمین میں یا تمہاری جانوں میں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے ہی کتاب میں لکھی ہوئی ہے، بے شک یہ اللہ پر آسان ہے“ [سورۃ الحدید: 22]، اور اس کے فرمان کے بارے میں: ”بے شک ہم وہ لکھواتے رہے ہیں جو تم کرتے رہے“ [سورۃ الجاثیہ: 29]، اور اس کے فرمان کے بارے میں: ”بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا“ [سورۃ القمر: 49]۔ تو انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے عرش پیدا کیا اور اس پر مستوی ہوا، پھر قلم پیدا کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کے حکم سے چلے، اور آسمان و زمین کے درمیان جتنی جگہ ہے اتنا ہی قلم کو بڑا بنایا، تو قلم نے پوچھا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ فرمایا: جو کچھ میں پیدا کرنے والا ہوں، میری مخلوق میں جو بھی بارش کا قطرہ، پودا، جان یا اثر ہو - یعنی عمل، رزق یا اجل - اسے لکھو۔ تو قلم نے قیامت تک ہونے والی ہر چیز لکھ دی، تو اللہ نے اسے اپنے پاس، عرش کے نیچے، محفوظ کتاب (لوحِ محفوظ) میں ثابت کر دیا۔ اور رہا اس کا فرمان: بے شک ہم وہ لکھواتے رہے ہیں جو تم کرتے رہے [سورۃ الجاثیہ: 29]، تو اللہ نے کچھ فرشتے مقرر کیے ہیں جو ہر سال رمضان میں لیلۃ القدر کو اس کتاب سے وہ سب کچھ نقل کرتے ہیں جو زمین میں اگلے سال کی اسی رات تک پیش آنے والا ہوتا ہے، تو یہ فرشتے ہر جمعرات کی شام اللہ کے مقرر کردہ نگرانوں سے موازنہ کرتے ہیں، تو وہ نگران جو کچھ اٹھا کر لاتے ہیں اسے اس کتاب کے مطابق پاتے ہیں، اس میں نہ کوئی کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔ اور رہا اس کا فرمان: بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا [سورۃ القمر: 49]، تو اللہ نے ہر چیز کے لیے اس کی مخلوق میں سے وہ پیدا کیا جو اس کے مناسب ہے، اور اس کا وہ رزق پیدا کیا جو اسے درست رکھے، اور اونٹ کو ایسی تخلیق دی کہ اس کی تخلیق کا کوئی حصہ دوسرے جانوروں کے مناسب نہیں، اور اسی طرح ہر چیز کی تخلیق ہے، اور خشکی کے جانوروں اور پرندوں کے لیے وہ رزق پیدا کیا جو انہیں خشکی میں درست رکھے، اور سمندر کے جانوروں اور پرندوں کے لیے وہ رزق پیدا کیا جو انہیں سمندر میں درست رکھے، یہی مراد ہے اس کے فرمان کی: بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا [سورۃ القمر: 49]۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: خَاصَمَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: تَجِدُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي كِتَابِ اللهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ {فَسُبْحَانَ اللهِ حِينَ تُمْسُونَ} [الروم: ١٧] الْمَغْرِبَ، {وَحِينَ تُصْبِحُونَ} [الروم: ١٧] الصُّبْحَ، {وَعَشِيًّا} [مريم: ١١] الْعَصْرَ، {وَحِينَ تُظْهِرُونَ} [الروم: ١٨] ، قَالَ: الظُّهْرَ، {وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ} [النور: ٥٨] قَالَ: صَلَاةَ الْعِشَاءِ
ترجمہ
ابورزین کہتے ہیں: نافع بن ازرق نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحث کی اور پوچھا: کیا تم پانچ نمازیں اللہ کی کتاب میں پاتے ہو؟ فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”پس اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام کرو“ [سورۃ الروم: 17] - یہ مغرب ہے - ”اور جب تم صبح کرو“ [سورۃ الروم: 17] - یہ فجر ہے - ”اور شام کے وقت“ [سورۃ مریم: 11] - یہ عصر ہے - ”اور جب تم ظہر کے وقت میں ہو“ [سورۃ الروم: 18] - فرمایا: یہ ظہر ہے - ”اور نمازِ عشاء کے بعد“ [سورۃ النور: 58] - فرمایا: یہ نمازِ عشاء ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ وهُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَمُوسَى بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيَّانِ، قَالَا: ثنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: خَرَجَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ وَنَجْدَةُ بْنُ عُوَيْمِرٍ فِي نَفَرٍ مِنَ رُّؤُوسِ الْخَوَارِجِ لِيَنْقُرُواَ عَنِ الْعِلْمِ وَيَطْلُبُونَهُ، حَتَّى قَدِمواَ مَكَّةَ، فَإِذَا هُمْ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَاعِدًا قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ أَحْمَرُ وَقَمِيصٌ، وَإِذَا نَاسٌ قِيَامٌ يَسْأَلُونَهُ عَنِ التَّفْسِيرِ يَقُولُونَ: يَا ابنَ عَبَّاسٍ، مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: هُوَ كَذَا أَوْ كَذَا، فَقَالَ لَهُ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ: مَا أَجْرَأَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ عَلَى مَا تُجْرِيهِ مُنْذُ الْيَوْمِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْعَبَّاسِ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا نَافِعُ وَعَدِمَتْكَ، أَلَا أُخْبِرُكَ مَنْ هُوَ أَجْرَأُ مِنِّي؟ قَالَ: مَنْ هُوَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: رَجُلٌ تَكَلَّمَ بِمَا لَيْسَ لهُ بِهِ عِلْمٌ، وَرَجُلٌ كَتَمَ عِلْمًا عِنْدَهُ، قَالَ: صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَتَيْتُكَ لِأَسْأَلَكَ، قَالَ: هَاتِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ فَسَلْ، قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ} [الرحمن: ٣٥] مَا الشُّوَاظُ؟ قَالَ: اللهَبُ الَّذِي لَا دُخَانَ فِيهِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ:
[البحر الوافر]
أَلَا مَنْ مُبْلِغٌ حَسَّانَ عَنِّي ... مُغَلْغَلَةً تَدِبُّ إِلَى عُكَاظِ
أَلَيْسَ أَبُوكَ قَيْنًا كَانَ فِينَا ... إِلَى الْقَيْنَاتِ فَسْلًا فِي الْحِفَاظِ
يَمَانِيًّا يَظَلُّ يَشُبُّ كِيرًا ... وَيَنْفُخُ دَائِبًا لَهَبَ الشُّوَاظِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ {وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ} [الرحمن: ٣٥] ، مَا النُّحَاسُ؟ قَالَ: الدُّخَانُ الَّذِي لَا لَهَبَ فِيهِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ يَقُولُ:
[البحر المتقارب]
يُضِيءُ كَضَوْءِ سِرَاجِ السَّليـ ... ـطِ لَمْ يَجْعَلِ اللهُ فِيهِ نُحَاسَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ} [الإنسان: ٢] ، قَالَ: مَاءُ الرَّجُلِ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ إِذَا اجْتَمَعَا فِي الرَّحِمِ كَانَ مِشْجًا، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قبل أن ينزل الكتاب على محمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الوافر]
كَأَنَّ النَّصْلَ وَالْفُوقَيْنِ مِنْهُ ... خِلَالَ الرِّيشِ سِيطَ بِهِ مَشِيجُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ} [القيامة: ٢٩] ، مَا السَّاقُ بِالسَّاقِ؟ قَالَ: الْحَرْبُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ:
[البحر الطويل]
أَخُو الْحَرْبِ إِنْ عَضَّتْ بِهِ الْحَرْبُ عَضَّهَا ... وَإِنْ شَمَّرَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ شَمَّرَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {بَنِينَ وَحَفَدَةً} [النحل: ٧٢] ، مَا الْبَنُونَ وَالْحَفَدَةُ؟ قَالَ: بَنُوكَ؛ فَإِنَّهُمْ يُعَاطُونَكَ، وَأَمَّا حَفَدَتُكَ فَإِنَّهُمْ خَدَمُكَ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ الثَّقَفِيِّ:
حَفَدَ الْوَلَائِدُ حَوْلَهُنَّ وَأُلْقِيَتْ ... بِأَكُفِّهِنَّ أَزِمَّةُ الْأَحْمَالِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ} [الشعراء: ١٥٣] ، مَا الْمُسَحَّرُونَ؟ قَالَ: مِنَ الْمَخْلُوقِينَ، قَالَ: فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الطويل]
فَإِنْ تَسْأَلِينَا مِمَّ نَحْنُ فَإِنَّنَا ... عَصَافِيرُ مِنْ هَذَا الْأَنَامِ الْمُسَحَّرِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَنَبَذْنَاهُ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ} ، مَا الْمُلِيمُ؟ قَالَ: الْمُذْنِبُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَهُوَ يَقُولُ:
بَعِيدٌ مِنَ الْآفَاتِ لَسْتَ لَهَا بِأَهْلٍ ... وَلَكِنَّ الْمُسِيءَ هُوَ الْمُلِيمُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: ١] ، مَا الْفَلَقُ؟ قَالَ: ضَوْءُ الصَّبْحِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ:
[البحر البسيط]
الْفَارِجُ الْهَمِّ مَبْذُولٌ عَسَاكِرُهُ ... كَمَا يُفَرِّجُ ضَوْءَ الظُّلْمَةِ الْفَلَقُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ} [الحديد: ٢٣] ، مَا الْأَسَى؟ قَالَ: لِكَيْ لَا تَحْزَنُوا، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ:
[البحر الطويل]
قَلِيلُ الْأَسَى فِيمَا أَتَى الدَّهْرُ دُونَهُ ... كَرِيمُ النَّثَا حُلْوُ الشَّمَائِلِ مُعْجِبُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ} [الانشقاق: ١٤] ، مَا يَحُورُ؟ قَالَ: يَرْجِعُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ:
وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا كَالشِّهَابِ وَضَوْؤُهُ ... يَحُورُ رَمَادًا بَعْدَ إِذْ هُوَ سَاطِعُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ} [الرحمن: ٤٤] ، مَا الْآنُ؟ قَالَ: الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ:
[البحر الوافر]
فَإِنْ يَقْبِضْ عَلَيْكَ أَبْو قُبَيْسٍ ... تَحُطَّ بِكَ الْمَنِيَّةُ فِي هَوَانِ
وَتُخْضَبْ لِحْيَةٌ غَدَرَتْ وَخَانَتْ ... بأَحْمَرَ مِنْ نَجِيعِ الْجَوْفِ آنِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ} [القلم: ٢٠] ، مَا الصَّريمُ؟ قَالَ: كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِيِ ذُبْيَانَ:
[البحر البسيط]
لَا تَزْجُرُوا مُكَفَهِرُّ الْأَكْفَاءِ لَهُ ... كَاللَّيْلِ يَخْلُطُ أَصْرامًا بأَصْرَامِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ} [الإسراء: ٧٨] ، مَا غَسَقُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: إِذَا أَظْلَمَ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ النَّابِغَةَ وَهُوَ يَقُولُ:
كَأَنَّمَا جُلُّ مَا قَالُوا وَمَا وَعَدُوا ... آلٌ تَضَمَّنَهُ مِنْ دَامِسٍ غَسَقِ
قَالَ أَبُو خَلِيفَةَ: الْآلُ: السَّرابُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا} [النساء: ٨٥] مَا الْمُقِيتُ؟ قَالَ: قَادِرٌ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ:
[البحر الوافر]
وَذِي ضِغْنٍ كَفَفْتُ الضِّغْنَ عَنْهُ ... وَإِنِّي فِي مَسَاءَتِهِ مُقِيتُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: ١٧] قَالَ: إِقْبَالُهُ بِسَوَادِهِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ:
عَسْعَسَ حَتَّى لَوْ يَشَاءُ ادَّنَا ... كَانَ لَنَا مِنْ ضَوْءِ نُورِهِ مَقْبَسُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ} [يوسف: ٧٢] ، قَالَ: الزَّعِيمُ: الْكَفِيلُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ:
[البحر الطويل]
وَإِنِّي زَعِيمٌ إِنْ رَجَعْتُ مُمَلَّكًا ... بِسَيْرٍ تَرَى مِنْهُ الْفُرَانِقَ أَزْوِرَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَفُومِهَا} [البقرة: ٦١] ، مَا الْفُومُ؟ قَالَ: الْحِنْطَةُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ:
[البحر الكامل]
قَدْ كُنْتَ تَحْسِبُنِي كَأَغْنَى وَافِدٍ ... قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَنْ زِرَاعَةِ فُومِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {الْأَزْلَامُ} [المائدة: ٩٠] ، مَا الْأَزْلَامُ؟ قَالَ: الْقِدَاحُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ الْحُطَيْئَةِ:
[البحر البسيط]
لَا يَزْجُرُ الطَّيْرَ إِنْ مَرَّتْ بِهِ سَنَحًا ... وَلَا يُقَامُ لَهُ قَدَحٌ بِأَزْلَامِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ، مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ} [الواقعة: ٩] ؟ قَالَ: أَصْحَابُ الشِّمَالِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى:
نَزَلَ الشَّيْبُ بِالشِّمَالِ قَرِيبًا ... وَالْمَرُورَاتِ دَائِيًا وَحَقِيرَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ} [التكوير: ٦] قَالَ: اخْتَلَطَ مَاؤُهَا بِمَاءِ الْأَرْضِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى:
[البحر البسيط]
لَقَدْ عَرَفَتْ رَبِيعَةُ فِي جُذَامٍ ... وَكَعْبٍ خَالَهَا وَابْنَا ضِرَارِ
لَقَدْ نَازَعْتُمُ حَسَبًا قَدِيمًا ... وَقَدْ سَجَّرَتْ بِحَارُهُمُ بِحَارِي
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ} [الذاريات: ٧] ، مَا الْحُبُكُ؟ قَالَ: ذَاتُ الطَّرَائِقِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى:
[البحر البسيط]
مُكَلَّلٌ بِأُصُولِ النَّجْمِ تَنْسِجُهُ ... رِيحُ الشِّمَالِ لِضَاحِي مَائِهِ حُبُكُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {جَدُّ رَبِّنَا} [الجن: ٣] ، مَا جَدُّ رَبِّنَا؟ قَالَ: ارْتَفَعَتْ عَظَمَتُهُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ لِلنُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ:
[البحر المتقارب]
إِلَى مَلِكٍ يَضْرِبُ الدَّارِعِينَ ... لَمْ يَنْقُصِ الشَّيْبُ مِنْهُ قَبَالَا
تَرَفَّعْ بِجَدِّكَ إِنِّي امْرُؤٌ ... سَقَتْنِي الْأَعَادِي سِجَالًا سِجَالَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلِّ {حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا} [يوسف: ٨٥] ، قَالَ: الْحَرَضُ: الْبَالِي، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ:
[البحر الطويل]
أَمِنْ ذِكْرِ لَيْلَى إِنْ نَأَتْ غُرْبَةٌ بِهَا ... أَعَدُّ حَرِيضًا لِلْكِرَا مُحَرَّمِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ جَلَّ ذِكْرُهُ {وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ} [النجم: ٦١] ، مَا سَامِدُونَ؟ قَالَ: لَاهُونَ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ هُزَيْلَةَ بِنْتِ بَكْرٍ تَبْكِي عَادًا:
[البحر الرمل]
بَعَثَتْ عَادٌ لَقِيمًا ... وَأَتَى سَعْدٌ شَرِيدَا
قِيلَ قُمْ فَانْظُرْ إِلَيْهِمْ ... ثُمَّ دَعْ عَنْكَ السُّمُودَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا اتَّسَقَ} [الانشقاق: ١٨] مَا اتِّسَاقُهُ؟ قَالَ: إِذَا اجْتَمَعَ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ:
[البحر الرجز]
إِنَّ لَنَا قَلَائِصًا نَقَائِقَا ... مُسْتَوْسِقَاتٍ لَوْ يَجِدْنَ سَائِقَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ: الْأَحَدُ {الصَّمَدُ} [الإخلاص: ٢] ، أَمَّا الْأَحَدُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الصَّمَدُ؟ قَالَ: الَّذِي يُصْمَدُ إِلَيْهِ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، قَالَ: فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ الْأَسَدِيَّةِ:
[البحر الطويل]
أَلَا بَكَّرَ النَّاعِي بِخَيْرَيْ بَنِي أَسَدْ ... بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَبِالسَّيِّدِ الصَّمَدْ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨] ، مَا الْأَثَامُ؟ قَالَ: جَزَاءً، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ بِشْرِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْأَسَدِيِّ:
[البحر الوافر]
وَإِنَّ مَقَامَنَا نَدْعُو عَلَيْهِمْ ... بِأَبْطَحِ ذِي الْمَجَازِ لَهُ أَثَامُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ كَظِيمٌ} [النحل: ٥٨] ، مَا الْكَظِيمُ؟ قَالَ: السَّاكِتُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ زُهَيْرِ بِنِ جَذِيمَةَ الْعَبْسِيِّ:
[البحر الوافر]
فَإِنْ تَكُ كَاظِمًا بِمُصَابِ شَاسٍ ... فَإِنِّي الْيَوْمَ مُنْطَلِقٌ لِسَانِي
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا} [مريم: ٩٨] قَالَ: صَوَابًا، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ خِدَاشِ بْنِ زُهَيْرٍ:
[البحر البسيط]
فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِحَبْلٍ هَابِطٍ سَرَفًا ... أَوْ بَطْنِ قَوْمٍ فأَخْفُوا الرِّكْزَ وَاكْتَتِمُوا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} [آل عمران: ١٥٢] ، قَالَ: إِذْ تَقْتُلُونَهُمْ بِإِذْنِهِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ عُتْبَةَ اللَّيْثِيِّ:
[البحر الطويل]
نَحُسُّهُمُ بِالْبِيضِ حَتَّى كَأَنَّمَا ... نُفَلِّقُ مِنْهُمْ بِالْجَمَاجِمِ حَنْظَلَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ} [الطلاق: ١] ، هَلْ كَانَ الطَّلَاقُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، طَلَاقًا بَائِنًا ثَلَاثًا، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَعْشَى بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ حِينَ أَخَذَهُ أَخْتَانُهُ عَنَزَةُ فَقَالُوا لَهُ: إِنَّكَ قَدْ أَضْرَرْتَ بِصَاحِبَتِنَا، وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللهِ أَنْ لَا نَضَعَ الْعَصَا عَنْكَ أَوْ تُطَلِّقَهَا، فَلَمَّا رَأَى الْجِدَّ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ فاعِلُونَ بِهِ شَرًّا قَالَ:
[البحر الطويل]
يَا جَارَتَا بِينِي فَإِنَّكِ طَالِقَةٌ ... كَذَاكَ أُمُورُ النَّاسِ غَادٍ وَطَارِقَةْ
فَقَالُوا: وَاللهِ لَتُبِينَنَّ لَهَا الطَّلَاقَ، أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ، فَقَالَ:
فَبِينِي حَصَانَ الْفَرْجِ غَيْرَ ذَمِيمَةٍ ... وَمَا مُوقَةٌ مِنَّا كَمَا أَنْتِ وَامِقَةْ
فَقَالُوا: وَاللهِ لَتُبِينَنَّ الطَّلَاقَ، أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ، فَقَالَ:
وَبِينِي فَإِنَّ الْبَيْنَ خَيْرٌ مِنَ الْعَصَا ... وَإِنْ لَا تَزَالِي فَوْقَ رَأْسِكِ بَارِقَةْ
فَأَبانَهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ "
[البحر الوافر]
أَلَا مَنْ مُبْلِغٌ حَسَّانَ عَنِّي ... مُغَلْغَلَةً تَدِبُّ إِلَى عُكَاظِ
أَلَيْسَ أَبُوكَ قَيْنًا كَانَ فِينَا ... إِلَى الْقَيْنَاتِ فَسْلًا فِي الْحِفَاظِ
يَمَانِيًّا يَظَلُّ يَشُبُّ كِيرًا ... وَيَنْفُخُ دَائِبًا لَهَبَ الشُّوَاظِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ {وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ} [الرحمن: ٣٥] ، مَا النُّحَاسُ؟ قَالَ: الدُّخَانُ الَّذِي لَا لَهَبَ فِيهِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ يَقُولُ:
[البحر المتقارب]
يُضِيءُ كَضَوْءِ سِرَاجِ السَّليـ ... ـطِ لَمْ يَجْعَلِ اللهُ فِيهِ نُحَاسَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ} [الإنسان: ٢] ، قَالَ: مَاءُ الرَّجُلِ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ إِذَا اجْتَمَعَا فِي الرَّحِمِ كَانَ مِشْجًا، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قبل أن ينزل الكتاب على محمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الوافر]
كَأَنَّ النَّصْلَ وَالْفُوقَيْنِ مِنْهُ ... خِلَالَ الرِّيشِ سِيطَ بِهِ مَشِيجُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ} [القيامة: ٢٩] ، مَا السَّاقُ بِالسَّاقِ؟ قَالَ: الْحَرْبُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ:
[البحر الطويل]
أَخُو الْحَرْبِ إِنْ عَضَّتْ بِهِ الْحَرْبُ عَضَّهَا ... وَإِنْ شَمَّرَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ شَمَّرَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {بَنِينَ وَحَفَدَةً} [النحل: ٧٢] ، مَا الْبَنُونَ وَالْحَفَدَةُ؟ قَالَ: بَنُوكَ؛ فَإِنَّهُمْ يُعَاطُونَكَ، وَأَمَّا حَفَدَتُكَ فَإِنَّهُمْ خَدَمُكَ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ الثَّقَفِيِّ:
حَفَدَ الْوَلَائِدُ حَوْلَهُنَّ وَأُلْقِيَتْ ... بِأَكُفِّهِنَّ أَزِمَّةُ الْأَحْمَالِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ} [الشعراء: ١٥٣] ، مَا الْمُسَحَّرُونَ؟ قَالَ: مِنَ الْمَخْلُوقِينَ، قَالَ: فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الطويل]
فَإِنْ تَسْأَلِينَا مِمَّ نَحْنُ فَإِنَّنَا ... عَصَافِيرُ مِنْ هَذَا الْأَنَامِ الْمُسَحَّرِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَنَبَذْنَاهُ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ} ، مَا الْمُلِيمُ؟ قَالَ: الْمُذْنِبُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَهُوَ يَقُولُ:
بَعِيدٌ مِنَ الْآفَاتِ لَسْتَ لَهَا بِأَهْلٍ ... وَلَكِنَّ الْمُسِيءَ هُوَ الْمُلِيمُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: ١] ، مَا الْفَلَقُ؟ قَالَ: ضَوْءُ الصَّبْحِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ:
[البحر البسيط]
الْفَارِجُ الْهَمِّ مَبْذُولٌ عَسَاكِرُهُ ... كَمَا يُفَرِّجُ ضَوْءَ الظُّلْمَةِ الْفَلَقُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ} [الحديد: ٢٣] ، مَا الْأَسَى؟ قَالَ: لِكَيْ لَا تَحْزَنُوا، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ:
[البحر الطويل]
قَلِيلُ الْأَسَى فِيمَا أَتَى الدَّهْرُ دُونَهُ ... كَرِيمُ النَّثَا حُلْوُ الشَّمَائِلِ مُعْجِبُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ} [الانشقاق: ١٤] ، مَا يَحُورُ؟ قَالَ: يَرْجِعُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ:
وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا كَالشِّهَابِ وَضَوْؤُهُ ... يَحُورُ رَمَادًا بَعْدَ إِذْ هُوَ سَاطِعُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ} [الرحمن: ٤٤] ، مَا الْآنُ؟ قَالَ: الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ:
[البحر الوافر]
فَإِنْ يَقْبِضْ عَلَيْكَ أَبْو قُبَيْسٍ ... تَحُطَّ بِكَ الْمَنِيَّةُ فِي هَوَانِ
وَتُخْضَبْ لِحْيَةٌ غَدَرَتْ وَخَانَتْ ... بأَحْمَرَ مِنْ نَجِيعِ الْجَوْفِ آنِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ} [القلم: ٢٠] ، مَا الصَّريمُ؟ قَالَ: كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِيِ ذُبْيَانَ:
[البحر البسيط]
لَا تَزْجُرُوا مُكَفَهِرُّ الْأَكْفَاءِ لَهُ ... كَاللَّيْلِ يَخْلُطُ أَصْرامًا بأَصْرَامِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ} [الإسراء: ٧٨] ، مَا غَسَقُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: إِذَا أَظْلَمَ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ النَّابِغَةَ وَهُوَ يَقُولُ:
كَأَنَّمَا جُلُّ مَا قَالُوا وَمَا وَعَدُوا ... آلٌ تَضَمَّنَهُ مِنْ دَامِسٍ غَسَقِ
قَالَ أَبُو خَلِيفَةَ: الْآلُ: السَّرابُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا} [النساء: ٨٥] مَا الْمُقِيتُ؟ قَالَ: قَادِرٌ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ:
[البحر الوافر]
وَذِي ضِغْنٍ كَفَفْتُ الضِّغْنَ عَنْهُ ... وَإِنِّي فِي مَسَاءَتِهِ مُقِيتُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: ١٧] قَالَ: إِقْبَالُهُ بِسَوَادِهِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ:
عَسْعَسَ حَتَّى لَوْ يَشَاءُ ادَّنَا ... كَانَ لَنَا مِنْ ضَوْءِ نُورِهِ مَقْبَسُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ} [يوسف: ٧٢] ، قَالَ: الزَّعِيمُ: الْكَفِيلُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ:
[البحر الطويل]
وَإِنِّي زَعِيمٌ إِنْ رَجَعْتُ مُمَلَّكًا ... بِسَيْرٍ تَرَى مِنْهُ الْفُرَانِقَ أَزْوِرَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَفُومِهَا} [البقرة: ٦١] ، مَا الْفُومُ؟ قَالَ: الْحِنْطَةُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ:
[البحر الكامل]
قَدْ كُنْتَ تَحْسِبُنِي كَأَغْنَى وَافِدٍ ... قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَنْ زِرَاعَةِ فُومِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {الْأَزْلَامُ} [المائدة: ٩٠] ، مَا الْأَزْلَامُ؟ قَالَ: الْقِدَاحُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ الْحُطَيْئَةِ:
[البحر البسيط]
لَا يَزْجُرُ الطَّيْرَ إِنْ مَرَّتْ بِهِ سَنَحًا ... وَلَا يُقَامُ لَهُ قَدَحٌ بِأَزْلَامِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ، مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ} [الواقعة: ٩] ؟ قَالَ: أَصْحَابُ الشِّمَالِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى:
نَزَلَ الشَّيْبُ بِالشِّمَالِ قَرِيبًا ... وَالْمَرُورَاتِ دَائِيًا وَحَقِيرَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ} [التكوير: ٦] قَالَ: اخْتَلَطَ مَاؤُهَا بِمَاءِ الْأَرْضِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى:
[البحر البسيط]
لَقَدْ عَرَفَتْ رَبِيعَةُ فِي جُذَامٍ ... وَكَعْبٍ خَالَهَا وَابْنَا ضِرَارِ
لَقَدْ نَازَعْتُمُ حَسَبًا قَدِيمًا ... وَقَدْ سَجَّرَتْ بِحَارُهُمُ بِحَارِي
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ} [الذاريات: ٧] ، مَا الْحُبُكُ؟ قَالَ: ذَاتُ الطَّرَائِقِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى:
[البحر البسيط]
مُكَلَّلٌ بِأُصُولِ النَّجْمِ تَنْسِجُهُ ... رِيحُ الشِّمَالِ لِضَاحِي مَائِهِ حُبُكُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {جَدُّ رَبِّنَا} [الجن: ٣] ، مَا جَدُّ رَبِّنَا؟ قَالَ: ارْتَفَعَتْ عَظَمَتُهُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ لِلنُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ:
[البحر المتقارب]
إِلَى مَلِكٍ يَضْرِبُ الدَّارِعِينَ ... لَمْ يَنْقُصِ الشَّيْبُ مِنْهُ قَبَالَا
تَرَفَّعْ بِجَدِّكَ إِنِّي امْرُؤٌ ... سَقَتْنِي الْأَعَادِي سِجَالًا سِجَالَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلِّ {حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا} [يوسف: ٨٥] ، قَالَ: الْحَرَضُ: الْبَالِي، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ:
[البحر الطويل]
أَمِنْ ذِكْرِ لَيْلَى إِنْ نَأَتْ غُرْبَةٌ بِهَا ... أَعَدُّ حَرِيضًا لِلْكِرَا مُحَرَّمِ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ جَلَّ ذِكْرُهُ {وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ} [النجم: ٦١] ، مَا سَامِدُونَ؟ قَالَ: لَاهُونَ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ هُزَيْلَةَ بِنْتِ بَكْرٍ تَبْكِي عَادًا:
[البحر الرمل]
بَعَثَتْ عَادٌ لَقِيمًا ... وَأَتَى سَعْدٌ شَرِيدَا
قِيلَ قُمْ فَانْظُرْ إِلَيْهِمْ ... ثُمَّ دَعْ عَنْكَ السُّمُودَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا اتَّسَقَ} [الانشقاق: ١٨] مَا اتِّسَاقُهُ؟ قَالَ: إِذَا اجْتَمَعَ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ:
[البحر الرجز]
إِنَّ لَنَا قَلَائِصًا نَقَائِقَا ... مُسْتَوْسِقَاتٍ لَوْ يَجِدْنَ سَائِقَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ: الْأَحَدُ {الصَّمَدُ} [الإخلاص: ٢] ، أَمَّا الْأَحَدُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الصَّمَدُ؟ قَالَ: الَّذِي يُصْمَدُ إِلَيْهِ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، قَالَ: فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ الْأَسَدِيَّةِ:
[البحر الطويل]
أَلَا بَكَّرَ النَّاعِي بِخَيْرَيْ بَنِي أَسَدْ ... بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَبِالسَّيِّدِ الصَّمَدْ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨] ، مَا الْأَثَامُ؟ قَالَ: جَزَاءً، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ بِشْرِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْأَسَدِيِّ:
[البحر الوافر]
وَإِنَّ مَقَامَنَا نَدْعُو عَلَيْهِمْ ... بِأَبْطَحِ ذِي الْمَجَازِ لَهُ أَثَامُ
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ كَظِيمٌ} [النحل: ٥٨] ، مَا الْكَظِيمُ؟ قَالَ: السَّاكِتُ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ زُهَيْرِ بِنِ جَذِيمَةَ الْعَبْسِيِّ:
[البحر الوافر]
فَإِنْ تَكُ كَاظِمًا بِمُصَابِ شَاسٍ ... فَإِنِّي الْيَوْمَ مُنْطَلِقٌ لِسَانِي
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا} [مريم: ٩٨] قَالَ: صَوَابًا، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ خِدَاشِ بْنِ زُهَيْرٍ:
[البحر البسيط]
فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِحَبْلٍ هَابِطٍ سَرَفًا ... أَوْ بَطْنِ قَوْمٍ فأَخْفُوا الرِّكْزَ وَاكْتَتِمُوا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} [آل عمران: ١٥٢] ، قَالَ: إِذْ تَقْتُلُونَهُمْ بِإِذْنِهِ، قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ عُتْبَةَ اللَّيْثِيِّ:
[البحر الطويل]
نَحُسُّهُمُ بِالْبِيضِ حَتَّى كَأَنَّمَا ... نُفَلِّقُ مِنْهُمْ بِالْجَمَاجِمِ حَنْظَلَا
قَالَ: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ} [الطلاق: ١] ، هَلْ كَانَ الطَّلَاقُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، طَلَاقًا بَائِنًا ثَلَاثًا، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَعْشَى بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ حِينَ أَخَذَهُ أَخْتَانُهُ عَنَزَةُ فَقَالُوا لَهُ: إِنَّكَ قَدْ أَضْرَرْتَ بِصَاحِبَتِنَا، وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللهِ أَنْ لَا نَضَعَ الْعَصَا عَنْكَ أَوْ تُطَلِّقَهَا، فَلَمَّا رَأَى الْجِدَّ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ فاعِلُونَ بِهِ شَرًّا قَالَ:
[البحر الطويل]
يَا جَارَتَا بِينِي فَإِنَّكِ طَالِقَةٌ ... كَذَاكَ أُمُورُ النَّاسِ غَادٍ وَطَارِقَةْ
فَقَالُوا: وَاللهِ لَتُبِينَنَّ لَهَا الطَّلَاقَ، أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ، فَقَالَ:
فَبِينِي حَصَانَ الْفَرْجِ غَيْرَ ذَمِيمَةٍ ... وَمَا مُوقَةٌ مِنَّا كَمَا أَنْتِ وَامِقَةْ
فَقَالُوا: وَاللهِ لَتُبِينَنَّ الطَّلَاقَ، أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ، فَقَالَ:
وَبِينِي فَإِنَّ الْبَيْنَ خَيْرٌ مِنَ الْعَصَا ... وَإِنْ لَا تَزَالِي فَوْقَ رَأْسِكِ بَارِقَةْ
فَأَبانَهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ "
ترجمہ
ضحاک بن مزاحم ہلالی کہتے ہیں: نافع بن ازرق اور نجدہ بن عویمر، خوارج کے چند سرداروں کے ساتھ، علم کی تلاش اور جستجو میں نکلے، یہاں تک کہ مکہ پہنچے، تو دیکھا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما زمزم کے قریب بیٹھے ہیں، سرخ چادر اور قمیص پہنے ہوئے، اور کچھ لوگ کھڑے ان سے تفسیر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، کہتے ہیں: اے ابن عباس! فلاں فلاں چیز کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو وہ فرماتے: یہ ایسا ایسا ہے۔ نافع بن ازرق نے ان سے کہا: اے ابن عباس! آج دن بھر سے تم جو کچھ کہتے جا رہے ہو اس پر تم کتنے جری ہو! ابن عباس نے کہا: اے نافع! تیری ماں تجھے روئے اور تجھے کھو دے، کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ مجھ سے زیادہ جری کون ہے؟ اس نے کہا: کون ہے، اے ابن عباس؟ فرمایا: وہ آدمی جو ایسی بات کہے جس کا اسے علم نہ ہو، اور وہ آدمی جو اپنے پاس موجود علم چھپائے۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، اے ابن عباس، میں تم سے سوال کرنے آیا ہوں۔ فرمایا: پوچھو، اے ابن ازرق!
اس نے پوچھا: مجھے بتائیں اللہ عزوجل کے فرمان ”تم دونوں پر آگ کا بے دھواں شعلہ (شواظ) چھوڑا جائے گا“ [سورۃ الرحمن: 35] کے بارے میں، شواظ کیا ہے؟ فرمایا: وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ پوچھا: کیا عرب محمد ﷺ پر کتاب نازل ہونے سے پہلے یہ لفظ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، کیا تم نے امیہ بن ابی الصلت کا یہ شعر نہیں سنا: کون ہے جو میری طرف سے حسان کو ایسا پیغام پہنچا دے جو (پھیلتا ہوا) عکاظ تک جا پہنچے؟ کیا تیرا باپ ہمارے درمیان لوہار نہیں تھا، لونڈیوں کی طرف مائل اور غیرت کی حفاظت میں کم ہمت؟ یمنی، جو دن بھر بھٹی دہکاتا اور مسلسل شعلے (شواظ) کی لپٹ پھونکتا رہتا تھا۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا۔
پھر پوچھا: اس کے فرمان ”اور بے شعلہ دھواں (نحاس) چھوڑا جائے گا تو تم مقابلہ نہ کر سکو گے“ [سورۃ الرحمن: 35] میں نحاس کیا ہے؟ فرمایا: وہ دھواں جس میں شعلہ نہ ہو۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، نابغہ ذبیانی کے اس شعر میں کہ وہ تیل کے چراغ کی روشنی کی طرح چمکتا ہے، اللہ نے اس میں کوئی دھواں (نحاس) نہیں رکھا۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”ہم اسے ملے جلے (امشاج) نطفے سے آزماتے ہیں“ [سورۃ الانسان: 2] میں امشاج کیا ہے؟ فرمایا: مرد کا پانی اور عورت کا پانی جب رحم میں جمع ہوں تو وہ مشج (ملاوٹ) کہلاتا ہے۔ پوچھا: کیا عرب یہ پہلے سے جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، ابوذؤیب ہذلی کے اس شعر میں کہ تیر کی نوک اور اس کے دونوں پروں کے درمیان گویا پروں کے اندر کوئی ملی جلی چیز (مشیج) گوندھ دی گئی ہو۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی“ [سورۃ القیامہ: 29] میں ساق بالساق کیا ہے؟ فرمایا: جنگ (کی شدت)۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، ابوذؤیب ہذلی کے اس شعر میں کہ جنگ کا مرد اگر جنگ اسے کاٹے تو وہ بھی اسے کاٹتا ہے، اور اگر جنگ اپنی پنڈلی سے دامن سمیٹے تو وہ بھی سمیٹتا ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”بیٹے اور پوتے/خدمت گار (حفدہ)“ [سورۃ النحل: 72] میں بنون اور حفدہ کیا ہیں؟ فرمایا: بنون تمہارے بیٹے ہیں کیونکہ وہ تمہیں دیتے ہیں، اور حفدہ وہ ہیں جو تمہارے خدمت گار ہیں۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، امیہ بن ابی الصلت ثقفی کے اس شعر میں کہ لونڈیاں ان کے گرد دوڑتی خدمت کرتی رہیں (حفد) اور ان کے ہاتھوں میں بوجھ کی لگامیں تھما دی گئیں۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”تم تو بس مسحرین میں سے ہو“ [سورۃ الشعراء: 153] میں مسحرون کیا ہیں؟ فرمایا: مخلوقات میں سے۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، امیہ بن ابی الصلت کے اس شعر میں کہ اگر تم پوچھو ہم کیا ہیں تو ہم اس پیدا کی ہوئی (مسحر) خلقت کی چند چڑیاں ہیں۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”تو ہم نے اسے سمندر میں پھینک دیا اس حال میں کہ وہ ملامت زدہ (ملیم) تھا“ میں ملیم کیا ہے؟ فرمایا: گناہ گار۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، امیہ بن ابی الصلت کے اس شعر میں کہ تو آفتوں سے دور ہے، تو ان کا اہل نہیں، لیکن برا کرنے والا ہی ملامت زدہ (ملیم) ہوتا ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”کہو میں صبح کی روشنی (فلق) کے رب کی پناہ مانگتا ہوں“ [سورۃ الفلق: 1] میں فلق کیا ہے؟ فرمایا: صبح کی روشنی۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، لبید بن ربیعہ کے اس شعر میں کہ غم دور کرنے والا، اس کے لشکر سب کے لیے کھلے ہیں، جیسے صبح کی روشنی (فلق) اندھیرے کو چیر دیتی ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ (تاسوا) جو تم سے فوت ہو گیا اور جو تمہیں دیا گیا اس پر اِتراؤ نہیں“ [سورۃ الحدید: 23] میں اسیٰ کیا ہے؟ فرمایا: تاکہ غمگین نہ ہو۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، لبید کے اس شعر میں کہ (فلاں شخص) زمانے کی مصیبتوں پر کم غم کھانے والا، اچھی شہرت والا، میٹھی طبیعت والا اور حیرت انگیز تھا۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اسے گمان تھا کہ وہ کبھی نہیں لوٹے گا (یحور)“ [سورۃ الانشقاق: 14] میں یحور کیا ہے؟ فرمایا: لوٹتا ہے۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، لبید کے اس شعر میں کہ انسان تو بس ایک انگارے کی مانند ہے، اس کی روشنی چمکنے کے بعد راکھ بن کر لوٹ (یحور) جاتی ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”وہ ان کے اور نہایت گرم کھولتے پانی (آنٍ) کے درمیان چکر لگائیں گے“ [سورۃ الرحمن: 44] میں آن کیا ہے؟ فرمایا: وہ جس کی گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، نابغہ ذبیانی کے اس شعر میں کہ اگر ابوقبیس تجھے پکڑ لے تو موت تجھے ذلت کے ساتھ گرا دے گی، اور وہ داڑھی جس نے دھوکا دیا اور خیانت کی، پیٹ کے شدید گرم (آن) سرخ خون سے رنگی جائے گی۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”تو وہ (صبح) اندھیری رات جیسی (صریم) ہو گئی“ [سورۃ القلم: 20] میں صریم کیا ہے؟ فرمایا: اندھیری رات جیسی۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، نابغہ ذبیانی کے اس شعر میں کہ سخت ترش رو، برابر والوں کو مت جھڑکو، وہ رات کی طرح ہے جو گروہوں کو گروہوں میں ملا دیتی ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”رات کی تاریکی (غسق) تک“ [سورۃ الاسراء: 78] میں غسق اللیل کیا ہے؟ فرمایا: جب وہ اندھیری ہو جائے۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، نابغہ کے اس شعر میں کہ گویا انہوں نے جو کچھ کہا اور وعدہ کیا وہ سب گھنی تاریکی (غسق) میں لپٹا ہوا ایک سراب (آل) تھا۔ ابوخلیفہ کہتے ہیں: آل کا مطلب سراب ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا (مقیت) ہے“ [سورۃ النساء: 85] میں مقیت کیا ہے؟ فرمایا: قدرت رکھنے والا۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، امرؤ القیس کے اس شعر میں کہ بہت سے کینہ رکھنے والوں کا میں نے کینہ روکا، جبکہ میں اسے نقصان پہنچانے کی پوری قدرت (مقیت) رکھتا تھا۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور رات کی قسم جب وہ اپنی تاریکی سمیٹتی ہوئی آئے (عسعس)“ [سورۃ التکویر: 17] کے بارے میں فرمایا: اپنی سیاہی لیے قریب آنا۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، امرؤ القیس کے اس شعر میں کہ رات قریب آتی گئی (عسعس)، یہاں تک کہ اگر وہ چاہتی تو ہمیں اس کی روشنی کی کوئی چنگاری بھی مل جاتی۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور میں اس کا ذمہ دار (زعیم) ہوں“ [سورۃ یوسف: 72] میں زعیم کیا ہے؟ فرمایا: زعیم یعنی ضامن۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، امرؤ القیس کے اس شعر میں کہ اگر میں بادشاہ بن کر لوٹا تو میں ایسے سفر کا ذمہ دار (زعیم) ہوں کہ اس کا قاصد بھی تھک کر جھک جائے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور اس کی گندم (فوم)“ [سورۃ البقرہ: 61] میں فوم کیا ہے؟ فرمایا: گندم۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، ابوذؤیب ہذلی کے اس شعر میں کہ تم مجھے اس سب سے مالدار وفد لانے والے کی طرح سمجھتے تھے جو گندم (فوم) کی کھیتی سے مدینہ آیا ہو۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”ازلام“ [سورۃ المائدہ: 90] کے بارے میں، ازلام کیا ہیں؟ فرمایا: قسمت آزمائی کے تیر۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، حطیئہ کے اس شعر میں کہ وہ پرندوں کے گزرنے سے فال نہیں نکالتا، اور نہ اس کے لیے قسمت آزمائی کے تیروں (ازلام) سے کوئی تیر کھڑا کیا جاتا ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”بائیں ہاتھ والے، اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں؟“ [سورۃ الواقعہ: 9] کے بارے میں فرمایا: بائیں طرف والے (بدبخت)۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: زہیر بن ابی سلمیٰ کے اس شعر میں کہ بڑھاپا بائیں جانب سے قریب اترا، اور ویران راستوں سے، بیماری اور حقارت کے ساتھ۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”جب سمندر ابل کر بھر جائیں گے (سجرت)“ [سورۃ التکویر: 6] کے بارے میں فرمایا: ان کا پانی زمین کے پانی سے مل جائے گا۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، زہیر کے اس شعر میں کہ ربیعہ نے جذام، کعب اور ضرار کے دونوں بیٹوں میں اپنا ماموں پہچان لیا، تم نے ایک پرانی عزت پر جھگڑا کیا، حالانکہ ان کے سمندر میرے سمندروں سے مل چکے (سجرت) تھے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور دھاری دار آسمان کی قسم (ذات الحبک)“ [سورۃ الذاریات: 7] میں حبک کیا ہے؟ فرمایا: دھاریوں والا۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، زہیر کے اس شعر میں کہ ستاروں کی جڑوں سے تاج پہنا ہوا، شمالی ہوا اس کے کھلے پانی کے لیے دھاریاں (حبک) بنتی ہے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”ہمارے رب کی بزرگی (جد)“ [سورۃ الجن: 3] میں جد ربنا کیا ہے؟ فرمایا: اس کی عظمت بلند ہوئی۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، طرفہ بن العبد کا نعمان بن منذر سے یہ شعر کہ ایسے بادشاہ کی طرف جو زرہ پوشوں کو مارتا ہے، جس کے بڑھاپے نے اس کی شان میں کوئی کمی نہیں کی، اپنی بزرگی (جد) سے بلند ہو، میں وہ آدمی ہوں جسے دشمنوں نے بار بار پلایا۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”یہاں تک کہ تم بالکل بوسیدہ (حرضا) ہو جاؤ“ [سورۃ یوسف: 85] کے بارے میں فرمایا: حرض یعنی بوسیدہ، گھلا ہوا۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، طرفہ بن العبد کے اس شعر میں کہ کیا لیلیٰ کی یاد سے، جب وہ دور جا بسی، میں اپنے آپ کو نیند سے محروم، گھلا ہوا (حریض) سمجھتا ہوں۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور تم بے پروا (سامدون) ہو“ [سورۃ النجم: 61] میں سامدون کیا ہے؟ فرمایا: کھیل میں مشغول، لاپروا۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، ہزیلہ بنت بکر کے اس شعر میں، جو قومِ عاد پر رو کر کہتی ہے: عاد نے لقیم کو بھیجا اور سعد بھاگتا ہوا آیا، کہا گیا: اٹھو اور انہیں دیکھو، پھر اپنی بے پروائی (سمود) چھوڑ دو۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”جب وہ پورا ہو جائے (اتسق)“ [سورۃ الانشقاق: 18] کے بارے میں فرمایا: جب وہ جمع (کامل) ہو جائے۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، ابوصرمہ انصاری کے اس شعر میں کہ ہمارے پاس دبلی، اکٹھی ہوئی (مستوسقات) اونٹنیاں ہیں، کاش انہیں کوئی ہانکنے والا مل جائے۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اللہ احد“، ”صمد“ [سورۃ الاخلاص: 2] کے بارے میں، احد کو تو ہم جانتے ہیں، صمد کیا ہے؟ فرمایا: وہ ذات جس کی طرف تمام معاملات میں رجوع کیا جائے۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، اسدیہ عورت کے اس شعر میں کہ صبح سویرے موت کی خبر دینے والا بنو اسد کے دو بہترین لوگوں، عمرو بن مسعود اور صمد سردار کی موت کی خبر لے کر آیا۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اسے سزا (اثاما) ملے گی“ [سورۃ الفرقان: 68] میں اثام کیا ہے؟ فرمایا: بدلہ، سزا۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، بشر بن ابی حازم اسدی کے اس شعر میں کہ ہمارا مقام یہ ہے کہ ہم ابطحِ ذی المجاز میں ان پر بددعا کرتے ہیں، اس کی سزا (اثام) ہوگی۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور وہ غم سے بھرا (کظیم) تھا“ [سورۃ النحل: 58] میں کظیم کیا ہے؟ فرمایا: خاموش۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، زہیر بن جذیمہ عبسی کے اس شعر میں کہ اگر تم شاس کی موت پر غم دبائے (کاظم) بیٹھے ہو تو میں آج اپنی زبان کھول دوں گا۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”یا ان کی کوئی سرسراہٹ (رکز) سنتے ہو“ [سورۃ مریم: 98] کے بارے میں فرمایا: کوئی درست آواز۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، خداش بن زہیر کے اس شعر میں کہ اگر تم کسی اچانک اترتی رسی، یا کسی قوم کے اندرونی معاملے کی خبر سنو تو اس سرسراہٹ (رکز) کو چھپا لو اور راز رکھو۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے (تحسونہم)“ [سورۃ آل عمران: 152] کے بارے میں فرمایا: یعنی جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے۔ پوچھا: کیا عرب یہ جانتے تھے؟ فرمایا: ہاں، عتبہ لیثی کے اس شعر میں کہ ہم انہیں تلواروں سے کاٹتے (نحسہم) ہیں یہاں تک کہ گویا ہم ان کی کھوپڑیوں کو حنظل کی طرح چیر رہے ہوں۔ کہا: تم نے سچ کہا۔
پوچھا: اللہ عزوجل کے فرمان ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو“ [سورۃ الطلاق: 1] کے بارے میں پوچھا: کیا جاہلیت میں طلاق ہوتی تھی؟ فرمایا: ہاں، تین طلاقوں کی مکمل بائنہ طلاق۔ کیا تم نے اعشیٰ بنو قیس بن ثعلبہ کا وہ واقعہ نہیں سنا جب اس کے سسرالی رشتہ داروں، قبیلہ عنزہ، نے اسے پکڑ کر کہا: تم نے ہماری عورت کو نقصان پہنچایا ہے، اور ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ جب تک تم اسے طلاق نہ دو ہم تم سے لاٹھی نہیں ہٹائیں گے۔ جب اس نے ان کی سنجیدگی اور برا سلوک کرنے کا ارادہ دیکھا تو کہا: اے پڑوسن! جدا ہو جا، تو طلاق یافتہ ہے، لوگوں کے معاملات اسی طرح آتے جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں اسے صاف صاف طلاق دینا ہوگی ورنہ ہم تم سے لاٹھی نہیں ہٹائیں گے۔ اس نے کہا: تو جدا ہو جا، پاک دامن، بے عیب، اور کوئی ہم میں سے تیرے جیسا محبت کرنے والا نہیں۔ انہوں نے پھر کہا: اللہ کی قسم! تمہیں طلاق واضح کرنا ہوگی ورنہ ہم تم سے لاٹھی نہیں ہٹائیں گے۔ اس نے کہا: تو جدا ہو جا، کیونکہ جدائی مار سے بہتر ہے، ورنہ تیرے سر پر تلوار چمکتی رہے گی۔ چنانچہ اس نے اسے تین طلاقیں دے کر جدا کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَتْ حَرُورَاءَ، وَكَانُوا فِي دَارٍ عَلَى حِدَتِهِمْ، قُلْتُ لِعَلِيٍّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَبْرِدْ عَنِ الصَّلَاةِ؛ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمَهُمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَتَخَوَّفُهُمْ عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا إِنْ شَاءَ اللهُ، قَالَ: فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ مِنْ هَذِهِ الْيَمَانِيَّةِ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ وَهُمْ قَائِلُونَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ أَرَ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ، أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا ثَفِنُ الْإِبِلِ، وَوُجُوهُهُمْ مُعَلَّبَةٌ مِنْ آثَارِ السُّجُودِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ الْوَحْيُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِتَأْوِيلِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُحَدِّثُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُحَدِّثَنَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَا تَنْقِمُونَ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَتَنِهِ، وَأَوَّلِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ؟ قَالُوا: نَنْقِمُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَوَّلُهُنَّ أَنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللهِ، وَقَدْ قَالَ اللهُ {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: ٥٧] ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالُوا: وَقَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، لَئِنْ كَانُوا كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّتْ لَهُ أَمْوَالُهُمْ، وَلَئِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ لَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ دِمَاؤُهُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالُوا: وَمَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ الْمُحْكَمِ، وَحَدَّثْتُكُمْ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا تُنْكِرُونَ، أَتَرْجِعُونَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللهِ، فَإِنَّهُ يَقُولُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: ٩٥] إِلَى قَوْلِهِ {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: ٩٥] ، وَقَالَ فِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنَهُمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: ٣٥] ، أَنْشُدُكُمُ اللهَ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ أَحَقُّ أَمْ فِي أَرْنَبٍ ثَمَنُهَا رُبْعُ دِرْهَمٍ؟ قَالُوا: اللهُمَّ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ، أَمْ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا تَسْتَحِلُّونَ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَقَدْ كَفَرْتُمْ، وَإِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِأُمِّكُمْ فَقَدْ كَفَرْتُمْ وَخَرَجْتُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦] ، فَأَنْتُمْ تَتَرَدَّدُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ، فَاخْتَارُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا، فَقَالَ: " اكْتُبْ: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ "، فَقَالُوا: وَاللهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ، وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: «وَاللهِ إِنِّي لِرَسُولُ اللهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ» ، فَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ، أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. فَرَجَعَ مِنْهُمْ عِشْرُونَ أَلْفًا، وَبَقِيَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، فَقُتِلُوا
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حروریہ (خوارج) الگ ہو گئے اور وہ ایک الگ گھر میں (جمع) تھے، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! نماز کو ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر دیجیے، شاید میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے بات کروں۔ انہوں نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں ان سے خطرہ ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، ان شاء اللہ۔ پھر میں نے ان یمنی جوڑوں میں سے جو بہترین لباس مجھے میسر تھا پہنا، پھر میں ان کے پاس گیا جبکہ وہ ٹھیک دوپہر کے وقت قیلولہ کر رہے تھے۔ میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچا کہ میں نے ان سے بڑھ کر عبادت میں محنت کرنے والے لوگ کبھی نہیں دیکھے، ان کے ہاتھ گویا اونٹوں کے گھٹنوں کے گٹے تھے، اور ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ میں اندر گیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! آپ کیسے آئے؟ میں نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی بات سنانے آیا ہوں، وحی (انہی پر) نازل ہوئی اور وہ اس کی تفسیر کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو ان میں سے بعض نے کہا: اس سے بات نہ کرو، اور بعض نے کہا: ہم ضرور اس سے بات کریں گے۔ میں نے کہا: مجھے بتاؤ، تم رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد، آپ ﷺ کے داماد اور آپ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے پر کیا اعتراض رکھتے ہو، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ان کے ساتھ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم ان پر تین باتوں کا اعتراض رکھتے ہیں۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: پہلی یہ کہ انہوں نے اللہ کے دین میں آدمیوں کو ثالث بنایا، حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے: ”حکم صرف اللہ ہی کا ہے“ [سورۃ الانعام: 57]۔ میں نے کہا: اور کیا؟ انہوں نے کہا: اور انہوں نے لڑائی کی لیکن نہ کسی کو قیدی بنایا اور نہ مالِ غنیمت لیا، اگر وہ (مخالفین) کافر تھے تو ان کے مال ان کے لیے حلال تھے، اور اگر وہ مومن تھے تو ان کا خون ان پر حرام تھا۔ میں نے کہا: اور کیا؟ انہوں نے کہا: اور انہوں نے اپنے نام سے ”امیر المومنین“ مٹا دیا، تو اگر وہ امیر المومنین نہیں تو امیر الکافرین ہیں۔ میں نے کہا: بتاؤ، اگر میں تمہیں اللہ کی محکم کتاب سے پڑھ کر سناؤں اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت سے ایسی بات بیان کروں جس کا تم انکار نہ کر سکو، تو کیا تم رجوع کر لو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: رہا تمہارا یہ کہنا کہ انہوں نے اللہ کے دین میں آدمیوں کو ثالث بنایا، تو اللہ فرماتا ہے: ”اے ایمان والو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو“ [سورۃ المائدہ: 95] سے لے کر ”تم میں سے دو عادل آدمی اس کا فیصلہ کریں“ [سورۃ المائدہ: 95] تک، اور عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں فرمایا: ”اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں میں سے بھیجو“ [سورۃ النساء: 35]۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا لوگوں کے خون اور جانیں بچانے اور ان کے باہمی تعلقات کی اصلاح میں آدمیوں کا فیصلہ زیادہ حق دار ہے یا ایک خرگوش کے بارے میں جس کی قیمت چوتھائی درہم ہے؟ انہوں نے کہا: یقیناً ان کے خون بچانے اور باہمی اصلاح میں۔ میں نے کہا: کیا میں اس (اعتراض) سے نکل آیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اور رہا تمہارا یہ کہنا کہ انہوں نے لڑائی کی لیکن نہ قیدی بنایا نہ غنیمت لی، تو کیا تم اپنی ماں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو قیدی بناؤ گے، یا اس سے وہ چیز حلال سمجھو گے جو دوسری عورتوں سے حلال سمجھتے ہو؟ (اگر ایسا کہو) تو تم نے کفر کیا، اور اگر تم یہ دعویٰ کرو کہ وہ تمہاری ماں نہیں تو بھی تم نے کفر کیا اور اسلام سے نکل گئے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“ [سورۃ الاحزاب: 6]۔ تو تم دو گمراہیوں کے درمیان ڈانواں ڈول ہو، ان میں سے جو چاہو چن لو۔ کیا میں اس سے نکل آیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اور رہا تمہارا یہ کہنا کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المومنین مٹا دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن قریش کو اس بات پر بلایا کہ اپنے اور ان کے درمیان ایک تحریر لکھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لکھو: یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے فیصلہ (صلح) کیا۔“ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑتے، لیکن لکھیے: محمد بن عبداللہ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم مجھے جھٹلاؤ، اے علی! لکھو: محمد بن عبداللہ۔“ حالانکہ رسول اللہ ﷺ علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے (پھر بھی آپ ﷺ نے یہ لکھوایا)، کیا میں اس دلیل سے نکل آیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ ان میں سے بیس ہزار واپس لوٹ آئے، اور چار ہزار باقی رہے، تو وہ قتل کر دیے گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلْ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ تَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب تم کسی ایسے رعب دار حکمران کے پاس جاؤ جس کے تم پر حملہ آور ہونے کا خدشہ ہو تو کہو: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اپنی تمام مخلوق سے بڑا ہے، اللہ اس سے زیادہ غالب ہے جس سے میں ڈرتا اور خوف کھاتا ہوں، میں اس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہ گر پڑیں، تیرے بندے فلاں، اس کے لشکروں اور جن و انس میں سے اس کے پیروکاروں کے شر سے۔ اے میرے اللہ! ان کے شر سے تو میری پناہ گاہ بن جا، تیری تعریف بلند ہے، تیری پناہ عزت والی ہے، تیرا نام بابرکت ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ یہ تین بار کہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أَنْ تَجْعَلَنِي فِي حِرْزِكَ، وَحِفْظِكَ، وَجِوَارِكَ، وَتَحْتَ كَنَفِكَ»
ترجمہ
سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے چہرے کے اس نور کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس سے آسمان اور زمین روشن ہوئے، کہ تو مجھے اپنی حفاظت، اپنی نگہبانی، اپنی پناہ اور اپنے سائے میں رکھ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي مَا صَنَعْتَ وَبِمَا أَفْتَيْتَ؟ سَارَتْ بِفُتْيَاكَ الرُّكْبَانُ، وَقَالَتْ فِيهِ الشُّعَرَاءُ، قَالَ: وَمَا قَالُوا؟ قُلْتُ: قَالُوا:
[البحر البسيط]
قَدْ قَالَ لِيَ الشَّيْخُ لَمَّا طَالَ مَجْلِسُهُ ... يَا صَاحِ هَلْ لَكَ فِي فُتْيَا ابنِ عَبَّاسْ
هَلْ لَكَ فِي رَخْصَةِ الْأَطْرَافِ آنِسَةٍ ... تَكُونُ مَثْوَاكَ حَتَّى يَصْدُرَ النَّاسْ
قَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، لَا وَاللهِ مَا بِهَذَا أَفْتَيْتُ، وَلَا هَذا أَرَدْتُ، وَلَا أَحْلَلْتُ مِنْهَا إِلَّا مَا أُحِلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ
[البحر البسيط]
قَدْ قَالَ لِيَ الشَّيْخُ لَمَّا طَالَ مَجْلِسُهُ ... يَا صَاحِ هَلْ لَكَ فِي فُتْيَا ابنِ عَبَّاسْ
هَلْ لَكَ فِي رَخْصَةِ الْأَطْرَافِ آنِسَةٍ ... تَكُونُ مَثْوَاكَ حَتَّى يَصْدُرَ النَّاسْ
قَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، لَا وَاللهِ مَا بِهَذَا أَفْتَيْتُ، وَلَا هَذا أَرَدْتُ، وَلَا أَحْلَلْتُ مِنْهَا إِلَّا مَا أُحِلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ
ترجمہ
سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کیا کیا اور کس بات کا فتویٰ دیا؟ آپ کے فتوے کی بات سوار لے کر پھر رہے ہیں، اور شاعروں نے اس پر اشعار کہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا؟ میں نے عرض کیا: انہوں نے کہا: ایک بزرگ نے مجھ سے کہا جب اس کی مجلس طویل ہو گئی: اے دوست! کیا تمہیں ابن عباس کے فتوے میں دلچسپی ہے؟ کیا تمہیں کسی نرم و نازک اندام، دل بہلانے والی عورت میں دلچسپی ہے، جو تمہارے ٹھکانے پر رہے یہاں تک کہ لوگ (حج سے) لوٹ جائیں؟ یہ سن کر انہوں نے فرمایا: ”انا للہ وانا الیہ راجعون، نہیں، اللہ کی قسم! میں نے اس کا فتویٰ نہیں دیا، اور نہ میری یہ مراد تھی، اور نہ میں نے اس میں سے کچھ حلال کیا سوائے اس کے جو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت میں سے (بوقتِ مجبوری) حلال کیا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى فِرَاشِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ فِي مَجْلِسِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِرْفَقَةً مِنْ خَزٍّ
ترجمہ
ابوراشد، بنو عامر کے آزاد کردہ غلام، کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بستر پر، یا ان کی مجلس میں، ریشم کا ایک تکیہ دیکھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ قَالَ: مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَاصٍّ، فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: تَدْرِي النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ؟ قَالَ: وَمَا النَّاسِخُ مِنَ الْمَنْسُوخِ؟ قَالَ: مَا تَدْرِي النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ
ترجمہ
ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا گزر ایک قصہ گو کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے اسے اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور فرمایا: کیا تمہیں ناسخ اور منسوخ کا علم ہے؟ اس نے پوچھا: ناسخ اور منسوخ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تمہیں ناسخ اور منسوخ کا علم نہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تم خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ قَالَ: سَأَلَ شَابٌّ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: لَا، ثُمَّ جَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ: أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الشَّابُّ: سَأَلْتُكَ أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقُلْتَ: لَا، وَسَأَلَكَ هَذَا أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَقُلْتَ: نَعَمْ، فَكَيْفَ يَحِلُّ لِهَذَا مَا يَحْرُمُ عَلَيَّ وَنَحْنُ عَلَى دِينٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ عُرُوقَ الْخُصْيِتَيْنِ مُعَلَّقَةٌ بِالْأَنْفِ، فَإِذَا شَمَّ الْأَنْفُ يَتَحَرَّكُ الذَّكَرُ، وَإِذَا تَحَرَّكَ الذَّكَرُ دَعَا إِلَى مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَاكَ، وَالشَّيْخُ أَمْلَكُ لِإِرَبِهِ، وَذَاكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُ عَبْدِ اللهِ، وَخَلْفَهُ امْرَأَةٌ، فَقِيلَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنَّ خَلْفَكَ امْرَأَةٌ، قَالَ: «أُفٍّ لَكَ مِنْ جَلِيسِ قَوْمٍ»
ترجمہ
عطیہ کہتے ہیں: ایک نوجوان نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔ پھر ایک بوڑھا آیا اور پوچھا: کیا روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ نوجوان نے کہا: میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا: نہیں، اور اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے تو آپ نے فرمایا: ہاں، تو اس کے لیے وہ چیز کیسے حلال ہے جو مجھ پر حرام ہے حالانکہ ہم ایک ہی دین پر ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ”خصیتین کی رگیں ناک سے جڑی ہوئی ہیں، جب ناک سونگھتی ہے تو شرمگاہ حرکت میں آتی ہے، اور جب شرمگاہ حرکت میں آئے تو وہ اس سے بھی بڑی چیز کی طرف بلاتی ہے، اور بوڑھا اپنی خواہش پر زیادہ قابو رکھتا ہے۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جب سیدنا عبداللہ (بن عباس) رضی اللہ عنہما کی بینائی جا چکی تھی، اور ان کے پیچھے ایک عورت تھی، تو کسی نے کہا: اے ابن عباس! آپ کے پیچھے ایک عورت ہے۔ فرمایا: ”تجھ پر افسوس، تو لوگوں کا کیسا ہم نشین ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْقَدَرِ فَوَجَأْتُ رَأْسَهُ، قَالُوا: وَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: لِأَنَّ اللهَ خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ، دَفَّتَاهُ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ، قَلَمُهُ نُورٌ، وَكِتَابُهُ نُورٌ، وَعَرْضُهُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، يَنْظُرُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سِتِّينَ وَثَلَاثَمِائَةِ نَظْرَةٍ، يَخْلُقُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ، وَيُحْيِي وَيُعِزُّ وَيُذِلُّ وَيَفْعَلُ مَا يَشَاءُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری خواہش ہے کہ میرے پاس تقدیر کے منکروں میں سے کوئی آدمی ہو تو میں اس کے سر پر گھونسا ماروں۔ لوگوں نے پوچھا: ایسا کیوں؟ فرمایا: کیونکہ اللہ نے سفید موتی سے ایک محفوظ لوح پیدا کی ہے، جس کے دونوں کنارے سرخ یاقوت کے ہیں، اس کا قلم نور ہے، اور اس کی تحریر نور ہے، اور اس کی چوڑائی آسمان اور زمین کے درمیان جتنی ہے، اللہ اس میں ہر دن تین سو ساٹھ بار نظر ڈالتا ہے، ہر نظر میں پیدا کرتا ہے، زندہ کرتا ہے، عزت دیتا ہے، ذلیل کرتا ہے، اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ قَالَ: " لَمَّا بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ، قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لِأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ. فَانْتَهَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ. فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُزَيْرًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ بَعْدَمَا كَانَ قَدْ رَفَعَهَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، حَتَّى قَالَ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ ابْنُ اللهِ، قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لِأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ. فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: اللهُمَّ أَنْتَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللهُ: إليه: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ. فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُرَّ صُرَّةً مِنَ الشَّمْسِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِمِكْيَالٍ مِنْ رِيحٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِمِثْقَالٍ مِنْ نُورٍ؟ قَالَ: لَا، أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِقِيرَاطٍ مِنْ نُورٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَكَذَا لَا تَقْدِرُ عَلَى الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ، أَمَا إِنِّي لَا أَجْعَلُ عُقُوبَتَكَ إِلَّا أَنْ أُمْحِيَ اسْمَكَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَا تُذْكَرُ فِيهِمْ، فَمَحَا اسْمَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَلَيْسَ يُذْكَرُ فِيهِمْ وَهُوَ نَبِيٌّ، فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَرَأَى مَنْزِلَتَهُ مِنْ رَبِّهِ، وَعَلَّمَهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، وَيُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، وَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا يَأْكُلُونَ وَمَا يَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِهِمْ، قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتُ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ، وَأَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، وَكَلِمَتِي أَلْقَيْتُكَ إِلَى مَرْيَمَ، وَرَوْحٌ مِنِّي خَلَقْتُكَ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ قُلْتُ لَكَ: كُنْ فَكُنْتَ، لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ كَمَا فَعَلْتُ بِصَاحِبِكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَجَمَعَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ تَبِعَتَهُ فَقَالَ: الْقَدَرُ سِرُّ اللهِ؛ فَلَا تَكَلَّفُوهُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا اور ان پر تورات نازل کی تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ تیری اطاعت کی جائے تو ضرور اطاعت کی جاتی، اور اگر تو چاہتا کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے تو ہرگز نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور اس کے باوجود تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے ہے، اے رب؟ تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ (بندے) پوچھے جاتے ہیں۔ تو موسیٰ علیہ السلام باز آ گئے۔ پھر جب اللہ عزوجل نے عزیر علیہ السلام کو مبعوث کیا اور ان پر تورات نازل کی، اس کے بعد کہ وہ بنی اسرائیل سے اٹھا لی گئی تھی، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یہ تک کہہ دیا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ تیری اطاعت کی جائے تو ضرور اطاعت کی جاتی، اور اگر تو چاہتا کہ تیری نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور اس کے باوجود تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے، اے رب؟ اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ لیکن ان کا نفس نہ مانا اور انہوں نے پھر سوال کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے، اے رب؟ اللہ نے وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ پھر بھی ان کا نفس نہ مانا اور انہوں نے پھر سوال کیا، تو اللہ نے فرمایا: کیا تو سورج کی روشنی کو مٹھی میں باندھ سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: کیا تو ہوا کو ایک پیمانے میں لا سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: کیا تو نور کا ایک مثقال لا سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ کیا تو نور کا ایک قیراط لا سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: تو اسی طرح تجھے اس چیز پر بھی قدرت نہیں جس کے بارے میں تو نے پوچھا، میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ سن لو! میں تیری سزا یہی مقرر کرتا ہوں کہ تیرا نام انبیاء کی فہرست سے مٹا دوں گا، تو تیرا ذکر ان میں نہیں ہوگا۔ چنانچہ اللہ نے ان کا نام انبیاء کی فہرست سے مٹا دیا، اور وہ نبی ہوتے ہوئے بھی ان کے ساتھ ذکر نہیں کیے جاتے۔ پھر جب اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا، اور انہوں نے اپنے رب کے ہاں اپنا مقام دیکھا، اور اللہ نے انہیں کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھائی، اور وہ مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتے، مردوں کو زندہ کرتے، اور لوگوں کو بتا دیتے کہ وہ کیا کھاتے ہیں اور اپنے گھروں میں کیا جمع کرتے ہیں، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ تیری اطاعت کی جائے تو ضرور اطاعت کی جاتی، اور اگر تو چاہتا کہ نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے، اے رب؟ اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں، اور تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے، اور میرا وہ کلمہ ہے جو میں نے مریم کی طرف القا کیا، اور میری طرف سے ایک روح ہے، میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر کہا: ہو جا، تو تو ہو گیا۔ اگر تو باز نہ آیا تو میں تیرے ساتھ بھی وہی کروں گا جو میں نے تجھ سے پہلے تیرے ساتھی (عزیر) کے ساتھ کیا، میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ تو عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو جمع کیا اور فرمایا: تقدیر اللہ کا راز ہے، تم اس کی تکلیف نہ اٹھاؤ۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو يُوسُفَ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يَقُولُ: صَحِبْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بَصَرُهُ وَبَعْدَمَا أُصِيبَ، فَسُئِلَ عَنِ الْقَدَرِ، فَقَالَ: «وَجَدْتُ أَصَوْبَ النَّاسِ فِيهِ حَدِيثًا أَجْهَلَهُمْ بِهِ، وَأَضْعَفَهُمْ فِيهِ حَدِيثًا أَعْلَمَهُمْ بِهِ، وَوَجَدْتُ النَّاظِرَ فِيهِ كَالنَّاظِرِ فِي شُعَاعِ الشَّمْسِ، كُلَّمَا ازْدَادَ فِيهِ نَظَرًا ازْدَادَ بَصَرُهُ فِيهَا تَحَيُّرًا»
ترجمہ
وہب بن منبہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا، ان کی بینائی جانے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، ان سے تقدیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ اس بارے میں سب سے درست بات کہنے والا وہ ہے جو اسے سب سے کم جانتا ہے، اور اس بارے میں سب سے کمزور بات کہنے والا وہ ہے جو اسے سب سے زیادہ جانتا ہے، اور میں نے دیکھا کہ اس میں غور کرنے والا ایسا ہے جیسے سورج کی روشنی میں دیکھنے والا: جتنا وہ اس میں زیادہ غور کرے اتنی ہی اس کی نظر میں حیرانی بڑھتی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْعِجْلِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «الْمَسَاجِدُ بُيُوتُ اللهِ فِي الْأَرْضِ، تُضِئُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا تُضِئُ نُجُومُ السَّمَاءِ لِأَهْلِ الْأَرْضِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”مسجدیں زمین میں اللہ کے گھر ہیں، یہ آسمان والوں کے لیے یوں روشن ہوتی ہیں جیسے آسمان کے ستارے زمین والوں کے لیے روشن ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ قَالَ: " لَوْ قَالَ لِي فِرْعَوْنُ: بَارَكَ اللهُ فِيكَ، قُلْتُ: وَفِيكَ وَفِرْعَوْنُ قَدْ مَاتَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اگر فرعون مجھ سے کہتا: اللہ تجھے برکت دے، تو میں کہتا: تجھے بھی، حالانکہ فرعون تو مر چکا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ أَبُو عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا أَتَى عَلَى النَّاسِ عَامٌ إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً، وَأَمَاتُوا فِيهِ سُنَّةً، حَتَّى تَحْيَى الْبِدَعُ، وَتَمُوتَ السُّنَنُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”لوگوں پر کوئی سال نہیں گزرتا مگر وہ اس میں کوئی بدعت نئی نکالتے ہیں اور کوئی سنت مٹا دیتے ہیں، یہاں تک کہ بدعتیں زندہ ہو جاتی ہیں اور سنتیں مر جاتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَأْخُذُ الْحَبَّةَ مِنَ الرُّمَّانِ فَيَأْكُلُهَا، قِيلَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، لِمَ تَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ: «إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ رُمَّانَةٌ تُلْقَحُ إِلَّا بِحَبَّةٍ مِنْ حَبِّ الْجَنَّةِ، فَلَعَلَّهَا هَذِهِ»
ترجمہ
عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما انار کا دانہ لے کر کھاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: اے ابن عباس! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا: ”مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ زمین میں کوئی انار ایسا نہیں جس میں جنت کے دانوں میں سے کوئی دانہ شامل نہ ہو، تو شاید یہی وہ دانہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ابْنُ الْعَذْرَاءِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَنْ لَبِسَ نَعْلًا صَفْرَاءَ لَمْ يَزَلْ فِي سُرُورٍ مَا دَامَ لَابِسَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو زرد رنگ کا جوتا پہنے وہ ہمیشہ خوشی میں رہتا ہے جب تک وہ اسے پہنے رہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، ثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ: كُنَّا فِي سَمَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِسِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ: إِنَّهُ لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ مَا كَانَ - يَعْنِي عُثْمَانَ - قُلْتُ لِعَلِيٍّ: اعْتَزِلْ؛ فَلَوْ كُنْتَ فِي جُحْرٍ طُلِبْتَ حَتَّى تُسْتَخْرَجَ، فَعَصَانِي، وَايْمُ اللهِ لَيَتَأَمَّرَنَّ عَلَيْكُمْ مُعَاوِيَةُ، وَذَلِكَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا} [الإسراء: ٣٣] ، وَلَتَحْمِلَنَّكُمْ قُرَيْشٌ عَلَى سُنَّةِ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَلَيَتَمَنَّنَ عَلَيْكُمُ النَّصَارَى وَالْيَهُودُ وَالْمَجُوسُ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ بِمَا يَعْرِفُ نَجَا، وَمَنْ تَرَكَ، وَأَنْتُمْ تَارِكُونَ، كُنْتُمْ كَقَرْنٍ مِنَ الْقُرُونِ فِيمَنْ هَلَكَ "
ترجمہ
زہدم جرمی کہتے ہیں: ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی شب گفتگو میں تھے، تو انہوں نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو نہ راز ہے نہ اعلانیہ: جب اس آدمی - یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ - کا معاملہ ہوا جو ہوا، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: الگ ہو جاؤ، اگر تم کسی بل میں بھی چھپو گے تو تمہیں ڈھونڈ کر نکالا جائے گا، لیکن انہوں نے میری بات نہ مانی۔ اللہ کی قسم! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تم پر ضرور حکمرانی کرے گا، اور یہ اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”اور جو مظلوم قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے، تو وہ قتل میں زیادتی نہ کرے، بے شک وہ مدد پایا ہوا ہے“ [سورۃ الاسراء: 33]۔ اور قریش تمہیں فارس اور روم کے طریقے پر چلائے گی، اور نصاریٰ، یہود اور مجوس تم پر اپنی برتری کے خواب دیکھیں گے، تو تم میں سے جو اس دن اپنی پہچان کے مطابق عمل کرے وہ نجات پائے گا، اور جو اسے چھوڑ دے، اور تم اسے چھوڑنے والے ہی ہو، تو تم بھی ہلاک ہونے والی نسلوں میں سے ایک نسل جیسے ہو جاؤ گے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَوَضَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَهُورًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَضَعَهُ؟» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَا، فَضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِي وَقَالَ: «اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”یہ کس نے رکھا؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میں نے۔ آپ ﷺ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما، اور اسے تاویل سکھا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنِ الْمُهَلَّبِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «رَأَيْتُ جِبْرِيلَ مَرَّتَيْنِ، وَدَعَا لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِكْمَةِ مَرَّتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں نے جبریل علیہ السلام کو دو بار دیکھا، اور رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے دو بار حکمت کی دعا فرمائی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: تَسْأَلُهُ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مَنْ حَيْثُ تَعْلَمُ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: ١] ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا إِلَى {كَانَ تَوَّابًا} [النساء: ١٦] ، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ساتھ رائے پوچھا کرتے تھے، تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس سے بھی پوچھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہیں سے ہے جو تم جانتے ہو۔ چنانچہ انہوں نے ان سے سورۃ ”اذا جاء نصر اللہ والفتح“ [سورۃ النصر: 1] کے بارے میں پوچھا، تو میں نے کہا: یہ تو نبی کریم ﷺ کی موت کا وقت بتانے والی سورت ہے، اور میں نے پوری سورت ”کان توابا“ [سورۃ النساء: 16] تک پڑھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَى مَعَنَا، وَلَنَا أَبْنَاءُ مِثْلُهُ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَدَعَاهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَعَانِي، وَمَا رَأَيْتُهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلَّا لِيُرِيَهُمْ مِنِّي، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا} [النصر: ٢] ، حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَمَرَنَا أَنْ نَحْمَدَ اللهَ وَنَسْتَغْفِرَهُ إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا نَدْرِي، وَلَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، كَذَلِكَ تَقُولُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَمَا تَقُولُ؟ قُلْتُ: هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَّمَهُ اللهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَكَّةَ، فَذَاكَ عَلَامَةُ أَجَلِكَ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے اہلِ بدر کے ساتھ مجلس میں داخل کیا کرتے تھے، تو ان میں سے کسی نے کہا: آپ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ کیوں داخل کرتے ہیں جبکہ ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے جن (کے مقام) کو تم جانتے ہو۔ ایک دن انہوں نے ان بزرگوں کو بلایا اور مجھے بھی بلایا، اور میں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے مجھے اس دن اس کے سوا کسی اور مقصد سے بلایا تھا کہ وہ انہیں میری صلاحیت دکھائیں۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہو: ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور تم دیکھو کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں“ [سورۃ النصر: 2]، یہاں تک کہ سورت مکمل کی۔ ان میں سے بعض نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا کہ جب ہماری مدد کی جائے اور ہم پر فتح دی جائے تو ہم اللہ کی حمد کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔ اور بعض نے کہا: ہمیں نہیں معلوم۔ اور بعض نے کچھ نہ کہا۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: تو تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: یہ رسول اللہ ﷺ کی موت کا وقت ہے، اللہ نے آپ ﷺ کو بتا دیا کہ جب اللہ کی مدد اور فتح، یعنی مکہ کی فتح، آ جائے تو یہ تمہاری موت کی علامت ہے، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم جانتے ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عِكْرِمَةَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَأَجْمَعُوا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُ لِعُمَرَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ وَإِنِّي لَأَظُنُّ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ؟ فَقُلْتُ: سَابِعَةٌ تَمْضِي، أَوْ سَابِعَةٌ تَبْقَى مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَمِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قُلْتُ: خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَسَبْعَ أَرَضِينَ وَسَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنَّ الشَّهْرَ يَدُورُ فِي سَبْعٍ، وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ سَبْعٍ، وَيَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ، وَيَسْجُدُ عَلَى سَبْعٍ، وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ سَبْعٌ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ سَبْعٌ "، لِأَشْيَاءَ ذَكَرَهَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ فَطِنْتَ لِأَمْرٍ مَا فطِنَّا لَهُ. وَكَانَ قَتَادَةُ يَزِيدُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: وَيَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ، قَالَ: هُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا} [عبس: ٢٨] الْآيَةَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا، تو سب کا اتفاق ہوا کہ یہ آخری عشرے میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: مجھے معلوم ہے، بلکہ مجھے گمان ہے کہ یہ کون سی رات ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون سی رات ہے؟ میں نے عرض کیا: آخری عشرے میں سے ساتویں رات جو گزر جائے، یا ساتویں رات جو باقی رہ جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے کہا: اللہ نے سات آسمان، سات زمینیں اور سات دن پیدا کیے، اور مہینہ سات کے حساب سے گھومتا ہے، انسان کو سات (چیزوں) سے پیدا کیا، وہ سات چیزوں سے کھاتا ہے، سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے، بیت اللہ کا طواف سات چکروں کا ہے، اور جمرات کی رمی سات کنکریوں کی ہے - ایسی کئی چیزوں کا ذکر کیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ایسی بات سمجھی جو ہم نہ سمجھ سکے۔ قتادہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول ”وہ سات چیزوں سے کھاتا ہے“ میں یہ اضافہ کرتے تھے: اس سے مراد اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ”پھر ہم نے اس میں اناج، انگور اور ترکاری اگائی“ [سورۃ عبس: 27-28] آیت۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مُجَالِدٌ، أنا عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِيَ الْعَبَّاسُ: أَيْ بُنَيْ، إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْعُوكَ وَيُقَرِّبُكَ وَيَسْتَشِيرُكَ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ: اتَّقِ لَا يُجَرِّبَنَّ عَلَيْكَ كَذِبَةً، وَلَا تُفْشِيَنَّ لَهُ سِرًّا، وَلَا تَغْتَابَنَّ عِنْدَهُ أَحَدًا. قَالَ عَامِرٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كُلُّ وَاحِدَةٍ خَيْرٌ مِنْ عَشَرَةِ آلَافٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: بیٹا! امیر المومنین تمہیں بلاتے ہیں، تمہیں قریب کرتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ساتھ تم سے مشورہ لیتے ہیں، تو میری تین باتیں یاد رکھو: خبردار! وہ تم پر کبھی کوئی جھوٹ نہ پکڑنے پائیں، کبھی ان کا راز فاش نہ کرنا، اور کبھی ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا۔ عامر (شعبی) کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ان میں سے ہر ایک بات دس ہزار سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ مِنَ الْقُرْآنِ بِمَنْزِلٍ، كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: «ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُولِ، إِنَّ لَهُ لِسَانًا سَئُولًا، وَقَلْبًا عَقُولًا، كَانَ يَقُومُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا - أَحْسَبُهُ قَالَ - عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَيَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ يُفَسِّرُهَا آيَةً آيَةً، وَكَانَ مِثَجَّةً نَجِدًا غَرْبًا»
ترجمہ
ابوبکر ہذلی کہتے ہیں: میں حسن (بصری) کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن میں ایک خاص مقام رکھتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”یہ بزرگوں جیسا نوجوان ہے، اس کی زبان سوال کرنے والی اور دل سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے۔“ وہ ہمارے اس منبر پر کھڑے ہو کر - غالباً عرفہ کی شام - سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھتے، پھر انہیں آیت آیت کی تفسیر کرتے، اور وہ علم کے بہتے چشمے، سرسبز اور زرخیز تھے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: شَتَمَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّكَ لَتَشْتُمُنِي وَفِيَّ ثَلَاثُ خِصَالٍ: إِنِّي لَآتِي عَلَى الْآيَةِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَوَدِدْتُ أَنَّ جَمِيعَ النَّاسِ يَعْلَمُونَ مِنْهَا مَا أَعْلَمُ مِنْهَا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْحَاكِمِ مِنْ حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ يَعْدِلُ فِي حُكْمِهِ فَأَفْرَحُ بِهِ، وَلِعَلِّي لَا أُقاضِي إِلَيْهِ أَبَدًا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْغَيْثِ قَدْ أَصَابَ الْبَلَدَ مِنْ بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ فَأَفْرَحُ، وَمَا لِي بِهِ مِنِ سَائِمَةٍ "
ترجمہ
ابن بریدہ اسلمی کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو گالی دی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ مجھ میں تین خصلتیں ہیں: میں کتاب اللہ کی کسی آیت پر گزرتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ تمام لوگ وہی جانیں جو میں اس سے جانتا ہوں۔ اور میں مسلمانوں کے حکمرانوں میں سے کسی حاکم کے بارے میں سنتا ہوں کہ وہ اپنے فیصلے میں عدل کرتا ہے تو خوش ہو جاتا ہوں، اگرچہ شاید میں کبھی اس کے پاس مقدمہ لے کر نہ جاؤں۔ اور میں سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے کسی شہر میں بارش برسی تو خوش ہو جاتا ہوں، حالانکہ میرا وہاں کوئی چوپایہ بھی نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمَّا كُفَّ بَصَرُهُ يَقُولُ لِقَائِدِهِ: إِذَا أَدْخَلْتَنِي إِلَى مُعَاوِيَةَ فَسَدِّدْنِي لِفِرَاشِهِ، ثُمَّ أَرْسِلْ يَدِي لَا يَشْمَتُ بِي مُعَاوِيَةُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ يَوْمًا، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ: لَيَغْتَمَّنَّ، فَلَمَّا جَلَسَ مَعَهُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، آجَرَكَ اللهُ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: أَمَاتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «رَحْمَةُ اللهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ، وَأَلْحَقَهُ بِصَالِحِ سَلَفِهِ، أَمَا وَاللهِ يَا مُعَاوِيَةُ، لَا يَسُدُّ حُفْرَتَكَ، وَلَا تَأْكُلُ رِزْقَهُ، وَلَا تُخَلَّدُ بَعْدَهُ، وَلَقَدْ رُزِئْنَا بِأَعْظَمَ فَقْدًا مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا خَذَلَنَا اللهُ بَعْدَهُ»
ترجمہ
میمون کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی جاتی رہی تو وہ اپنا ہاتھ پکڑ کر لے جانے والے سے کہتے: جب تم مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ تو مجھے ان کے بچھونے کی سیدھ میں کر دینا، پھر میرا ہاتھ چھوڑ دینا، تاکہ معاویہ مجھ پر ہنسی نہ اڑائیں۔ ایک دن اس نے ایسا ہی کیا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی ہم نشین سے کہا: یہ ضرور غمگین ہوں گے۔ جب وہ ان کے ساتھ ان کے بچھونے پر بیٹھ گئے تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس! اللہ تمہیں حسن بن علی (رضی اللہ عنہما کی وفات) پر اجر دے۔ انہوں نے پوچھا: کیا وہ فوت ہو گئے؟ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”ان پر اللہ کی رحمت اور رضامندی ہو، اور اللہ انہیں ان کے نیک اسلاف کے ساتھ ملا دے۔ سن لو، اللہ کی قسم! اے معاویہ! ان کی موت تمہاری قبر کو نہیں بھرے گی، نہ تم ان کا رزق کھاؤ گے، اور نہ ان کے بعد ہمیشہ رہو گے۔ اور ہمیں ان سے بھی بڑی جدائی کا صدمہ رسول اللہ ﷺ (کی وفات) سے پہنچا، تو اللہ نے آپ ﷺ کے بعد بھی ہمیں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔“