المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَتْ حَرُورَاءَ، وَكَانُوا فِي دَارٍ عَلَى حِدَتِهِمْ، قُلْتُ لِعَلِيٍّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَبْرِدْ عَنِ الصَّلَاةِ؛ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمَهُمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَتَخَوَّفُهُمْ عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا إِنْ شَاءَ اللهُ، قَالَ: فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ مِنْ هَذِهِ الْيَمَانِيَّةِ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ وَهُمْ قَائِلُونَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ أَرَ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ، أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا ثَفِنُ الْإِبِلِ، وَوُجُوهُهُمْ مُعَلَّبَةٌ مِنْ آثَارِ السُّجُودِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ الْوَحْيُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِتَأْوِيلِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُحَدِّثُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُحَدِّثَنَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَا تَنْقِمُونَ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَتَنِهِ، وَأَوَّلِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ؟ قَالُوا: نَنْقِمُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَوَّلُهُنَّ أَنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللهِ، وَقَدْ قَالَ اللهُ {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: ٥٧] ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالُوا: وَقَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، لَئِنْ كَانُوا كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّتْ لَهُ أَمْوَالُهُمْ، وَلَئِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ لَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ دِمَاؤُهُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالُوا: وَمَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ الْمُحْكَمِ، وَحَدَّثْتُكُمْ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا تُنْكِرُونَ، أَتَرْجِعُونَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللهِ، فَإِنَّهُ يَقُولُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: ٩٥] إِلَى قَوْلِهِ {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: ٩٥] ، وَقَالَ فِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنَهُمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: ٣٥] ، أَنْشُدُكُمُ اللهَ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ أَحَقُّ أَمْ فِي أَرْنَبٍ ثَمَنُهَا رُبْعُ دِرْهَمٍ؟ قَالُوا: اللهُمَّ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ، أَمْ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا تَسْتَحِلُّونَ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَقَدْ كَفَرْتُمْ، وَإِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِأُمِّكُمْ فَقَدْ كَفَرْتُمْ وَخَرَجْتُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦] ، فَأَنْتُمْ تَتَرَدَّدُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ، فَاخْتَارُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا، فَقَالَ: " اكْتُبْ: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ "، فَقَالُوا: وَاللهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ، وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: «وَاللهِ إِنِّي لِرَسُولُ اللهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ» ، فَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ، أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. فَرَجَعَ مِنْهُمْ عِشْرُونَ أَلْفًا، وَبَقِيَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، فَقُتِلُواسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حروریہ (خوارج) الگ ہو گئے اور وہ ایک الگ گھر میں (جمع) تھے، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! نماز کو ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر دیجیے، شاید میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے بات کروں۔ انہوں نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں ان سے خطرہ ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، ان شاء اللہ۔ پھر میں نے ان یمنی جوڑوں میں سے جو بہترین لباس مجھے میسر تھا پہنا، پھر میں ان کے پاس گیا جبکہ وہ ٹھیک دوپہر کے وقت قیلولہ کر رہے تھے۔ میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچا کہ میں نے ان سے بڑھ کر عبادت میں محنت کرنے والے لوگ کبھی نہیں دیکھے، ان کے ہاتھ گویا اونٹوں کے گھٹنوں کے گٹے تھے، اور ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ میں اندر گیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! آپ کیسے آئے؟ میں نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی بات سنانے آیا ہوں، وحی (انہی پر) نازل ہوئی اور وہ اس کی تفسیر کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو ان میں سے بعض نے کہا: اس سے بات نہ کرو، اور بعض نے کہا: ہم ضرور اس سے بات کریں گے۔ میں نے کہا: مجھے بتاؤ، تم رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد، آپ ﷺ کے داماد اور آپ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے پر کیا اعتراض رکھتے ہو، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ان کے ساتھ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم ان پر تین باتوں کا اعتراض رکھتے ہیں۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: پہلی یہ کہ انہوں نے اللہ کے دین میں آدمیوں کو ثالث بنایا، حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے: ”حکم صرف اللہ ہی کا ہے“ [سورۃ الانعام: 57]۔ میں نے کہا: اور کیا؟ انہوں نے کہا: اور انہوں نے لڑائی کی لیکن نہ کسی کو قیدی بنایا اور نہ مالِ غنیمت لیا، اگر وہ (مخالفین) کافر تھے تو ان کے مال ان کے لیے حلال تھے، اور اگر وہ مومن تھے تو ان کا خون ان پر حرام تھا۔ میں نے کہا: اور کیا؟ انہوں نے کہا: اور انہوں نے اپنے نام سے ”امیر المومنین“ مٹا دیا، تو اگر وہ امیر المومنین نہیں تو امیر الکافرین ہیں۔ میں نے کہا: بتاؤ، اگر میں تمہیں اللہ کی محکم کتاب سے پڑھ کر سناؤں اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت سے ایسی بات بیان کروں جس کا تم انکار نہ کر سکو، تو کیا تم رجوع کر لو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: رہا تمہارا یہ کہنا کہ انہوں نے اللہ کے دین میں آدمیوں کو ثالث بنایا، تو اللہ فرماتا ہے: ”اے ایمان والو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو“ [سورۃ المائدہ: 95] سے لے کر ”تم میں سے دو عادل آدمی اس کا فیصلہ کریں“ [سورۃ المائدہ: 95] تک، اور عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں فرمایا: ”اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں میں سے بھیجو“ [سورۃ النساء: 35]۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا لوگوں کے خون اور جانیں بچانے اور ان کے باہمی تعلقات کی اصلاح میں آدمیوں کا فیصلہ زیادہ حق دار ہے یا ایک خرگوش کے بارے میں جس کی قیمت چوتھائی درہم ہے؟ انہوں نے کہا: یقیناً ان کے خون بچانے اور باہمی اصلاح میں۔ میں نے کہا: کیا میں اس (اعتراض) سے نکل آیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اور رہا تمہارا یہ کہنا کہ انہوں نے لڑائی کی لیکن نہ قیدی بنایا نہ غنیمت لی، تو کیا تم اپنی ماں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو قیدی بناؤ گے، یا اس سے وہ چیز حلال سمجھو گے جو دوسری عورتوں سے حلال سمجھتے ہو؟ (اگر ایسا کہو) تو تم نے کفر کیا، اور اگر تم یہ دعویٰ کرو کہ وہ تمہاری ماں نہیں تو بھی تم نے کفر کیا اور اسلام سے نکل گئے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“ [سورۃ الاحزاب: 6]۔ تو تم دو گمراہیوں کے درمیان ڈانواں ڈول ہو، ان میں سے جو چاہو چن لو۔ کیا میں اس سے نکل آیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اور رہا تمہارا یہ کہنا کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المومنین مٹا دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن قریش کو اس بات پر بلایا کہ اپنے اور ان کے درمیان ایک تحریر لکھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لکھو: یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے فیصلہ (صلح) کیا۔“ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑتے، لیکن لکھیے: محمد بن عبداللہ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم مجھے جھٹلاؤ، اے علی! لکھو: محمد بن عبداللہ۔“ حالانکہ رسول اللہ ﷺ علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے (پھر بھی آپ ﷺ نے یہ لکھوایا)، کیا میں اس دلیل سے نکل آیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ ان میں سے بیس ہزار واپس لوٹ آئے، اور چار ہزار باقی رہے، تو وہ قتل کر دیے گئے۔