حدیث نمبر: 17008
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ : " مَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَسْمَعِي مَا أُوصِيكِ بِهِ ؟ ! أَنْ تَقُولِي إِذَا أَصْبَحْتِ وَإِذَا أَمْسَيْتِ : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تمہارے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ کہ تم اس بات کو نہیں سنتی ہو کہ جو میں تمہیں تلقین کرنے لگا ہوں ، تم صبح اور شام کے وقت یہ کلمات پڑھو : «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ»
” اے حی اور اے قیوم ! میں تیری رحمت کے وسیلے سے مدد مانگتا ہوں ، تو میرے سارے کاموں کو ٹھیک کر دے اور پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی مجھے میرے حوالے نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عثمان بن موہب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3107)»