المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حدیث نمبر: 10568
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَوَضَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَهُورًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَضَعَهُ؟» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَا، فَضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِي وَقَالَ: «اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”یہ کس نے رکھا؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میں نے۔ آپ ﷺ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما، اور اسے تاویل سکھا۔“