حدیث نمبر: 10545
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِرَقْلَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَقَالَ: إِنْ كَانَ بَقِيَ فِيهِمْ شَيْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ فَسَيُخْبِرُنِي عَمَّا أَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَجَرَّةِ وَالْقَوْسِ، وَعَنِ الْبُقْعَةِ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً وَاحِدَةً، قَالَ: فَلَمَّا أَتَى مُعَاوِيَةَ الْكِتَابُ وَالرَّسُولُ قَالَ: إِنَّ هَذَا لِشَيْءٌ مَا كُنْتُ أُرَاهُ أَنْ أُسْأَلَ عَنْهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا، مَنْ لِهَذَا؟ قِيلَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، فَطَوَى مُعَاوِيَةُ كِتَابَ هِرَقْلَ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «إِنَّ الْقَوْسَ أَمَانٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْمَجَرَّةَ بَابُ السَّمَاءِ الَّذِي تَنْشَقُّ مِنْهُ، وَأَمَّا الْبُقْعَةُ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَالْبَحْرُ الَّذِي أُفْرِجَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ»
ترجمہ

”... کتاب اور قاصد (آ پہنچے)، (ہرقل نے) کہا: یہ تو ایسی بات ہے جس کے بارے میں مجھے کبھی گمان نہ تھا کہ آج تک مجھ سے پوچھا جائے گا، اس کا جواب کون دے سکتا ہے؟ کہا گیا: ابن عباس۔ چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہرقل کا خط لپیٹ کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ”قوسِ قزح زمین والوں کے لیے غرق ہونے سے امان ہے، اور کہکشاں آسمان کا وہ دروازہ ہے جہاں سے وہ (قیامت کے دن) پھٹے گا، اور رہی وہ جگہ جس پر سورج دن میں صرف ایک گھڑی کے لیے پڑتا ہے، تو وہ وہ سمندر ہے جو بنی اسرائیل کے لیے پھاڑا گیا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10545
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 243، حدیث 10591