المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حدیث نمبر: 10561
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو يُوسُفَ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يَقُولُ: صَحِبْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بَصَرُهُ وَبَعْدَمَا أُصِيبَ، فَسُئِلَ عَنِ الْقَدَرِ، فَقَالَ: «وَجَدْتُ أَصَوْبَ النَّاسِ فِيهِ حَدِيثًا أَجْهَلَهُمْ بِهِ، وَأَضْعَفَهُمْ فِيهِ حَدِيثًا أَعْلَمَهُمْ بِهِ، وَوَجَدْتُ النَّاظِرَ فِيهِ كَالنَّاظِرِ فِي شُعَاعِ الشَّمْسِ، كُلَّمَا ازْدَادَ فِيهِ نَظَرًا ازْدَادَ بَصَرُهُ فِيهَا تَحَيُّرًا»ترجمہ
وہب بن منبہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا، ان کی بینائی جانے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، ان سے تقدیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ اس بارے میں سب سے درست بات کہنے والا وہ ہے جو اسے سب سے کم جانتا ہے، اور اس بارے میں سب سے کمزور بات کہنے والا وہ ہے جو اسے سب سے زیادہ جانتا ہے، اور میں نے دیکھا کہ اس میں غور کرنے والا ایسا ہے جیسے سورج کی روشنی میں دیکھنے والا: جتنا وہ اس میں زیادہ غور کرے اتنی ہی اس کی نظر میں حیرانی بڑھتی جاتی ہے۔“