المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حدیث نمبر: 10550
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: خَاصَمَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: تَجِدُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي كِتَابِ اللهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ {فَسُبْحَانَ اللهِ حِينَ تُمْسُونَ} [الروم: ١٧] الْمَغْرِبَ، {وَحِينَ تُصْبِحُونَ} [الروم: ١٧] الصُّبْحَ، {وَعَشِيًّا} [مريم: ١١] الْعَصْرَ، {وَحِينَ تُظْهِرُونَ} [الروم: ١٨] ، قَالَ: الظُّهْرَ، {وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ} [النور: ٥٨] قَالَ: صَلَاةَ الْعِشَاءِترجمہ
ابورزین کہتے ہیں: نافع بن ازرق نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحث کی اور پوچھا: کیا تم پانچ نمازیں اللہ کی کتاب میں پاتے ہو؟ فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”پس اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام کرو“ [سورۃ الروم: 17] - یہ مغرب ہے - ”اور جب تم صبح کرو“ [سورۃ الروم: 17] - یہ فجر ہے - ”اور شام کے وقت“ [سورۃ مریم: 11] - یہ عصر ہے - ”اور جب تم ظہر کے وقت میں ہو“ [سورۃ الروم: 18] - فرمایا: یہ ظہر ہے - ”اور نمازِ عشاء کے بعد“ [سورۃ النور: 58] - فرمایا: یہ نمازِ عشاء ہے۔