المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حدیث نمبر: 10558
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ قَالَ: سَأَلَ شَابٌّ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: لَا، ثُمَّ جَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ: أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الشَّابُّ: سَأَلْتُكَ أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقُلْتَ: لَا، وَسَأَلَكَ هَذَا أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَقُلْتَ: نَعَمْ، فَكَيْفَ يَحِلُّ لِهَذَا مَا يَحْرُمُ عَلَيَّ وَنَحْنُ عَلَى دِينٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ عُرُوقَ الْخُصْيِتَيْنِ مُعَلَّقَةٌ بِالْأَنْفِ، فَإِذَا شَمَّ الْأَنْفُ يَتَحَرَّكُ الذَّكَرُ، وَإِذَا تَحَرَّكَ الذَّكَرُ دَعَا إِلَى مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَاكَ، وَالشَّيْخُ أَمْلَكُ لِإِرَبِهِ، وَذَاكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُ عَبْدِ اللهِ، وَخَلْفَهُ امْرَأَةٌ، فَقِيلَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنَّ خَلْفَكَ امْرَأَةٌ، قَالَ: «أُفٍّ لَكَ مِنْ جَلِيسِ قَوْمٍ»ترجمہ
(سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”اور جب مردانہ خواہش حرکت میں آئے تو وہ اس سے بھی بڑی چیز کی طرف بلاتی ہے، لیکن بوڑھا آدمی اپنی خواہش پر زیادہ قابو رکھتا ہے۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جب سیدنا عبداللہ (بن عباس) رضی اللہ عنہما کی بینائی جا چکی تھی، اور ان کے پیچھے ایک عورت بیٹھی تھی، تو کسی نے کہا: اے ابن عباس! آپ کے پیچھے ایک عورت ہے۔ فرمایا: ”تجھ پر افسوس، تو کیسا ساتھی ہے۔“