المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حدیث نمبر: 10570
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: تَسْأَلُهُ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مَنْ حَيْثُ تَعْلَمُ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: ١] ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا إِلَى {كَانَ تَوَّابًا} [النساء: ١٦] ، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ساتھ رائے پوچھا کرتے تھے، تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس سے بھی پوچھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہیں سے ہے جو تم جانتے ہو۔ چنانچہ انہوں نے ان سے سورۃ ”اذا جاء نصر اللہ والفتح“ [سورۃ النصر: 1] کے بارے میں پوچھا، تو میں نے کہا: یہ تو نبی کریم ﷺ کی موت کا وقت بتانے والی سورت ہے، اور میں نے پوری سورت ”کان توابا“ [سورۃ النساء: 16] تک پڑھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔