کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَفْتَحَ أَوَّلَ نَهَارِهِ بِخَيْرٍ وَخَتَمَهُ بِخَيْرٍ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ لِمَلَائِكَتِهِ : لَا تَكْتُبُوا عَلَيْهِ مَا بَيْنَ ذَلِكَ مِنَ الذُّنُوبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْجَرَّاحُ بْنُ يَحْيَى الْمُؤَذِّنُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے دن کا آغاز بھلائی کے ہمراہ کرتا ہے ، اور اس کا اختتام بھلائی کے ہمراہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : اس کے درمیان کے وقت کے گناہوں کو نوٹ نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جراح بن یحیی مؤذن ہے ، میں اسے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3883) اخرجه احمد فى المسند (420/5)»
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ; كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَابٍ ، وَكُنَّ لَهُ مَسْلَمَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ ، وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ ; فَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي فَمِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ بَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات دس مرتبہ پڑھ لے :
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک مرتبہ اس کے پڑھنے کے عوض میں اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کرتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند کرتا ہے اور یہ کلمات اس کے لئے 10 غلام آزاد کرنے کی مانند ہو جاتے ہیں ، اور یہ کلمات اس کے لیے دن کے ابتدائی حصے سے لے کر آخری حصے تک سلامتی کا ذریعہ بن جاتے ہیں جبکہ وہ اس دن میں کوئی ایسا عمل نہ کرے جو ان کو مغلوب کر دے ، اگر وہ شخص شام کے وقت ان کلمات کو پڑھے ، تو ایسا ہی ( یعنی اجر و ثواب ) حاصل ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، طبرانی کی بعض اسانید بھی اسی طرح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَيَّ فَقَالَ : " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ [ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ] ; إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَإِلَّا كُنَّ لَهُ [ عِنْدَ اللَّهِ ] عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ مُحَرَّرِينَ ، وَإِلَّا كَانَ فِي جُنَّةٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری علی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ میرے ہاں ٹھہرئے آپ نے فرمایا : اے ابوایوب ! کیا میں تمہیں تعلیم نہ دوں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی بندہ صبح کے وقت یہ کلمات پڑھتا ہے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ (لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ) »
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے ، اس شخص کے لئے دس نیکیاں نوٹ کرتا ہے ، اس شخص کے دس گناہ مٹا دیتا ہے ، اور یہ کلمات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں 10 غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوں گے ، اور یہ شام ہونے تک شیطان سے بچاؤ کا باعث ہوں گے اور جو شخص شام کے وقت انہیں پڑھ لے گا ، اسے بھی اسی کی مانند ( یعنی اجر و ثواب ) حاصل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (414/5)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مَنْ قَالَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ حِينَ يُصْبِحُ ; كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ حَسَنَةٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهَا مِائَةُ سَيِّئَةٍ ، وَكَانَتْ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ ، وَحُفِظَ بِهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَالَهَا مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھے :
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو شخص انہیں صبح کے وقت دس مرتبہ پڑھ لے ، تو ان کی وجہ سے اس کے لئے 100 نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور ان کی وجہ سے اس کے 100 گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں ، اور یہ اس شخص کے لئے غلام آزاد کرنے کے برابر ہوتے ہیں ، اور شام ہونے تک ان کی وجہ سے اس شخص کی حفاظت کی جاتی ہے اور جو شخص انہیں شام کے وقت پڑھ لے گا ، اُسے بھی اس کی مانند ( یعنی اجر و ثواب ) حاصل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (360/2)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ; غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص روزانہ صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ پڑھ لے :
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے ، اور وہ زندہ ہے اُسے موت نہیں آئے گی ، ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3106)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَهُ دُعَاءً ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ . اللَّهُمَّ مَا قَلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، مَا شِئْتَ كَانَ ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ ، إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا ، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ . أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ ، أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً ، أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ . اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَأُشْهِدُكَ - وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا - إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، لَكَ الْمُلْكُ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ ، وَعَوْرَةٍ ، وَذَنْبٍ ، وَخَطِيئَةٍ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَتُبْ عَلَيَّ ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَقِيَّةِ الْأَسَانِيدِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دعا کی تعلیم دی اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ روزانہ اپنے اہل خانہ کو یہ پڑھایا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھے :
«لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ ۔ اللَّهُمَّ مَا قَلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، مَا شِئْتَ كَانَ ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔ اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ ، إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا ، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ۔ أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ ، أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً ، أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ ۔ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَأُشْهِدُكَ - وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا - إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، لَكَ الْمُلْكُ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ ، وَعَوْرَةٍ ، وَذَنْبٍ ، وَخَطِيئَةٍ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَتُبْ عَلَيَّ ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ»
” میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، تیری طرف سے ہے ، تیری مدد سے ہے ، تیری طرف لوٹتی ہے ، اے اللہ ! میں نے جو بھی بات کہی ہو ، یا جو بھی نذر مانی ہو ، یا جو بھی حلف اٹھایا ہو ، تو ( ہر معاملے میں ) تیری ہی مشیت پوری ہو گی ، جو تو چاہے گا وہ ہو گا ، اور جو تو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہو گا ، اور تیری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، بے شک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ ! میں نے جو بھی دعائے رحمت کی تو اس کے لیے کی جس پر تو نے رحمت کی اور میں نے جو بھی لعنت کی تو اس پر کی جس پر تو نے لعنت کی ، بے شک تو دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے ، تو مجھے مسلمان ہونے کے عالم میں وفات دینا اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دینا ، میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! کہ میں تقدیر کے فیصلے پر راضی رہوں اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی ہو ، اور تیرے دیدار کی لذت ہو اور تیری بارگاہ میں حاضری کا شوق ہو ، اور یہ کسی بھی تکلیف کا سامنا کئے بغیر ، اور کسی گمراہ کرنے والے فتنے کا سامنا کئے بغیر ہو ، اے اللہ ! اس بات سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا میرے ساتھ ظلم کیا جائے ، یا میں زیادتی کروں یا میرے خلاف زیادتی کی جائے ، یا میں کسی گناہ کا ارتکاب کروں جو اعمال کو ضائع کر دے ، یا کوئی ایسا گناہ ہو جو معاف نہ ہو سکتا ہؤ ، اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! جلال اور اکرام والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں ، تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں اور تجھے گواہ بناتا ہوں ، اور گواہ ہونے کے لیے تو ہی کافی ہے ( میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں ) کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی تیرے لیے مخصوص ہے ، حمد تیرے لیے مخصوص ہے اور تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، جنت حق ہے ، قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے ، اور تو ان لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اگر تو مجھے میرے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو مجھے ضائع ہونے ، بے پردگی والے امور اور گناہوں اور خطاؤں کے حوالے کر دے گا ، تو میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتا ہوں ، تو میرے سارے گناہوں کی مغفرت کر دے ، ویسے گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے اور تو میری توبہ قبول کر لے ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور بقیہ اسانید میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4932 و 4803) اخرجه احمد فى المسند (191/5)»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدَعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَعْمَلَ لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ ، حِينَ يُصْبِحُ يَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، مِائَةَ مَرَّةٍ ; فَإِنَّهَا أَلْفُ حَسَنَةٍ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَعْمَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي يَوْمِهِ مِنَ الذُّنُوبِ ، وَيَكُونُ مَا عَمِلَ مِنْ خَيْرٍ سِوَى ذَلِكَ وَافِرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی ایک بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر روزانہ ایک ہزار نیکیاں کرنا ترک نہ کرے ، جب وہ صبح کرے تو یہ پڑھے : ” اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ۔ “ وہ یہ کلمات 100 مرتبہ پڑھے ، تو یہ اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں ہو جائیں گی اور اگر اللہ نے چاہا تو وہ شخص اس دن میں اتنے گناہ نہیں کرے گا ، اور وہ اس کے علاوہ جو نیکیاں کرے گا وہ مزید اضافہ کا باعث ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (440/6)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَلْفَ مَرَّةٍ ، فَقَدِ اشْتَرَى نَفْسَهُ مِنَ اللَّهِ ، وَكَانَ آخِرَ يَوْمِهِ عَتِيقَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت ایک ہزار مرتبہ «سبحان الله و بحمده» پڑھ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لیتا ہے ، اور وہ دن کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( جہنم سے ) آزاد شدہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، فَقَدِ اشْتَرَى نَفْسَهُ مِنَ اللَّهِ ، وَكَانَ آخِرَ يَوْمِهِ عَتِيقَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت 100 مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِه» پڑھ لیتا ہے ، تو وہ اپنا آپ اللہ تعالیٰ سے خرید لیتا ہے ، اور وہ دن کی آخری حصے میں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( جہنم سے ) آزاد شدہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصًا لَكَ دِينِي ، إِنِّي أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ شَرِّ عَمَلِي ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوبِي الَّتِي لَا يَغْفِرُهَا إِلَّا أَنْتَ ، فَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ دَخَلَ الْجَنَّةَ . ¤ وَإِنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ [ آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصًا لَكَ دِينِي ] ، أَمْسَيْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ شَرِّ عَمَلِي ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوبِي الَّتِي لَا يَغْفِرُهَا إِلَّا أَنْتَ ، فَمَاتَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ ثُمَّ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْلِفُ مَا لَا يَحْلِفُ عَلَى غَيْرِهِ ، يَقُولُ : " وَاللَّهِ مَا قَالَهَا عَبْدٌ فِي يَوْمٍ فَيَمُوتُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي فَتُوَفِّيَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے :
«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصًا لَكَ دِينِي ، إِنِّي أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ شَرِّ عَمَلِي ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوبِي الَّتِي لَا يَغْفِرُهَا إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں اپنے دین کو تیرے لیے خالص رکھتے ہوئے تجھ پر ایمان لایا اور میں نے اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور تیرے وعدے پر گامزن رہتے ہوئے صبح کی ، میں اپنے عمل کے شر سے تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کے بارے میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ، تیرے علاوہ اور کوئی ان کی مغفرت نہیں کر سکتا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ شخص اُس دن میں انتقال کر گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “ اگر وہ شخص شام کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے :
«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصًا لَكَ دِينِي ، أَمْسَيْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ شَرِّ عَمَلِي ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوبِي الَّتِي لَا يَغْفِرُهَا إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں اپنے دین کو تیرے لیے خالص رکھتے ہوئے تجھ پر ایمان لایا اور میں نے اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور تیرے وعدے پر گامزن رہتے ہوئے شام کی ، میں اپنے عمل کے شر سے تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ، اور اپنے گناہوں کے بارے میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ، تیرے علاوہ اور کوئی ان کی مغفرت نہیں کر سکتا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ اس رات میں انتقال کر جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حلف اٹھایا جو آپ نے اس کے علاوہ کسی بات پر نہیں اُٹھایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! جو بندہ دن میں اسے پڑھ لے اور اس دن میں فوت ہو جائے ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر وہ شام کے وقت اسے پڑھ لے اور اس رات میں فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7802)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ : " اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا وَنَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا وَنَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ»
” اے اللہ ! ہم نے تیری مدد سے صبح کی اور تیری مدد سے شام کی ، اور تیری مدد سے ہم زندہ ہیں اور ہم مریں گے ، اور تیری ہی طرف لوٹ کے جانا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (354/3)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ : " أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " . ¤ وَإِذَا أَمْسَى قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے : «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»
” ہم نے صبح کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بھی صبح ہو گئی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے صرف وہی معبود ہے اور اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ۔ “
جب شام ہوتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ»
ہم نے شام کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں شام ہو گئی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ۔ “

یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16994
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3105)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَسَاءُ فِي بَيْتِي : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَالْحَوْلُ وَالْقُدْرَةُ وَالسُّلْطَانُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَكُلُّ شَيْءٍ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا ، وَبِكَ نَمُوتُ ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں ہوتے تھے اور شام کا وقت ہو جاتا تھا تو میں آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنتی تھی :
«أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَالْحَوْلُ وَالْقُدْرَةُ وَالسُّلْطَانُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَكُلُّ شَيْءٍ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا ، وَبِكَ نَمُوتُ ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ»
” ہم نے شام کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بھی شام ہو گئی ، ہمت ، طاقت ، قدرت اور آسمانوں اور زمین میں اور ہر چیز میں ، حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اے اللہ ! ہم تیری مدد سے صبح کرتے ہیں اور تیری مدد سے شام کرتے ہیں ، اور تیری مدد سے زندہ ہیں اور تیرے حکم سے اور تیری ہی طرف اٹھائے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ بن سعد ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (938)»
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : " أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذَا الْيَوْمِ ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ غَسَّانَ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ ، وَكِلَاهُمَا الْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ ، وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ کلمات پڑھتے تھے :
«أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذَا الْيَوْمِ ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ»
” ہماری صبح ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بھی صبح ہو گئی ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اے اللہ ! ہم اس دن کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتے ہیں اور اس کے بعد کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں ، ہم اس دن کے شر سے اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، اے اللہ ! میں بڑی عمر ( یا تکبر ) کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے غسان بن ربیع کے حوالے سے ابواسرائیل ملائی سے نقل کی ہے اور ان دونوں پر ضعیف ہونا غالب ہے ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1170)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ : " أَصْبَحْتُ وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْكِبْرِيَاءُ ، وَالْعَظَمَةُ ، وَالْخَلْقُ ، وَاللَّيْلُ ، وَالنَّهَارُ ، وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلَّهِ وَحْدَهُ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ وَأَوْسَطَهُ فَلَاحًا ، وَآخِرَهُ نَجَاحًا ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے :
«أَصْبَحْتُ وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْكِبْرِيَاءُ ، وَالْعَظَمَةُ ، وَالْخَلْقُ ، وَاللَّيْلُ ، وَالنَّهَارُ ، وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلَّهِ وَحْدَهُ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ وَأَوْسَطَهُ فَلَاحًا ، وَآخِرَهُ نَجَاحًا ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» میں نے صبح کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بھی صبح ہو گئی ، کبریائی ، عظمت ، مخلوق ، رات ، دن اور جو بھی ان میں رہتا ہے ، وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں ، جو ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اے اللہ ! اس دن کے ابتدائی ، اور درمیانی حصے کو فلاح کا ، اور آخری حصے کو کامیابی کا باعث بنا دے ، میں تجھ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! “ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوالورقاء ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَصْبَحَ فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَصْبَحْتُ وَشَهِدْتُ بِمَا شَهِدْتَ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ ، وَأَشْهَدْتَ مَلَائِكَتَكَ ، وَأُولِي الْعِلْمِ ، وَمَنْ لَمْ يَشْهَدْ بِمَا شَهِدْتَ ، فَاكْتُبْ شَهَادَتِي مَكَانَ شَهَادَتِهِ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، وَإِلَيْكَ يَعُودُ السَّلَامُ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَنْ تَسْتَجِيبَ لَنَا دَعْوَتَنَا ، وَأَنْ تُعْطِيَنَا رَغْبَتَنَا ، وَأَنْ تُغْنِيَنَا عَمَّنْ أَغْنَيْتَهُ عَنَّا مِنْ خَلْقِكَ . اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعِيشَتِي ، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مُنْقَلَبِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : صبح کے وقت جب سورج طلوع ہو جاتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَصْبَحْتُ وَشَهِدْتُ بِمَا شَهِدْتَ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ ، وَأَشْهَدْتَ مَلَائِكَتَكَ ، وَأُولِي الْعِلْمِ ، وَمَنْ لَمْ يَشْهَدْ بِمَا شَهِدْتَ ، فَاكْتُبْ شَهَادَتِي مَكَانَ شَهَادَتِهِ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، وَإِلَيْكَ يَعُودُ السَّلَامُ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَنْ تَسْتَجِيبَ لَنَا دَعْوَتَنَا ، وَأَنْ تُعْطِيَنَا رَغْبَتَنَا ، وَأَنْ تُغْنِيَنَا عَمَّنْ أَغْنَيْتَهُ عَنَّا مِنْ خَلْقِكَ ۔ اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعِيشَتِي ، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مُنْقَلَبِي»
” اے اللہ ! میں نے صبح کر لی اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، جس کی گواہی تو نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے ، اور تو نے اپنے فرشتوں اور علم والوں کو اس پر گواہ بنایا ہے ، اور ان کو بھی گواہ بنایا ہے جو اس بات کی گواہی نہیں دیتے ، جو گواہی تو نے دی ہے ، تو میری گواہی کو اس گواہی کی جگہ نوٹ کر لے ، اے اللہ ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی تیری طرف سے عطا ہوتی ہے اور سلامتی تیری طرف لوٹ جاتی ہے ، اے جلال اور اکرام والے ! ( یعنی اور میں یہ دعا کرتا ہوں ) کے تو ہماری دعا کو قبول کر لے ، اور ہم جس میں رغبت رکھتے ہیں ، وہ ہمیں عطا کر دے اور تو ہمیں ہر اس شخص سے بے نیاز کر دے جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے ہم سے بے نیاز کیا ہے ، اے اللہ ! تو میرے دین کو ٹھیک رکھنا ، جو میرے معاملے کے بچاؤ کی بنیاد ہے ، اور میری دنیا کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جس میں ، میں نے زندگی گزارنی ہے ، اور میری آخرت کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جس کی طرف میں نے لوٹ کے جانا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3103)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَارَةٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهَا كَانَتْ تَسْمَعُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ " . ¤ قَالَ أَبُو عِيسَى : فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ : أَرَأَيْتَ إِنْ جَمَعَهَا إِنْسَانٌ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ ]. ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن قاسم بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہنے والی ایک خاتون نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح صادق کے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنتی تھیں :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ»
” اے اللہ ! میں قبر کے عذاب اور قبر کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
ابوعیسیٰ کہتے ہیں : میں نے عبداللہ سے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر انسان اسے جمع کر لے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سے پڑھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (270/5)»
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ تَفْسِيرِ : ( لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ) فَقَالَ : " مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَبْلَكَ ، تَفْسِيرُهَا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ ، وَالظَّاهِرِ وَالْبَاطِنِ ، وَبِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَيُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . ¤ مَنْ قَالَهَا إِذَا أَصْبَحَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ; أُعْطِيَ عَشْرَ خِصَالٍ ، أَمَّا أُولَاهُنَّ : فَتُحَرِّزُ مِنْ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ . ¤ وَأَمَّا الثَّانِيَةُ : فَيُعْطَى قِنْطَارًا مِنَ الْأَجْرِ . ¤ وَأَمَّا الثَّالِثَةُ : فَيُرْفَعُ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ . ¤ وَأَمَّا الرَّابِعَةُ : فَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ . ¤ وَأَمَّا الْخَامِسَةُ : فَيَحْضُرُهَا اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ . ¤ وَأَمَّا السَّادِسَةُ : فَلَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَالزَّبُورَ . وَلَهُ مَعَ هَذَا يَا عُثْمَانُ ، كَمَنْ حَجَّ وَاعْتَمَرَ ، فَقُبِلَتْ حَجَّتُهُ وَعُمْرَتُهُ ، وَإِنْ مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ طُبِعَ بِطَابَعِ الشُّهَدَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْأَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا : ” آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا ، اس کی تفصیل یہ ہے : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، جو اول ہے ، آخر ہے ، ظاہر ہے ، باطن ہے ، ہر قسم کی بھلائی اُسی کے دست قدرت میں ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لے گا ، اُسے 10 خصوصیات عطا کی جائیں گی : پہلی خصوصیت یہ ہے کہ ابلیس اور اس کے لشکر سے اسے بچا لیا جائے گا ۔ دوسری یہ ہے کہ اسے اجر کا ایک قنطار عطا کیا جائے گا ۔ تیسری یہ ہے کہ جنت میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا ۔ چوتھی یہ ہے کہ حورعین کے ساتھ اس کی شادی کی جائے گی ۔ پانچویں یہ ہے کہ بارہ ہزار فرشتے اس ( کلمے ) کے پاس موجود ہوں گے ۔ چھٹی یہ ہے کہ اس شخص کو اتنا اجر ملے گا ، جیسے اس شخص کو ملتا ہے ، جس نے قرآن ، تورات ، انجیل اور زبور کو پڑھا ہو ۔ اور اس کے ہمراہ اسے عثمان ! اسے اس شخص کی مانند اجر ملے گا ، جس نے حج اور عمرہ کیا ہو ، اور اس کا حج اور عمرہ قبول ہوا ہو ۔ اور اگر وہ شخص اس دن میں انتقال کر جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی ۔ امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ إِذَا أَصْبَحَ ، وَإِذَا أَمْسَى : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَجْأَةِ الْخَيْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فَجْأَةِ الشَّرِّ ، فَإِنَّ الْعَبْدَ لَا يَدْرِي مَا يَفْجَؤُهُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت یہ دعائیں مانگا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَجْأَةِ الْخَيْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فَجْأَةِ الشَّرِّ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اچانک آنے والی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اچانک آنے والے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
کیونکہ کوئی بندہ یہ نہیں جانتا کہ صبح یا شام کے وقت کون سی چیز اچانک اسے لاحق ہو جائے گی ؟
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3371)»
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا إِذَا أَصْبَحْنَا : " أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ ، وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ ، وَسَنَّةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . ¤ وَإِذَا أَمْسَى قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے : کہ جب ہم صبح کریں تو یہ پڑھیں :
« أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ ، وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ ، وَسَنَّةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ»
” ہم نے اسلام کی فطرت ، اخلاص کے کلمہ ، اور اپنے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر اور اپنے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر صبح کی ہے ، جو سیدھے راستے پر چلنے والے مسلمان تھے ، اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔ “ اور جب شام ہو ، تو بھی آدمی اسی طرح پڑھے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن جاریہ بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (123/5)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : " أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - أَوْ أَمْسَيْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے :
«أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - أَوْ أَمْسَيْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ»
” ہم نے اسلام کی فطرت پر صبح کی ہے ، یا اسلام کی فطرت پر شام کی ہے ، اور اخلاص کے کلمہ پر ، اور اپنے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ، اور اپنے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر صبح یا شام کی ہے ، جو صحیح راستے پر رہنے والے مسلمان تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17003
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (406/3)»
وَعَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَقَالُوا : هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَدَاوَلُهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيًّا ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَسَمَّى خَادِمَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَابِقًا . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي سَلَّامٍ خَادِمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ الْمِزِّيُّ : إِنَّ الْأَوَّلَ هُوَ الصَّحِيحُ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلام بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا گزر مسجد ” حمص “ سے ہوا ، لوگوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں ، راوی کہتے ہیں ، میں اُٹھ کر ان کے پاس گیا ، میں نے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، اور آپ کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی اور واسطہ نہ ہو ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو مسلمان بندہ صبح اور شام کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے :
«رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيًّا»
” میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں ) ۔ “
تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس شخص کو راضی کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کا نام ” سابق “ ذکر کیا ہے ۔
امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : نبی اگرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم سیدنا ابوسلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے ، امام مزی کہتے ہیں : پہلا قول درست ہے ۔ امام أحمد اور طبرانی کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3105) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (367/22) اخرجه احمد فى المسند (337/4)»
وَعَنِ الْمُنَيْذِرِ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يَكُونُ بِإِفْرِيقِيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، فَأَنَا الزَّعِيمُ لَآخُذَنَّ بِيَدِهِ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا منذر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور وہ افریقہ میں ہوتے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھ لے : «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» ” میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں ) ۔ “
( تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) میں اس بات کا ضامن ہوں کہ میں اُس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کروا دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17005
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (355/20)»
وَعَنْ أَبَانَ الْمُحَارِبِيِّ - وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، إِلَّا غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِذَا قَالَهَا إِذَا أَمْسَى غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابان محاربی رضی اللہ عنہ ، جو ایک وفد کا حصہ تھے ، جس کے افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان بندہ صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ پڑھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، میں کسی کو اس کا شریک قرار نہیں دیتا اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : تو اس کے شام تک کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے اور اگر وہ شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے تو اس کے صبح تک کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17006
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3104)»
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَيَّانَ الْمُحَارِبِيِّ [ عَنْ أَبَانَ الْمُحَارِبِيِّ ] - وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّي ، لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; إِلَّا ظَلَّ يَغْفِرُ لَهُ ذُنُوبَهُ حَتَّى يُمْسِيَ . وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى ; بَاتَ تُغْفَرُ لَهُ ذُنُوبُهُ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
حکم بن حیان محاربی ، سیدنا ابان محاربی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ، جو عبدالقیس قبیلے کے اس وفد میں شامل تھے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان بندہ صبح کے وقت یہ پڑھ لیتا ہے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّي ، لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو میرا پروردگار ہے ، میں کسی کو اس کا شریک قرار نہیں دیتا ہوں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو شام ہونے تک اس کے گناہوں کی مغفرت ہوتی رہے گی ، اور اگر کوئی شخص شام کے وقت ان کلمات کو پڑھ لے گا تو صبح ہونے تک اس کے گناہوں کی مغفرت ہوتی رہے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17007
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (635)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ : " مَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَسْمَعِي مَا أُوصِيكِ بِهِ ؟ ! أَنْ تَقُولِي إِذَا أَصْبَحْتِ وَإِذَا أَمْسَيْتِ : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تمہارے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ کہ تم اس بات کو نہیں سنتی ہو کہ جو میں تمہیں تلقین کرنے لگا ہوں ، تم صبح اور شام کے وقت یہ کلمات پڑھو :
«يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ»
” اے حی اور اے قیوم ! میں تیری رحمت کے وسیلے سے مدد مانگتا ہوں ، تو میرے سارے کاموں کو ٹھیک کر دے اور پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی مجھے میرے حوالے نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عثمان بن موہب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3107)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى دَعَا بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ ذُكِرَ ، وَأَحَقُّ مَنْ عُبِدَ ، وَأَنْصَرُ مَنِ ابْتُغِيَ ، وَأَرْأَفُ مَنْ مَلَكَ ، وَأَجْوَدُ مَنْ سُئِلَ ، وَأَوْسَعُ مَنْ أَعْطَى ، أَنْتَ الْمَلِكُ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَالْفَرْدُ لَا يَهْلَكُ ، كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَكَ ، لَنْ تُطَاعَ إِلَّا بِإِذْنِكَ ، وَلَنْ تُعْصَى إِلَّا بِعِلْمِكَ ، تُطَاعُ فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى فَتَغْفِرُ ، أَقْرَبُ شَهِيدٍ ، وَأَدْنَى حَفِيظٍ ، حُلْتَ دُونَ الثُّغُورِ ، وَأَخَذْتَ بِالنَّوَاصِي ، وَكَتَبْتَ الْآثَارَ ، وَنَسَخْتَ الْآجَالَ ، الْقُلُوبُ لَكَ مُفْضِيَةٌ ، وَالسِّرُّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ ، الْحَلَالُ مَا أَحْلَلْتَ ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمْتَ ، وَالدِّينُ مَا شَرَعْتَ ، وَالْأَمْرُ مَا قَضَيْتَ ، وَالْخَلْقُ خَلْقُكَ ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ ، وَأَنْتَ اللَّهُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ . أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، بِكُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ ، وَبِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ ، أَنْ تَقْبَلَنِي فِي هَذِهِ الْغَدَاةِ - أَوْ فِي هَذِهِ الْعَشِيَّةِ - وَأَنْ تُجِيرَنِي مِنَ النَّارِ بِقُدْرَتِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَضَّالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا مانگا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ ذُكِرَ ، وَأَحَقُّ مَنْ عُبِدَ ، وَأَنْصَرُ مَنِ ابْتُغِيَ ، وَأَرْأَفُ مَنْ مَلَكَ ، وَأَجْوَدُ مَنْ سُئِلَ ، وَأَوْسَعُ مَنْ أَعْطَى ، أَنْتَ الْمَلِكُ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَالْفَرْدُ لَا يَهْلَكُ ، كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَكَ ، لَنْ تُطَاعَ إِلَّا بِإِذْنِكَ ، وَلَنْ تُعْصَى إِلَّا بِعِلْمِكَ ، تُطَاعُ فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى فَتَغْفِرُ ، أَقْرَبُ شَهِيدٍ ، وَأَدْنَى حَفِيظٍ ، حُلْتَ دُونَ الثُّغُورِ ، وَأَخَذْتَ بِالنَّوَاصِي ، وَكَتَبْتَ الْآثَارَ ، وَنَسَخْتَ الْآجَالَ ، الْقُلُوبُ لَكَ مُفْضِيَةٌ ، وَالسِّرُّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ ، الْحَلَالُ مَا أَحْلَلْتَ ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمْتَ ، وَالدِّينُ مَا شَرَعْتَ ، وَالْأَمْرُ مَا قَضَيْتَ ، وَالْخَلْقُ خَلْقُكَ ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ ، وَأَنْتَ اللَّهُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ ۔ أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، بِكُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ ، وَبِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ ، أَنْ تَقْبَلَنِي فِي هَذِهِ الْغَدَاةِ - أَوْ فِي هَذِهِ الْعَشِيَّةِ - وَأَنْ تُجِيرَنِي مِنَ النَّارِ بِقُدْرَتِكَ»
” اے اللہ ! جن کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، تو ان میں سب سے زیادہ حقدار ہے اور جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے ، تو ان سب سے زیادہ حقدار ہے ، جس سے مدد مانگی جاتی ہے ، تو ان سب سے زیادہ مدد کرنے والا ہے اور جتنے بھی مالک ہیں ، تو ان سب سے زیادہ مہربان ہے جن سے بھی مانگا جاتا ہے ، تو ان سب سے زیادہ گنجائش والا ہے ، تو ایسا بادشاہ ہے کہ کوئی تیرا شریک نہیں ہے ، تو یکتا ہے جو ہلاکت کا شکار نہیں ہو گا ، تیری ذات کے علاوہ ہر چیز ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ، تیری اجازت کے بغیر تیری اطاعت نہیں کی جا سکتی اور تیرے علم کے بغیر تیری نافرمانی نہیں کی جا سکتی ، تیری اطاعت کی جائے تو ، تو اسے قبول کرتا ہے اور اگر تیری نافرمانی کی جائے تو ، تو مغفرت کر دیتا ہے ، تو سب سے زیادہ قریب ہے ، گواہ ہے ، سب سے زیادہ قریب محافظ ہے ، تو دانتوں سے پہلے حائل ہے ، تو نے پیشانیاں تھامی ہوئی ہیں ، تو قدموں کے نشانات نوٹ کرتا ہے آخری وقت طے کرتا ہے ، دل تیری طرف رجوع کرتے ہیں ، تیرے سامنے پوشیدہ چیز بھی علانیہ ہوتی ہے ، حلال وہ ہے جسے تو نے حلال قرار دیا ہو ، حرام وہ ہے جسے تو نے حرام قرار دیا ہو ، دین وہ ہے جسے تو نے مشروع قرار دیا ہو ، امر وہ ہے جس کا تو نے فیصلہ دیا ہو ، ساری مخلوق تیری مخلوق ہے ، اور ہر بندہ ، تیرا بندہ ہے ، تو اللہ ہے ، بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے ، میں تیری ذات کے نور کے وسیلے سے تجھ سے دعا مانگتا ہوں ، جس نور کے ذریعے آسمان اور زمین روشن ہیں ، اور ہر اس حق کے حوالے سے تجھ سے دعا مانگتا ہوں ، جو تیرا ہے ، اور مانگنے والوں کا تجھ پر جو حق ہے ، اس کے حوالے سے بھی یہ دعا مانگتا ہوں کہ تو اس صبح ۔ یا شام میں ۔ میری طرف سے قبول کر لے اور اپنی قدرت کے ذریعے مجھے جہنم سے بچا لے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8027)»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ لِمَ سَمَّى اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَهُ ( الَّذِي وَفَّى ) ؟ لِأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كُلَّمَا أَصْبَحَ وَأَمْسَى : فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ " . حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا نام اپنا ” خلیل “ کیوں رکھا ہے ؟ جس نے ( عہد یا ذمہ داری کو ) پورا کیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صبح اور شام کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے :
«فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ» ” اور میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، جب تم شام کرتے ہو ، جب تم صبح کرتے ہو ۔ “
راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے مکمل آیات تلاوت کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (92/201) اخرجه احمد فى المسند (419/3)»
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِعَظَمَتِهِ ; كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، وَاسْمُهُ إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھ لے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِعَظَمَتِهِ» ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کی عظمت کے آگے ہر چیز سرنگوں ہے ۔ “ تو اس کے لئے نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے ، جس کا نام اسماعیل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17011
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (370/23)»
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّهُ كَانَ لَهُ جُرْنٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يَنْقُصُ ، فَحَرَسَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ شِبْهِ الْغُلَامِ الْمُحْتَلِمِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَقَالَ : مَا أَنْتَ ؟ جِنِّيٌّ أَمْ إِنْسِيٌّ ؟ قَالَ : جِنِّيٌّ ، قَالَ : فَنَاوِلْنِي يَدَكَ ، فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَإِذَا يَدُهُ يَدُ كَلْبٍ ، وَشَعْرُهُ شَعْرُ كَلْبٍ ، قَالَ : هَذَا خَلْقُ الْجِنِّ ، قَالَ : قَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ أَنَّهُ مَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَشَدُّ مِنِّي ، قَالَ : فَمَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّكَ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ ، فَجِئْنَا نُصِيبُ مِنْ طَعَامِكَ ، قَالَ : فَمَا يُنْجِينَا مِنْكُمْ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ : ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) مَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُصْبِحَ ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُمْسِيَ . ¤ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " صَدَقَ الْخَبِيثُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي التَّفْسِيرِ ، وَفِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کا کھجوروں کا ایک گودام تھا ، جس میں سے کھجوریں کم ہوتی جاتی تھیں ، ایک رات وہ اس کی پہریداری کرنے لگے تو ایک کمسن لڑکے کی طرح کا ایک جانور نظر آیا ، اس نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے اسے سلام کا جواب دیا اور دریافت کیا : تم کیا ہو ؟ جن ہو یا انسان ہو ؟ اس نے جواب دیا : جن ہوں ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ ، اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، تو اس کا ہاتھ کتے کے ہاتھ کی مانند تھا ، اور اس کے بال کتے کے بالوں کی مانند تھے ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا جنوں کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے ؟ اس نے کہا: جنات یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہو ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ آپ صدقہ کرنے کو پسند کرتے ہیں ، تو ہم آ گئے ، تاکہ آپ کے اناج میں سے کچھ حاصل کر لیں ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سی چیز ہمیں ( یعنی انسانوں کو ) تم لوگوں ( یعنی جنات یا شیاطین ) سے نجات دے سکتی ہے ؟ اس نے جواب دیا : ” یہ آیت جو سورہ بقرہ میں موجود ہے ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ( یعنی آیت الکرسی ) جو شخص شام کے وقت اسے پڑھ لے گا ، وہ صبح تک ہم سے محفوظ رہے گا ، اور جو شخص صبح کے وقت اسے پڑھ لے گا ، وہ شام تک ہم سے محفوظ رہے گا ۔ “ اگلے دن صبح ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس خبیث نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ” کتاب التفسیر “ میں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17012
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ تعددِ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (541)»
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ : مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي بَيْتٍ ; لَمْ يَدْخُلْ ذَلِكَ الْبَيْتَ شَيْطَانٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى يُصْبِحَ ، أَرْبَعَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِهَا ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ ، وَآيَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَخَوَاتِيمَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” جو شخص سورہ بقرہ کی 10 آیات گھر میں تلاوت کر لے گا ، اُس رات میں صبح ہونے تک اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہو گا ، چار آیات اس کے شروع کی ہیں ، ایک آیت الکرسی ہے دو آیتیں اس کے بعد والی ہیں ، اور اس کی اختتامی آیات ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17013
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (6873)»
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ مَا انْصَرَفْنَا مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهِ ، قَالَ : ادْخُلُوا ، قُلْنَا : نَنْتَظِرُ هُنَيْهَةً لَعَلَّ بَعْضَ أَهْلِ الدَّارِ لَهُ حَاجَةٌ ، فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ ، وَقَالَ : لَقَدْ ظَنَنْتُمْ يَا آلَ عَبْدِ اللَّهِ ، غَفْلَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا جَارِيَةُ ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالَتْ : لَا . [ ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةُ : انْظُرِي ، هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالَتْ : لَا ] ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّالِثَةَ : انْظُرِي هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لَنَا هَذَا الْيَوْمَ ، وَأَقَالَنَا فِيهِ عَثَرَاتِنَا - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَلَمْ يُعَذِّبْنَا بِالنَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : میں نے ایک دن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، یہ فجر کی نماز سے واپس آنے کے بعد کی بات ہے ، ہم نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے فرمایا : تم لوگ اندر آ جاؤ ! ہم نے سوچا ہمیں کچھ دیر انتظار کر لینا چاہیے کیونکہ ہو سکتا ہے ، گھر والوں کو ان سے کوئی کام ہو ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تسبیح پڑھتے ہوئے تشریف لائے ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ عبداللہ کے گھر والے غفلت کا شکار ہوں گے ؟ پھر انہوں نے فرمایا ہے : اے لڑکی ! تم دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے ؟ اس نے بتایا : جی نہیں ! پھر انہوں نے دوسری مرتبہ اس سے کہا: تم دیکھو کہ سورج نکل آیا ہے ؟ اس نے بتایا : جی نہیں ! پھر انہوں نے تیسری مرتبہ اس سے کہا: تم دیکھو ! کیا سورج نکل آیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے لیے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے ، جس نے ہمیں یہ دن عطا کیا ہے ، اور اس دن میں ہماری کوتاہیوں سے درگزر کیا ہے ۔ “
راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اور اس نے ہمیں آگ کے ذریعے عذاب نہیں دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17014
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8901)»
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا ، وَمِنْ أَبِي بَكْرٍ مِرَارًا ، وَمِنْ عُمَرَ مِرَارًا ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِي ، وَأَنْتَ تَهْدِينِي ، وَأَنْتَ تُطْعِمُنِي ، وَأَنْتَ تَسْقِينِي ، وَأَنْتَ تُمِيتُنِي ، وَأَنْتَ تُحْيِينِي . لَمْ يَسَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . ¤ قَالَ : فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَقُلْتُ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا ، وَمِنْ أَبِي بَكْرٍ مِرَارًا ، وَمِنْ عُمَرَ مِرَارًا ؟ قَالَ : بَلَى . فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتُ كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَعْطَاهُنَّ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَكَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعَ مِرَارٍ ، فَلَا يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے ؟ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ پڑھے :
«اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِي ، وَأَنْتَ تَهْدِينِي ، وَأَنْتَ تُطْعِمُنِي ، وَأَنْتَ تَسْقِينِي ، وَأَنْتَ تُمِيتُنِي ، وَأَنْتَ تُحْيِينِي»
” اے اللہ ! تو نے مجھے پیدا کیا ہے ، تو نے مجھے ہدایت دی ہے ، تو نے مجھے کھلایا ہے ، تو نے مجھے پلایا ہے ، تو مجھے موت دے گا ، تو مجھے دوبارہ زندہ کرے گا ۔ “
تو وہ شخص اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگے گا ، اللہ تعالیٰ وہ چیز عطا کر دے گا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے کہا: کیا میں آپ کو ایک حدیث بیان نہ کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی مرتبہ سنی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کئی مرتبہ سنی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کئی مرتبہ سنی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی ، تو انہوں نے فرمایا : میرے ماں باپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو جائیں ، یہ وہ کلمات ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے تھے اور وہ روزانہ سات مرتبہ ان کے ذریعے دعا کرتے تھے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگتے تھے ، اللہ تعالیٰ وہ انہیں عطا کر دیتا تھا ۔ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17015
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1032)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ ، وَمَلَائِكَتَكَ ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ ، بِأَنَّكَ أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ; إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ مِنْ ذَنْبٍ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ ، فَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي لَيْلَتِهِ تِلْكَ " . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ شَيْخُ الْإِسْلَامِ الْمِزِّيُّ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى رِوَايَةِ ابْنِ دَاسَةَ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، وَعَزَاهُ إِلَى التِّرْمِذِيِّ ، وَكَذَلِكَ عَزَى رِوَايَةَ مَكْحُولٍ عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْمَتْنِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا مُتْنُ حَدِيثِ مَكْحُولٍ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " . الْحَدِيثَ . وَلَمْ أَجِدْ هَذَا فِي نُسْخَتِي ، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ حَصَلَ الْوَهْمُ فِي حَدِيثِ مُسْلِمِ بْنِ زِيَادٍ كَمَا حَصَلَ فِي حَدِيثِ مَكْحُولٍ ، فَكَتَبْتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھ لے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ ، وَمَلَائِكَتَكَ ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ ، بِأَنَّكَ أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ»
” اے اللہ ! میں نے ایسی حالت میں صبح کی ، کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں ، تیرے عرش کو اٹھانے والوں کو گواہ بناتا ہوں ، اور تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں ، کہ بے شک تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے ، اس شخص نے اس دن میں ، جو بھی گناہ کیا ہو اور اگر وہ شخص شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس رات کے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شیخ الاسلام مزی نے اس روایت کی نسبت کتاب ” الاطراف “ میں ابن داسہ کی ، امام ابوداؤد سے نقل کردہ روایت کی طرف کی ہے ، اور انہوں نے اس کی نسبت امام ترمذی کی طرف بھی کی ہے ، اسی طرح مکحول کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کردہ اس متن کی نسبت ، انہوں نے امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، جب میں نے اس بات کا جائزہ لیا ، تو مکحول کی نقل کردہ روایت کے متن میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “ میں نے یہ روایت اپنے پاس موجود نسخے میں نہیں پائی ہے ، تو مجھے یہ وہم ہوا کہ کہیں اس میں مسلم بن زیاد کی نقل کردہ روایت میں کوئی وہم نہ آ گیا ہو ، جس طرح مکحول کی نقل کردہ روایت میں آ گیا تھا ، تو میں نے اس روایت کو نوٹ کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَمْسَى قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِالنَّهَارِ ، وَجَاءَ بِاللَّيْلِ ، وَنَحْنُ فِي عَافِيَةٍ . اللَّهُمَّ هَذَا خَلْقٌ قَدْ جَاءَ فَمَا عَمِلْتُ فِيهِ مِنْ سَيِّئَةٍ فَتَجَاوَزْ عَنْهَا ، وَمَا عَمِلْتُ فِيهِ مِنْ حَسَنَةٍ فَتَقَبَّلْهَا وَأَضْعِفْهَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً . اللَّهُمَّ إِنَّكَ بِجَمِيعِ حَاجَتِي عَالِمٌ ، وَإِنَّكَ عَلَى جَمِيعِ نُجْحِهَا قَادِرٌ ، اللَّهُمَّ أَنْجِحِ اللَّيْلَةَ كُلَّ حَاجَةٍ لِي ، وَلَا تَزِدْنِي فِي دُنْيَايَ ، وَلَا تَنْقُصْنِي فِي آخِرَتِي " . ¤ وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :
«أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِالنَّهَارِ ، وَجَاءَ بِاللَّيْلِ ، وَنَحْنُ فِي عَافِيَةٍ ۔ اللَّهُمَّ هَذَا خَلْقٌ قَدْ جَاءَ فَمَا عَمِلْتُ فِيهِ مِنْ سَيِّئَةٍ فَتَجَاوَزْ عَنْهَا ، وَمَا عَمِلْتُ فِيهِ مِنْ حَسَنَةٍ فَتَقَبَّلْهَا وَأَضْعِفْهَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً ۔ اللَّهُمَّ إِنَّكَ بِجَمِيعِ حَاجَتِي عَالِمٌ ، وَإِنَّكَ عَلَى جَمِيعِ نُجْحِهَا قَادِرٌ ، اللَّهُمَّ أَنْجِحِ اللَّيْلَةَ كُلَّ حَاجَةٍ لِي ، وَلَا تَزِدْنِي فِي دُنْيَايَ ، وَلَا تَنْقُصْنِي فِي آخِرَتِي» ” ہم نے شام کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں شام ہو گئی ، جو ایک ہے اور زبردست ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو دن کو لے گیا اور رات کو لے آیا ، اور ہم عافیت میں ہیں ، اے اللہ ! یہ مخلوق آ گئی ہے ، میں نے اس میں جس برائی کا ارتکاب کیا ہو ، تو اس سے درگزر کرنا ، اور میں نے اس میں جس اچھائی پر عمل کیا ہو ، تو اسے قبول کرنا اور اس کا اجر کئی گنا کر دینا ، اے اللہ ! تو میری تمام حاجتوں کے بارے میں علم رکھتا ہے ، اور تو ان سب کو پورا کرنے پر قادر ہے ، اے اللہ ! تو اس رات میں میری ہر حاجت کو پورا کر دینا اور میری دنیا میں اضافہ نہ کرنا ، اور میری آخرت میں کمی نہ کرنا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : جب صبح ہوتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17017
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ ، مَنْ قَالَهُنَّ عُصِمَ مِنْ كُلِّ سَاحِرٍ وَكَاهِنٍ وَشَيْطَانٍ وَحَاسِدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
«أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ» ” ہم نے شام کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں شام ہو گئی ، میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ، جس نے آسمان کو اس چیز سے روکا ہوا ہے کہ وہ زمین پر گر جائے ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ، میں پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ہے ، اور بنایا ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو شخص یہ کلمات پڑھ لے گا ، وہ ہر جادوگر ، کاہن ، شیطان اور حاسد سے محفوظ رہے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17018
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَصْبَحَ يَقُولُ : " أَصْبَحْتُ يَا رَبِّ أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ مَلَائِكَتَكَ وَأَنْبِيَاءَكَ وَرُسُلَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ عَلَى شَهَادَتِي عَلَى نَفْسِي ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأُؤْمِنُ بِكَ ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ " . يَقُولُهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ أَبِي جَمِيلٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَحَدِيثٌ بَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے :
«أَصْبَحْتُ يَا رَبِّ أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ مَلَائِكَتَكَ وَأَنْبِيَاءَكَ وَرُسُلَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ عَلَى شَهَادَتِي عَلَى نَفْسِي ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأُؤْمِنُ بِكَ ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ» ” اے میرے پروردگار ! میں نے صبح کر لی ہے ، میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرے فرشتوں کو اور تیرے انبیاء کو ، تیرے رسولوں کو اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں ، یہ گواہی میری اپنی ذات کے بارے میں ہے ، بے شک میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو اللہ ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی ایک معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور تجھ پر توکل کرتا ہوں ۔ “
یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوجمیل انصاری کے حوالے سے ، قاسم سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17019
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - قَالَ : " مَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصًا لَكَ دِينِي ، أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ شَرِّ عَمَلِي ، وَأَسْتَغْفِرُكُ لِذَنْبِي لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَمَنْ قَالَهَا فِي يَوْمِهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھ لے :
«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصًا لَكَ دِينِي ، أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ شَرِّ عَمَلِي ، وَأَسْتَغْفِرُكُ لِذَنْبِي لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ایک معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، تو میرا پروردگار ہے ، اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں تجھ پر ایمان لایا ، اپنے دین کو تیرے لئے خالص کرتے ہوئے ، میں نے تیرے عہد اور تیرے وعدے پر اپنی استطاعت کے مطابق رہتے ہوئے صبح کی ، میں تیری بارگاہ میں اپنے عمل کے شر کے حوالے سے توبہ کرتا ہوں اور اپنے ذنب کی تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ، کیونکہ گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے ۔ “ یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ پڑھا کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : ” جو شخص دن میں انہیں پڑھ لے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے جہنم پر حرام قرار دیدے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَفْتَحَ أَوَّلَ نَهَارِهِ بِخَيْرٍ ، وَخَتَمَهُ بِخَيْرٍ ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَلَائِكَتِهِ : لَا تَكْتُبُوا عَلَيْهِ مَا بَيْنَ ذَلِكَ مِنَ الذُّنُوبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ الْحَجَّاجِ بْنِ يَحْيَى الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْأَحْمُوسِيِّ ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ الْبَهْزَانِيُّ الشَّامِيُّ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ إِيَّاهُ ، فَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص دن کا آغاز بھلائی کے ذریعے کرتا ہے ، اور اس کا اختتام بھلائی کے ذریعے کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے یہ فرماتا ہے : تم اس کے درمیان کے گناہوں کو نوٹ نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے حجاج بن یحیی مؤذن کے حوالے سے عمر بن عمرو بن عبداحموسی اور جراح بن یحیی سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور عمر بن عمرو کے حوالے سے ، صرف جراح بن ملیح بہزانی شامی نے روایات نقل کی ہیں ، اگر یہ وہی ہے تو پھر یہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17021
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ عَشْرًا وَحِينَ يُمْسِي عَشْرًا أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَإِسْنَادُ أَحَدِهِمَا جَيِّدٌ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجے اور شام کے وقت دس مرتبہ بھیجے تو قیامت کے دن اُسے میری شفاعت نصیب ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند عمدہ ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17022
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید