المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عِكْرِمَةَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَأَجْمَعُوا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُ لِعُمَرَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ وَإِنِّي لَأَظُنُّ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ؟ فَقُلْتُ: سَابِعَةٌ تَمْضِي، أَوْ سَابِعَةٌ تَبْقَى مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَمِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قُلْتُ: خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَسَبْعَ أَرَضِينَ وَسَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنَّ الشَّهْرَ يَدُورُ فِي سَبْعٍ، وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ سَبْعٍ، وَيَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ، وَيَسْجُدُ عَلَى سَبْعٍ، وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ سَبْعٌ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ سَبْعٌ "، لِأَشْيَاءَ ذَكَرَهَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ فَطِنْتَ لِأَمْرٍ مَا فطِنَّا لَهُ. وَكَانَ قَتَادَةُ يَزِيدُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: وَيَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ، قَالَ: هُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا} [عبس: ٢٨] الْآيَةَسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا، تو سب کا اتفاق ہوا کہ یہ آخری عشرے میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: مجھے معلوم ہے، بلکہ مجھے گمان ہے کہ یہ کون سی رات ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون سی رات ہے؟ میں نے عرض کیا: آخری عشرے کی ستائیسویں رات، یعنی گزرے ہوئے سات دن کے بعد کی، یا باقی سات دن کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے کہا: اللہ نے سات آسمان، سات زمینیں اور سات دن پیدا کیے، اور مہینہ سات کے حساب سے گھومتا ہے، انسان سات اعضاء سے پیدا کیا گیا، وہ سات چیزوں سے کھاتا ہے، سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے، بیت اللہ کا طواف سات چکروں کا ہے، اور جمرات کی رمی سات کنکریوں کی ہے - ایسی کئی چیزوں کا ذکر کیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ایسی بات سمجھی جو ہم نہ سمجھ سکے۔ قتادہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول ”وہ سات چیزوں سے کھاتا ہے“ میں یہ اضافہ کرتے تھے: اس سے مراد اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ”پھر ہم نے اس میں اناج، انگور اور ترکاری اگائی“ [سورۃ عبس: 27-28] آیت۔