حدیث نمبر: 17010
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ لِمَ سَمَّى اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَهُ ( الَّذِي وَفَّى ) ؟ لِأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كُلَّمَا أَصْبَحَ وَأَمْسَى : فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ " . حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا نام اپنا ” خلیل “ کیوں رکھا ہے ؟ جس نے ( عہد یا ذمہ داری کو ) پورا کیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صبح اور شام کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے : «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ» ” اور میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، جب تم شام کرتے ہو ، جب تم صبح کرتے ہو ۔ “
راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے مکمل آیات تلاوت کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (92/201) اخرجه احمد فى المسند (419/3)»