المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ فَلْنَتَعَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْأَلُهُمْ؛ فَإِنَّهُمْ كَثِيرٌ، فَقَالَ: الْعَجَبُ وَاللهِ لَكَ يَا ابنَ عَبَّاسٍ، أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ، وَفِي النَّاسِ مَنْ تَرَى مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَرَكْتُ ذَلِكَ وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ وَتَتَبُّعِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ فِي الْحَدِيثِ يَبْلُغُنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجِدُهُ قَائِلًا، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِ دَارِهِ تَسْفِي الرِّيَاحُ عَلَى وَجْهِي، حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيَّ، فَإِذَا رَآنِي قَالَ: يَا ابنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، فَيَقُولُ: هَلَّا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيَكَ، فَأَقُولُ: أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ آتِيَكَ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَرَانِي قَدْ ذَهَبَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ احْتَاجَ النَّاسُ إِلَيَّ فَيَقُولُ: أَنْتَ كُنْتَ أَحَقَّ مِنِّي "عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں نے ایک آدمی سے کہا: آؤ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے سیکھیں اور ان سے سوال کریں، کیونکہ وہ بہت زیادہ ہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اے ابن عباس، تم پر تعجب ہے، کیا تم سمجھتے ہو کہ لوگوں کو تمہاری ضرورت ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے (اتنے بڑے بڑے لوگ) موجود ہیں؟ چنانچہ میں نے یہ بات چھوڑ دی اور سوال کرنے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو تلاش کرنے میں لگ گیا۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ میں کسی آدمی کے پاس کسی ایسی حدیث کے سلسلے میں جاتا جو مجھے معلوم ہوا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اور میں اسے قیلولہ کرتا ہوا پاتا، تو میں اس کے دروازے پر اپنی چادر بچھا کر سر رکھ لیتا، ہوائیں میرے چہرے پر مٹی اڑاتیں، یہاں تک کہ وہ میرے پاس نکل آتا۔ جب وہ مجھے دیکھتا تو کہتا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی! تمہیں کیا ہوا؟ میں کہتا: مجھے ایک حدیث کی خبر ملی ہے جو آپ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، مجھے پسند ہوا کہ اسے آپ سے سن لوں۔ وہ کہتا: تم نے مجھے بلوا کیوں نہ لیا کہ میں تمہارے پاس آ جاتا؟ میں کہتا: میرا ہی حق تھا کہ میں آپ کے پاس آتا۔ اور وہی آدمی، جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ چلے گئے اور لوگوں کو میری ضرورت پڑی، تو مجھے دیکھ کر کہتا: تم مجھ سے زیادہ حق دار تھے۔