مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَيَّانَ الْمُحَارِبِيِّ [ عَنْ أَبَانَ الْمُحَارِبِيِّ ] - وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّي ، لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; إِلَّا ظَلَّ يَغْفِرُ لَهُ ذُنُوبَهُ حَتَّى يُمْسِيَ . وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى ; بَاتَ تُغْفَرُ لَهُ ذُنُوبُهُ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤حکم بن حیان محاربی ، سیدنا ابان محاربی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ، جو عبدالقیس قبیلے کے اس وفد میں شامل تھے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان بندہ صبح کے وقت یہ پڑھ لیتا ہے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّي ، لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو میرا پروردگار ہے ، میں کسی کو اس کا شریک قرار نہیں دیتا ہوں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو شام ہونے تک اس کے گناہوں کی مغفرت ہوتی رہے گی ، اور اگر کوئی شخص شام کے وقت ان کلمات کو پڑھ لے گا تو صبح ہونے تک اس کے گناہوں کی مغفرت ہوتی رہے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ متروک ہے ۔