کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نماز میں اور اس کے بعد دعا مانگنا
حدیث نمبر: 16963
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ ، وَإِذَا انْصَرَفَ الْمُنْصَرِفُ مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَقُلِ : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، وَزَوِّجْنِي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : يَا وَيْحَ هَذَا ، أَعَجَزَ أَنْ يَسْتَجِيرَ بِاللَّهِ مِنْ جَهَنَّمَ ؟ ! وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَا وَيْحَ هَذَا ، أَعَجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ؟ ! وَقَالَتِ الْحُورُ الْعِينُ : أَعْجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ أَنْ يُزَوِّجَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ - وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَّاشِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب نماز کھڑی ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا مستجاب ہوتی ہے ، اور جب نماز ختم کرنے والا شخص نماز ختم کر لیتا ہے ، اور وہ یہ نہیں کہتا ہے :
«اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، وَزَوِّجْنِي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ»
اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا فرما ، اور مجھے جنت میں داخل کر دے اور حورعین کے ساتھ میری شادی کروا دے ۔ “
تو فرشتے کہتے ہیں : اس کا ستیاناس ہو ! کیا یہ اس بات سے عاجز آ گیا ؟ کہ یہ جہنم سے اللہ کی پناہ مانگے اور جنت یہ کہتی ہے : اس شخص کا ستیاناس ہو ، کیا یہ اس بات سے عاجز آ گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگے اور حورعین یہ کہتی ہیں : کیا شخص اس بات سے عاجز آ گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگے کہ ” اللہ تعالیٰ اس کی شادی حورعین سے کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس سے پہلے یہ کتاب الصلوٰۃ میں گزر چکی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16963
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7496)»
حدیث نمبر: 16964
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي ذِاتِي ، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَازِنِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں وضو کا پانی لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، نماز ادا کی اور پھر یہ کہا:
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي ذِاتِي ، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي»
” اے اللہ ! تو میرے دین کو میرے لئے ٹھیک کر دے اور میری ذات میں ، میرے لئے گنجائش رکھ دے اور میرے رزق میں میرے لئے برکت رکھ دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عباد بن عباد مازنی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام طبرانی نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16964
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7273) اخرجه احمد فى المسند (399/4)»
حدیث نمبر: 16965
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانٍ - يَعْنِي الْفَلَسْطِينِيَّ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن حسان فلسطینی ، بنو کنانہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : فتح مکہ کے سال میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تو میں نے آپ ملا ہم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ” اے اللہ ! تو قیامت کے دن مجھے رسوا نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (234/4)»
حدیث نمبر: 16966
وَعَنْ زَاذَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاتِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَتُبْ عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ " . مِائَةَ مَرَّةٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زاذان ایک انصاری صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَتُبْ عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ»
” اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ، تو میری توبہ قبول کر لے ، بیشک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے ۔ “
( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ کلمات آپ نے 100 مرتبہ پڑھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (371/5)»
حدیث نمبر: 16967
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ : رَمَقَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعُبَيْدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عبید بن قعقاع بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بغور جائزہ لے رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے اور آپ نماز کے دوران یہ پڑھ رہے تھے :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي»
” اے اللہ ! تو میرے ذنب کی مغفرت کر دے اور میرے گھر کو میرے لئے کشادہ کر دے ، اور جو رزق تو مجھے عطا کرے گا اس میں میرے لئے برکت رکھ دے ۔ “

یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور عبید بن قعقاع نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16967
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (63/4)»
حدیث نمبر: 16968
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّهَا فَقَدَتْ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَضْجَعِهِ ، فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، وَهُوَ يَقُولُ : " رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا ، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ سَعِيدٍ الرَّاوِي عَنْ عَائِشَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر غیر موجود پایا ( اندھیرے میں ) انہوں نے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹٹولا ، تو اُن کا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایام اس وقت سجدے کی حالت میں تھے اور یہ پڑھ رہے تھے :
«رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا ، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا»
” اے اللہ ! تو میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری عطا کر دے ، اور اسے پاک و صاف کر دے ، تو ہی اسے پاک و صاف کر سکتا ہے ، تو اس کا نگران اور اس کا مالک ہے ۔ “

یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کرنے والے راوی صالح بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16968
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (209/6)»
حدیث نمبر: 16969
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ ، أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ غَيْرَ قَوْلِهَا : فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ ، أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ»
” اے اللہ ! اے جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار ! تو مجھے جہنم کی تپش اور قبر کے عذاب سے پناہ دیدے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” ہر نماز کے بعد ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط نے اپنے استاد علی بن سعید رازی سے نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16969
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16970
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةً فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَمُحَمَّدٍ ، أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح بن اسامہ اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، تو میں نے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا :
«رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَمُحَمَّدٍ ، أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ»
” اے جبرائیل اور میکائیل اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! تو مجھے جہنم سے بچا لے ۔ “

یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16970
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (520)»
حدیث نمبر: 16971
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى وَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ مَسَحَ بِيَمِينِهِ عَلَى رَأْسِهِ وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ، اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنا دایاں ہاتھ اپنے سر پر رکھتے تھے اور یہ پڑھتے تھے :
«بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ، اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ»
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اے اللہ ! تو مجھ سے پریشانی اور غم کو دور کر دے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3100)»
حدیث نمبر: 16972
وَفِي رِوَايَةٍ : مَسَحَ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى وَقَالَ فِيهَا : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهِ زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو پیشانی پر رکھتے تھے اور پھر یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ»
” اے اللہ ! مجھ سے پریشانی اور غم کو دور کر دے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ” زیدعمی“ ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16972
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16973
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً مَكْتُوبَةً قَطُّ إِلَّا قَالَ حِينَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ عَمَلٍ يُخْزِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ صَاحِبٍ يُرْدِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ أَمَلٍ يُلْهِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ فَقْرٍ يُنْسِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ غِنًى يُطْغِينِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصَمُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ہمیں فرض نماز پڑھاتے تھے ، تو جب آپ ہماری طرف رخ کرتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ عَمَلٍ يُخْزِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ صَاحِبٍ يُرْدِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ أَمَلٍ يُلْهِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ فَقْرٍ يُنْسِينِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ غِنًى يُطْغِينِي»
” اے اللہ ! میں ہر ایسے عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو مجھے رسوائی کا شکار کر دے ، اور ہر ایسے ساتھی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو مجھے صدمہ پہنچائے اور ہر ایسی خواہش تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو مجھے غفلت کا شکار کر دے ، اور ہر ایسی غربت سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو مجھے بھلا دے ، اور ہر ایسی خوشحالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو مجھے سرکش بنا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ متروک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ اصم ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3102)»
حدیث نمبر: 16974
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ مَقَامِي بَيْنَ كَتِفَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَوَاتِيمَ عَمَلِي رِضْوَانَكَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ خِيَارَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے کھڑے ہونے کی جگہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان کے عین مقابل تھی ، جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے یہ دعا پڑھی : ا«للَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَوَاتِيمَ عَمَلِي رِضْوَانَكَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ خِيَارَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ»، ” اے اللہ ! تو میری عمر کا سب سے بہتر حصہ ، اس کا آخری حصہ بنا دے ، اور تو میرے عمل کا اختتام اپنی رضامندی والا بنا دے ، اور اے اللہ ! تو میرے دنوں میں سب سے بہتر اُس دن کو بنا دے ، جب میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16974
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16975
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ خَطَايَايَ ، وَذُنُوبِي كُلَّهَا ، اللَّهُمَّ وَأَنْعِشْنِي ، وَاجْبُرْنِي ، وَاهْدِنِي بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ، لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے تم لوگوں کے نبی کے پیچھے جب بھی نماز ادا کی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ پڑھتے تھے :« اللَّهُمَّ اغْفِرْ خَطَايَايَ ، وَذُنُوبِي كُلَّهَا ، اللَّهُمَّ وَأَنْعِشْنِي ، وَاجْبُرْنِي ، وَاهْدِنِي بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ، لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» ” اے اللہ ! تو میری سب خطاؤں اور ذنوب کی مغفرت کر دے ، اور مجھے عزم و ہمت دے ، اور مجھے مضبوط کر دے ، اور مجھے اچھے اعمال اور اخلاق پر ثابت قدم رکھ ، بے شک ان کے اچھے ( یعنی اچھے اعمال اور اخلاق ) کی طرف رہنمائی اور ان کے برے ( یعنی برے اخلاق اور اعمال ) سے پھیرنا ، صرف تو ہی کر سکتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر او معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16975
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
حدیث نمبر: 16976
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا ، وَعِلْمًا نَافِعًا ، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے بعد یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا ، وَعِلْمًا نَافِعًا ، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا»
” اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ رزق اور نفع دینے والے علم اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16976
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (735) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (305/23) اخرجه احمد فى المسند 294/6»
حدیث نمبر: 16977
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى يَسْمَعَ أَصْحَابُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ اتنی بلند آواز میں یہ کلمات پڑھتے تھے کہ آپ کے اصحاب کو آواز سنائی دیتی تھی ، آپ یہ پڑھتے تھے :
« اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً»
” اے اللہ ! تو میرے دین کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے ۔ “
یہ کلمات آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي»
” اے اللہ ! تو میری دنیا کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جس میں تو نے میری زندگی بنائی ہے ۔ “
یہ کلمات بھی آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ »
” اے اللہ ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں ، تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ کلمات آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
اے اللہ ! جسے تو عطا کرے ، اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے اور جسے تو عطا نہ کرے ، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے ، اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش نفع نہیں دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16978
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى يَسْمَعَ أَصْحَابُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي جَعَلْتَ إِلَيْهَا مَرْجِعِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ بلند آواز میں یہ کلمات پڑھتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے اصحاب سن لیتے تھے ، آپ یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً»
” اے اللہ ! تو میرے لئے میرے دین کو ٹھیک رکھنا ، جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے ۔ “
یہ کلمات آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي»
اے اللہ ! تو میرے لئے میری دنیا کو ٹھیک رکھنا ، جس میں تو نے میری زندگی بنائی ہے ۔ “
یہ کلمات آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي جَعَلْتَ إِلَيْهَا مَرْجِعِي»
” اے اللہ ! تو میرے لئے میری آخرت کو ٹھیک رکھنا ، جس کی طرف تو نے میرا لوٹنا بنایا ہے ۔ “
یہ کلمات آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔
«اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ»
” اے اللہ ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں ، تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں“ ۔
یہ آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔
«اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ»
” اے اللہ ! میں تیرے سزا دینے کے مقابلے میں ، تیرے معاف کرنے کی پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔
«اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
” اے اللہ ! جسے تو عطا کرے ، اس کے لیے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے ، اور جسے تو عطا نہ کرے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے ، اور تیرے مقابلے میں کسی کوشش کرنے والے کی کوشش نفع نہیں دیتی ہے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن اسحاق بن طلحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16979
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ قَبِيصَةُ بْنُ الْمُخَارِقِ الْهِلَالِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ - عَلَيْهِ السَّلَامَ - وَرَحَّبَ بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ يَا قَبِيصَةُ ؟ " . قَالَ : كَبُرَتْ سِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَرَقَّ جِلْدِي ، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي ، وَهُنْتُ عَلَى أَهْلِي ، وَعَجَزْتُ عَنْ أَشْيَاءَ كُنْتُ أَعْمَلُهَا ، فَعَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِنَّ وَأَوْجِزْ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا قَبِيصَةُ ، قُلْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا صَلَّيْتَ الْغَدَاةَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ أَمِنْتَ بِإِذْنِ اللَّهِ مِنَ الْعَمَى ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ . وَقُلِ : اللَّهُمَّ اهْدِنِي مِنْ عِنْدِكَ ، وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ ، وَانْشُرْ عَلَيَّ مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ " . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُنَّ وَقَبِيصَةُ يَعْقِدُ عَلَيْهِنَّ بِأَصَابِعِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَافِعٌ : أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب دیا اور انہیں خوش آمدید کہا: ، پھر آپ نے ان سے دریافت کیا : اے قبیصہ ! تم کیوں آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، جلد کمزور ہو گئی ہے ، قوت کم ہو گئی ہے ، اور میں اپنے اہل خانہ کے لیے کمزور ہو گیا ہوں ، اور اب میں بہت سے ایسے کام نہیں کر پاتا جو پہلے کر لیتا تھا ، تو آپ مجھے ایسے کلمات کی تعلیم دیجئے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے اور وہ مختصر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قبیصہ ! جب تم صبح کی نماز ادا کر لو تو تین مرتبہ یہ کلمات پڑھو : «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظمت والا ہے ، اور حمد اسی کے ساتھ مخصوص ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جب تم یہ کلمات پڑھ لو گے ، تو تم اللہ کے حکم کے تحت اندھے پن ، جذام اور برص سے محفوظ رہو گے ، اور تم یہ بھی پڑھنا : «اللَّهُمَّ اهْدِنِي مِنْ عِنْدِكَ ، وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ ، وَانْشُرْ عَلَيَّ مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ» ” اے اللہ ! تو اپنی طرف سے مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ ، اور اپنا فضل مجھ پر بہا دے اور اپنی رحمت مجھ پر پھیلا دے ، اور اپنی برکتیں مجھ پر نازل کر دے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو پڑھ رہے تھے اور سیدنا قبیصہ رضی اللہ عنہ اپنی انگلیوں پر انہیں شمار کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16979
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (368/18)»
حدیث نمبر: 16980
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَقُومُ فِي الصَّلَاةِ فَيَدْعُو الدَّعْوَةَ فَيُغْفَرُ لَهُ ، وَلِمَنْ وَرَاءَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور دعا مانگتا ہے ، تو اُس کی اور اس کے پیچھے موجود مسلمانوں کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16980
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7693)»
حدیث نمبر: 16981
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ دَعَا بِهَؤُلَاءِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ، حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ ، وَاجْعَلْهُ فِي الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهُ ، وَفِي الْعَالَمِينَ دَرَجَتَهُ ، وَفِي الْمُقَرَّبِينَ دَارَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُطَّرِحُ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ہر فرض نماز کے بعد ان کلمات کے ہمراہ دعا مانگے گا ، قیامت کے دن اُس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی :
«اللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ ، وَاجْعَلْهُ فِي الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهُ ، وَفِي الْعَالَمِينَ دَرَجَتَهُ ، وَفِي الْمُقَرَّبِينَ دَارَهُ» ” اے اللہ ! سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو وسیلہ عطا فرما ، اور ان کی محبت کو منتخب بندوں میں رکھ دے ، اور جہانوں میں اُن کا درجہ رکھ دے ، اور مقرب لوگوں میں ان کا ٹھکانہ بنا دے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطرح بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7996)»
حدیث نمبر: 16982
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : مَا دَنَوْتُ مِنْ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَلَا تَطَوُّعٍ ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ لَا يَزِيدُ فِيهِنَّ ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْهُنَّ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَخَطَايَايَ كُلَّهَا ، اللَّهُمَّ أَنْعِشْنِي ، وَاجْبُرْنِي ، وَاهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; فَإِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا ، وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي الْأَدْعِيَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، جس بھی فرض یا نفل نماز میں تمہارے نبی علیہ السلام کے قریب ہوا ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کلمات کے ہمراہ دعا مانگتے ہوئے سنا ، آپ ان میں کوئی اضافہ نہیں کرتے تھے اور ان میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَخَطَايَايَ كُلَّهَا ، اللَّهُمَّ أَنْعِشْنِي ، وَاجْبُرْنِي ، وَاهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; فَإِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا ، وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! تو میرے تمام ذنوب اور خطاؤں کی مغفرت کر دے ، اے اللہ تو مجھے عزم و ہمت دینا ، مجھے مضبوط رکھنا اور اچھے اعمال و اخلاق پر ثابت قدم رکھنا ، کیونکہ نیک اخلاق کی طرف رہنمائی کرنا اور برے اخلاق سے پھیر دینا ، صرف تو ہی کر سکتا ہے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زبیر بن خریق نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث ، دعاؤں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ یہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7982 و 7893 و 7811)»