مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَصْبَحَ فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَصْبَحْتُ وَشَهِدْتُ بِمَا شَهِدْتَ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ ، وَأَشْهَدْتَ مَلَائِكَتَكَ ، وَأُولِي الْعِلْمِ ، وَمَنْ لَمْ يَشْهَدْ بِمَا شَهِدْتَ ، فَاكْتُبْ شَهَادَتِي مَكَانَ شَهَادَتِهِ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، وَإِلَيْكَ يَعُودُ السَّلَامُ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَنْ تَسْتَجِيبَ لَنَا دَعْوَتَنَا ، وَأَنْ تُعْطِيَنَا رَغْبَتَنَا ، وَأَنْ تُغْنِيَنَا عَمَّنْ أَغْنَيْتَهُ عَنَّا مِنْ خَلْقِكَ . اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعِيشَتِي ، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مُنْقَلَبِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : صبح کے وقت جب سورج طلوع ہو جاتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ أَصْبَحْتُ وَشَهِدْتُ بِمَا شَهِدْتَ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ ، وَأَشْهَدْتَ مَلَائِكَتَكَ ، وَأُولِي الْعِلْمِ ، وَمَنْ لَمْ يَشْهَدْ بِمَا شَهِدْتَ ، فَاكْتُبْ شَهَادَتِي مَكَانَ شَهَادَتِهِ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، وَإِلَيْكَ يَعُودُ السَّلَامُ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَنْ تَسْتَجِيبَ لَنَا دَعْوَتَنَا ، وَأَنْ تُعْطِيَنَا رَغْبَتَنَا ، وَأَنْ تُغْنِيَنَا عَمَّنْ أَغْنَيْتَهُ عَنَّا مِنْ خَلْقِكَ ۔ اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعِيشَتِي ، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مُنْقَلَبِي»
” اے اللہ ! میں نے صبح کر لی اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، جس کی گواہی تو نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے ، اور تو نے اپنے فرشتوں اور علم والوں کو اس پر گواہ بنایا ہے ، اور ان کو بھی گواہ بنایا ہے جو اس بات کی گواہی نہیں دیتے ، جو گواہی تو نے دی ہے ، تو میری گواہی کو اس گواہی کی جگہ نوٹ کر لے ، اے اللہ ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی تیری طرف سے عطا ہوتی ہے اور سلامتی تیری طرف لوٹ جاتی ہے ، اے جلال اور اکرام والے ! ( یعنی اور میں یہ دعا کرتا ہوں ) کے تو ہماری دعا کو قبول کر لے ، اور ہم جس میں رغبت رکھتے ہیں ، وہ ہمیں عطا کر دے اور تو ہمیں ہر اس شخص سے بے نیاز کر دے جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے ہم سے بے نیاز کیا ہے ، اے اللہ ! تو میرے دین کو ٹھیک رکھنا ، جو میرے معاملے کے بچاؤ کی بنیاد ہے ، اور میری دنیا کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جس میں ، میں نے زندگی گزارنی ہے ، اور میری آخرت کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جس کی طرف میں نے لوٹ کے جانا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔