حدیث نمبر: 10574
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ مِنَ الْقُرْآنِ بِمَنْزِلٍ، كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: «ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُولِ، إِنَّ لَهُ لِسَانًا سَئُولًا، وَقَلْبًا عَقُولًا، كَانَ يَقُومُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا - أَحْسَبُهُ قَالَ - عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَيَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ يُفَسِّرُهَا آيَةً آيَةً، وَكَانَ مِثَجَّةً نَجِدًا غَرْبًا»
ترجمہ

ابوبکر ہذلی کہتے ہیں: میں حسن (بصری) کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن میں ایک خاص مقام رکھتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”یہ بزرگوں جیسا نوجوان ہے، اس کی زبان سوال کرنے والی اور دل سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے۔“ وہ ہمارے اس منبر پر کھڑے ہو کر - غالباً عرفہ کی شام - سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھتے، پھر انہیں آیت آیت کی تفسیر کرتے، اور وہ علم کے بہتے چشمے، سرسبز اور زرخیز تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10574
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 265، حدیث 10620