المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ قَالَ: " لَمَّا بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ، قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لِأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ. فَانْتَهَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ. فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُزَيْرًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ بَعْدَمَا كَانَ قَدْ رَفَعَهَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، حَتَّى قَالَ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ ابْنُ اللهِ، قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لِأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ. فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: اللهُمَّ أَنْتَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللهُ: إليه: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ. فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُرَّ صُرَّةً مِنَ الشَّمْسِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِمِكْيَالٍ مِنْ رِيحٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِمِثْقَالٍ مِنْ نُورٍ؟ قَالَ: لَا، أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِقِيرَاطٍ مِنْ نُورٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَكَذَا لَا تَقْدِرُ عَلَى الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ، أَمَا إِنِّي لَا أَجْعَلُ عُقُوبَتَكَ إِلَّا أَنْ أُمْحِيَ اسْمَكَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَا تُذْكَرُ فِيهِمْ، فَمَحَا اسْمَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَلَيْسَ يُذْكَرُ فِيهِمْ وَهُوَ نَبِيٌّ، فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَرَأَى مَنْزِلَتَهُ مِنْ رَبِّهِ، وَعَلَّمَهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، وَيُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، وَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا يَأْكُلُونَ وَمَا يَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِهِمْ، قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتُ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ، وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ، وَأَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، وَكَلِمَتِي أَلْقَيْتُكَ إِلَى مَرْيَمَ، وَرَوْحٌ مِنِّي خَلَقْتُكَ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ قُلْتُ لَكَ: كُنْ فَكُنْتَ، لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ كَمَا فَعَلْتُ بِصَاحِبِكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ، وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَجَمَعَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ تَبِعَتَهُ فَقَالَ: الْقَدَرُ سِرُّ اللهِ؛ فَلَا تَكَلَّفُوهُ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا اور ان پر تورات نازل کی تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ تیری اطاعت کی جائے تو ضرور اطاعت کی جاتی، اور اگر تو چاہتا کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے تو ہرگز نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور اس کے باوجود تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے ہے، اے رب؟ تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ (بندے) پوچھے جاتے ہیں۔ تو موسیٰ علیہ السلام باز آ گئے۔ پھر جب اللہ عزوجل نے عزیر علیہ السلام کو مبعوث کیا اور ان پر تورات نازل کی، اس کے بعد کہ وہ بنی اسرائیل سے اٹھا لی گئی تھی، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یہ تک کہہ دیا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ تیری اطاعت کی جائے تو ضرور اطاعت کی جاتی، اور اگر تو چاہتا کہ تیری نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور اس کے باوجود تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے، اے رب؟ اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ لیکن ان کا نفس نہ مانا اور انہوں نے پھر سوال کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے، اے رب؟ اللہ نے وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ پھر بھی ان کا نفس نہ مانا اور انہوں نے پھر سوال کیا، تو اللہ نے فرمایا: کیا تو سورج کی روشنی کو مٹھی میں باندھ سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: کیا تو ہوا کو ایک پیمانے میں لا سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: کیا تو نور کا ایک مثقال لا سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ کیا تو نور کا ایک قیراط لا سکتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: تو اسی طرح تجھے اس چیز پر بھی قدرت نہیں جس کے بارے میں تو نے پوچھا، میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ سن لو! میں تیری سزا یہی مقرر کرتا ہوں کہ تیرا نام انبیاء کی فہرست سے مٹا دوں گا، تو تیرا ذکر ان میں نہیں ہوگا۔ چنانچہ اللہ نے ان کا نام انبیاء کی فہرست سے مٹا دیا، اور وہ نبی ہوتے ہوئے بھی ان کے ساتھ ذکر نہیں کیے جاتے۔ پھر جب اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا، اور انہوں نے اپنے رب کے ہاں اپنا مقام دیکھا، اور اللہ نے انہیں کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھائی، اور وہ مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتے، مردوں کو زندہ کرتے، اور لوگوں کو بتا دیتے کہ وہ کیا کھاتے ہیں اور اپنے گھروں میں کیا جمع کرتے ہیں، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! تو بہت بڑا رب ہے، اگر تو چاہتا کہ تیری اطاعت کی جائے تو ضرور اطاعت کی جاتی، اور اگر تو چاہتا کہ نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہ ہوتی، حالانکہ تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے، اور تیری نافرمانی کی جاتی ہے، تو یہ کیسے، اے رب؟ اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی: میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں، اور تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے، اور میرا وہ کلمہ ہے جو میں نے مریم کی طرف القا کیا، اور میری طرف سے ایک روح ہے، میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر کہا: ہو جا، تو تو ہو گیا۔ اگر تو باز نہ آیا تو میں تیرے ساتھ بھی وہی کروں گا جو میں نے تجھ سے پہلے تیرے ساتھی (عزیر) کے ساتھ کیا، میں اپنے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، بلکہ وہ پوچھے جاتے ہیں۔ تو عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو جمع کیا اور فرمایا: تقدیر اللہ کا راز ہے، تم اس کی تکلیف نہ اٹھاؤ۔“