مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ; كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَابٍ ، وَكُنَّ لَهُ مَسْلَمَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ ، وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ ; فَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي فَمِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ بَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات دس مرتبہ پڑھ لے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک مرتبہ اس کے پڑھنے کے عوض میں اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کرتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند کرتا ہے اور یہ کلمات اس کے لئے 10 غلام آزاد کرنے کی مانند ہو جاتے ہیں ، اور یہ کلمات اس کے لیے دن کے ابتدائی حصے سے لے کر آخری حصے تک سلامتی کا ذریعہ بن جاتے ہیں جبکہ وہ اس دن میں کوئی ایسا عمل نہ کرے جو ان کو مغلوب کر دے ، اگر وہ شخص شام کے وقت ان کلمات کو پڑھے ، تو ایسا ہی ( یعنی اجر و ثواب ) حاصل ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، طبرانی کی بعض اسانید بھی اسی طرح ہیں ۔