مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : " أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - أَوْ أَمْسَيْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے : «أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - أَوْ أَمْسَيْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ - وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ»
” ہم نے اسلام کی فطرت پر صبح کی ہے ، یا اسلام کی فطرت پر شام کی ہے ، اور اخلاص کے کلمہ پر ، اور اپنے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ، اور اپنے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر صبح یا شام کی ہے ، جو صحیح راستے پر رہنے والے مسلمان تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔