حدیث نمبر: 17009
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى دَعَا بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ ذُكِرَ ، وَأَحَقُّ مَنْ عُبِدَ ، وَأَنْصَرُ مَنِ ابْتُغِيَ ، وَأَرْأَفُ مَنْ مَلَكَ ، وَأَجْوَدُ مَنْ سُئِلَ ، وَأَوْسَعُ مَنْ أَعْطَى ، أَنْتَ الْمَلِكُ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَالْفَرْدُ لَا يَهْلَكُ ، كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَكَ ، لَنْ تُطَاعَ إِلَّا بِإِذْنِكَ ، وَلَنْ تُعْصَى إِلَّا بِعِلْمِكَ ، تُطَاعُ فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى فَتَغْفِرُ ، أَقْرَبُ شَهِيدٍ ، وَأَدْنَى حَفِيظٍ ، حُلْتَ دُونَ الثُّغُورِ ، وَأَخَذْتَ بِالنَّوَاصِي ، وَكَتَبْتَ الْآثَارَ ، وَنَسَخْتَ الْآجَالَ ، الْقُلُوبُ لَكَ مُفْضِيَةٌ ، وَالسِّرُّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ ، الْحَلَالُ مَا أَحْلَلْتَ ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمْتَ ، وَالدِّينُ مَا شَرَعْتَ ، وَالْأَمْرُ مَا قَضَيْتَ ، وَالْخَلْقُ خَلْقُكَ ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ ، وَأَنْتَ اللَّهُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ . أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، بِكُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ ، وَبِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ ، أَنْ تَقْبَلَنِي فِي هَذِهِ الْغَدَاةِ - أَوْ فِي هَذِهِ الْعَشِيَّةِ - وَأَنْ تُجِيرَنِي مِنَ النَّارِ بِقُدْرَتِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَضَّالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا مانگا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ ذُكِرَ ، وَأَحَقُّ مَنْ عُبِدَ ، وَأَنْصَرُ مَنِ ابْتُغِيَ ، وَأَرْأَفُ مَنْ مَلَكَ ، وَأَجْوَدُ مَنْ سُئِلَ ، وَأَوْسَعُ مَنْ أَعْطَى ، أَنْتَ الْمَلِكُ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَالْفَرْدُ لَا يَهْلَكُ ، كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَكَ ، لَنْ تُطَاعَ إِلَّا بِإِذْنِكَ ، وَلَنْ تُعْصَى إِلَّا بِعِلْمِكَ ، تُطَاعُ فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى فَتَغْفِرُ ، أَقْرَبُ شَهِيدٍ ، وَأَدْنَى حَفِيظٍ ، حُلْتَ دُونَ الثُّغُورِ ، وَأَخَذْتَ بِالنَّوَاصِي ، وَكَتَبْتَ الْآثَارَ ، وَنَسَخْتَ الْآجَالَ ، الْقُلُوبُ لَكَ مُفْضِيَةٌ ، وَالسِّرُّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ ، الْحَلَالُ مَا أَحْلَلْتَ ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمْتَ ، وَالدِّينُ مَا شَرَعْتَ ، وَالْأَمْرُ مَا قَضَيْتَ ، وَالْخَلْقُ خَلْقُكَ ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ ، وَأَنْتَ اللَّهُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ ۔ أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، بِكُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ ، وَبِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ ، أَنْ تَقْبَلَنِي فِي هَذِهِ الْغَدَاةِ - أَوْ فِي هَذِهِ الْعَشِيَّةِ - وَأَنْ تُجِيرَنِي مِنَ النَّارِ بِقُدْرَتِكَ»
” اے اللہ ! جن کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، تو ان میں سب سے زیادہ حقدار ہے اور جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے ، تو ان سب سے زیادہ حقدار ہے ، جس سے مدد مانگی جاتی ہے ، تو ان سب سے زیادہ مدد کرنے والا ہے اور جتنے بھی مالک ہیں ، تو ان سب سے زیادہ مہربان ہے جن سے بھی مانگا جاتا ہے ، تو ان سب سے زیادہ گنجائش والا ہے ، تو ایسا بادشاہ ہے کہ کوئی تیرا شریک نہیں ہے ، تو یکتا ہے جو ہلاکت کا شکار نہیں ہو گا ، تیری ذات کے علاوہ ہر چیز ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ، تیری اجازت کے بغیر تیری اطاعت نہیں کی جا سکتی اور تیرے علم کے بغیر تیری نافرمانی نہیں کی جا سکتی ، تیری اطاعت کی جائے تو ، تو اسے قبول کرتا ہے اور اگر تیری نافرمانی کی جائے تو ، تو مغفرت کر دیتا ہے ، تو سب سے زیادہ قریب ہے ، گواہ ہے ، سب سے زیادہ قریب محافظ ہے ، تو دانتوں سے پہلے حائل ہے ، تو نے پیشانیاں تھامی ہوئی ہیں ، تو قدموں کے نشانات نوٹ کرتا ہے آخری وقت طے کرتا ہے ، دل تیری طرف رجوع کرتے ہیں ، تیرے سامنے پوشیدہ چیز بھی علانیہ ہوتی ہے ، حلال وہ ہے جسے تو نے حلال قرار دیا ہو ، حرام وہ ہے جسے تو نے حرام قرار دیا ہو ، دین وہ ہے جسے تو نے مشروع قرار دیا ہو ، امر وہ ہے جس کا تو نے فیصلہ دیا ہو ، ساری مخلوق تیری مخلوق ہے ، اور ہر بندہ ، تیرا بندہ ہے ، تو اللہ ہے ، بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے ، میں تیری ذات کے نور کے وسیلے سے تجھ سے دعا مانگتا ہوں ، جس نور کے ذریعے آسمان اور زمین روشن ہیں ، اور ہر اس حق کے حوالے سے تجھ سے دعا مانگتا ہوں ، جو تیرا ہے ، اور مانگنے والوں کا تجھ پر جو حق ہے ، اس کے حوالے سے بھی یہ دعا مانگتا ہوں کہ تو اس صبح ۔ یا شام میں ۔ میری طرف سے قبول کر لے اور اپنی قدرت کے ذریعے مجھے جہنم سے بچا لے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8027)»