المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَى مَعَنَا، وَلَنَا أَبْنَاءُ مِثْلُهُ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَدَعَاهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَعَانِي، وَمَا رَأَيْتُهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلَّا لِيُرِيَهُمْ مِنِّي، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا} [النصر: ٢] ، حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَمَرَنَا أَنْ نَحْمَدَ اللهَ وَنَسْتَغْفِرَهُ إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا نَدْرِي، وَلَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، كَذَلِكَ تَقُولُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَمَا تَقُولُ؟ قُلْتُ: هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَّمَهُ اللهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَكَّةَ، فَذَاكَ عَلَامَةُ أَجَلِكَ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے اہلِ بدر کے ساتھ مجلس میں داخل کیا کرتے تھے، تو ان میں سے کسی نے کہا: آپ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ کیوں داخل کرتے ہیں جبکہ ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: یہ اس خاندان میں سے ہے جسے تم جانتے ہو۔ ایک دن انہوں نے ان بزرگوں کو بلایا اور مجھے بھی بلایا، اور میں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے مجھے اس دن اس کے سوا کسی اور مقصد سے بلایا تھا کہ وہ انہیں میری صلاحیت دکھائیں۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہو: ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور تم دیکھو کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں“ [سورۃ النصر: 2]، یہاں تک کہ سورت مکمل کی۔ ان میں سے بعض نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا کہ جب ہماری مدد کی جائے اور ہم پر فتح دی جائے تو ہم اللہ کی حمد کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔ اور بعض نے کہا: ہمیں نہیں معلوم۔ اور بعض نے کچھ نہ کہا۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: تو تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: یہ رسول اللہ ﷺ کی موت کا وقت ہے، اللہ نے آپ ﷺ کو بتا دیا کہ جب اللہ کی مدد اور فتح، یعنی مکہ کی فتح، آ جائے تو یہ تمہاری موت کی علامت ہے، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم جانتے ہو۔