حدیث نمبر: 10557
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ قَالَ: مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَاصٍّ، فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: تَدْرِي النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ؟ قَالَ: وَمَا النَّاسِخُ مِنَ الْمَنْسُوخِ؟ قَالَ: مَا تَدْرِي النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ
ترجمہ

ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا گزر ایک قصہ گو کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے اسے اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور فرمایا: کیا تمہیں ناسخ اور منسوخ کا علم ہے؟ اس نے پوچھا: ناسخ اور منسوخ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تمہیں ناسخ اور منسوخ کا علم نہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تم خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10557
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 259، حدیث 10603