المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلْ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ تَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب تم کسی ایسے رعب دار حکمران کے پاس جاؤ جس کے تم پر حملہ آور ہونے کا خدشہ ہو تو کہو: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اپنی تمام مخلوق سے بڑا ہے، اللہ اس سے زیادہ غالب ہے جس سے میں ڈرتا اور خوف کھاتا ہوں، میں اس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہ گر پڑیں، تیرے بندے فلاں، اس کے لشکروں اور جن و انس میں سے اس کے پیروکاروں کے شر سے۔ اے میرے اللہ! ان کے شر سے تو میری پناہ گاہ بن جا، تیری تعریف بلند ہے، تیری پناہ عزت والی ہے، تیرا نام بابرکت ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ یہ تین بار کہے۔