المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ أَبِي: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: يَا أَبَهْ، كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَقَالَ: فَكَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَرَجَعْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا، هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللهِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس تھا، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو آپ ﷺ گویا میرے والد سے بے توجہی برت رہے تھے۔ ہم آپ ﷺ کے پاس سے نکلے تو میرے والد نے کہا: کیا تم نے اپنے چچازاد کو نہیں دیکھا کہ گویا مجھ سے بے توجہی برت رہے تھے؟ میں نے کہا: اباجان! آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا: کیا آپ ﷺ کے پاس کوئی موجود تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ ہم واپس آئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے عبداللہ سے ایسا ایسا کہا تو اس نے مجھے ایسا ایسا جواب دیا، کیا آپ کے پاس کوئی موجود تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اے عبداللہ! کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے، وہی مجھے تم سے مشغول رکھے ہوئے تھے۔“