حدیث نمبر: 10559
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْقَدَرِ فَوَجَأْتُ رَأْسَهُ، قَالُوا: وَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: لِأَنَّ اللهَ خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ، دَفَّتَاهُ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ، قَلَمُهُ نُورٌ، وَكِتَابُهُ نُورٌ، وَعَرْضُهُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، يَنْظُرُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سِتِّينَ وَثَلَاثَمِائَةِ نَظْرَةٍ، يَخْلُقُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ، وَيُحْيِي وَيُعِزُّ وَيُذِلُّ وَيَفْعَلُ مَا يَشَاءُ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری خواہش ہے کہ میرے پاس تقدیر کے منکروں میں سے کوئی آدمی ہو تو میں اس کے سر پر گھونسا ماروں۔ لوگوں نے پوچھا: ایسا کیوں؟ فرمایا: کیونکہ اللہ نے سفید موتی سے ایک محفوظ لوح پیدا کی ہے، جس کے دونوں کنارے سرخ یاقوت کے ہیں، اس کا قلم نور ہے، اور اس کی تحریر نور ہے، اور اس کی چوڑائی آسمان اور زمین کے درمیان جتنی ہے، اللہ اس میں ہر دن تین سو ساٹھ بار نظر ڈالتا ہے، ہر نظر میں پیدا کرتا ہے، زندہ کرتا ہے، عزت دیتا ہے، ذلیل کرتا ہے، اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10559
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 260، حدیث 10605