حدیث نمبر: 17016
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ ، وَمَلَائِكَتَكَ ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ ، بِأَنَّكَ أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ; إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ مِنْ ذَنْبٍ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ ، فَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي لَيْلَتِهِ تِلْكَ " . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ شَيْخُ الْإِسْلَامِ الْمِزِّيُّ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى رِوَايَةِ ابْنِ دَاسَةَ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، وَعَزَاهُ إِلَى التِّرْمِذِيِّ ، وَكَذَلِكَ عَزَى رِوَايَةَ مَكْحُولٍ عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْمَتْنِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا مُتْنُ حَدِيثِ مَكْحُولٍ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " . الْحَدِيثَ . وَلَمْ أَجِدْ هَذَا فِي نُسْخَتِي ، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ حَصَلَ الْوَهْمُ فِي حَدِيثِ مُسْلِمِ بْنِ زِيَادٍ كَمَا حَصَلَ فِي حَدِيثِ مَكْحُولٍ ، فَكَتَبْتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھ لے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ ، وَمَلَائِكَتَكَ ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ ، بِأَنَّكَ أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ»
” اے اللہ ! میں نے ایسی حالت میں صبح کی ، کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں ، تیرے عرش کو اٹھانے والوں کو گواہ بناتا ہوں ، اور تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں ، کہ بے شک تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے ، اس شخص نے اس دن میں ، جو بھی گناہ کیا ہو اور اگر وہ شخص شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس رات کے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شیخ الاسلام مزی نے اس روایت کی نسبت کتاب ” الاطراف “ میں ابن داسہ کی ، امام ابوداؤد سے نقل کردہ روایت کی طرف کی ہے ، اور انہوں نے اس کی نسبت امام ترمذی کی طرف بھی کی ہے ، اسی طرح مکحول کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کردہ اس متن کی نسبت ، انہوں نے امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، جب میں نے اس بات کا جائزہ لیا ، تو مکحول کی نقل کردہ روایت کے متن میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “ میں نے یہ روایت اپنے پاس موجود نسخے میں نہیں پائی ہے ، تو مجھے یہ وہم ہوا کہ کہیں اس میں مسلم بن زیاد کی نقل کردہ روایت میں کوئی وہم نہ آ گیا ہو ، جس طرح مکحول کی نقل کردہ روایت میں آ گیا تھا ، تو میں نے اس روایت کو نوٹ کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف