مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّهُ كَانَ لَهُ جُرْنٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يَنْقُصُ ، فَحَرَسَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ شِبْهِ الْغُلَامِ الْمُحْتَلِمِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَقَالَ : مَا أَنْتَ ؟ جِنِّيٌّ أَمْ إِنْسِيٌّ ؟ قَالَ : جِنِّيٌّ ، قَالَ : فَنَاوِلْنِي يَدَكَ ، فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَإِذَا يَدُهُ يَدُ كَلْبٍ ، وَشَعْرُهُ شَعْرُ كَلْبٍ ، قَالَ : هَذَا خَلْقُ الْجِنِّ ، قَالَ : قَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ أَنَّهُ مَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَشَدُّ مِنِّي ، قَالَ : فَمَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّكَ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ ، فَجِئْنَا نُصِيبُ مِنْ طَعَامِكَ ، قَالَ : فَمَا يُنْجِينَا مِنْكُمْ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ : ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) مَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُصْبِحَ ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُمْسِيَ . ¤ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " صَدَقَ الْخَبِيثُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي التَّفْسِيرِ ، وَفِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کا کھجوروں کا ایک گودام تھا ، جس میں سے کھجوریں کم ہوتی جاتی تھیں ، ایک رات وہ اس کی پہریداری کرنے لگے تو ایک کمسن لڑکے کی طرح کا ایک جانور نظر آیا ، اس نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے اسے سلام کا جواب دیا اور دریافت کیا : تم کیا ہو ؟ جن ہو یا انسان ہو ؟ اس نے جواب دیا : جن ہوں ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ ، اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، تو اس کا ہاتھ کتے کے ہاتھ کی مانند تھا ، اور اس کے بال کتے کے بالوں کی مانند تھے ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا جنوں کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے ؟ اس نے کہا: جنات یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہو ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ آپ صدقہ کرنے کو پسند کرتے ہیں ، تو ہم آ گئے ، تاکہ آپ کے اناج میں سے کچھ حاصل کر لیں ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سی چیز ہمیں ( یعنی انسانوں کو ) تم لوگوں ( یعنی جنات یا شیاطین ) سے نجات دے سکتی ہے ؟ اس نے جواب دیا : ” یہ آیت جو سورہ بقرہ میں موجود ہے ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ( یعنی آیت الکرسی ) جو شخص شام کے وقت اسے پڑھ لے گا ، وہ صبح تک ہم سے محفوظ رہے گا ، اور جو شخص صبح کے وقت اسے پڑھ لے گا ، وہ شام تک ہم سے محفوظ رہے گا ۔ “ اگلے دن صبح ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس خبیث نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ” کتاب التفسیر “ میں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔