المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى الْخَلَّالُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دَاحَةَ، ثنا أَبُو خِدَاشٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ التَّمِيمِيِّ، ثنا أَبَانُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: كَتَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَيْعَةِ، فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ، فَظَنَّ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ إِنَّمَا امْتَنَعَ عَلَيْهِ لِمَكَانِهِ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الْمُلْحِدَ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَعَاكَ إِلَى بَيْعَتِهِ ليُدْخِلَكَ فِي طَاعَتِهِ، فَتَكُونَ عَلَى الْبَاطِلِ ظَهِيرًا، وَفِي الْمَأْثَمِ شَرِيكًا، فَامْتَنَعْتَ عَلَيْهِ وَانْقَبَضْتَ؛ لِمَا عَرَّفَكَ اللهُ مِنْ نَفْسِكَ فِي حَقِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَجَزَاكَ اللهُ أَفْضَلَ مَا يَجْزِي الْوَاصِلِينَ مِنْ أَرْحَامِهِمُ، الْمُوفِينَ بِعُهُودِهِمْ، فَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى بِرَّكَ وَصِلَتَكَ، وَحُسْنَ جائِزَتِكَ، بِالَّذِي أَنْتَ أَهْلُهُ مِنَّا فِي الطَّاعَةِ وَالشَّرَفِ وَالْقَرَابَةِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْظُرْ مَنْ قِبَلَكَ مِنْ قَوْمِكَ، وَمَنْ يَطْرَأُ عَلَيْكَ مِنْ أَهْلِ الْآفَاقِ مِمَّنْ يَسْحَرُهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِلِسَانِهِ، وَزُخْرُفِ قَوْلِهِ، فَخَذِّلْهُمْ عَنْهُ؛ فَإِنَّهُمْ لَكَ أَطْوَعُ، وَمِنْكَ أَسْمَعُ مِنْهُمْ للمُلْحِدِ الْخَارِبِ الْمَارِقِ، وَالسَّلَامُ. فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ تَذْكُرُ دُعَاءَ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِيَّايَ الَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ، وَأَنِّي امْتَنَعْتُ مَعْرِفَةً لِحَقِّكَ، فَإِنْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَسْتُ بِرَّكَ أَغْزُو بِذَلِكَ، وَلَكِنَّ اللهَ بِمَا أَنْوِي بِهِ عَلِيمٌ، وَكَتَبْتَ إِلَيَّ أَنْ أَحُثَّ النَّاسَ عَلَيْكَ، وَأُخَذِّلَهُمْ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَلَا سُرُورًا وَلَا حُبُورًا بِفِيكَ الْكِثْكِثُ، وَلَكَ الْأَثْلَبُ، إِنَّكَ لِعَازِبٌ إِنْ مَنَّتْكَ نَفْسُكَ، وَإِنَّكَ لَأَنْتَ الْمَنْفُودُ الْمَثْبُورُ، وَكَتَبْتَ إِلَيَّ تَذْكُرُ تَعْجِيلَ بِرِّي وَصِلَتِي، فَاحْبِسْ أَيُّهَا الْإِنْسَانُ عَنِّي بِرَّكَ وَصِلَتَكَ، فَإِنِّي حَابِسٌ عَنْكَ وُدِّي وَنُصْرَتِي، وَلَعَمْرِي مَا تُعْطِينَا مِمَّا فِي يَدَيْكَ لَنَا إِلَّا الْقَلِيلَ، وَتَحْبِسُ مِنْهُ الْعَرِيضَ الطَّوِيلَ، لَا أَبَا لَكَ أَتُرَانِي أَنْسَى قَتْلَكَ حُسَيْنًا وَفِتْيانَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، مَصَابِيحَ الدُّجَى، وَنُجُومَ الْأَعْلَامِ، غَادَرَتْهُمْ جُنُودُكَ بِأَمْرِكَ فَأَصْبَحُوا مُصَرِّعِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، مُزَمَّلِينَ فِي الدِّمَاءِ، مَسْلُوبِينَ بِالْعَرَاءِ، لَا مُكَفَّنِينَ، وَلَا مُوسَّدِينَ، تَسْفِيهِمُ الرِّيَاحُ، وَتَغْزُوهُمُ الذِّئَابُ، وَتَنْتَابُهُمْ عُرُجُ الضِّباعِ، حَتَّى أَتَاحَ اللهُ لَهُمْ قَوْمًا لَمْ يُشْرِكُوا فِي دِمَائِهِمْ، فَكَفَّنُوهُمْ وَأَجَنُّوهُمْ، وَبِهِمْ وَاللهِ وَبِي مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ فَجَلَسْتَ فِي مَجْلِسِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْلِيطَكَ عَلَيْهِمُ الدَّعِيَ بْنَ الدَّعِيِّ لِلْعَاهِرَةِ الْفَاجِرَةِ، الْبَعِيدَ رَحِمًا، اللَّئِيمَ أَبًا وَأُمًّا، وَالَّذِي اكْتَسَبَ أَبُوكَ فِي ادِّعَائِهِ لِنَفْسِهِ الْعَارَ وَالْمَأْثَمَ وَالْمَذَّلَةَ وَالْخِزْيَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ، وَإِنَّ أَبَاكَ زَعَمَ أَنَّ الْوَلَدَ لِغَيْرِ الْفِرَاشِ، وَلَا يَضُرُّ الْعَاهِرَ، وَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهُ كَمَا يَلْحَقُ وَلَدُ الْبَغِيِّ الْمُرْشِدَ، وَلَقَدْ أَمَاتَ أَبُوكَ السُّنَّةَ جَهْلًا، وَأَحْيَى الْأَحْدَاثَ الْمُضِلَّةَ عَمْدًا، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْيِيرَكَ حُسَيْنًا مِنْ حَرَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَرَمِ اللهِ، وَتَسْيِيرَكَ إِلَيْهِمُ الرِّجَالَ، وَإِدْسَاسَكَ إِلَيْهِمْ، إِنْ هُوَ نَذَرَ بِكُمْ فَعَاجِلُوهُ، فَمَا زِلْتَ بِذَلِكَ حَتَّى أَشْخَصْتَهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ الْكُوفَةِ، تَزْأَرُ إِلَيْهِ خَيْلُكَ وَجُنُودُكَ زَئِيرَ الْأُسْدِ عَدَاوَةً مِنْكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَى ابْنِ مَرْجَانَةَ يَسْتَقْبِلُهُ بِالْخَيْلِ وَالرِّجَالِ وَالْأَسِنَّةِ وَالسُّيُوفِ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَيْهِ بُمُعَاجَلَتِهِ، وَتَرْكِ مُطَاوَلَتِهِ، حَتَّى قَتَلْتَهُ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ فِتْيَانِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرْهُمْ تَطْهِيرًا، نَحْنُ أُولَئِكَ لَا كَآبَائِكَ الْأَجْلَافِ الْجُفَاةِ أَكْبَادِ الْحَمِيرِ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ كَانَ أَعَزَّ أَهْلِ الْبَطْحَاءِ بِالْبَطْحَاءِ قَدِيمًا، وَأَعَزَّهُ بِهَا حَدِيثًا، لَوَّثُوا بِالْحَرَمَيْنِ مَقَامًا، وَاسْتَحَلَّ بِهَا قِتَالًا، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُسْتَحَلُّ بِهِ حَرَمُ اللهِ، وَحَرَمُ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحُرْمَةُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، فَطَلَبَ إِلَيْكُمُ الْحُسَيْنُ الْمُوَادَعَةَ، وَسَأَلَكُمُ الرَّجْعَةَ، فَاغْتَنَمْتُمْ قِلَّةَ نُصَّارِهِ، وَاسْتئِصَالَ أَهْلِ بَيْتِهِ، كَأَنَّكُمْ تَقْتُلُونَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ التُّرْكِ، أَوْ كَابُلَ، فَكَيْفَ تَحْدُونِي عَلَى وُدِّكَ، وَتَطْلُبُ نُصْرَتِي، وَقَدْ قَتَلْتَ بَنِي أَبِي، وَسَيْفُكَ يَقْطُرُ مِنْ دَمِي، وَأَنْتَ آخِذُ ثَأْرِي؟ فَإِنْ يَشَأِ اللهُ لَا يَطُلْ لَدَيْكَ دَمِي، وَلَا تَسْبِقْنِي بِثَأْرِي، وَإِنْ تَسْبِقْنَا بِهِ فَقَبِلْنَا مَا قَبِلَتِ النَّبِيُّونَ وَآلُ النَّبِيِّينَ، فظَلَّتْ دِمَاؤُهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَكَانَ الْمَوْعِدُ اللهَ، فَكَفَى بِاللهِ لِلْمَظْلُومِينَ ناصِرًا، وَمِنَ الظَّالِمِينَ مُنْتَقِمًا، وَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ، وَمَا عِشْتَ بِرَبِّكَ الدَّهْرَ الْعَجَبُ، حَمْلُكَ بَنَاتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَحَمْلُكَ أَبْنَاءَهُمْ أُغَيْلِمَةً صِغَارًا إِلَيْكَ بِالشَّامِ، تُرِي النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ قَهَرْتَنَا، وَأَنَّكَ تُذِلُّنَا، وَبِهِمْ وَاللهِ وَبِي مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ وَأُمِّكَ مِنَ النِّسَاءِ، وَايْمُ اللهِ، إِنَّكَ لَتُمْسِي وَتُصْبِحُ آمِنًا لجِرَاحِ يَدِي، وَلَيَعْظُمَنَّ جُرْحُكَ بِلِسَانِي وَنَقْضِي وَإِبْرَامِي، فَلَا يَسْتَفِزَّنَّكَ الْجَدَلُ، فَلَنْ يُمْهِلَكَ اللهُ بَعْدَ قَتْلِكَ عِتْرَةَ رَسُولِهِ إِلَّا قَلِيلًا، حَتَّى يَأْخُذَكَ أَخْذًا أَلِيمًا، وَيُخْرِجَكَ مِنَ الدُّنْيَا آثِمًا مَذْمُومًا، فَعِشْ لَا أَبَا لَكَ مَا شِئْتَ، فَقَدْ أَرْدَاكَ عِنْدَ اللهِ مَا اقْتَرَفْتَ. فَلَمَّا قَرَأَ يَزِيدُ الرِّسَالَةَ قَالَ: لَقَدْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُضِيًّا عَلَى الشَّرِّ”… کمینے، باپ اور ماں کے اعتبار سے، اور تیرے باپ نے اپنی طرف (اس نسب کے) دعوے میں جو عار، گناہ، ذلت اور رسوائی دنیا و آخرت میں کمائی، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”بچہ بستر (یعنی نکاح) والے کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر (محرومی) ہے۔“ جبکہ تیرے باپ نے دعویٰ کیا کہ بچہ غیر بستر (زنا) کا بھی ہو سکتا ہے، اور یہ زانی کو نقصان نہیں پہنچاتا، اور اس کی اولاد اس سے اسی طرح جا ملتی ہے جیسے زانیہ کی اولاد صحیح النسب سے جا ملتی ہے۔ تیرے باپ نے جہالت سے سنت کو مار ڈالا، اور جان بوجھ کر گمراہ کن بدعتوں کو زندہ کیا۔ اور میں کچھ بھی بھول جاؤں تو یہ نہیں بھولوں گا کہ تو نے حسین کو رسول اللہ ﷺ کے حرم سے اللہ کے حرم کی طرف نکلنے پر مجبور کیا، اور ان کی طرف آدمی بھیجے، اور خفیہ ایجنٹ لگائے کہ اگر وہ تمہاری خبر لے آئیں تو اس پر فوراً کارروائی کرو۔ تو تو اسی پر لگا رہا یہاں تک کہ اسے مکہ سے کوفہ کی سرزمین کی طرف نکال دیا، تیرے گھوڑے اور فوجیں شیروں کی طرح اس کی طرف دھاڑتی رہیں، اللہ، اس کے رسول اور اس کے اہلِ بیت سے دشمنی کی وجہ سے۔ پھر تو نے ابن مرجانہ کو لکھا کہ وہ گھوڑوں، آدمیوں، نیزوں اور تلواروں کے ساتھ اس کا استقبال کرے، پھر تو نے اسے لکھا کہ جلدی کرے اور دیر نہ کرے، یہاں تک کہ تو نے اسے اور اس کے ساتھ موجود بنو عبدالمطلب کے نوجوانوں کو قتل کروا دیا، وہ اہلِ بیت جن سے اللہ نے ناپاکی دور کی اور انہیں خوب پاک کیا۔ ہم وہی ہیں، تیرے کھردرے، جاہل، گدھوں جیسے دل رکھنے والے آباء جیسے نہیں۔ اور تجھے معلوم تھا کہ وہ بطحاء (مکہ) والوں میں قدیم زمانے میں بھی سب سے معزز تھا، اور آج بھی سب سے معزز ہے، حرمین میں تم نے قیام کو آلودہ کیا اور وہاں لڑائی کو حلال سمجھا، لیکن اس (حسین) نے یہ ناپسند کیا کہ وہی ہو جس کے ذریعے اللہ کا حرم، اس کے رسول ﷺ کا حرم، اور بیت الحرام کی حرمت پامال ہو، تو حسین نے تم سے صلح چاہی اور واپسی کی درخواست کی، مگر تم نے اس کے مددگاروں کی قلت اور اس کے اہلِ بیت کے مکمل خاتمے کا موقع غنیمت جانا، گویا تم ترک یا کابل کے کسی گھرانے کو قتل کر رہے ہو۔ تو پھر تو مجھ سے دوستی کا مطالبہ کیسے کر رہا ہے، اور میری مدد کیوں چاہتا ہے، جبکہ تو نے میرے چچا زاد بھائیوں کو قتل کیا، اور تیری تلوار میرے خون سے ٹپک رہی ہے، اور تو ہی میرا خون بہانے والا ہے؟ اگر اللہ چاہے تو میرا خون تیرے ذمے رائیگاں نہیں جائے گا، اور نہ تو میرے بدلے سے آگے نکل سکے گا، اور اگر تو ہم سے آگے نکل بھی جائے تو ہم وہی قبول کریں گے جو نبیوں اور آلِ انبیاء نے قبول کیا، ان کے خون دنیا میں رہ گئے مگر وعدہ اللہ کے ذمے رہا، اور مظلوموں کے لیے اللہ ہی مددگار کافی ہے، اور ظالموں سے انتقام لینے والا بھی وہی ہے۔ اور سب سے زیادہ تعجب کی بات، اور تیرے رب کی قسم زمانے میں سب سے عجیب بات، یہ ہے کہ تو نے بنو عبدالمطلب کی بیٹیوں کو، اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو، اپنے پاس شام کی طرف اٹھوا کر لے گیا، تاکہ لوگوں کو دکھائے کہ تو نے ہمیں مغلوب کر لیا ہے اور ہمیں ذلیل کرتا ہے، حالانکہ اللہ کی قسم! انہی کے ذریعے، اور میرے ذریعے، اللہ نے تجھ پر، تیرے باپ پر اور تیری ماں پر عورتوں کی طرف سے احسان کیا ہے۔ اور اللہ کی قسم! تو میرے ہاتھ کے زخم سے تو محفوظ رات دن گزارے گا، لیکن میری زبان سے، اور میری بات بنانے بگاڑنے سے، تیرا زخم ضرور بڑا ہوگا، تو بحث تجھے بے قابو نہ کرے، اللہ تجھے رسول اللہ ﷺ کی عترت قتل کرنے کے بعد بس تھوڑی ہی مہلت دے گا، یہاں تک کہ وہ تجھے دردناک انداز میں پکڑ لے گا، اور تجھے گناہ گار اور مذموم حالت میں دنیا سے نکالے گا۔ تو جیتا رہ، تیرا کوئی باپ نہ ہو، جتنا چاہے، تو نے جو کچھ کیا اس نے اللہ کے ہاں تجھے تباہ کر دیا ہے۔“ جب یزید نے یہ خط پڑھا تو کہا: ابن عباس ہمیشہ سے برائی میں پکا رہا ہے۔