المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مناقب عبد الله بن عباس وأخباره باب: اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب اور حالات میں سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمَّا كُفَّ بَصَرُهُ يَقُولُ لِقَائِدِهِ: إِذَا أَدْخَلْتَنِي إِلَى مُعَاوِيَةَ فَسَدِّدْنِي لِفِرَاشِهِ، ثُمَّ أَرْسِلْ يَدِي لَا يَشْمَتُ بِي مُعَاوِيَةُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ يَوْمًا، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ: لَيَغْتَمَّنَّ، فَلَمَّا جَلَسَ مَعَهُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، آجَرَكَ اللهُ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: أَمَاتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «رَحْمَةُ اللهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ، وَأَلْحَقَهُ بِصَالِحِ سَلَفِهِ، أَمَا وَاللهِ يَا مُعَاوِيَةُ، لَا يَسُدُّ حُفْرَتَكَ، وَلَا تَأْكُلُ رِزْقَهُ، وَلَا تُخَلَّدُ بَعْدَهُ، وَلَقَدْ رُزِئْنَا بِأَعْظَمَ فَقْدًا مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا خَذَلَنَا اللهُ بَعْدَهُ»میمون کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی جاتی رہی تو وہ اپنا ہاتھ پکڑ کر لے جانے والے سے کہتے: جب تم مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ تو مجھے ان کے بچھونے کی سیدھ میں کر دینا، پھر میرا ہاتھ چھوڑ دینا، تاکہ معاویہ مجھ پر ہنسی نہ اڑائیں۔ ایک دن اس نے ایسا ہی کیا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی ہم نشین سے کہا: یہ ضرور غمگین ہوں گے۔ جب وہ ان کے ساتھ ان کے بچھونے پر بیٹھ گئے تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس! اللہ تمہیں حسن بن علی (رضی اللہ عنہما کی وفات) پر اجر دے۔ انہوں نے پوچھا: کیا وہ فوت ہو گئے؟ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”ان پر اللہ کی رحمت اور رضامندی ہو، اور اللہ انہیں ان کے نیک اسلاف کے ساتھ ملا دے۔ سن لو، اللہ کی قسم! اے معاویہ! ان کی موت تمہاری قبر کو نہیں بھرے گی، نہ تم ان کا رزق کھاؤ گے، اور نہ ان کے بعد ہمیشہ رہو گے۔ اور ہمیں ان سے بھی بڑی جدائی کا صدمہ رسول اللہ ﷺ (کی وفات) سے پہنچا، تو اللہ نے آپ ﷺ کے بعد بھی ہمیں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔“