المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ إِمْلَاءً فِي كِتَابِهِ سَنَةَ مِائَتَيْنِ وَعِشْرِينَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَعِيدٌ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْقُرْآنِ أَشْيَاءَ تَخْتَلِفُ عَلَيَّ، فَقَدْ وَقَعَ فِي صَدْرِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «تَكْذِيبٌ؟» فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا هُوَ بِتَكْذِيبٍ، وَلَكِنِ اخْتِلَافٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَهَلُمَّ مَا وَقَعَ فِي نَفْسِكَ» ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَسْمَعُ اللهَ يَقُولُ {فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ} [المؤمنون: ١٠١] ، وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى {وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ} [الصافات: ٢٧] ، وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى {لَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: ٤٢] ، وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى {وَاللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: ٢٣] ، فَقَدْ كَتَمُوا فِي هَذِهِ الْآيَةِ، وَفِي قَوْلِهِ {السَّمَاءِ بَنَاهَا، رَفَعَ سَمْكَهَا فسَوَّاهَا، وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا، وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا} [النازعات: ٢٨] فَذَكَرَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ قَبْلَ خَلْقِ الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْأُخْرَى {أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ} [فصلت: ٩] ، فَذَكَرَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ خَلْقَ الْأَرْضِ قَبْلَ خَلْقِ السَّمَاءِ، {وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٩٦] ، {وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} [النساء: ١٥٨] ، {وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: ١٣٤] ، فَكَأَنَّهُ كَانَ ثُمَّ مَضَى، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «هَاتِ مَا فِي نَفْسِكَ» ، قَالَ السَّائِلُ إِذَا أَنْبَأْتَنِي بِهَذَا فَحَسْبِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَوْلُهُ {فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ} [المؤمنون: ١٠١] ، فَهَذَا فِي النَّفْخَةِ الْأُولَى، يُنْفَخُ فِي الصُّوَرِ، فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ، فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ، ثُمَّ إِذَا كَانَ فِي النَّفْخَةِ الْأُخْرَى قَامُوا {فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ} [الصافات: ٥٠] ، فَأَمَّا قَوْلُهُ {وَاللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: ٢٣] وَقَوْلُهُ {وَلَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: ٤٢] ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ الْإِخْلَاصِ ذُنُوبَهُمْ، وَلَا يَتَعَاظَمُ عَلَيْهِ ذَنْبٌ أَنْ يَغْفِرَهُ، وَلَا يَغْفِرُ شِرْكًا، فَلَمَّا رَأَى الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ قَالُوا: إِنَّ رَبَّنَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ، وَلَا يَغْفِرُ الشِّرْكَ، فَقَالُوا: نَقُولُ: إِنَّمَا كُنَّا أَهْلَ ذُنُوبٍ، وَلَمْ نَكُنْ مُشْرِكِينَ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلِّ: أَمَّا إِذْ كَتَمْتُمُ الشِّرْكَ فاخْتِمُوا عَلَى أَفْوَاهِهِمْ، فَخُتِمَ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ فَتَنْطِقُ أَيْدِيهِمْ، وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ عَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَنَّ اللهَ لَا يُكْتَمُ حَدِيثًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ {يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: ٤٢] ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {السَّمَاءُ بَنَاهَا رَفَعَ سَمْكَهَا فسَوَّاهَا، وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا، وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا} [النازعات: ٢٧] ، فَإِنَّهُ خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ قَبْلَ خَلْقِ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ فدَحَاهَا، وَدَحَاهَا أَنْ أَخْرَجَ فِيهَا الْمَاءَ وَالْمَرْعَى، وَشَقَّ فِيهَا الْأَنْهَارَ، فَجَعَلَ فِيهَا السُّبُلَ، وَخَلَقَ الْجِبَالَ وَالرِّمالَ وَالْآكَامَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا} [النازعات: ٣٠] ، وَقَوْلُهُ {أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ} [فصلت: ٩] ، فَجُعِلَتِ الْأَرْضُ وَمَا فِيهَا مِنْ شَيْءٍ فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ، وَجُعِلَتِ السَّمَاوَاتُ فِي يَوْمَيْنِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٩٦] ، {وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} [النساء: ١٥٨] ، {وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: ١٣٤] ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى نَفْسَهُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَلْهُ غَيْرَهُ، وَكَانَ اللهُ أَيْ لَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: «احْفَظْ عَنِّي مَا حَدَّثْتُكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا اخْتَلَفَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ أَشْيَاءُ مَا حَدَّثْتُكَ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ شَيْئًا إِلَّا قَدْ أَصَابَ بِهِ الَّذِي أَرَادَ، وَلَكِنَّ النَّاسَ لَا يَعْلَمُونَ، فَلَا يَخْتَلِفَنَّ عَلَيْكَ؛ فَإِنَّ كُلًّا مِنْ عِنْدِ اللهِ»سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابن عباس! مجھے قرآن میں کچھ ایسی چیزیں ملتی ہیں جو میرے نزدیک ایک دوسرے سے متضاد معلوم ہوتی ہیں، یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا (تمہیں) تکذیب کا شبہ ہے؟“ اس آدمی نے کہا: یہ تکذیب نہیں بلکہ اختلاف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو جو کچھ تمہارے دل میں ہے وہ لاؤ۔“ اس آدمی نے کہا: میں اللہ کو یہ فرماتے سنتا ہوں: ”تو اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہوگی اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے“ [سورۃ المؤمنون: 101]، اور ایک اور آیت میں فرمایا: ”اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے“ [سورۃ الصافات: 27]، اور ایک اور آیت میں فرمایا: ”وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے“ [سورۃ النساء: 42]، اور ایک اور آیت میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے ہمارے رب، ہم مشرک نہ تھے“ [سورۃ الانعام: 23]، تو اس آیت میں انہوں نے چھپایا۔ اور اس کے فرمان میں: ”آسمان کو اس نے بنایا، اس کی چھت بلند کی، پھر اسے برابر کیا، اور اس کی رات کو تاریک کیا اور اس کی روشنی نکالی، اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا“ [سورۃ النازعات: 27-30] میں آسمانوں کی تخلیق زمین کی تخلیق سے پہلے بیان کی گئی، پھر ایک اور آیت میں فرمایا: ”کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا، اور اس کے لیے ہمسر ٹھہراتے ہو؟ وہی تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور اس نے اس میں اوپر سے پہاڑ رکھے، اور اس میں برکت رکھی، اور اس میں اس کی غذائیں چار دن میں مقرر کیں، پوچھنے والوں کے لیے برابر برابر۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو دھواں تھا، تو اس سے اور زمین سے فرمایا: خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے آتے ہیں“ [سورۃ فصلت: 9-11]، تو اس آیت میں زمین کی تخلیق آسمان کی تخلیق سے پہلے بیان کی گئی۔ اور ”اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے“ [سورۃ النساء: 96]، ”اور اللہ زبردست حکمت والا ہے“ [سورۃ النساء: 158]، ”اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے“ [سورۃ النساء: 134]، تو گویا وہ (پہلے) تھا پھر گزر گیا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اپنے دل کی بات لاؤ۔“ سائل نے کہا: اگر آپ نے مجھے اس کا جواب دے دیا تو میرے لیے کافی ہے۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس کا فرمان: تو اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہوگی اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے [سورۃ المؤمنون: 101]، یہ پہلے نفخے کے وقت کا ہے، جب صور میں پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہوگا بیہوش ہو جائے گا سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، اس وقت نہ ان کے درمیان رشتہ داری ہوگی اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ پھر جب دوسرا نفخہ ہوگا تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے [سورۃ الصافات: 50]۔ رہا اس کا فرمان: اللہ کی قسم! اے ہمارے رب، ہم مشرک نہ تھے [سورۃ الانعام: 23] اور اس کا فرمان: اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے [سورۃ النساء: 42]، تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا، اور اس پر کوئی گناہ بخشنا بھاری نہیں، مگر وہ شرک نہیں بخشے گا۔ جب مشرکین نے یہ دیکھا تو کہا: ہمارا رب گناہ بخشتا ہے مگر شرک نہیں بخشتا، تو انہوں نے کہا: ہم کہیں گے کہ ہم تو گناہ گار تھے، مشرک نہیں تھے۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: چونکہ تم نے شرک چھپا لیا، تو ان کے منہ پر مہر لگا دو، چنانچہ ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، تو ان کے ہاتھ بولیں گے، اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کماتے رہے، اسی وقت مشرکین کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی، اسی وقت: اس دن جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی، وہ آرزو کریں گے کاش زمین ان پر برابر کر دی جاتی، اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے [سورۃ النساء: 42]۔ اور رہا اس کا فرمان: آسمان کو اس نے بنایا... اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا [سورۃ النازعات: 27-30]، تو اس نے زمین کو آسمان کی تخلیق سے پہلے دو دن میں پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور اسے مزید دو دن میں درست کیا، پھر زمین کی طرف اترا اور اسے بچھا دیا، اور اسے بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں پانی اور چراگاہ نکالی، اس میں نہریں جاری کیں، اس میں راستے بنائے، اور پہاڑ، ریت اور ٹیلے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ مزید دو دن میں پیدا کیا، یہی اس کا فرمان ہے: اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا [سورۃ النازعات: 30]۔ اور اس کا فرمان: کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا... [سورۃ فصلت: 9-11] تو زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ چار دن میں بنایا گیا، اور آسمان دو دن میں بنائے گئے۔ اور رہا اس کا فرمان: اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے، اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے، تو اللہ عزوجل نے خود کو یہ نام دیے ہیں، اور یہ نام کسی اور کو نہیں دیے، اور ”کان اللہ“ کا مطلب ہے: وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔“ پھر آپ نے اس آدمی سے فرمایا: ”جو میں نے تمہیں بتایا ہے اسے یاد رکھو، اور جان لو کہ قرآن میں جو چیزیں تمہیں متضاد معلوم ہوئیں وہ وہی باتیں ہیں جو میں نے تمہیں بتائیں، بے شک اللہ عزوجل نے جو کچھ نازل کیا وہ اسی مقصد کو پورا کرتا ہے جو اس نے چاہا، لیکن لوگ نہیں جانتے، تو تمہیں (قرآن) متضاد معلوم نہ ہو، کیونکہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“