مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَقَالُوا : هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَدَاوَلُهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيًّا ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَسَمَّى خَادِمَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَابِقًا . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي سَلَّامٍ خَادِمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ الْمِزِّيُّ : إِنَّ الْأَوَّلَ هُوَ الصَّحِيحُ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤ابوسلام بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا گزر مسجد ” حمص “ سے ہوا ، لوگوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں ، راوی کہتے ہیں ، میں اُٹھ کر ان کے پاس گیا ، میں نے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، اور آپ کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی اور واسطہ نہ ہو ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو مسلمان بندہ صبح اور شام کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے : «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيًّا»
” میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں ) ۔ “
تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس شخص کو راضی کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کا نام ” سابق “ ذکر کیا ہے ۔
امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : نبی اگرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم سیدنا ابوسلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے ، امام مزی کہتے ہیں : پہلا قول درست ہے ۔ امام أحمد اور طبرانی کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔