کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جب آدمی اپنے بستر پر جائے ، یا جب بیدار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17026
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانًا لَمْ يَنَمِ الْبَارِحَةَ . قَالَ : " وَلِمَ ؟ " . قَالَ : لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَوْ قَالَ حِينَ آوَى إِلَى فِرَاشِهِ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ الرَّقِّيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص آج صبح اُٹھ نہیں پایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے بتایا : اُسے بچھو نے ڈنک مار لیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ اپنے بستر پر جا کر یہ پڑھ لیتا : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے ، جو اُس نے پیدا کی ہے ۔ “ تو اُس ( یعنی بچھو نے ) اس ( یعنی شخص ) کو نقصان نہیں پہنچانا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وہب بن راشد رقی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وہب بن راشد رقی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17027
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَقْرَأُ سُورَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ مَلَكًا يَحْفَظُهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيهِ ، حَتَّى يَهُبَّ مُتَى هِّبَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنے بستر پر جا کر اللہ کی کتاب کی کوئی سورت تلاوت کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیج دیتا ہے ، جو نقصان پہنچانے والی چیز سے ، اس شخص کی حفاظت کرتا ہے ، اس وقت تک جب تک وہ بیدار نہیں ہوتا ، خواہ وہ جب بھی بیدار ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17028
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا آوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ ابْتَدَرَهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ : اخْتِمْ بِخَيْرٍ ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ : اخْتِمْ بِشَرٍّ ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ ثُمَّ نَامَ ، بَاتَ الْمَلَكُ يَكْلَؤُهُ ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْمَلَكُ : افْتَحْ بِخَيْرٍ ، وَقَالَ الشَّيْطَانُ : افْتَحْ بَشَرٍّ ، فَإِنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ وَقَعَ عَنْ سَرِيرِهِ فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ الشَّامِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب آدمی اپنے بستر پر جاتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان لپک کر اس کی طرف جاتے ہیں ، فرشتہ کہتا ہے : تم بھلائی کے ذریعے اختتام کرو ! شیطان کہتا ہے : تم شر کے ذریعے اختتام کرو ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر وہ شخص اللہ کا ذکر کر کے سوئے ، تو فرشتہ رات بھر اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے ، اور جب وہ شخص بیدار ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے : تم بھلائی کے ذریعے آغاز کرو ! اور شیطان کہتا ہے : تم برائی کے ذریعے آغاز کرو ! اگر وہ شخص یہ پڑھ لے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری جان مجھے لوٹا دی اور نیند کے دوران اُسے موت نہیں دی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اس حوالے سے تھاما ہوا ہے کہ وہ زائل ہو جائیں ( راوی کہتے ہیں : اس آیت کو آخر تک پڑھنا ہے ، اور پھر یہ پڑھنا ہے : ) ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمان کو تھام رکھا ہے کہ وہ زمین پر گر جائے ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر وہ شخص اپنے پلنگ سے گر کر مر جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری جان مجھے لوٹا دی اور نیند کے دوران اُسے موت نہیں دی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اس حوالے سے تھاما ہوا ہے کہ وہ زائل ہو جائیں ( راوی کہتے ہیں : اس آیت کو آخر تک پڑھنا ہے ، اور پھر یہ پڑھنا ہے : ) ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمان کو تھام رکھا ہے کہ وہ زمین پر گر جائے ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر وہ شخص اپنے پلنگ سے گر کر مر جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17029
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُفْرَشُ لَهُ ، فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ ، فَإِذَا آوَى إِلَيْهِ تَوَسَّدَ كَفَّهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ هَمَسَ لَا نَدْرِي مَا يَقُولُ ، فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ ذَلِكَ رَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ - أَوْ رَبَّ - كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ . ¤ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بستر کے بارے میں حکم دیتے تھے ، اُسے آپ کے لیے بچھا دیا جاتا تھا ، پھر آپ قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے ، جب آپ اس پر لیٹتے تھے تو آپ اپنی دائیں ہتھیلی کو تکیہ بنا لیتے تھے ، پھر آپ پست آواز میں کچھ پڑھتے تھے ، ہمیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں ؟ لیکن اس کے آخر میں ، آپ اپنی آواز بلند کر لیتے تھے اور یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ - أَوْ رَبَّ - كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ۔ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! اے عظیم عرش کے پروردگار ! اے ہر شئے کے پروردگار ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر شے کے معبود ! اے تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے ! دانے اور گٹھلی کو چیر دینے والے ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے ، اے اللہ ! بے شک تو اول ہے ، تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا ، اور تو آخر ہے ، تیرے بعد کچھ نہیں ہو گا ، تو ظاہر ہے ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے ، تو باطن ہے ، تجھ سے نیچے کچھ نہیں ہے ، تو ہمارا قرض ادا کروا دے ، اور ہمیں غربت سے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ - أَوْ رَبَّ - كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ۔ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! اے عظیم عرش کے پروردگار ! اے ہر شئے کے پروردگار ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر شے کے معبود ! اے تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے ! دانے اور گٹھلی کو چیر دینے والے ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے ، اے اللہ ! بے شک تو اول ہے ، تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا ، اور تو آخر ہے ، تیرے بعد کچھ نہیں ہو گا ، تو ظاہر ہے ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے ، تو باطن ہے ، تجھ سے نیچے کچھ نہیں ہے ، تو ہمارا قرض ادا کروا دے ، اور ہمیں غربت سے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17030
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَضَعْتَ جَنْبَكَ عَلَى الْفِرَاشِ ، وَقَرَأْتَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، فَقَدْ أَمِنْتَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْمَوْتَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم اپنا پہلو بستر پر رکھو ، تو سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھو ، تو تم موت کے علاوہ ہر چیز سے محفوظ ہو جاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی غسان بن عبید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی غسان بن عبید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17031
وَعَنْ خَبَّابٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ فِرَاشَهُ قَطُّ إِلَّا قَرَأَ : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ حَتَّى يَخْتِمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بستر پر جاتے تھے تو سورہ کافرون پوری پڑھتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17032
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ أَخْضَرَ - أَوْ أَحْمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَرَأَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ حَتَّى يَخْتِمَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباد بن اخضر رضی اللہ عنہ ( یا شاید احمر ) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تھے تو سورہ کافرون تلاوت کرتے تھے اور یہ مکمل سورت تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی اور ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی اور ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 17033
وَعَنْ جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ حَتَّى تَمُرَّ بِآخِرِهَا ; فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو سورہ کافرون پڑھو ، یہاں تک کے اس کے آخر تک پہنچ جاؤ ( یعنی یہ مکمل سورت پڑھو ) کیونکہ یہ شرک سے برأت کا اظہار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17034
وَعَنْ خَبَّابٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَاقْرَأْ : ( قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) ¤ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَرَأَ : ( قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) حَتَّى يَخْتِمَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو سورہ کافرون کی تلاوت کرو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تھے تو آپ سورہ کافرون کی تلاوت کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اسے ختم کرتے تھے ( یعنی آپ پوری سورت کی تلاوت کرتے تھے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17035
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَلِمَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ ؟ ( قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) عِنْدَ مَنَامِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے کلمے کی طرف نہ کروں ؟ جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک سے نجات دیدے ، وہ سوتے وقت سورہ کافرون پڑھنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مغلس ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مغلس ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17036
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَامَ ابْنُ آدَمَ قَالَ الْمَلَكُ لِلشَّيْطَانِ : أَعْطِنِي صَحِيفَتَكَ ، فَيُعْطِيهِ إِيَّاهَا ، فَمَا وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ مِنْ حَسَنَةٍ مَحَى عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ مِنْ صَحِيفَةِ الشَّيْطَانِ ، وَكَتَبَهُنَّ حَسَنَاتٍ . وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَنَامَ فَلْيُكَبِّرْ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً ، وَيَحْمَدْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ، وَيُسَبِّحْ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً ، فَتِلْكَ مِائَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب ابن آدم سونے لگتا ہے تو فرشتہ ، شیطان سے کہتا ہے : تم اپنا صحیفہ مجھے دے دو ! شیطان وہ صحیفہ اُسے دیدیتا ہے ، تو فرشتے کو اس شخص کے صحیفے میں کوئی ایسی نیکی نہیں ملتی ، جس کے ذریعے وہ شیطان کے صحیفے میں سے ، دس برائیاں مٹا دے اور انہیں نیکی کے طور پر نوٹ کر لے ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جب تم میں سے کوئی ایک شخص سونے لگے تو وہ 33 مرتبہ اللہ اکبر 34 مرتبہ الحمد لله اور 33 مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لیا کرے ، تو یہ ایک سو مرتبہ ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17037
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْ : أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَشْتَكِي الْخِدْمَةَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَاللَّهِ ، لَقَدْ مَجَلَتْ يَدَايَ مِنَ الرَّحَى ، أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِكِ ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ، إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِيمَا يَفْعَلُ بَعْدَ الصُّبْحِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور گھر کے کام کاج کی شکایت کی ، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھ خراب ہو گئے ہیں ، ایک مرتبہ مجھے آٹا پیسنا پڑتا ہے ، ایک مرتبہ گوندھنا پڑتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں کوئی رزق نصیب کیا تو وہ تم تک پہنچ جائے گا ، لیکن میں تمہاری رہنمائی اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف کرتا ہوں ، جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الله اكبر» اور چونتیس مرتبہ «الحمد لله» پڑھو ، تو یہ ایک سو مرتبہ ( ذکر کرنا ) تمہارے لئے خادم ( مل جانے ) سے بہتر ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے کہ آدمی کو صبح کے بعد کیا کرنا چاہیے ؟ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے کہ آدمی کو صبح کے بعد کیا کرنا چاہیے ؟ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17038
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ أَمَرَ فَاطِمَةَ وَعَلِيًّا - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - إِذَا أَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّكْبِيرِ ، لَا يَدْرِي عَطَاءٌ أَيُّهُمَا أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَمَامُ الْمِائَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ; لِأَنَّ شُعْبَةَ سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی تھی کہ جب وہ دونوں بستر پر جائیں تو «سبحان الله» ، «الحمد لله» اور «الله اكبر» پڑھ لیا کریں ۔ عطاء نامی راوی کو یہ پتہ نہیں ہے کہ ان میں سے کون سے کلمے کو 34 مرتبہ پڑھ کر 100 کی تعداد پوری کرنی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، کیونکہ شعبہ نامی راوی نے عطاء بن سائب سے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے سماع کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، کیونکہ شعبہ نامی راوی نے عطاء بن سائب سے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے سماع کیا تھا ۔
حدیث نمبر: 17039
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قِرْطَاسًا ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا يَقُولُ : " اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهُ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا ، أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ " . ¤ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، وَيَقُولُ ذَلِكَ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن حبلی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ ہماری طرف نکالا اور یہ بیان کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ ہم یہ پڑھیں :
«اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهُ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا ، أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! تو ہر چیز کا پروردگار ہے ، اور ہر چیز کا معبود ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور فرشتے بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ، میں شیطان اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی برائی کا ارتکاب کروں ، یا کسی مسلمان کی طرف برائی لے کر جاؤں ۔ “
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو یہ تعلیم دی تھی کہ وہ سوتے وقت ان کلمات کو پڑھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
«اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهُ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا ، أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! تو ہر چیز کا پروردگار ہے ، اور ہر چیز کا معبود ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور فرشتے بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ، میں شیطان اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی برائی کا ارتکاب کروں ، یا کسی مسلمان کی طرف برائی لے کر جاؤں ۔ “
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو یہ تعلیم دی تھی کہ وہ سوتے وقت ان کلمات کو پڑھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17040
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ : " اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ " . ¤ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُهُ عَبْدَ اللَّهِ بنَ عَمْرٍو ، وَيَقُولُ ذَلِكَ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! اے ہر چیز کے پروردگار ! ہر چیز کے معبود ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور فرشتے بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ، اے اللہ ! میں شیطان اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اس بات سے بھی کہ میں اپنے خلاف برائی کا ارتکاب کروں ، یا اس برائی کو کسی مسلمان کی طرف لے کر جاؤں ۔ “
ابوعبدالرحمن کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تعلیم دی تھی کہ وہ سوتے وقت ان کلمات کو پڑھ لیا کریں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
«اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! اے ہر چیز کے پروردگار ! ہر چیز کے معبود ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور فرشتے بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ، اے اللہ ! میں شیطان اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اس بات سے بھی کہ میں اپنے خلاف برائی کا ارتکاب کروں ، یا اس برائی کو کسی مسلمان کی طرف لے کر جاؤں ۔ “
ابوعبدالرحمن کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تعلیم دی تھی کہ وہ سوتے وقت ان کلمات کو پڑھ لیا کریں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17041
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ : " اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَرُدَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ " . ¤ أنت وحدك لا شريك لك ، وأن محمدا عبدك ورسولك والملائكة يشهدون . اللهم إني أعوذ بك من الشيطان وشركه وأن أقترف على نفسي إثما أو أرده إلى مسلم " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَرُدَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ »
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! ہر چیز کے پروردگار ! ہر چیز کے معبود ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور فرشتے بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ، اے اللہ ! میں شیطان اور اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اس بات سے بھی کہ میں کسی گناہ کا ارتکاب کروں ، یا اس کو کسی مسلمان کی طرف لے کر جاؤں ۔ “
«اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَرُدَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ »
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! ہر چیز کے پروردگار ! ہر چیز کے معبود ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور فرشتے بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ، اے اللہ ! میں شیطان اور اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اس بات سے بھی کہ میں کسی گناہ کا ارتکاب کروں ، یا اس کو کسی مسلمان کی طرف لے کر جاؤں ۔ “
حدیث نمبر: 17042
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُهُنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عبداللہ بن یزید سے یہ کہا: کیا میں تمہیں کچھ کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی تعلیم دی تھی کہ جب وہ سونے لگیں ، تو یہ پڑھیں : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حیی بن عبداللہ معافری کا معاملہ مختلف ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حیی بن عبداللہ معافری کا معاملہ مختلف ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 17043
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " مَا تَقُولُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ ؟ " . قَالَ : أَقُولُ : بِاسْمِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَبْتَ ، وَفَّقَكَ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ قُبِلَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ فِي فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : تم جب اپنے بستر پر جاتے ہو ، تو تم کیا پڑھتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ کہتا ہوں : بِاسْمِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي ” میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اپنا پہلو رکھ رہا ہوں ، تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ٹھیک کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں ، توفیق دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کے حوالے سے ایسی روایات قبول کی گئی ہیں ، جو اعمال کے فضائل کے بارے میں ہوتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کے حوالے سے ایسی روایات قبول کی گئی ہیں ، جو اعمال کے فضائل کے بارے میں ہوتی ہیں ۔
حدیث نمبر: 17044
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " مَا تَقُولُ عِنْدَ مَنَامِكَ ؟ " . قَالَ : أَقُولُ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ وَضَعْتُ جَنْبِي فَاغْفِرْ لِي . قَالَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : تم سوتے وقت کیا پڑھتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ پڑھتا ہوں : «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ وَضَعْتُ جَنْبِي فَاغْفِرْ لِي» ” اے اللہ ! تیرے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں نے اپنا پہلو رکھ دیا ہے ، تو میری مغفرت کر دے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17045
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اضْطَجَعَ لِلنَّوْمِ يَقُولُ : " بِاسْمِكَ رَبِّي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کے لیے لیٹتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : «بِاسْمِكَ رَبِّي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي» ” اے میرے پروردگار ! تیرے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں نے اپنا پہلو رکھا ہے ، تو میرے ذنب کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17046
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَقُولُونَ عِنْدَ النَّوْمِ ؟ " . حَتَّى انْتَهَى إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، قَالَ : أَقُولُ : أَنْتَ خَلَقْتَ هَذِهِ النَّفْسَ ، لَكَ مَحْيَاهَا وَمَمَاتُهَا ، فَإِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَعَافِهَا وَاعْفُ عَنْهَا ، وَإِنْ رَدَدْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَاهْدِهَا . فَعَجِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَجَالِدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : تم لوگ سوتے وقت کیا پڑھتے ہو ؟ جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی باری آئی تو انہوں نے یہ کہا: میں یہ پڑھتا ہوں :
«أَنْتَ خَلَقْتَ هَذِهِ النَّفْسَ ، لَكَ مَحْيَاهَا وَمَمَاتُهَا ، فَإِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَعَافِهَا وَاعْفُ عَنْهَا ، وَإِنْ رَدَدْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَاهْدِهَا»
” تو نے اس جان کو پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی اور اس کی موت تیرے لیے ہے ، اگر تو اسے وفات دیدے تو اس کو عافیت عطا کرنا اور اس سے درگزر کرنا اور اگر تو اسے لوٹا دے تو اس کی حفاظت کرنا اور اسے ہدایت پر ثابت قدم رکھنا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کلمات اچھے لگے ۔
یہ روایت امام بزار نے عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
«أَنْتَ خَلَقْتَ هَذِهِ النَّفْسَ ، لَكَ مَحْيَاهَا وَمَمَاتُهَا ، فَإِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَعَافِهَا وَاعْفُ عَنْهَا ، وَإِنْ رَدَدْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَاهْدِهَا»
” تو نے اس جان کو پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی اور اس کی موت تیرے لیے ہے ، اگر تو اسے وفات دیدے تو اس کو عافیت عطا کرنا اور اس سے درگزر کرنا اور اگر تو اسے لوٹا دے تو اس کی حفاظت کرنا اور اسے ہدایت پر ثابت قدم رکھنا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کلمات اچھے لگے ۔
یہ روایت امام بزار نے عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 17047
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ تَقُولُ يَا حَمْزَةُ ، إِذَا آوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ ؟ " . قَالَ : أَقُولُ : كَذَا وَكَذَا . ¤ قَالَ : " كَيْفَ تَقُولُ يَا عَلِيُّ ، ؟ " . قَالَ : أَقُولُ كَذَا وَكَذَا - أَحْسَبُهُ قَالَ : - " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيَّ ، وَأَفْضَلَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهِ كُلِّ شَيْءٍ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے حمزہ ! جب آپ بستر پر جاتے ہیں ، تو کیا پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں یہ یہ پڑھتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے علی ! تم کیا پڑھتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں یہ یہ پڑھتا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یہ پڑھو :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيَّ ، وَأَفْضَلَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهِ كُلِّ شَيْءٍ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھ پر احسان اور فضل کیا ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر چیز کا معبود ہے ، میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ابونضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيَّ ، وَأَفْضَلَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهِ كُلِّ شَيْءٍ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھ پر احسان اور فضل کیا ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر چیز کا معبود ہے ، میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ابونضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17048
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ وَحْشَةً ، قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَقُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ ، وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ; فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ ، وَبِالْحَرِيِّ [ أَنْ ] لَا يَقْرَبَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِيمَا يَقُولُ إِذَا أَرَّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ولید بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے وحشت محسوس ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یہ پڑھو :
«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ ، وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ»
” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اُس کے غضب سے ، اس کی سزا ، سے اور اس کے بندوں کے شر سے ، اور شیاطین کے وسوسوں سے ، کہ وہ میرے پاس آ جائیں ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو پھر کوئی چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی ، بلکہ یہ زیادہ مناسب ہے کہ تمہاری قریب نہیں آ پائے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ محمد بن یحیی بن حبان کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس نے سیدنا ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی مختلف احادیث اس باب میں آئیں گی کہ جب آدمی کو بے چینی محسوس ہو رہی ہو تو وہ کیا پڑھے ؟
«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ ، وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ»
” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اُس کے غضب سے ، اس کی سزا ، سے اور اس کے بندوں کے شر سے ، اور شیاطین کے وسوسوں سے ، کہ وہ میرے پاس آ جائیں ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو پھر کوئی چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی ، بلکہ یہ زیادہ مناسب ہے کہ تمہاری قریب نہیں آ پائے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ محمد بن یحیی بن حبان کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس نے سیدنا ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی مختلف احادیث اس باب میں آئیں گی کہ جب آدمی کو بے چینی محسوس ہو رہی ہو تو وہ کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17049
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ” اے اللہ ! تو اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا ، جب تو اپنے بندوں کو زندہ کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17050
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ وَلُوعًا ، وَمِنَ الْجُوعِ ضَجِيعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر آتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ وَلُوعًا ، وَمِنَ الْجُوعِ ضَجِيعًا»
” اے اللہ ! میں برائی کی طرف راغب ہونے اور بھوکا سونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ وَلُوعًا ، وَمِنَ الْجُوعِ ضَجِيعًا»
” اے اللہ ! میں برائی کی طرف راغب ہونے اور بھوکا سونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17051
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَا فَقَهَرَ ، وَبَطَنَ فَخَبَرَ ، وَمَلَكَ فَقَدَرَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بستر پر آ کر یہ پڑھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَا فَقَهَرَ ، وَبَطَنَ فَخَبَرَ ، وَمَلَكَ فَقَدَرَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے بلندی اختیار کی ، تو غلبہ پایا ، جو باطن والا ہے ، لیکن باخبر ہے ، جو مالک ہے اور اس نے تقدیر مقرر کی ہے ، اللہ تعالیٰ کے لیے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو وہ شخص اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے گا جیسے اس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَا فَقَهَرَ ، وَبَطَنَ فَخَبَرَ ، وَمَلَكَ فَقَدَرَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے بلندی اختیار کی ، تو غلبہ پایا ، جو باطن والا ہے ، لیکن باخبر ہے ، جو مالک ہے اور اس نے تقدیر مقرر کی ہے ، اللہ تعالیٰ کے لیے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو وہ شخص اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے گا جیسے اس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17052
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ حِينَ يُرِيدُ الْمَنَامَ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، وَكَفَرْتُ بِالطَّاغُوتِ ، وَعْدُ اللَّهِ حَقٌّ ، وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ طَوَارِقِ هَذَا اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک شخص جب سونے لگے تو اسے یہ پڑھنا چاہیے :
«آمَنْتُ بِاللَّهِ ، وَكَفَرْتُ بِالطَّاغُوتِ ، وَعْدُ اللَّهِ حَقٌّ ، وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ طَوَارِقِ هَذَا اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ»
” میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور میں نے طاغوت کا کفر کیا ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور رسولوں نے سچ بیان کیا ہے ، اے اللہ ! میں اس رات میں آنے والے ( فتنوں یا آزمائشوں ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، البتہ رات کو آنے والے ، اس ( امر ) کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کر آئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«آمَنْتُ بِاللَّهِ ، وَكَفَرْتُ بِالطَّاغُوتِ ، وَعْدُ اللَّهِ حَقٌّ ، وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ طَوَارِقِ هَذَا اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ»
” میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور میں نے طاغوت کا کفر کیا ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور رسولوں نے سچ بیان کیا ہے ، اے اللہ ! میں اس رات میں آنے والے ( فتنوں یا آزمائشوں ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، البتہ رات کو آنے والے ، اس ( امر ) کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کر آئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17053
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِئِ : أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَقُولُ : بِتُّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، وَتَبَوَّأَ مَضْجَعَهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، اللَّهُمَّ لَا أَسْتَطِيعُ ثَنَاءً عَلَيْكَ وَلَوْ حَرَصْتُ ، وَلَكِنْ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِئِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبداللہ بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ٹھہر گیا ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور بستر پر لیٹ گئے تو آپ نے یہ پڑھا :
«اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، اللَّهُمَّ لَا أَسْتَطِيعُ ثَنَاءً عَلَيْكَ وَلَوْ حَرَصْتُ ، وَلَكِنْ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ»
” اے اللہ ! میں تیرے سزا دینے کے مقابلے میں تیرے معاف کرنے کی پناہ مانگتا ہوں اور تیری ناراضگی کے مقابلے میں ، تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں ، تیرے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری ثناء بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، اگرچہ مجھے کتنی ہی شدید خواہش ہو ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثناء بیان کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن عبداللہ بن عبدالقاری کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
«اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، اللَّهُمَّ لَا أَسْتَطِيعُ ثَنَاءً عَلَيْكَ وَلَوْ حَرَصْتُ ، وَلَكِنْ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ»
” اے اللہ ! میں تیرے سزا دینے کے مقابلے میں تیرے معاف کرنے کی پناہ مانگتا ہوں اور تیری ناراضگی کے مقابلے میں ، تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں ، تیرے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری ثناء بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، اگرچہ مجھے کتنی ہی شدید خواہش ہو ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثناء بیان کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن عبداللہ بن عبدالقاری کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17054
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَتَبَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَقَالَ : أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَقُلْ : أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ " . ¤ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَكَرْتُهَا لِأَبِي مَيْسَرَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ بَاطِشٌ بِنَاصِيَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق ہمدانی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھ کر دیا اور یہ بیان کیا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بارے میں حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : جب تم بستر پر جاؤ تو یہ پڑھو :
«أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ»
” میں کرم والے اللہ کی ذات کی ، اور اس کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے ، اے اللہ ! تو ہی قرض اور گناہ کو دور کر سکتا ہے ، اے اللہ ! تیرا لشکر پسپا نہیں ہوتا ہے ، تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا ہے ، اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ۔ “
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ ابومیسرہ ہمدانی کے سامنے کیا ، تو انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت مجھے بیان کی ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے : ” اس چیز کے شر سے ، جس کی پیشانی کو تو نے گرفت میں لیا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ»
” میں کرم والے اللہ کی ذات کی ، اور اس کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے ، اے اللہ ! تو ہی قرض اور گناہ کو دور کر سکتا ہے ، اے اللہ ! تیرا لشکر پسپا نہیں ہوتا ہے ، تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا ہے ، اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ۔ “
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ ابومیسرہ ہمدانی کے سامنے کیا ، تو انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت مجھے بیان کی ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے : ” اس چیز کے شر سے ، جس کی پیشانی کو تو نے گرفت میں لیا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17055
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَارَةَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ؟ - كَأَنَّهُ يَرْفَعُهُنَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ مِنَ اللَّيْلِ فَقُلِ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ . اللَّهُمَّ نَفْسِي خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ، إِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سائب بن مالک بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: کیا میں آپ کو کچھ کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ یوں لگا جیسے وہ ان کلمات کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر رہا ہے ، جب آپ رات کے وقت اپنے بستر پر جائیں ، تو یہ پڑھیں :
«اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ ۔ اللَّهُمَّ نَفْسِي خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ، إِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ»
” اے اللہ ! ہم نے اپنا آپ تیرے سپرد کر دیا ہے ، اور میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا ہے ، اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا ہے ، اپنی پشت تیرے ساتھ لگا لی ہے ، میں تیری نازل کی ہوئی کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لے آیا ہوں ، اے اللہ ! میرے وجود کو تو نے پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی تیری ملکیت ہے ، اس کی موت تیری ملکیت ہے ، اگر تو اسے موت دے گا ، تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اسے مؤخر کر دے گا تو ایمان کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
«اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ ۔ اللَّهُمَّ نَفْسِي خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ، إِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ»
” اے اللہ ! ہم نے اپنا آپ تیرے سپرد کر دیا ہے ، اور میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا ہے ، اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا ہے ، اپنی پشت تیرے ساتھ لگا لی ہے ، میں تیری نازل کی ہوئی کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لے آیا ہوں ، اے اللہ ! میرے وجود کو تو نے پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی تیری ملکیت ہے ، اس کی موت تیری ملکیت ہے ، اگر تو اسے موت دے گا ، تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اسے مؤخر کر دے گا تو ایمان کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17056
وَعَنْ صَفِيَّةَ وَدُحَيْبَةَ ابْنَتَيْ عُلَيْبَةَ : أَنَّ قَيْلَةَ بِنْتَ مَخْرَمَةَ كَانَتْ إِذَا أَخَذَتْ حَظَّهَا مِنَ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي ، أَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي ، حَتَّى تَقُولَهَا مِرَارًا . ثُمَّ تَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ ، وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى ، وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً ، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ ، وَلَا عُرْيَانًا إِلَّا كَسَوْتَهُ ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ . ثُمَّ يَقُولُ : ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ ، ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ . ¤ ثُمَّ تَقُولُ : يَا بِنْتِي ، هَذِهِ رَأَسُ الْخَاتِمَةِ ، إِنَّ بَنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَتْهُ تَسْتَخْدِمُهُ فَقَالَ : "أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ خَادِمٍ ؟ " . قَالَتْ : بَلَى . فَأَمَرَهَا بِهَذِهِ الْمِائَةِ عِنْدِ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
علیہ کی دو صاحبزادیاں ، صفیہ اور دحیبہ بیان کرتی ہیں : سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا شام ہو جانے کے بعد جب بستر پر آتی تھیں ، تو یہ پڑھتی تھیں :
«بِسْمِ اللَّهِ ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي ، أَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي»
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرتی ہوں اور میں نے اپنا پہلو اپنے پروردگار کے لئے رکھ دیا ہے ، میں اپنے گناہ کی اس سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔ “
یہ کلمات وہ چند مرتبہ پڑھتی تھیں ، پھر یہ پڑھتی تھیں :
«أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ ، وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى ، وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً ، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ ، وَلَا عُرْيَانًا إِلَّا كَسَوْتَهُ ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ»
” میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی اور اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتی ہوں ، وہ کلمات کہ کوئی نیک یا گناہ گار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یا اس کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں نازل ہوتی ہے ، اور اس کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے ، اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت آنے والی چیزوں کے شر سے ، البتہ ان چیزوں کا معاملہ مختلف ہے جو بھلائی لے کر آتی ہیں ، میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہوں ، اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتی ہوں ، جس کی قدرت کے آگے ہر چیز سرنگوں ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کے غلبے کے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کی عظمت کے آگے ہر چیز تواضع اختیار کیے ہوئے ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کی بادشاہی کے سامنے ہر چیز خشوع اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتی ہوں ، تیرے عرش کے غلبے کی گرہوں کے وسیلے سے اور تیری کتاب میں سے رحمت کی آخری حد کے وسیلے سے ، اور تیرے بلند مرتبے کے وسیلے سے اور تیرے سب سے بڑے اسم کے وسیلے سے ، اور تیرے اُن مکمل کلمات کے وسیلے سے ، کہ کوئی نیک یا گناہگار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ( میں یہ سوال کرتی ہوں ) کہ تو مجھے ایسی مہلت دے ، جس میں رحم موجود ہو ، اور تو میرے ہر ایک گناہ کی مغفرت کر دے ، اور ہر غربت کو ختم کر دے ، اور ہر دشمن کو ہلاکت کا شکار کر دے ، اور لباس کی ضرورت کے وقت لباس عطا کر دے اور قرض کو ادا کروا دے اور جو بھی معاملہ ہماری دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے ہو ، وہ ہمیں عطا کر دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتی ہوں اور اس کی پناہ لیتی ہوں ۔ “
پھر وہ خاتون 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الله اكبر» اور 34 مرتبہ «الحمد لله» پڑھتی تھیں ۔
پھر وہ خاتون یہ فرماتی تھیں : اے میری بیٹی ! یہ خاتمے کا سر ہے ( یعنی دن کے اختتام کا بنیادی طریقہ ہے ) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تاکہ آپ سے کوئی خدمت گار حاصل کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو خدمتگار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ؟ ان صاحبزادی نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحبزادی کو رات کے وقت سوتے ہوئے ان 100 کلمات کو پڑھنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
«بِسْمِ اللَّهِ ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي ، أَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي»
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرتی ہوں اور میں نے اپنا پہلو اپنے پروردگار کے لئے رکھ دیا ہے ، میں اپنے گناہ کی اس سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔ “
یہ کلمات وہ چند مرتبہ پڑھتی تھیں ، پھر یہ پڑھتی تھیں :
«أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ ، وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى ، وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً ، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ ، وَلَا عُرْيَانًا إِلَّا كَسَوْتَهُ ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ»
” میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی اور اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتی ہوں ، وہ کلمات کہ کوئی نیک یا گناہ گار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یا اس کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں نازل ہوتی ہے ، اور اس کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے ، اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت آنے والی چیزوں کے شر سے ، البتہ ان چیزوں کا معاملہ مختلف ہے جو بھلائی لے کر آتی ہیں ، میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہوں ، اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتی ہوں ، جس کی قدرت کے آگے ہر چیز سرنگوں ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کے غلبے کے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کی عظمت کے آگے ہر چیز تواضع اختیار کیے ہوئے ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کی بادشاہی کے سامنے ہر چیز خشوع اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتی ہوں ، تیرے عرش کے غلبے کی گرہوں کے وسیلے سے اور تیری کتاب میں سے رحمت کی آخری حد کے وسیلے سے ، اور تیرے بلند مرتبے کے وسیلے سے اور تیرے سب سے بڑے اسم کے وسیلے سے ، اور تیرے اُن مکمل کلمات کے وسیلے سے ، کہ کوئی نیک یا گناہگار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ( میں یہ سوال کرتی ہوں ) کہ تو مجھے ایسی مہلت دے ، جس میں رحم موجود ہو ، اور تو میرے ہر ایک گناہ کی مغفرت کر دے ، اور ہر غربت کو ختم کر دے ، اور ہر دشمن کو ہلاکت کا شکار کر دے ، اور لباس کی ضرورت کے وقت لباس عطا کر دے اور قرض کو ادا کروا دے اور جو بھی معاملہ ہماری دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے ہو ، وہ ہمیں عطا کر دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتی ہوں اور اس کی پناہ لیتی ہوں ۔ “
پھر وہ خاتون 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الله اكبر» اور 34 مرتبہ «الحمد لله» پڑھتی تھیں ۔
پھر وہ خاتون یہ فرماتی تھیں : اے میری بیٹی ! یہ خاتمے کا سر ہے ( یعنی دن کے اختتام کا بنیادی طریقہ ہے ) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تاکہ آپ سے کوئی خدمت گار حاصل کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو خدمتگار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ؟ ان صاحبزادی نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحبزادی کو رات کے وقت سوتے ہوئے ان 100 کلمات کو پڑھنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17057
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيْنَا أَرْوَاحَنَا بَعْدَ إِذْ كُنَّا أَمْوَاتًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ یہ پڑھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيْنَا أَرْوَاحَنَا بَعْدَ إِذْ كُنَّا أَمْوَاتًا»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہماری ارواح کو لوٹا دیا ، اس کے بعد کہ ہم مردہ ہو چکے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مسہر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيْنَا أَرْوَاحَنَا بَعْدَ إِذْ كُنَّا أَمْوَاتًا»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہماری ارواح کو لوٹا دیا ، اس کے بعد کہ ہم مردہ ہو چکے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مسہر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17058
وَعَنْ هِنْدٍ - امْرَأَةِ بِلَالٍ - قَالَتْ : كَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهَ قَالَ : اللَّهُمَّ تَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِي ، وَاعْذُرْنِي بِعِلَّاتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهِنْدٌ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب بستر پر جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ تَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِي ، وَاعْذُرْنِي بِعِلَّاتِي» ” اے اللہ ! تو میرے گناہوں سے درگزر کر اور میری کوتاہیوں کے بارے میں مجھے معذور سمجھ ( یا میری معذرت قبول فرما ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17059
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ حِينَ يَضْطَجِعُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَى الْأَهْلِ وَالْمَوْلَى ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَى رَحِمٍ قَطَعْتُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : کہ جب وہ لیٹتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَى الْأَهْلِ وَالْمَوْلَى ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَى رَحِمٍ قَطَعْتُهَا»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اہل خانہ اور غلاموں کی خوشحالی کا سوال کرتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ رحم ( یعنی رشتہ داری کا تعلق ) میرے خلاف دعا کرے ، جس کی میں نے قطع رحمی کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَى الْأَهْلِ وَالْمَوْلَى ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَى رَحِمٍ قَطَعْتُهَا»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اہل خانہ اور غلاموں کی خوشحالی کا سوال کرتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ رحم ( یعنی رشتہ داری کا تعلق ) میرے خلاف دعا کرے ، جس کی میں نے قطع رحمی کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔